بلاعنوان۔۔۔😁!

بلاعنوان۔۔۔😁!

ایک بادشاہ نے اپنے سالے کی سفارش پر ایک آدمی کو محکمۂ موسمیات کا سربراہ بنا دیا۔ دربار میں سب سمجھ گئے کہ قابلیت سے زیادہ سفارش کام آئی ہے، مگر کسی میں ہمت نہ تھی کہ کچھ کہہ سکے۔ 😏

ایک دن بادشاہ شکار کے ارادے سے نکلا۔ حسبِ عادت اُس نے نئے وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔

وزیر نے پورے اعتماد سے سینہ تان کر عرض کیا:
“حضور! آج موسم نہایت خوشگوار ہے، بارش کا کوئی خدشہ نہیں۔”

بادشاہ مطمئن ہو کر لشکر سمیت روانہ ہو گیا۔ راستے میں ایک کمہار ملا۔ اُس نے ادب سے جھک کر کہا:
“جہاں پناہ! میرا خیال ہے کچھ ہی دیر میں بارش شروع ہو جائے گی، بہتر ہے آج شکار ملتوی کر دیں۔”

بادشاہ نے اسے معمولی آدمی سمجھ کر ڈانٹا۔ غصے میں آ کر دو جوتے بھی رسید کر دیے اور بولا، “ہمیں اپنے وزیر پر زیادہ بھروسہ ہے!”

مگر ابھی زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آسمان پر گھنے بادل چھا گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ جنگل کی زمین کیچڑ میں بدل گئی، سپاہی پھسلنے لگے اور شکار کا سارا شوق دھرا رہ گیا۔

بادشاہ بھیگتا ہوا، کیچڑ سے لتھڑا، بڑی مشکل سے محل واپس پہنچا۔ اُس کا موڈ پہلے ہی خراب تھا۔

محل پہنچتے ہی اُس نے وزیر کو فوراً عہدے سے ہٹا دیا اور کمہار کو دربار میں طلب کیا تاکہ اُسے انعام دیا جا سکے۔

کمہار عاجزی سے بولا:
“حضور! میں تو اَن پڑھ آدمی ہوں، مجھے کیا خبر موسم کی؟ بس میرا گدھا جب اپنے کان نیچے لٹکا لیتا ہے تو سمجھ لیں بارش پکی ہے۔”

بادشاہ نے یہ سنا تو فوراً نیا فرمان جاری کر دیا:
“آج سے یہ گدھا وزیرِ موسمیات مقرر کیا جاتا ہے!”

مورخین لکھتے ہیں کہ وزیروں میں گدھوں کی شمولیت کی روایت شاید وہیں سے شروع ہوئی۔ 😂

#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner