بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

جب طوفان حد سے بڑھ جائے، تو تجربہ ہی کام آتا ہے۔ یان نے پیٹر کو تو بچا لیا، مگر خود سمندر کی ایک ابدی کہانی بن گیا۔ ⚓️✨
ضرور پڑھیں ہالینڈ کے پس منظر میں لکھی گئی یہ دل چھو لینے والی تحریر۔

ہالینڈ کے ایک دور افتادہ ساحلی گاؤں میں، جہاں ہوا کے دوش پر چلتی پرانی چکیاں آج بھی وقت کا پہیہ تھامے ہوئے محسوس ہوتی تھیں، “یان” نامی ایک معمر ملاح اپنی زندگی کی شامیں گزار رہا تھا۔ اس کے چہرے کی گہری لکیریں شمالی سمندر کی تند و تیز لہروں اور نمکین ہواؤں کے ساتھ عشروں کی رفاقت کا پتہ دیتی تھیں۔ یان کے پاس ایک چھوٹی سی لکڑی کی کشتی تھی جس کا نام اس نے ‘ایلسا’ رکھا تھا۔ گاؤں کے نوجوان ملاح اب جدید انجنوں اور مشینی جالوں کی مدد سے مچھلیاں پکڑتے تھے اور اکثر یان کی پرانی کشتی دیکھ کر مسکراتے، لیکن یان کا ماننا تھا کہ سمندر مچھلیوں سے نہیں بلکہ ان کہی کہانیوں سے بھرا ہوتا ہے، اور اسے سمجھنے کے لیے مشینوں کا شور نہیں بلکہ روح کی خاموشی درکار ہے۔
ایک شام جب آسمان نے نارنجی چادر اتار کر سیاہی مائل لبادہ اوڑھ لیا اور بادلوں نے خطرناک تیور دکھائے، تو تجربہ کار لوگوں نے بھانپ لیا کہ ایک بڑا طوفان دستک دے رہا ہے۔ تمام کشتیاں جلد بازی میں ساحل کی طرف لوٹ آئیں، لیکن گاؤں کا ایک نو عمر ملاح، پیٹر، ابھی تک لاپتہ تھا۔ ساحل پر سمندر کی لہریں بندوں سے ٹکرا کر خوفناک آوازیں پیدا کر رہی تھیں اور کسی میں یہ جرات نہ تھی کہ وہ اس موت کے رقص میں قدم رکھے۔ یان نے جب یہ دیکھا تو خاموشی سے اپنی پرانی لیدر جیکٹ پہنی اور ‘ایلسا’ کی طرف بڑھنے لگا۔ گاؤں والوں نے اسے روکا کہ یہ خودکشی ہے، مگر یان نے صرف اتنا کہا کہ سمندر اپنے بچوں کو ڈراتا ضرور ہے لیکن وہ مجھے پہچانتا ہے۔
کئی گھنٹوں تک سمندر اور ایک انسان کے درمیان صبر کی جنگ جاری رہی۔ آخر کار یان کو پیٹر نظر آیا جو ایک ڈوبتی ہوئی چٹان کے سہارے زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ یان نے بڑی مہارت سے اپنی کشتی اس کے قریب کی اور پیٹر کو تختے پر کھینچ لیا، لیکن تب تک سمندر کی ایک دیو قامت لہر نے ‘ایلسا’ کے ڈھانچے کو بری طرح توڑ دیا تھا۔ یان نے محسوس کر لیا کہ یہ ٹوٹی ہوئی کشتی اب دو انسانوں کا بوجھ سہار کر ساحل تک نہیں پہنچ پائے گی۔ اس نازک لمحے میں یان کے چہرے پر خوف کے بجائے ایک عجیب سی تسکین تھی۔ اس نے پیٹر کو ایک لائف بوائے سے مضبوطی سے باندھا اور اسے لہروں کے ایک ایسے دھارے کے سپرد کر دیا جو سیدھا ساحل کی سمت جا رہا تھا۔
پیٹر نے چیخ کر اسے روکنا چاہا، مگر یان نے صرف ایک الوداعی مسکراہٹ کے ساتھ اپنا ہاتھ ہلایا اور کشتی کا رخ گہرے سمندر کی طرف موڑ دیا۔ جب اگلی صبح سورج کی پہلی کرنیں ہالینڈ کے ٹولپ کے کھیتوں پر پڑیں، تو ساحل پر پیٹر تو زندہ مل گیا، مگر یان اور اس کی کشتی کا کہیں نشان نہ تھا۔ دور افق پر صرف ملاح کی ایک پرانی ٹوپی لہروں پر تیر رہی تھی۔ آج بھی اس گاؤں میں جب کوئی ملاح سمندر میں اترتا ہے، تو وہ پہلے چند لمحے خاموشی اختیار کرتا ہے—اس ملاح کے احترام میں جو سمندر کی کہانیوں کو سنتے سنتے خود ایک لازوال کہانی بن گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner