بلاعنوان
شیر نے چیْتے کو دس بھیڑیوں کا نگران مقرر کیا۔ہر دن، شیر ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا۔ چیْتا خوراک کو انصاف کے ساتھ تقسیم کرتا: اس نے ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھا اور باقی دس، جو سائز میں برابر تھے، بھیڑیوں کو دے دیے—ہر ایک کے لیے ایک ٹکڑا۔کچھ دن گزرے، تو بھیڑیوں کے درمیان بے چینی سے سرگوشیاں ہونے لگیں۔ایک نے کہا، “چیْتا کو ہمارے جتنا حصہ کیوں ملتا ہے؟”دوسرے نے اتفاق کیا، “وہ کچھ خاص نہیں کرتا۔ وہ بس کھانا تقسیم کرتا ہے۔”“ہم دَس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے بھاگنے پر مجبور کر دیں، تو ہم خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ کس کو کتنا ملنا چاہیے۔”چیْتے نے ان کی سرگوشیاں سن لیں، لیکن اس نے اپنے اصول نہیں بدلے۔ اس کا ماننا تھا کہ جب تک وہ سب کے ساتھ انصاف کر رہا ہے، بغवत کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔لیکن ایک دن،…
صرف ایک دانہ
ایک بادشاہ تھا، جس کے دربار میں ایک دن چند ایسے لوگ حاضر ہوئے جنہوں نے برسوں تک ریاست کے لیے محنت کی تھی۔ بادشاہ ان کی خدمات سے خوش ہوا تو مسکرا کر بولا، “آج جو مانگنا ہے مانگو، تمہاری خواہش پوری کی جائے گی۔” کسی نے زمین مانگی، کسی نے باغ، کسی نے عہدہ، کسی نے وزارت اور کسی نے اپنے خاندان کے لیے جاگیر۔ ہر شخص نے اپنی نظر آج کی آسائش پر رکھی ہوئی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک کسان کا بیٹا بھی کھڑا تھا۔ اس کی باری آئی تو اس نے نہ زمین مانگی، نہ سونا، نہ منصب۔ اس نے نہایت سادگی سے عرض کیا، “حضور! مجھے صرف ایک دانۂ گندم چاہیے۔” دربار میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ہر طرف ہنسی پھیل گئی۔ بادشاہ بھی مسکرا دیا۔ کسی نے کہا، “اتنے بڑے بادشاہ کے سامنے اتنی بڑی خواہش!” کسان کے بیٹے نے…
جوکر
ایک شخص ماہرِ نفسیات کے پاس گیا اور بولا: “میں مسلسل اداسی اور افسردگی کا شکار رہتا ہوں۔ زندگی کی ہر خوشی جیسے مجھ سے روٹھ گئی ہے۔ براہِ کرم، میری مدد کیجیے۔” ڈاکٹر نے اسے دوائیں دیں، مگر ایک ہفتے بعد وہ شخص دوبارہ لوٹ آیا۔ اس نے کہا: “جناب! ان دواؤں سے کوئی فرق نہیں پڑا۔ میرے دل کا بوجھ پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا ہے۔” ڈاکٹر نے مزید دوائیں تجویز کیں، لیکن دو ہفتے بعد بھی حالات نہ بدلے۔ اب ڈاکٹر خود پریشان ہو گیا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ مسکرایا اور بولا: “شہر میں ایک بہت مشہور جوکر کا روزانہ شو ہوتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ ہر غم زدہ انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتا ہے۔ آپ آج ہی اس کا شو دیکھیے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کے سارے غم دور ہو جائیں گے۔” یہ سن کر اس شخص کی…
بیل اور ایک محنتی گدھا۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک محنتی تاجر کے پاس دو جانور تھے: ایک مضبوط بیل اور ایک محنتی گدھا۔ بیل دن بھر کھیت میں ہل چلاتا، جبکہ گدھا صبح سے شام تک بازاروں اور گاؤں کے درمیان سامان اٹھا کر لے جاتا۔ دونوں کی زندگی مسلسل محنت میں گزرتی تھی۔ صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے کام شروع ہوتا اور شام ڈھلنے کے بعد کہیں جا کر انہیں آرام نصیب ہوتا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کو اپنے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان سمجھتے تھے۔ جب بیل ہل کھینچتے کھینچتے تھک جاتا تو دل میں سوچتا: “یقیناً گدھے کا کام مجھ سے کہیں آسان ہے۔ سارا دن بس آہستہ آہستہ چلنا ہوتا ہے۔” اور جب گدھا بھاری بوجھ اٹھا کر پسینے میں شرابور ہوتا تو سوچتا: “بیل تو کھلے کھیتوں میں آرام سے گھومتا ہوگا۔ اصل مشکل تو میری زندگی میں ہے۔”…
آدھی سلطنت یا موت؟
“وزیر کے سامنے زندگی کا سب سے بڑا امتحان ایک بادشاہ کا مزاج اس روز بہت خوشگوار تھا۔ اس نے اپنے نوجوان وزیر کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا: “تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟” وزیر کچھ جھجکا، نظریں جھکا لیں.اور عاجزی سے عرض کیا “حضور! آپ دنیا کی خوبصورت ترین سلطنت کے مالک ہیں۔ جب میں اس سلطنت کو دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر اس کا صرف دسواں حصہ بھی میرا ہوتا تو میں دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہوتا۔” بادشاہ نے قہقہہ لگایا اور پوچھا: “اگر میں تمہیں اپنی آدھی سلطنت دے دوں تو؟” وزیر حیرت سے بادشاہ کو دیکھنے لگا اور بولا: “بادشاہ سلامت! یہ کیسے ممکن ہے؟ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہو سکتا ہوں؟” بادشاہ نے فوراً سیکرٹری کو بلایا اور دو فرمان لکھنے کا حکم دیا۔ پہلے فرمان میں اپنی آدھی سلطنت وزیر…
ایک ننھا بچہ، خلیفہ اور سو دینا
ایک مرتبہ خلیفہ مامون الرشید اپنے سپاہیوں سے بچھڑ گئے۔ سفر کے دوران ایک قبیلے کے قریب سے گزرے تو دیکھا کہ ایک کم سن لڑکا مشکیزہ بھر رہا ہے اور اپنے والد کو آواز دے رہا ہے: “ابا جان! جلدی آئیے، مشکیزے کا منہ بند کر دیجیے، مجھ سے بند نہیں ہو رہا!” مامون الرشید اس بچے کی فصاحت سے بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے پوچھا: “بیٹے! تم کون ہو؟” لڑکے نے اپنا نام بتایا اور فوراً پوچھ لیا: “اور آپ کون ہیں؟” مامون نے جواب دیا: “اولادِ آدم میں سے ہوں۔” لڑکا بولا: “یہ تو سب ہیں، مگر اولادِ آدم میں آپ کا تعلق کس قوم سے ہے؟” انہوں نے کہا: “سب سے بہتر قوم سے۔” لڑکا بولا: “تو عرب سے ہیں۔ عرب کے کس قبیلے سے؟” مامون نے کہا: “سب سے بہتر قبیلے سے۔” لڑکے نے کہا: “پھر تو قبیلہ مضر سے ہوں گے۔ مگر اس کی…
ظاہری تکلیف باطنی راحت کا سبب بن سکتی ہے
ایک عقل مند گھڑ سوار کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس نے دیکھا کہ ایک شخص درخت کے نیچے سو رہا ہے اور ایک زہریلا سانپ اس کے کھلے منہ میں گھسنے والا ہے۔گھڑ سوار نے بھانپ لیا کہ اگر یہ سانپ اندر چلا گیا تو اس شخص کی جان چلی جائے گی۔ اس کے پاس اس وقت تلوار یا کوئی اور ہتھیار نہیں تھا جس سے وہ سانپ کو مار سکتا۔ لہٰذا، اس نے حکمت عملی کے تحت سوئے ہوئے شخص کو کوڑے مارنا شروع کر دیے۔وہ شخص درد سے اٹھ بیٹھا۔ گھڑ سوار نے اسے مارتے ہوئے ایک سیب کے باغ کی طرف بھگایا۔ وہاں پہنچ کر اس نے اسے زبردستی بہت سارے سیب کھلائے، یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا اور سیب منہ کے راستے باہر آنے لگے۔ وہ شخص ڈر اور تکلیف کی وجہ سے چیختا رہا اور سمجھتا رہا کہ گھڑ سوار…
اندھی تقلید
“دتے” کے گھر کے مالی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ چپ چاپ پنڈ سے غائب ہو گیا۔ پنڈ سے نکل کر وہ ایک مدرسے جا پہنچا۔ مدرسے کے مولوی صاحب سے اس نے کہا کہ وہ قرآن پاک حفظ کرنا چاہتا ہے۔ انگوٹھا چھاپ دتے نے مولوی صاحب کی کچھ اس طرح منت سماجت کی کہ مولوی صاحب کا دل پسیج گیا۔ انہوں نے دتے کو قرآن پاک حفظ کروانا شروع کر دیا۔ دن رات محنت کر کے دتے نے ایک سال میں قرآن پاک حفظ کر لیا۔ قرآن پاک حفظ کرنے کے بعد دتہ اسی طرح خاموشی سے پنڈ واپس آ گیا۔ پنڈ کے لوگوں نے نہ اس کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تھا اور نہ ہی واپس آنے کا، میرے اور میرے ساتھ والے پنڈ کے لوگ ایسے ہی ہیں۔ دتہ سارا دن خاموشی سے پنڈ میں مٹر گشت کرتا…
جائیداد کی تقسیم
ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں، قاسم اور ایان، کے ساتھ رہتا تھا۔ قاسم بہت چالاک تھا، جبکہ ایان سادہ دل اور بھولا بھالا تھا۔ کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک گرم کمبل تھا۔ کچھ عرصے بعد کسان کا انتقال ہوگیا۔ جائیداد تقسیم کرنے کا وقت آیا تو قاسم نے فوراً اپنی چالاکی دکھائی۔ وہ بولا:“بھائی! ہم سب کچھ برابر بانٹ لیتے ہیں۔ گائے کا اگلا حصہ تمہارا، پچھلا حصہ میرا۔” ایان نے سادگی سے کہا:“ٹھیک ہے بھائی۔” قاسم نے فوراً دودھ کا فائدہ سوچ لیا تھا۔ پھر درخت کی باری آئی۔ قاسم بولا:“درخت کا نچلا حصہ تم رکھ لو اور اوپر والا حصہ میرا۔” ایان نے پھر کوئی اعتراض نہ کیا۔ آخر میں کمبل آیا تو قاسم نے کہا:“کمبل کو کاٹنا مناسب نہیں، اس لیے دن میں تم استعمال کر لینا اور رات کو میں اوڑھ لیا کروں گا۔” ایان نے یہ…
بلاعنوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ آم کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت تھا۔ ایک چھوٹا بچہ روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے آیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس نے درخت کے پاس آنا چھوڑ دیا۔کافی عرصے بعد، جب وہ ایک بار پھر اس درخت کے پاس آیا، تو اس نے درخت کو بہت اداس پایا۔ درخت نے اسے دیکھ کر خوشی سے پوچھا، “کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے؟”لڑکے نے جواب دیا، “اب میں بچہ نہیں رہا۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کھیل کی نہیں۔”درخت نے محبت سے کہا، “میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں، لیکن تم میرے سارے آم توڑ کر لے جاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”لڑکے نے تمام آم توڑے اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد درخت ایک بار پھر اداس اور تنہا رہ…
