Author Archives: NZ's Collection

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کے پاس ایک گھوڑا اور ایک گدھا تھا۔ گھوڑا خوبصورت، تیز رفتار اور مضبوط تھا، جبکہ گدھا دن بھر بوجھ اٹھانے والا محنتی جانور تھا۔ گدھے کے دل میں ایک شکوہ برسوں سے پل رہا تھا۔ وہ اکثر خود سے کہتا:“یہ کیسا انصاف ہے؟ گھر کا سارا بھاری کام میں کرتا ہوں۔ لکڑیاں میں اٹھاتا ہوں، بوریاں میں ڈھوتا ہوں، سامان میں لاتا ہوں، مگر محبت ساری گھوڑے کو ملتی ہے۔” اسے سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جب بھی مالک کہیں دور سفر پر جاتا یا شکار کے لیے نکلتا، ہمیشہ گھوڑے کو ساتھ لے جاتا۔روانگی سے پہلے گھوڑے کی خوب صفائی کی جاتی، اس کی ایال سنواری جاتی، زین کَسی جاتی اور مالک بڑے فخر سے اس پر سوار ہو کر نکلتا۔ گدھا ایک کونے میں کھڑا یہ سب دیکھتا رہتا اور دل ہی دل میں…

Read more

           ایک جزیرے پر بندروں کی ایک بڑی جماعت بستی تھی، جہاں پھل پھول عام تھے اور آب و ہوا ان کے مزاج کے بالکل موافق تھی۔ ایک دن، جب چند بزرگ بندر ایک درخت کے سائے میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تو اچانک وہاں سے ایک بلبل نامی ریچھ کا گزر ہوا۔ بلبُل نے دل میں سوچا کہ ان بندروں کا رہن سہن کتنا آرام دہ ہے؛ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ غار میں گزارا کرتا ہوں، بڑی محنت سے گھاس پھول حاصل کرتا ہوں، اور یہ بندر کتنے مزے سے تازہ پھل کھاتے اور نرم سبزے پر آرام کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر بلبُل نے غصے میں بندروں پر حملہ کر دیا۔تمام بندر ڈر کر چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود وہ بلبُل کا مقابلہ نہ کر سکے اور بلبُل نے کئی بندروں کو کاٹ کر زخمی کر…

Read more

سیاحوں کا ایک گروپ مگرمچھوں کے فارم کی سیر کر رہا تھا۔ سب لوگ جھیل کے درمیان بنے ایک محفوظ تیرتے پلیٹ فارم پر کھڑے تھے۔ اچانک فارم کے مالک نے اعلان کیا: ’’جو شخص مگرمچھوں سے بھری اس جھیل میں چھلانگ لگا کر بحفاظت کنارے تک پہنچ جائے گا، اسے ایک کروڑ ڈالر انعام دیا جائے گا!‘‘ سب لوگ خاموش ہوگئے۔ کوئی اپنی جان خطرے میں ڈالنے کو تیار نہ تھا۔ اچانک ایک آدمی نے پانی میں چھلانگ لگا دی۔ مگرمچھ اس کے پیچھے لپکے، لیکن قسمت اچھی تھی کہ وہ بحفاظت کنارے تک پہنچ گیا۔ فارم کے مالک نے خوش ہو کر اعلان کیا: ’’یہ شخص ایک کروڑ ڈالر کے انعام کا حق دار ہے!‘‘ انعام لینے کے بعد وہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ ہوٹل واپس آیا۔ کمرے میں پہنچتے ہی اس نے غصے سے کہا: ’’میں نے اپنی مرضی سے چھلانگ نہیں لگائی تھی! کسی نے…

Read more

ایک پرانے اور خوبصورت شہر میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا جس کا نام رحمت تھا۔ رحمت صبح سویرے جنگل جاتا، سوکھی لکڑیاں کاٹتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے بوڑھے والدین اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ وہ انتہائی ایماندار اور خدا ترس انسان تھا، کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیتا تھا۔اس شہر کا بادشاہ بہت انصاف پسند تھا، لیکن وہ اکثر عام لباس پہن کر شہر کے حالات کا جائزہ لینے نکلتا تھا۔ ایک دن، جب رحمت جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہا تھا، تو اچانک آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور موسلا دھار بارش شروع ہو گئی۔ رحمت بارش سے بچنے کے لیے ایک پرانے اور ویران غار کی طرف بھاگا۔غار کے اندر اندھیرا تھا، لیکن جب رحمت اندر داخل ہوا تو اسے کونے میں ایک پرانی لکڑی کا صندوق نظر آیا۔ اس نے تجسس سے صندوق کھولا تو وہ حیرت سے دنگ رہ گیا!…

Read more

جنگل کے ایک سرسبز کونے میں ایک بوڑھا خرگوش رہتا تھا۔ بڑھاپے کے باوجود وہ محنت سے جی نہیں چراتا تھا۔ اس نے اپنے پنجوں سے زمین نرم کی، بیج بوئے، پانی دیا اور کئی مہینوں کی محنت کے بعد گاجروں کا ایک خوبصورت کھیت تیار کر لیا۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ جنگل کے جانور جب وہاں سے گزرتے تو کوئی گاجریں کھا جاتا، کوئی پودوں پر پاؤں رکھ دیتا، کوئی کھیلتے کھیلتے فصل روند دیتا۔ شام تک خرگوش آدھی فصل تباہ دیکھتا، مگر خاموش رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جھگڑے سے فصلیں نہیں بچتیں۔آخر اس نے بڑی محنت سے پورے کھیت کے گرد مضبوط لکڑیوں کی باڑ بنا دی۔ اب جانوروں کا اندر جانا بند ہو گیا۔ لیکن جنگل میں ایک نوجوان چوہا بھی رہتا تھا۔وہ اپنی شرارتوں اور اکڑ کی وجہ سے مشہور تھا۔ اسے دوسروں کو تنگ کرنے میں عجیب لطف آتا تھا۔ اسے جب معلوم…

Read more

ایک لڑکا جس لڑکی کو پسند کرتا تھا، ایک دن اس سے کہنے لگا: “مجھے کوئی ایسی چیز تحفے میں دے دو جسے میں ساری زندگی اپنے پاس سنبھال کر رکھ سکوں۔” لڑکی نے اپنی چپل کا نچلا حصہ اتار کر اسے دے دیا۔ لڑکا وہ حصہ لے کر سنار کے پاس گیا اور بولا: “اس کے لیے چاندی کا خوبصورت فریم بنا دو اور اسے اس میں جڑ دو۔” سنار نے کہا: “کل آ کر لے جانا۔” اگلے دن جب لڑکا اپنا تحفہ لینے پہنچا تو سنار نے حیرت سے پوچھا: “بھائی! یہ کس پیر صاحب کی چپل ہے؟” لڑکے نے جواب دیا: “یہ کسی پیر صاحب کی نہیں، میری محبوبہ کی چپل ہے!” یہ سنتے ہی سنار غصے سے بولا: “او مجنوں کی اولاد! کل سے میرا پورا خاندان اس چپل کو چوم چوم کر پاگل ہو چکا ہے!” 😂🤣

شادی کا موقع تھا، ہم سب کزن بیٹھے تھے۔ یکدم ممانی دوائی کی شیشی تھامے وارد ہوئیں: “ارے لڑکوں ذرا یہ بوتل تو کھول دو” طبع آزمائی شروع ہو گئی۔ جب ایک لڑکا ناکام ہوتا تو دوسرا بڑے ہی کانفیڈنس سے کوشش کرتا مگر بے سود۔ لڑکیاں ہماری کیفیت دیکھ کر مسکرائے جا رہی تھیں۔ لڑکوں نے طاقت کی انتہا لگا دی لیکن ڈھکن تھا کہ کھلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔ بوتل گھومتے گھومتے میرے پاس آ گئی۔ اس کی نگاہیں مجھ پر جمی تھیں، انجانی طاقت محسوس کرنے لگا۔ ہاتھوں سے زور لگایا۔۔ مگر بے سود۔ اس کی آنکھوں میں تحقیر نظر آنے لگی۔ جوش سر چڑھنے لگا تو منہ سے ڈھکن کھولنے لگا، زور لگایا، یکدم کٹک کی آواز آئی۔ اب ڈینٹسٹ کے پاس بیٹھا ہوا ہوں، نیا دانت لگنا ہے

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک شخص کے چار بیٹے تھے۔ وہ سب طاقتور، محنتی اور بہادر تھے، مگر افسوس کہ ایک دوسرے کے سب سے بڑے دشمن بھی تھے۔ وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہتے، ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے، لیکن ان کے دلوں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی ہو چکی تھی جسے کوئی نصیحت گرا نہ سکتی تھی۔ ہر صبح کسی نہ کسی بات پر جھگڑا ہوتا، ہر شام نئی ناراضی جنم لیتی، اور ہر رات باپ بے بسی سے یہ سب دیکھتا رہتا۔ وہ جانتا تھا کہ جس گھر سے اتفاق اٹھ جائے، وہاں دولت، طاقت اور وراثت بھی زیادہ دیر سلامت نہیں رہتیں۔ ایک شام اس نے چاروں بیٹوں کو اپنے پاس بلایا۔ اس کی آواز میں کمزوری تھی، مگر الفاظ میں برسوں کی حکمت۔ “بیٹو! آج میں تم سے ایک آخری کام کہنا چاہتا ہوں۔” چاروں خاموشی سے اس کے سامنے…

Read more

ریڈ انڈینز کے اپاچی قبیلے کا بزرگ سردار انتقال کر گیا تو ایک جدید یونیورسٹی سے فارغ التحصیل نوجوان نے سرداری سنبھال لی۔ چند ماہ بعد خزاں کا موسم آیا تو قبیلے والوں نے پوچھا، ’’سردار! اس سال سردی معمول کے مطابق ہوگی یا زیادہ برف پڑے گی؟‘‘ نوجوان سردار کو موسم کی پیش گوئی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ اس نے احتیاطاً کہا، ’’اس بار سخت سردی پڑنے کا امکان ہے، اس لیے زیادہ لکڑیاں جمع کر لو۔‘‘ قبیلے والے لکڑیاں جمع کرنے میں لگ گئے، مگر سردار کو تسلی نہ ہوئی۔ اس نے محکمۂ موسمیات کو فون کرکے پوچھا کہ موسم سرما کیسا ہوگا؟ افسر نے جواب دیا، ’’بہت سخت سردی پڑنے والی ہے۔‘‘ سردار نے قبیلے والوں کو مزید لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ ایک ہفتے بعد اس نے دوبارہ فون کیا تو جواب ملا، ’’سردی پہلے اندازے سے بھی زیادہ شدید ہوگی!‘‘ سردار نے…

Read more

بغداد کے ایک گاؤں میں ایک متقی اور پرہیزگار شخص رہتا تھا جو اپنا سارا وقت عبادت میں گزارتا تھا۔ اسے دنیا کی کوئی لالچ نہیں تھی اور وہ روکھا سوکھا کھا کر گزارا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے ایک مرید نے خوش ہو کر اسے عقیدت اور محبت میں ایک موٹی تازی بھینس تحفے میں دی تاکہ وہ اس کے دودھ اور گھی سے اپنی گزر اوقات کر سکے۔ایک چور کی نظر اس بھینس پر پڑی اور اس کے دل میں لالچ آ گیا کہ اس بھینس کو چرا لیا جائے۔ چنانچہ وہ زاہد کی خانقاہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں اسے ایک آدمی ملا جو کہ دراصل انسان کی شکل میں خود شیطان تھا۔جب چور نے پوچھا کہ “تو کون ہے اور کہاں جا رہا ہے؟” تو اس نے جواب دیا، “میں شیطان ہوں اور آدمی کی شکل میں ہوں تاکہ خانقاہ کے زاہد کو جاؤں،…

Read more

رات کے تین بج رہے تھے اور چاروں طرف گہرا سناٹا تھا۔ شیدا میاں نے اس رات کچھ ہاتھ پاؤں مارنے کے لیے محلے کی سب سے بڑی اور عالیشان کوٹھی کا انتخاب کیا۔ ارادہ بالکل واضح تھا کہ خاموشی سے دیوار پھلانگ کر اندر گھسیں گے، مال ومتاع پر ہاتھ صاف کریں گے اور رفو چکر ہو جائیں گے۔منصوبے کے مطابق شیدا میاں نے بلی کی سی پھرتی دکھائی، اونچی دیوار پر ہاتھ ڈالا اور ایک ہی جست میں اوپر جا پہنچے۔ تاریکی میں چاروں طرف جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اندر کی طرف ایک شاندار چھلانگ لگائی۔ لیکن قسمت کا پھیر تو دیکھیے! پیر زمین پر ٹکنے کے بجائے سیدھے ایک مہنگے چینی کے گملے پر پڑے، گملہ چکنا چور ہوا، محلے کا چوکیدار والا کتا بیدار ہو کر ڈوبارہ فرکانس پر آگیا، اور شیدا میاں دھڑم سے لان میں بچھاری ایک بڑی سی چارپائی پر جا…

Read more

ایک دور دراز گاؤں میں ایک غریب کسان رہتا تھا جس کا نام رحمت علی تھا اور وہ بہت محنتی تھارحمت علی کے پاس اپنی زمین کے سوا ایک گدھا تھا جو اس کا واحد سہارا اور کل سرمایہ تھااس گدھے کا نام رحمت علی نے کالا رکھا ہوا تھا لیکن کالا عام گدھوں جیسا بالکل نہیں تھاکالا بہت سمجھدار تھا اور انسانوں کی باتوں کو بہت جلدی سمجھ جاتا تھا اور اشاروں پر عمل کرتا تھارحمت علی روز صبح سویرے اٹھتا اور کالے کی پیٹھ پر تازہ سبزیاں لاد کر شہر کی منڈی میں بیچنے جاتاشہر کا راستہ ایک گھنے جنگل سے ہو کر گزرتا تھا جہاں ہر طرح کے جانور رہتے تھےاس جنگل میں ایک چالاک لومڑی بھی رہتی تھی جو بہت عرصے سے کسی آسان شکار کی تلاش میں تھیلومڑی نے کئی بار رحمت علی اور اس کے گدھے کو آتے جاتے دیکھا تھا اور اس کے…

Read more

ایک ملک میں ایک بہت ہی بے وقوف بادشاہ حکومت کرتا تھااس کا نام راجہ موٹو تھا اور وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے مشہور تھااس کا دربار بھی عجیب و غریب لوگوں سے بھرا ہوا تھابادشاہ کو لگتا تھا کہ وہ دنیا کا سب سے عقل مند بادشاہ ہےحالانکہ حقیقت میں وہ ہر بات الٹی سمجھتا تھاایک دن بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ مجھے چاند چاہیےوزیر نے کہا حضور چاند تو آسمان پر ہے اسے کیسے لایا جائےبادشاہ نے کہا تم سب بے وقوف ہو ایک بڑی سی سیڑھی لگاؤ اور چاند اتار لاؤپورے دربار میں سپاہی سیڑھیاں لے کر چاند کو اتارنے کی کوشش کرنے لگےلوگ یہ تماشا دیکھ کر ہنسنے لگے کہ کیسا بے وقوف بادشاہ ہےبادشاہ نے ایک دن کہا کہ ملک میں سب کو الٹا چلنا چاہیےاس نے حکم دیا کہ آج سے سب لوگ سیدھے کی بجائے الٹے چلیں گےاگلے دن…

Read more

                   بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک چھوٹی سی ریاست میں سلطان جلال الدین حکومت کرتا تھا۔ وہ ایک نیک دل مگر کچھ بھلکڑ بادشاہ تھا۔ اس کے دربار میں ہر قسم کے لوگ موجود تھے۔ کوئی عقل مند تھا تو کوئی خوشامدی، کوئی بہادر تھا تو کوئی ایسا بھی تھا جسے دیکھ کر عقل بھی اپنا راستہ بدل لیتی تھی۔ انہی لوگوں میں ایک سپاہی بھی تھا جس کا نام فیقو خان تھا۔ فیقو خان شکل و صورت سے تو بڑا رعب دار تھا۔ لمبا قد، گھنی مونچھیں، سر پر بڑی سی پگڑی اور کمر سے لٹکتی ہوئی تلوار۔ لیکن اس کی عقل کا حال یہ تھا کہ اگر اسے کوئی کہتا کہ سامنے والے دروازے سے باہر نکل جاؤ تو وہ پہلے یہ پوچھتا کہ دروازہ کھول کر نکلنا ہے یا دیوار پھلانگ کر؟ ایک دن سلطان نے اپنے وزیرِاعظم، حکیم الدین کو بلایا اور کہا: “وزیر…

Read more

کسی پرانے زمانے میں ایک سرسبز و شاداب وادی میں “احمد” نام کا ایک غریب کسان رہتا تھا۔ احمد مٹی سے جڑا ہوا ایک محنتی اور صابر انسان تھا، جس کے پاس دنیا کی دولت تو زیادہ نہیں تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا اور سخی تھا۔ وہ روزانہ صبح سویرے اٹھتا، اپنے کھیتوں میں ہل چلاتا اور جو کچھ بھی اللہ اسے دیتا، اس میں سے غریبوں اور مسافروں کا حصہ ضرور نکالتا تھا۔ایک شام جب سورج ڈوبنے کو تھا اور کھیتوں پر اندھیرا پھیل رہا تھا، احمد اپنے ہل کو سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے ایک بوڑھا مسافر زمین پر نڈھال پڑا دکھائی دیا۔ مسافر کے چہرے پر تھکن کے گہرے آثار تھے اور وہ بھوک پیاس سے بے حال لگ رہا تھا۔ احمد سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی۔ وہ فوراً دوڑ کر گیا، اپنے لانے والے کھانے…

