🔥😂 چوہدری صاحب اور پانچ ستارہ ھوٹل 🍋🍲
ایک دن گاؤں کے چوہدری صاحب نے سوچا: > “آج شہر جا کے بڑے لوگوں والا کھانا کھایا جائے!” 😎سو سیدھے ایک مہنگے سے فائیو اسٹار ہوٹل جا پہنچے۔ 🏨 ویٹر نے مینیو کارڈ سامنے رکھا۔چوہدری صاحب نے مینیو کھولا۔ پہلا صفحہ انگریزی میں…دوسرا صفحہ انگریزی میں…تیسرا بھی انگریزی میں! 😵 اب چوہدری صاحب اپنی کم علمی ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے رعب سے انگلی ایک جگہ رکھی اور بولے:> “اوئے پُتر! بس ایہہ لے آؤ!” 😏 چند منٹ بعد ویٹر ایک پیالہ لے آیا، جس میں گرم پانی اور ایک لیموں کا ٹکڑا تیر رہا تھا۔ 🍋 چوہدری صاحب نے دل میں سوچا:> “واہ بھئی واہ! شہر والوں کے سوپ بھی کتنے نفیس ہوتے ھیں!” 😂 انہوں نے لیموں نچوڑا…چمچ اٹھایا…اور پورا “سوپ” مزے لے لے کر پی گئے۔ 😋 ویٹر کچھ دیر بعد آیا اور ادب سے پوچھا:> “سر! کیسا لگا؟” چوہدری صاحب نے مونچھوں…
عقلمند لڑکا
بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں اس کی غلّے کی دکان تھی۔ اس دکان میں گندم، چاول، گڑ، شکر، مکئی اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری، خوش اخلاقی اور غلے کے مناسب داموں کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں دو نو عمر لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…
عیب پوشی
کہتے ہیں کہ کسی ملک میں ایک نہایت ہی انصاف پسند اور عوام کے دکھ درد بانٹنے والا بادشاہ رہتا تھا مگر جسمانی طور پر ایک ٹانگ اور ایک آنکھ سے محروم تھا۔ ایک دن بادشاہ نے اپنی مملکت کے ماہر مصوروں کو اپنی تصویر بنوانے کیلئے بلوا لیا۔اور وہ بھی اس شرط پر، کہ تصویر میں اُسکے یہ عیوب نہ دکھائی دیں۔ سارے کے سارے مصوروں نے یہ تصویر بنانے سے انکار کر دیا۔ اور وہ بھلا بادشاہ کی دو آنکھوں والی تصویر بناتے بھی کیسے جب بادشاہ تھا ہی ایک آنکھ سے محروم ۔ اور وہ کیسے اُسے دو ٹانگوں پر کھڑا ہوا دکھاتے جبکہ وہ ایک ٹانگ سےبھی معزور تھا۔ لیکن اس اجتماعی انکار میں ایک نہایت ہی ہوشیار مصور نے کہا:بادشاہ سلامت میں بناؤں گا آپکی تصویر۔اور جب تصویر تیار ہوئی تو اپنی خوبصورتی میں ایک مثال اور شاہکار تھی۔ وہ کیسے؟؟تصویر میں بادشاہ شکارکرتا دیکھائی…
ہمیشہ اپنے آنے والے وقت کے لیے محنت کرنی چاہیے ۔
ایک ہرئ بھری اور خوبصورت چراگاہ میں بہت سے جانور رہتے تھے وہ سب آپس میں مل جل کر رہتے ۔ ایک دن سب جانور اکھٹے ہوے اور وہ اپنے چراگاہ کے لیے بہت فکر مند تھے کیونکہ گرمی اور بہار کے موسم میں ہر طرف خوب ہری بھری گھاس ہوتی لیکن سردی اور بارش کے موسم میں ہر طرف پانی ہی پانی ہو جاتا جس کی وجہ جانوروں کھانے کے لیے کچھ بھی نا ملتا ۔ وہ بہت پریشان رہتے ۔ خرگوش ہمیشہ اپنے لیے ہر قسم کی سبزیاں اگاتا اور اپنے گھر میں جمع کر لیتا تاکہ بارش کے موسم میں وہ آرام سے وقت گزار سکے ۔ خرگوش نے سب جانوروں سے کہا کہ ہمیں اپنے لیے مظبوط گھر بنانے تا کہ ہم سردی کے موسم میں اپنے گھروں میں محفوظ رہ سکیں ۔ سب جانوروں نے خرگوش کی بات مان لی اور بکری نے ہنس کر…
گدھا برائے فروخت نہیں! 😂
ایک شخص کی بیوی کو ایک دن اس کے پالتو گدھے نے ایسی لات ماری کہ وہ دنیا سے رخصت ھو گئی۔ 🫏 چند ماہ بعد اس نے دوسری شادی کر لی۔ ابھی نئی دلہن کو آئے چند ھی دن ہوئے تھے کہ گدھے نے اسے بھی اپنی “محبت بھری” دولتی کا نشانہ بنا دیا۔ 😳 اب بیچارہ دوبارہ تعزیتیں وصول کر رہا تھا۔ لوگ آتے، فاتحہ پڑھتے اور سوال کرتے۔ ایک شخص نے غور کیا کہ: – جب عورتیں کچھ پوچھتی ہیں تو وہ سر ہلا کر “ہاں” کہتا ھے۔ 😊– اور جب مرد کچھ پوچھتے ھیں تو وہ فوراً “نہیں” میں جواب دیتا ھے۔ 😐 آخر اس سے پوچھ ہی لیا گیا: “بھائی! یہ کیا راز ھے؟” وہ بولا: “عورتیں پوچھتی ھیں:‘اب پھر شادی کرو گے؟’تو میں کہتا ھوں: ‘ہاں!’ 😌 اور مرد پوچھتے ھیں:‘یار! گدھا بیچو گے؟’ تو میں صاف کہہ دیتا ھوں:‘نہیں بھائی! گدھا فروخت نہیں…
بادشاہ، شہزادہ اور شرارتی بھیڑیں
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اور اُن کا بیٹا سلیمان تھا۔سلیمان جانوروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ لیتا تھا۔وہ مچھلی، بھیڑوں اور کیڑوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ گیا۔بادشاہ پوری دنیا کا سفر کرتا تھا اور اپنے بیٹے سلیمان کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ سلیمان ان سے حکمت سیکھے۔لوگ ہر وقت بادشاہ کے پاس اپنے مسائل کے لئے آتے تھے۔اگر انھیں کسی قسم کی پریشانی ہوتی تو وہ بادشاہ کے پاس آتے۔اور بادشاہ ہمیشہ بہت غور سے سنتا تھا۔اور اسی طرح سلیمان بھی سنتا تھا۔ایک دن جب سلیمان کی عمر گیارہ سال تھی، کچھ آدمی ایک مسئلہ لے کر آئے۔ایک چرواہا اور ایک کسان اور بھیڑوں کا ایک ریوڑ آ گیا۔(جاری ہے) سلیمان کو بھیڑ بہت پسند تھی۔ان کے پاس اُون کے خوبصورت کوٹ تھے۔ بھیڑیں بیں بیں کرتی رہیں اور وہ انھیں سمجھ گیا۔پہلا آدمی غصے…
قلعی کھل گئی –
اٹلی میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔ اس کی رعایا اُسے بہت ناپسند کرتی تھی مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس کی بہت تعریف کرتے تھے ۔ اُس بادشاہ کا ایک خوشامدی وزیر تھا ۔ وہ دن رات بادشاہ کی نیکی ، سچائی اور انصاف کی جھوٹی تعریفیں کرتا ۔ بادشاہ کا حکم تھا مجھے رعایا کے لوگوں کا حال سچ سچ بتایا کرو کہ کون کس حالت میں ہے اور میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ۔اس طرح میں ان کی رائے اور سب کے حالات صحیح طور پر معلوم کر سکوں گا ۔ اس کے جواب میں دوسرے وزیر توخاموش رہتے ، مگر تعریف کرنے والا وزیر فوراََ کہتا ، حضور کی نیکی اور انصاف کے چرچے سارے ملک بلکہ دنیا بھر میں ہوتے ہیں ۔بھلا وہ کون بے وقوف آدمی ہوگا جو حضور کے انتظام سے خوش نہ ہو ہمارے ملک کی رعایا…
لومڑی اور خرگوش
ایک تھی لومڑی اور ایک تھا خرگوش۔ دونوں ہمسائے تھے۔ لومڑی بے حد چالاک اور مکار تھی جب کہ خرگوش سیدھا سادا سا۔ لومڑی رات دن مصروف پھرتی رہتی اور خرگوش ہر وقت گھوڑے بیچ کر سوتا رہتا۔ خرگوش کی تھوڑی سی زمین تھی لیکن اس پر محنت نہ کرنے کی وجہ سے بنجر پڑی تھی۔ ایک دن لومڑی خرگوش کے پاس آئی، اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کھیتی باڑی کا ذکر چھیڑا۔ پوچھا: “خرگوش میاں! تم روز بروز کاہل ہوتے جا رہے ہو۔ تمہاری زمین ابھی تک بنجر پڑی ہے اور کاشت کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن کیا کروں؟ مجھ سے زیادہ کام بھی تو نہیں ہوتا۔ خرگوش نے جواب دیا: “سچ پوچھو تو مجھے تمہاری بڑی فکر رہتی ہے۔ ڈرتی ہوں کہ خوراک پیدا نہیں کرو گے تو اگلی سردیوں میں بھوکے مرو گے۔” خرگوش یہ سن کر بڑا…
🔥😂 پیر صاحب کا سب سے کڑا امتحان! 🍲💁♂️
ایک دن پیر صاحب ایک مرید کے گھر تشریف لے گئے۔ سامنے گرم گرم بکرے کا گوشت، تازہ روٹیاں اور لسی حاضر تھی۔ 🍖😋 پیر صاحب مزے سے کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور مرید آ گیا۔ ہاتھ جوڑ کر بولا: > “پیر صاحب! کبھی ھماری دال روٹی بھی نوش فرما لیں، ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں!” 🥹🙏 پیر صاحب نے سوچا:> “چلو، ایک اور مرید کا دل رکھ لیتے ھیں۔” 😌🥀 چنانچہ فوراً اس کے ساتھ روانہ ھو گئے۔ گھر پہنچے تو مرید نے بڑے فخر سے دال اور روٹی پیش کر دی۔ 🍲🍞 پیر صاحب نے پہلا نوالہ لیا… پھر دوسرا… اور پھر اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے بدلنے لگے جیسے موبائل میں اچانک “Low Battery 1%” آ جائے! 😬 دال میں نہ نمک… نہ مرچ… نہ گھی… اور نہ ھی کوئی ایسی چیز جسے کھانے سے تعلق ھو! 😂 پیر صاحب نے پانی…
لکڑیوں کا گٹھا
ایک امیر باپ کے تین بیٹے تھے۔ مرنے سے پہلے اس نے تینوں کو بلایا اور ہر ایک کو ایک ایک لکڑی کا گٹھا دیا جس میں دس دس لکڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس نے کہا: “اس پورے گٹھے کو توڑ کر دکھاؤ۔” تینوں نے پوری طاقت لگائی مگر بندھا ہوا گٹھا نہ ٹوٹ سکا۔ پھر باپ نے ہر گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی الگ الگ دی اور کہا: “اب انہیں توڑو۔” ہر ایک لکڑی آسانی سے، بغیر کسی زور کے، ٹوٹ گئی۔باپ نے کمزور آواز میں کہا: “بیٹا، یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ جب تک تم تینوں اکٹھے، ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہو گے، کوئی طاقت تمہیں توڑ نہیں سکے گی۔ مگر اگر تم آپس میں جدا ہو گئے، ہر کوئی اپنی راہ الگ چل پڑا، تو دنیا کی معمولی سی مشکل بھی تمہیں ایک ایک کر کے توڑ دے گی۔” کچھ عرصے…
