بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔

بادشاہ کے دل میں خیال آیا:
“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے”

اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا:

“بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!”

چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔

بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا:

“بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟”

بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا:

“بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…”

بادشاہ حیران ہوا۔

“یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی!”

بہلول نے نہایت سکون سے جواب دیا:

“حضور! اگر میں خود آپ سے ملنے آتا تو پہلے دربانوں کے پاس جاتا، پھر اجازت مانگتا، پھر کسی وزیر کے ذریعے درخواست پہنچتی۔ اس کے بعد شاید کئی مہینوں بعد ملاقات کا وقت ملتا۔ اور اگر اُس دن آپ کسی اور کام میں مصروف ہوتے تو ملاقات پھر مؤخر ہو جاتی۔ ممکن تھا برسوں گزر جاتے اور میں آپ تک نہ پہنچ پاتا۔

لیکن آج جب آپ نے خود چاہا… تو دو گھڑیاں بھی نہ لگیں اور میں آپ کے سامنے حاضر ہو گیا۔”

پھر بہلول نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:

“بندہ اپنی عبادتوں، کوششوں اور عقل کے زور پر شاید عمر بھر بھٹکتا رہے… مگر جب اللہ خود چاہ لے، تو بندے اور رب کے درمیان کے فاصلے لمحوں میں مٹ جاتے ہیں۔”

یہ سن کر بادشاہ خاموش ہو گیا۔

اور اُس لمحے محل کی چھت پر صرف خاموشی نہیں تھی…
بلکہ ایک ایسی حقیقت بھی تھی، جو دل سے سننے والوں کو زندگی بھر نہیں بھولتی۔

سبق:
انسان کی کوشش ضروری ہے، مگر اصل قرب اور ہدایت اللہ کی چاہت سے ملتی ہے۔ جب رب اپنے بندے کو بلانا چاہے، تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner