بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

شیبہ بن عثمان ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین پر تشریف لے گئے تو میرے سینے میں وہ زخم ہرا ہوگیا جو حضرت علی ؓ اور حمزہ ؓ نے میرے باپ اور چچا کو قتل کر کے لگایا تھا۔❣️
میں نے کہا آج میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے خون کا بدلا لوں گا۔
میں (جنگ کے دوران)آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے آیا اور آپ کے قریب ہوتے چلا گیا۔یہاں تک کہ صرف اتنا فاصلہ رہ گیا کہ میں تلوار اٹھا کر آپ کو مار ڈالوں۔مگر اچانک بجلی کی طرح چمکتا ہوا آگ کا ایک شعلہ میری طرف لپکا میں نے سمجھا کہ یہ مجھے بھسم کردے گا۔تو میں الٹے پاٶں بھاگ کھڑا ہوا۔❣️
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا:او شیبہ!اور ساتھ ہی اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھ گیا۔اللہ نے فورًا میرے سینے سے شیطان کو نکال باہر کیا۔🍁
”فرفعت الیہ بصری و ھوار حب الی من سمعی وبصری ومن کذا“
اب جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نگاہ اٹھائی تو آپ مجھے اپنے وجود سے بھی زیادہ عزیز لگ رہے تھے۔
(حوالہ دلائل النبوة)
سبحان اللہ ❤

Leave a Reply

NZ's Corner