انسان، دنیا، سے، اپنی، حقیقت، چھپا، سکتا، ہے، مگر، اپنے، ضمیر، سے، نہیں۔
ڈورین، گرے، اپنی، غیر، معمولی، خوبصورتی، پر، نازاں، ایک، نوجوان، تھا۔ اسے، سب، سے، زیادہ، خوف، اپنی، جوانی، کے، ختم، ہونے، کا، تھا۔ ایک، دن، ایک، مصور، نے، اس، کی، ایسی، خوبصورت، تصویر، بنائی، کہ، ڈورین، خود، بھی، اسے، دیکھ، کر، حیران، رہ، گیا۔ وہ، تصویر، کو، دیر، تک، دیکھتا، رہا، پھر، اچانک، اس، کے، دل، میں، ایک، خوفناک، خواہش، پیدا، ہوئی: “اگر، میری، جوانی، ہمیشہ، قائم، رہے، اور، یہ، تصویر، میری، جگہ، بوڑھی، ہوتی، جائے، تو؟” کسی، نے، سوچا، بھی، نہ، تھا، کہ، یہ، خواہش، حقیقت، بن، جائے، گی۔ دن، گزرتے، گئے۔ ڈورین، کی، خوبصورتی، پہلے، سے، بھی، زیادہ، نکھرتی، گئی، مگر، تصویر، میں، ایک، عجیب، تبدیلی، شروع، ہو، گئی۔ اس، کی، آنکھوں، میں، تکبر، نمودار، ہوا، پھر، چہرے، پر، ظلم، کی، سختی، نظر، آنے، لگی۔ ہر، غلط، فیصلہ، تصویر، کو، مزید، بدصورت، کرتا، گیا۔ ڈورین، نے، تصویر، کو، ایک، خفیہ، کمرے، میں، بند، کر، دیا۔ دنیا، اسے، آج،…
🔥🏔️ ¡La codicia no conoce límites! 😂💁
Un hombre caminaba hacia las montañas cuando un pobre hombre lo siguió. 🚶♂️🤔 El pobre hombre dijo:“¡Majestad! Por favor, deme algo.” 😄🙏 El hombre señaló la montaña 👆✨ ¡La montaña se convirtió en oro! 😲 El pobre hombre estaba feliz, pero después de unos pasos volvió a caer. 😕 El hombre preguntó enojado:“¿Qué quieres ahora?” 😡 El pobre hombre respondió:“Un poco más…” 😅🙏 La segunda montaña también era de oro,luego una tercera,y luego una cuarta.¡Montañas de oro por todas partes! 😳💰 Unos pasos más adelante vio 👁️ ¡Al mismo hombre detrás! 😱 Preguntó enojado: “¿Qué quieres ahora?” 😠🤬 El pobre hombre sonrió y dijo: «¡Majestad, ahora dale también ese dedo!» 😂🤣 Lección:No hay riqueza ni poder en el mundo que puedan satisfacer la avaricia de nadie. 🙄💯
El astuto zorro y los cinco bueyes
A orillas del río Suyan se extendía un inmenso bosque. En él crecían diversos tipos de árboles, lianas e innumerables plantas y arbustos. Todo tipo de animales habitaban el bosque, desde animales hasta bestias. Había aves y reptiles. Entre los animales se encontraban vacas azules, búfalos salvajes, sambares, ciervos, leopardos, chakas, cabras montesas, etc. Además, vivían allí cinco toros. Los cinco eran de colores diferentes, pero eran hermanos. Vivían juntos, lo cual era necesario para ellos, ya que todas las bestias del bosque los vigilaban. Cuando alguna intentaba atacarlos, los cinco se defendían y los ahuyentaban con sus afilados cuernos. Al alimentarse de diversas plantas, hojas y hierbas del bosque, estos cinco toros gozaban de excelente salud. Todos los admiraban por su piel brillante, sus nueve cuernos y sus hermosos cuerpos. Todos creían en su fuerza y poder. Cuando sus enemigos los veían, se les hacía agua la boca. Finalmente,…