Read more

ایک دن ایک مشہور فلسفی اپنے علم اور عقل پر بڑا ناز کرتا ہوا ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچا۔ گاؤں والوں نے مشورہ دیا کہ اگر واقعی عقل مند ہو تو پہلے ملا صاحب سے ملاقات ضرور کرنا! فلسفی ملا کے پاس پہنچا۔ کافی دیر علمی گفتگو ہوتی رہی، پھر دونوں کھانا کھانے ایک ہوٹل چلے گئے۔ ویٹر نے آ کر بتایا:”جناب! آج تازہ مچھلی دستیاب ہے۔“ فلسفی نے فوراً دو مچھلیاں منگوا لیں۔ تھوڑی دیر بعد کھانا آیا تو ایک مچھلی بڑی اور دوسری چھوٹی تھی۔ ملا نصرالدین نے بغیر دیر کیے بڑی مچھلی اٹھائی اور اپنی پلیٹ میں رکھ لی۔ 😂🐟 یہ دیکھ کر فلسفی کا پارہ چڑھ گیا۔ کہنے لگا:”ملا صاحب! یہ کون سا اخلاق ہے؟ ایک مہذب انسان کو دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ تہذیب، شرافت اور انسانی اقدار کا تقاضا تو یہ ہے کہ آپ بڑی مچھلی اپنے مہمان کو دیتے!“ ملا صاحب خاموشی سے…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت تھی جس کا نام نورآباد تھا۔ اس سلطنت پر سلطان زین العابدین حکومت کرتا تھا۔ سلطان نہایت انصاف پسند اور رعایا کا خیرخواہ تھا۔ اس کے محل کے دروازے ہر وقت ضرورت مندوں کے لیے کھلے رہتے تھے۔ سلطان کے تین بیٹے تھے: شہزادہ کامران، شہزادہ سلیم اور شہزادہ فہیم۔ تینوں شہزادے ذہین اور بہادر تھے، مگر ان کی طبیعتیں ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں۔ کامران کو اپنی دولت اور طاقت پر ناز تھا۔ سلیم اپنی خوب صورتی اور علم پر فخر کرتا تھا، جبکہ فہیم خاموش طبیعت، نرم دل اور سادہ مزاج تھا۔ سلطان اکثر سوچتا کہ اس کے بعد سلطنت کی ذمہ داری کس بیٹے کو سونپی جائے۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ بننے کے لیے صرف بہادری یا علم کافی نہیں، بلکہ انسان میں انصاف، صبر، رحم اور سچائی بھی ہونی چاہیے۔ ایک دن سلطان نے…

Read more

          تین آدمی ایک ساتھ کسی سفر پر روانہ ہوئے۔ ان تینوں میں جو سب سے بڑا تھا اُس نے اپنے دونوں ساتھیوں سے پوچھا، “تم نے اپنا شہر کیوں چھوڑا اور سفر کی یہ مصیبت کیوں قبول کی ہے؟”اُس نے جواب دیا، “میں جس گاؤں میں رہتا تھا، وہاں ایسے ایسے واقعات رونما ہوتے تھے جنہیں میں برداشت نہیں کر پاتا تھا اور حد سے جل اٹھتا تھا اور مسلسل جلتا رہتا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ دو تین روز کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ دوں، شاید اس طرح ان واقعات کو دیکھنے سے محفوظ رہوں جو مجھ سے نہیں دیکھے جاتے۔”دوسرے نے کہا— “مجھے بھی یہی دکھ ستاتا تھا اور اسی لیے میں نے بھی اپنا وطن چھوڑ دیا۔”تیسرے نے کہا— “تم دونوں میری ہی طرح ایک سا دکھ رکھتے ہو۔ میں بھی اسی جلن میں جنگل کی طرف نکلا تھا۔”جب اُنہیں یہ معلوم ہوا کہ وہ…

Read more

ایمرجنسی کے زمانے میں، میں نے ایک مرتبہ کہہ دیا کہ ‘سرکار چور ہے’۔دوسرے دن پولیس اسٹیشن سے بلاوا آ گیا۔افسر نے مجھ سے پوچھا: ‘آپ نے کل رات کہا کہ سرکار چور ہے؟’میں نے کہا: ‘جی ہاں، بالکل کہا ہے۔’افسر نے کہا: ‘تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟’میں نے بڑی معصومیت سے جواب دیا: ‘جناب، میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہندوستان کی سرکار چور ہے… کہ پاکستان کی سرکار چور ہے، امریکہ کی سرکار چور ہے یا برطانیہ کی سرکار چور ہے!’افسر مسکرایا، میری طرف دیکھا اور بولا: ‘اچھا! تم ہمیں بیوقوف سمجھتے ہو؟ ہمیں معلوم نہیں ہے کیا کہ سرکار کہاں کی چور ہے!’”- راحت اندوری.

پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…

Read more

160/3958
NZ's Corner