وقت ایک سا نہیں رہتا –
بہت دور کہیں ایک باغ کے قریب تین دوست رہتے تھے۔وہ اکثر باغ کی باڑ پر بیٹھے نظر آتے۔باڑ کے ساتھ ہی ایک بڑا تالاب بھی تھی۔جب سورج کی شعاعیں درختوں کے پتوں اور پانی پر چمک رہی ہوتیں اور تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی ہوتی تو کچھ دور ایک درخت پر رہنے والا اُلو اُڑ کر باڑ پر آجاتا اور زور سے آواز نکالتا۔اسی وقت تالاب کے پانی میں لہریں پیدا ہوتیں اور ایک بڑا سبز مینڈک اپنا سر نکال کر دیکھتا۔پھر وہ بھی تیرتا ہوا پانی سے باہر نکل آتا اور پھدکتا ہوا باڑ کے پاس آجاتا،اچانک کُٹ کُٹ․․․․کی آواز آتی اور ایک موٹی سی کالے پروں والی مرغی باغ کے کسی کونے سے نمودار ہوتی اور اس محفل میں شریک ہو جاتی۔تینوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور اپنے اپنے دل کا حال سناتے۔ اُلو کو انسانوں سے شکایت تھی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتے۔مینڈک…
قسمت کے کھیل –
کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا،اس کا نام اسلم تھا۔وہ رسیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک روز اس کی دکان پر ایک سوداگر آیا۔سوداگر کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا۔اسلم ان کو رسے دکھانے لگا۔سوداگر نے اپنے دوست سے کہا”میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا میں ترقی اس لئے کر جاتے ہیں کہ ان پہ قسمت اچانک مہربان ہو جاتی ہے۔اب اس آدمی کو دیکھ لو اگر کہیں سے کوئی رقم اس کے پاس آ جائے تو اس کا کاروبار چل نکلے گا اور یہ خود رسے بنانے کے بجائے بیسیوں ملازم رکھ لے گا۔“”معاف کرنا جناب!“اسلم نے ان کی باتوں میں دخل دیتے ہوئے کہا”آپ درست فرما رہے ہیں،لیکن میرے پاس اتنی رقم آئے گی کہاں سے․․․؟“سوداگر بولا”دینے والی تو وہ پاک ذات ہے،اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔جب میں کسی…
کوئل اور کوا –
ندی کے کنارے لیموں کا پیڑ لگا تھا اس کے قریب ہی آم کا درخت تھا۔لیموں کے پیڑ پر کوے کا گھونسلا تھا جب کہ آم کے درخت پر کوئل نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔لیموں کے پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر کوا ”کائیں کائیں“ کرتا جب کہ آم کی ڈال پر بیٹھ کر کوئل کو کو کرتے ہوئے گاتی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں پرندوں کا رنگ کالا تھا۔موسم بہار میں کوئل نے اپنے گھونسلے میں انڈا دیا،ادھر کوے کی مادہ نے بھی اپنے گھونسلے میں انڈے دیے۔کوا دن بھر باہر دانہ دنکے کی تلاش میں اِدھر اُدھر اُڑتا پھرتا جب کہ ”کوی“ گھونسلے میں بیٹھی انڈوں کی رکھوالی کرتی۔کوئل کو یہ آسانی میسر نہیں تھی،وہ اپنے آشیانے میں اکیلی رہتی تھی،اسے کھانے کی تلاش میں باہر بھی جانا پڑتا تھا،اس صورت میں وہ انڈے کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔ اسے ایک ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ اپنا…
مولا بخش
مولا بخش اور اس کی بیوی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔وہ بچوں کے ساتھ صبر و شکر سے زندگی گزار رہے تھے۔گاؤں کے سبھی لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ایک دن مولا بخش سے اس کی بیوی نے کہا:”میرا خیال ہے ہمیں اپنی بیلوں کی جوڑی سے ایک بیل بیچ دینا چاہیے۔ہمارے کام کاج کے لئے ایک بیل ہی کافی ہے۔ویسے بھی ہم بوڑھے ہو رہے ہیں اور اب اپنا کام نہیں کر سکتے۔“مولا بخش نے جواب دیا:”ٹھیک ہے کل منڈی جا کر ایک بیل بیچ آتا ہوں۔“صبح سویرے مولا بخش بیل کو لے کر منڈی کی طرف روانہ ہو گیا۔راستے میں اسے ایک شخص ملا جو گھوڑے کے ساتھ جا رہا تھا۔گھوڑا بہت مضبوط اور چاق چوبند اور اچھی نسل سے لگ رہا تھا۔وہ شخص مولا بخش کو دیکھ کر رک گیا۔ اس نے پوچھا:”بھائی! اتنی صبح کدھر کی تیاری ہے؟“مولا بخش نے بتایا کہ وہ بیل بیچنے منڈی…
اللہ کی حکمت
حق تعالیٰ نے عزرائیل سے پوچھا کہ اے ہماری سنائی پہنچانے والے! سب مرنے والوں میں تجھے کس پر رحم آیا؟ اور کس کی موت پر تیرا دل زیادہ درد مند ہوا؟عزرائیل نے عرض کی کہ ایک دن ایک کشتی کو جو تیز موج پر بہہ رہی تھی، میں نے تیرے حکم سے توڑدیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگئی اس کے بعد تونے حکم دیا کہ ان سب کی جان قبض کر اور صرف ایک عورت اور ایک بچے کو چھوڑ دے۔ چنانچہ وہ دونوں ایک تختے پر رہ گئے۔ موجیں اس تختے کو آگے بڑھاتی رہیں۔ جب ہوا نے اس تختے کو کنارے لگادیا تو ان دونوں کے بچ جانے سے میرا دل بہت خوش ہوا۔ پھر تونے فرمایا کہ ماں کی روح قبض کر اور بچّے کو تنہا چھوڑ دے جب میں نے اس بچے کو ماں سے جدا کیا ہے تو خود ہی جانتاہے کہ مجھے کس…
چڑیا کی نصیحت
ایک چڑی مارنے بڑی ترکیب سے پھندے میں چڑیا پکڑی۔ چڑیا نے اس سے کہا اے بزرگ سردار! فرض کیجئے آپ مجھ جیسی چھوٹی سی چڑیا کو پکڑ کر کھا بھی جائیں گے تو کیا حاصل ہوگا۔ اب تک آپ کتنی گائیں اور دُنبے کھا چکے ہیں اور کتنے اونٹ قربانی کر چکے ہیں۔ جب کہ آپ اتنے بڑے بڑے جانوروں کو کھا کر سیر نہیں ہوئے تو میرے ذرا سے گوشت واستخواں سے آپ کیا سیر ہوں گے۔ بجائے اس کے اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو آپ کی جواں مردی اور بلند نظری سے بعید نہیں۔ دوسرے آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں ایسی تین مفید نصیحتیں کروں کہ آپ کے ہمیشہ کام آئیں ۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو آپ کے ہاتھ پر بیٹھے بیٹھے ہی کردوں گی۔دوسری نصیحت دیوار پر بیٹھ کر دوں گی۔ وہ ایسی ہوگی کہ آپ مارے خوشی کےپھول جائیں گے اور…
بھیڑیا پکڑا گیا –
ایک بھیڑیا شکار کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے گھومتے ایک غار کے پاس پہنچا،جہاں سے تازہ گوشت کی مہک آ رہی تھی،بھوک اور اُوپر سے تازہ گوشت اس سے رہا نہ گیا اور وہ غار کے اندر چلا گیا۔جب وہ غار میں پہنچا تو اس نے اپنے دوست چیتے کو بکری کھاتے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے بولا”ارے تم!کہاں غائب تھے اتنے عرصے سے؟بڑے مزے آ رہے ہیں اکیلے ہی پوری بکری کھا رہے ہو۔“چیتا بولا،”ہاں بھائی!شکار کے لئے محنت کی اور اب اس محنت کا پھل کھا رہا ہوں،تم سناؤ خیریت تو ہے؟بڑے کمزور دکھائی دے رہے ہو،حالانکہ پہلے تو اچھے بھلے صحت مند تھے۔“بھیڑیے نے کہا،کیا بتاؤں!تم تو آسانی سے شکار کرکے کھا لیتے ہو،مگر مجھے کافی پریشانی ہوتی ہے،قریب کے گاؤں سے روزانہ جنگل میں بکریوں کا ایک ریوڑ گھاس چَرنے آتا تو ہے،مگر ریوڑ کے ساتھ بہت سے موٹے تازے کتے ہوتے ہیں اس لئے…
زندگی ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی ہمیشہ تعداد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔
صدیوں پہلے کی بات ہے،ایک ایسی سلطنت تھی جس کے پرچم نے کبھی شکست کا رنگ نہیں دیکھا تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکمت، انصاف اور بے مثال قیادت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ لیکن اب وقت اس کے کندھوں پر اپنے نشان چھوڑ چکا تھا۔ اس کے بال چاندی میں بدل رہے تھے، ہاتھوں کی مضبوطی کم ہونے لگی تھی، اور سب سے بڑھ کر… اس کے بعد تخت سنبھالنے والا کوئی ایسا وارث موجود نہ تھا جس پر وہ آنکھ بند کرکے بھروسا کر سکے۔ اسی دوران ایک ایسی خبر آئی جس نے پوری سلطنت کی نیندیں چھین لیں۔مشرق کی سرحدوں پر ایک خونخوار سلطنت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر جمع کر چکی تھی۔ جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اگر اس حملے کو نہ روکا گیا تو صرف ایک جنگ نہیں ہاریں گے… بلکہ…
ناقص بانسری کا کامل نغمہ