مکار لومڑی اور پانچ بیل
دریائے سویان کے کنارے ایک بہت بڑا جنگل تھا۔ اس جنگل میں قسم قسم کے درخت بیلیں اور بے شمار پودے اور جھاڑیاں تھیں ۔ جنگل میں ہر قسم کے جانور بھی رہتے تھے۔ ان میں چرندے بھی تھے اور درندے بھی ۔ اڑنے والے یعنی پرندے بھی تھے اور رینگنے والے بھی چرندوں میں نیل گائے، جنگلی بھینسے ، سانبھر، ہرن ، چیتے ، چکارے ، جنگلی بکریاں وغیرہ شامل تھے۔ ، ، ان کے علاوہ یہاں پانچ بیل بھی رہتے تھے۔ پانچوں کے رنگ الگ تھے، لیکن تھے پانچوں آپس میں بھائی بھائی۔ یہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا، کیوں کہ جنگل کے تمام درندوں کی ان پر نظر تھی۔ یہ جب بھی ان پر حملے کی نیت کرتے پانچوں ڈٹ کر مقابلہ کرتے اور اپنے تیز نکیلے سینگوں سے انھیں مار بھگاتے۔ جنگل میں قسم قسم کے پودے ،…
🔥🏔️ لالچ کی کوئی حد نہیں! 😂💁
ایک آدمی پہاڑوں کی طرف جا رہا تھا کہ ایک غریب اس کے پیچھے آ گیا۔ 🚶♂️🤔 غریب نے کہا:“حضور! کچھ عنایت فرمائیں۔” 😄🙏 آدمی نے پہاڑ کی طرف انگلی اٹھائی 👆✨ پہاڑ سونے کا ھو گیا! 😲 غریب خوش ھوا، مگر چند قدم بعد پھر پیچھے آ گیا۔ 😕 آدمی نے غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟” 😡 کہنے لگا:“تھوڑا اور…” 😅🙏 دوسرا پہاڑ بھی سونے کا،پھر تیسراپھر چوتھاچاروں طرف سونے ھی سونے کے پہاڑ! 😳💰 چند قدم بعد دیکھا 👁️وھی آدمی پھر پیچھے! 😱 غصے سے پوچھا:“اب کیا چاہیے؟!” 😠🤬 غریب نے مُسکرا کر کہا: “حضور، اب وہ انگلی بھی دے دیں!” 😂🤣 سبق:دُنیا میں اِتنی دولت یا طاقت ھے ھی نہیں جو کسی اِنسان کی لالچ کو پورا کر سکے۔ 🙄💯
بادشاہ اور درویش
ایک، بادشاہ، کو، اپنی، طاقت، اور، دولت، پر، بہت، ناز، تھا۔ ایک، دن، اس، نے، اپنے، دربار، میں، ایک، بوڑھے، درویش، کو، بلایا، اور، غرور، سے، پوچھا: “بتاؤ، دنیا، میں، مجھ، سے، زیادہ، طاقتور، کون، ہے؟” درویش، نے، مسکرا، کر، کہا: “وہ، شخص، جو، تمہیں، تمہاری، حقیقت، یاد، دلا، سکے۔” بادشاہ، ہنس، پڑا، اور، بولا: “میری، سلطنت، میں، ایسا، کون، ہے، جو، میرے، سامنے، یہ، جرات، کرے؟” درویش، نے، آسمان، کی، طرف، دیکھا، اور، کہا: “وقت۔” بادشاہ، نے، حیران، ہو، کر، پوچھا: “وقت؟” درویش، بولا: “ہاں، وقت۔ یہ، نہ، تمہاری، اجازت، لیتا، ہے، نہ، تمہاری، دولت، سے، ڈرتا، ہے۔ آج، تم، تخت، پر، بیٹھے، ہو، کل، کوئی، اور، بیٹھا، ہوگا۔ آج، لوگ، تمہارے، سامنے، سر، جھکاتے، ہیں، کل، شاید، تمہارا، نام، بھی، کسی، کو، یاد، نہ، رہے۔” بادشاہ، کچھ، دیر، خاموش، رہا، مگر، پھر، غرور، سے، بولا: “لیکن، میں، اپنی، یاد، ہمیشہ، زندہ، رکھ، سکتا، ہوں۔” درویش، نے، جواب، دیا:…
تین ٹھگ
