قدیم یونانی فلسفی سقراط اکثر لوگوں سے ایک اشتعال انگیز سوال پوچھا کرتا تھا: “اگر آگ لگ جائے تو تم سب سے پہلے کسے بچاؤ گے— اپنی شریکِ حیات کو یا اپنے بچوں میں سے کسی ایک کو؟” تقریباً ہر کسی کا جواب ایک ہی ہوتا تھا: بچہ۔
یقیناً یہ ایک انتہائی نجی اور جذباتی سوال ہے۔ لیکن سقراط اس فطری ردِعمل کو چیلنج کرتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بچائے گا۔ اس کی منطق اگرچہ سننے میں گراں گزرتی ہے مگر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے: اگر وہ اپنے بیٹے کو بچا لیتا ہے اور اپنی جیون ساتھی کو کھو دیتا ہے، تو وہ بچہ ماں کے بغیر پروان چڑھے گا— اور وہ خود اپنی زندگی اس انسان کی یاد میں گزارے گا جس نے اس کے ساتھ زندگی گزاری تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ ماں کے بغیر بچہ اس محرومی کا بوجھ ہمیشہ اٹھائے رکھے گا۔
حقیقت میں، زیادہ تر والدین خطرے کے وقت لاشعوری طور پر اپنے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ اپنی اولاد کا تحفظ کرنا سب سے فطری انسانی جذبہ معلوم ہوتا ہے۔ حال ہی میں جب ساتھی ملازمین کے ایک گروپ سے یہی سوال پوچھا گیا، تو تقریباً سب نے وہی روایتی جواب دیا۔
ماسوائے ایک معمر شخص کے۔
وہ بحث کے دوران خاموش رہا۔ بعد میں، کام ختم ہونے پر وہ خاموشی سے قریب آیا اور کہنے لگا: “میں پہلے کچھ نہیں بولا کیونکہ میں جانتا تھا کہ لوگ میری بات نہیں سمجھیں گے۔ میری اور میری اہلیہ کی شادی کو چالیس سال ہو چکے ہیں۔ ہمارے بیٹے جوان ہو گئے، ملک کے دوسرے حصوں میں چلے گئے اور اپنی اپنی فیملیز بنا لیں۔ اب ان کی اپنی زندگیاں ہیں۔ وہ جب موقع ملے ملنے آتے ہیں، لیکن اب ان کی دنیا کا مرکز ہم نہیں رہے۔”
وہ تھوڑی دیر رکا اور پھر کہنے لگا: “لیکن میری بیوی— وہ میری ہم سفر ہے، میری مشیر ہے، میری بہترین دوست ہے۔ ہم نے زندگی کی دہائیاں اکٹھے گزاری ہیں۔ بے شک، بچے قیمتی ہیں، وہ ایک نعمت ہیں۔ لیکن خاندان کا سب سے قریبی رشتہ میاں بیوی کا ہوتا ہے۔ آخر کار، وہ ایک دوسرے کی کل کائنات بن جاتے ہیں۔”
اس گفتگو کو سننے کے بعد، آپ خاندان کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے لگتے ہیں۔ آپ اس شخص کی قدر کرنے لگتے ہیں جو سال ہا سال آپ کے ساتھ کھڑا رہا— وہ جو آپ کی بات سنتا ہے، آپ کا سہارا بنتا ہے، آپ کو معاف کرتا ہے اور اس وقت بھی آپ کو سمجھتا ہے جب کوئی دوسرا نہیں سمجھتا۔ محبت صرف بچوں کی پرورش کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس شراکت داری (پارٹنرشپ) کا احترام کرنے کا نام بھی ہے جو ہر چیز کو جوڑے رکھتی ہے۔