“ایک زمانہ تھا کہ سرسبز اور لہلہاتی وادی میں ایلیان نامی ایک استاد بانسری نواز رہتا تھا۔ وہ کوئی عام موسیقار نہیں تھا۔ جب وہ بانسری پر طاہرانہ انداز میں نغمہ چھیڑتا، تو ہزاروں لوگ اس کا سحر انگیز موسیقی سننے کھنچے چلے آتے۔ اس کی دھنوں میں یوں لگتا جیسے کوئی زندہ روح سانس لے رہی ہو۔ جب وہ بجاتا تو پورا ماحول اتنا ساکت ہو جاتا کہ پتوں پر گرتی شبنم کی آواز بھی سنائی دینے لگتی۔لیکن اس عظیم فن کے باوجود، ایلیان کے دل میں ایک چھپا ہوا غم تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اس کی بانسری—جو اس نے ایک پوشیدہ غار سے ملنے والی چمکدار نرکل سے تراشی تھی—ناقص ہے۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے نکلنے والی آواز، اگرچہ دلکش ہے، مگر اس کے دل میں گونجنے والے اس پاکیزہ اور خالص نغمے کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی جو اس کے خیالوں میں…
حقیقی حفاظت
ایک حسیں اور پراسرار جنگل کے درمیان، جہاں ہوا بھی سرگوشی کرتی تھی، ایک پرانا اور عظیم درخت کھڑا تھا جسے سب “خاموش مرشد” کہتے تھے۔ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس پر کوئی پھول یا پھل نہیں اگتا تھا، بلکہ اس کی جڑوں سے روشن نیلی کرسٹلز نکلتی تھیں جو پورے جنگل کی روح کو منور کرتی تھیں۔ اس جنگل میں مختلف قسم کے افسانوی کردار رہتے تھے—ایک پروں والا ہرن، ایک دانشمند الو، ایک ہوشیار لومڑی، اور ان سب کا محافظ ایک شریف مزاج ڈریگن، جس کا نام ‘اگنس’ تھا۔اگنس ڈریگن اپنے سنہرے اور لال سائز اور آگ اگلنے کی صلاحیت کے باوجود، اس درخت کا سچا محافظ تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس درخت کی روشنی اور امن کو عزیز رکھتے تھے، لیکن اگنس کو ہمیشہ ایک ڈر ستاتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی اس روشنی کو چرا نہ لے۔ اسی خوف کے تحت، اگنس…
زبان کا زخم –
ایک بادشاہ کسی جنگل میں اکیلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے شیر نے آ لیا۔اتفاق سے ایک کسان بھی ادھر آ نکلا۔جس کے ایک ہاتھ میں ٹیڑھی ترچھی لکڑی اور دوسرے میں درانتی تھی۔شیر بادشاہ پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ کسان نے پھرتی سے ٹیڑھی لکڑی اس کے گلے میں دے کر درانتی سے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔جس سے بادشاہ کی جان بچ گئی۔ بادشاہ نے کسان کو اس مدد کے صلے میں گاؤں کی نمبرداری کے ساتھ بہت سی زمین بھی دے دیں اور کہا کہ ”ہر تہوار کے موقع پر ہمارے یہاں دوستوں،رشتہ داروں کی جو خاص دعوت ہوتی ہے اس میں تم بھی آیا کرو کیونکہ تم بھی اب میرے سچے دوست ہو“۔تھوڑے دنوں میں بادشاہ کے یہاں دعوت ہوئی تو کسان بھی آیا۔اول تو اس کے کپڑے اتنے اعلیٰ نہیں تھے۔ دوسرے بادشاہ کے پاس بیٹھنے کا ادب و سلیقہ بھی…
تنخواہ ودھے سالانہ۔۔پیٹرول ودھے روزانہ۔۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا…ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر اسٹیشن پر اترتا، اگلے اسٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا: “بھائی! جہاں جانا ہے، وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟”اس نے جواب دیا: “ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے، اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں!” لگتا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نسخہ اپنایا گیا ہے۔پہلے ایک ساتھ بڑا اضافہ ہوتا تھا تو لوگ شور مچاتے تھے، اب شاید سوچا گیا ہے کہ ایک ساتھ بڑا جھٹکا دینے کے بجائے، روز تھوڑا تھوڑا اضافہ کر دیا جائے۔سفر بھی وہی… خرچ بھی وہی… بس جھٹکے چھوٹے چھوٹے!😀
Paloma y loro