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک حافظ صاحب نے بڑے بھاؤ تاؤ کے بعد ایک بکرا خریدا۔ راستے میں تین ٹھگوں کی ان پر نظر پڑ گئی۔ تینوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یہ بکرا کسی طریقے سے ہتھیا لیا جائے۔ یہ طے پایا کہ اگر کسی طرح حافظ جی کو یقین دلا دیا جائے کہ یہ بکرا نہیں بلکہ کتا ہے، تو وہ خود ہی اسے لات مار کر بھگا دیں گے۔چنانچہ منصوبے کے مطابق، راستے میں پہلا ٹھگ بڑی مطمئن شکل بنا کر ان سے ملتا ہے اور نہایت ادب سے سلام و دعا کے بعد پوچھتا ہے: “محترم حافظ جی! خیر تو ہے، یہ کتا کہاں اٹھا کر لے جا رہے ہیں؟”حافظ جی چونک اٹھے اور گرج کر بولے: “ناہنجار کہیں کے! کیا یہ تمہیں کتا دکھائی دیتا ہے؟ یہ بکرا ہے، جسے میں نے ابھی بکرا منڈی سے خریدا ہے۔”ٹھگ نے حیران ہونے کی…
بلاعنوان 😂
لڑکا:میں آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ھوں۔ 😍🥀 لڑکی کا والد:اچھا! پہلے یہ بتاؤ، تم مہینے میں کتنا کماتے ھو؟ 🤔💵 لڑکا:جی، تقریباً 30 ہزار روپے۔ 😎💁♂️ لڑکی کے والد:واہ! یعنی گزارا ھو جاتا ھے؟ 😕😒 لڑکا:جی بالکل، بس کبھی مہینہ لمبا ھو جاتا ھے اور تنخواہ چھوٹی پڑ جاتی ھے۔ 😂🤏 لڑکی کے والد:کیا تُمہیں پتہ ھے میں اپنی بیٹی کو 25 ہزار ماہانہ جیب خرچ دیتا ھوں؟ 😏🤔 لڑکا:جی، وہ ملا کر ھی 30 ہزار بتایا ھے۔ 😁🤣
La bondad nunca se desperdicia.
Érase una vez un comerciante honesto y honrado llamado Zahid. Viajaba solo en su camello. Durante el viaje, algo extraño le sucedía. Adondequiera que iba, veía un hermoso pájaro azul volando sobre su cabeza.Al principio, Zahid pensó que era normal, pero la verdadera historia comenzó cuando llegó a un desierto desolado y abrasador. Debido al intenso calor, Zahid se quedó sin agua.Tenía mucha sed y se sentía mareado. De repente, vio que el mismo pájaro azul sobrevolaba un viejo pozo. Zahid, feliz, llegó al pozo y colgó un cubo con una cuerda para sacar agua. Pero cuando sacó el cubo, en lugar de agua, estaba lleno de brillantes monedas de oro. Zahid pensó que las monedas de oro no podrían calmar su sed en aquel desierto abrasador. Volvió a echar todo ese oro al pozo y oró: «¡Oh, Alá! No necesito riquezas, solo necesito agua para salvar mi vida». Volvió…
La bendición del sustento halal y el sueño del rey
Se cuenta que en una zona suburbana de Khorasan vivía un campesino muy pobre, pero muy bueno y piadoso, llamado Sabir. Sabir trabajaba arduamente en los campos ajenos durante todo el día y con el pequeño salario que recibía al anochecer, proveía de alimento lícito para su familia. Su principio era muy claro: “Recibiré el salario correspondiente a mi trabajo”. Si algún amo intentaba darle incluso un centavo más de lo acordado, Sabir se negaba a aceptar el dinero extra y decía: “Solo tengo derecho al salario correspondiente a mi trabajo”. Una noche, el rey tuvo un sueño extraño… Vio que todos los tesoros de su palacio se habían convertido en polvo, pero desde un rincón de la ciudad una línea luminosa se elevaba hacia el cielo. Al amanecer, el rey ordenó a sus ministros que buscaran ese lugar luminoso. Los sirvientes reales buscaron y dieron con la cabaña de…