¡Paloma, Bholu Bhai! Dame algunas cáscaras de coco. La tienda de cocos de Bholu Dhanbe era muy famosa en la selva. Todos los animales y pájaros venían en verano a calmar su sed con el agua fría de coco. Incluso en ese entonces, muchos animales bebían agua de coco con pajitas en la tienda de Bholu. Al oír la voz de la paloma, el travieso loro se giró, lo miró y le dijo burlonamente: “¿No has comido nada hoy para venir a pedir cáscaras de coco?”. La paloma respondió sin dudarlo: “¡Oh, no, hermano loro! Ya comí, voy a quitarles los pelos a estas cáscaras para construirme una bonita casa”. El loro preguntó sorprendido: “¿Cómo estás? ¿Te preocupa construir una casa nueva?”. El loro le explicó al loro travieso: «¡Sí, hermano! Sabes que la próxima temporada es lluviosa y los meteorólogos han pronosticado fuertes lluvias, así que ¿por qué no…
Árbol de mango
El mono Moti vivía con su grupo en un árbol de mango. Moti era valiente e inteligente, aunque un poco olvidadizo. Todos los monos lo respetaban y obedecían sus órdenes, pero desde hacía unos días estaban preocupados. El problema era que el árbol de mango se estaba secando. No daba frutos. Las hojas también habían empezado a caerse, así que se les hacía difícil vivir allí. Había muchos árboles verdes en el bosque. Los monos podían vivir en cualquier árbol y, para ello, hablaron con Moti muchas veces, pero él no quería irse a ningún otro sitio. Moti sentía un gran cariño por ese árbol de mango. Su padre le había contado que su grupo había vivido allí desde la época de su abuelo. Los mangos de ese árbol eran muy dulces. Y ese árbol les daba mucha sombra. Moti amaba muchísimo ese árbol. Ni siquiera podía pensar en abandonarlo…
Lobo astuto –
En un país lejano, una niña vivía con su madre. Su hogar estaba en una pequeña aldea cerca del bosque. La niña se llamaba Shumaila, pero todos en la aldea la llamaban Shumaila la del gorro rojo porque siempre llevaba uno.Un día, Shumaila se despertó por la mañana y su madre le dijo: «¡Hija! Tu abuela está un poco enferma. No puedo ir a verla hoy por un asunto urgente.Haz esto: ve a ver cómo está tu abuela y llévale algunas frutas que he puesto en esta canasta». Cuando Shumaila se disponía a ir con la canasta de frutas, su madre la llamó: «Oye, hija, no hables con nadie por el camino y ve directamente a casa de la abuela».Shumaila dijo: «Sí, de acuerdo, mamá». La casa de la abuela estaba casi al final del camino, después de cruzar todo el bosque. Shamaila, con un sombrero rojo, saltaba de alegría,…
Doce meses –
Un día, una anciana iba a recoger repollos de su campo. En el camino, se encontró con una cueva donde vivían doce hombres. Uno de ellos llamó a la anciana y le preguntó: «Madre, ¿cuál es el mejor mes?». «Todos los meses son buenos, hijo», respondió la anciana. «Mira, en enero nieva, en febrero llueve y en marzo florecen flores por todas partes. Los demás meses también son muy buenos». «Madre, nos has elogiado mucho. Por eso queremos recompensarte. Sabes, nosotros somos los doce meses». Llenaron una cesta con mucho oro y se la dieron a la anciana. Ella les dio las gracias y se fue a casa. Al llegar, les mostró el oro a sus hijos y les dijo: «Ahora seremos muy ricos. ¡Miren cuánto oro he traído!». En ese momento, llegó una vecina. Al ver la pila de oro, se quedó boquiabierta. La anciana le contó a su…
Haz lo que quieras.
En el pueblo vivía un lavandero que tenía un burro, un perro y una gallina. Cuando el burro iba al embarcadero con el lavandero, el perro también lo acompañaba. Al llegar al embarcadero, el lavandero ataba al burro con una cuerda larga. El perro dormía en la hierba cerca del burro. Un día, el gallo le dijo al perro: «Ustedes dos son amigos, pero no me consideran su amigo». El perro respondió: «Tú también eres nuestro amigo. Vivimos en la misma casa y tenemos el mismo dueño». El gallo dijo: «Tú sales con el burro. Yo me paso todo el día dando vueltas por el pequeño patio de la casa. Mi corazón también anhela salir como ustedes dos, dar un paseo y contemplar la belleza del mundo».El perro le explicó al gallo: «Cada animal y cada ser humano tiene una tarea diferente. El burro carga con el peso. Yo me…
فاختہ اور طو طا
فاختہ،بھولُو بھیا!مجھے ناریل کےکچھ چھلکے دیجئے گا۔”بھولُو دُنبے“کی ناریل شاپ جنگل میں بہت مشہور تھی سب ہی جانور اور پرندے گرمیوں میں یہیں آ کر ناریل کے ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔اس وقت بھی کافی جانور بھولُو کی شاپ پر اسٹرا (Straw) لگائے ناریل پانی پینے میں مصروف تھے۔فاختہ کی آواز پر شرارتی طوطے نے مُڑ کے اس کی طرف دیکھا اور طنز کرتے ہوئے کہا،”کیا آج کھانے کو کچھ نہیں ملا جو ناریل کے چھلکے مانگنے آ گئیں؟“فاختہ نے بُرا منائے بغیر جواب دیا،”ارے نہیں طوطے بھائی!کھانا تو کھا چکی ہوں،ان چھلکوں سے آہستہ آہستہ بال نکالوں گی،تاکہ اپنے لئے ایک اچھا سا گھر بنا سکوں“۔طوطے نے حیرانی سے پوچھا،خیریت؟تمہیں بڑی فکر ہو رہی ہے نیا گھر بنانے کیفاختہ نے شرارتی طوطے کو سمجھاتے ہوئے کہا،”ہاں بھائی!تمہیں تو پتا ہے اگلا موسم بارشوں کا ہے اور اوپر سے موسمیات والوں نے تیز بارشوں کی بھی پیشین گوئی…
آم کا درخت –
موتی بندر اپنی ٹولی کے ساتھ آم کے ایک درخت پر رہتا تھا۔موتی بہادر اور سمجھ دار مگر تھوڑا بھولا بھی تھا۔تمام بندر اس کی عزت کرتے تھے اور اس کا ہر کہا مانتے ،لیکن ادھر کچھ دنوں سے سب بندر پریشان تھے ۔بات یہ تھی کہ آم کا پیڑ سوکھ رہا تھا۔ اس پر پھل نہیں لگتے تھے ۔پتے بھی جھڑنے لگے تھے چنانچہ اس پیڑ پر رہنا بندروں کے لئے مشکل ہو گیا تھا ۔جنگل میں کئی ہرے بھرے پیڑ تھے ۔بندر کسی بھی پیڑ پر رہ سکتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے کئی بار موتی سے بات کی مگر موتی کہیں اورجانے کو تیار ہی نہ تھا ۔موتی کو آم کے اس پیڑ سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کے بابا نے بتایا تھا کہ اُن کی ٹولی دادا پر دادا کے زمانے سے ہی اس پیڑ پر رہتی آئی ہے ۔اس پیڑ کے آم…
چالاک بھیڑیا –
کسی دور دراز ملک میں ایک ننھی منی لڑکی اپنی امی کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ان کا گھر جنگل کے قریب ہی ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا۔اس لڑکی کا نام شمائلہ تھا لیکن گاؤں کے تمام لوگ اس کو شمائلہ لال ٹوپی والی کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت لال رنگ کی ٹوپی پہنے رہتی تھی۔ایک روز شمائلہ صبح سو کر اُٹھی تو اس کی امی نے کہا”بیٹی!تمہاری نانی اماں کچھ بیمار ہیں میں ایک ضروری کام کی وجہ سے آج انہیں ملنے نہیں جا سکتی۔ایسا کرو تم جا کر اپنی نانی اماں کی خیریت دریافت کر آؤ اور اس ٹوکری میں میں نے ان کے لئے کچھ پھل رکھ دیئے ہیں یہ ان کو دے آؤ۔“شمائلہ جب پھلوں کی ٹوکری لے کر جانے لگی تو اس کی امی نے آواز دے کر کہا”دیکھو بیٹی راستے میں کسی اجنبی سے کوئی بات نہ کرنا اور سیدھی نانی اماں…