دو گھڑے
ایک کمہار روزانہ اپنے بنائے ہوئے گھڑے بھٹے میں پکاتا۔ ایک دن دو گھڑے، جو ساتھ ساتھ پکائے گئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایک گھڑا شکایت کرنے لگا: “دیکھو، ہمیں کتنی تیز آگ میں جھونکا گیا، کتنی تکلیف سہنی پڑی، یہ کتنا ظلم ہے۔” دوسرا گھڑا خاموشی سے سنتا رہا۔ کچھ عرصے بعد دونوں گھڑے بازار میں فروخت ہونے کے لیے رکھے گئے۔ ایک گاہک نے دونوں کو ٹھونک ٹھونک کر آواز پرکھی۔ جو گھڑا آگ کی تپش پوری طرح جھیل کر مضبوط ہوا تھا، اس میں سے صاف اور بلند آواز نکلی، جبکہ جو گھڑا آدھا پکا رہ گیا تھا، اس میں دراڑ پڑ گئی اور وہ ٹوٹ کر رہ گیا۔مضبوط گھڑا برسوں تک ٹھنڈے پانی اور اناج کو محفوظ رکھنے کے کام آیا، لوگوں کے گھروں کی رونق بنا رہا، جبکہ کمزور گھڑا جلد ہی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ کمہار نے، جو یہ…
منحوس مسافر خانہ
ایک مسافر پہاڑی علاقے میں سفر کرتے ہوئے رات کو ایک ویران مسافر خانے میں ٹھہرا جسے مقامی لوگ “منحوس” کہہ کر گزرتے تھے۔ رات گئے ایک بوڑھا شخص، سفید لباس میں ملبوس، اس کے کمرے میں داخل ہوا اور بغیر کچھ کہے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مسافر ڈر گیا، مگر بوڑھے کی آنکھوں میں کوئی بدی نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اداسی تھی۔بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “ڈرو مت، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں یہاں صدیوں سے پھنسا ہوں کیونکہ اپنی زندگی میں، میں نے ایک مسافر کو دھوکہ دے کر اس کا سارا مال لوٹ لیا تھا اور اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دیا تھا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ تب سے میری روح اسی گناہ کی وجہ سے یہاں بھٹک رہی ہے۔” مسافر نے ہمت کر کے پوچھا کہ کیا وہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ بوڑھے نے کہا: “میرے اہلِ…
جنگل میں ہنگامہ
سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ جنگل میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔نیلے پانی کی جھیل کے سامنے جنگل کے سارے جانور جمع تھے۔سب ہی تیز تیز بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔صبح سویرے ہی جنگل میں خلافِ معمول ہنگامہ مچ گیا تھا۔بی چڑیا نیلے پانی کی جھیل کے سامنے برگد کے درخت پر اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ ایک گھونسلے میں رہتی تھی۔برگد کا درخت بہت گھنا تھا اور اس میں کئی دوسرے پرندوں کے گھونسلے بھی تھے۔چڑیا معمول کے مطابق، صبح سویرے ہی اپنے ننھے منے بچوں کے لئے خوراک کی تلاش میں نکل جاتی تھی۔چڑیا کے جاتے ہی اس کے بچے بیدار ہو جاتے اور اُس وقت تک شور مچاتے رہتے، جب تک بی چڑیا جنگل سے کوئی دانا دُنکا، لا کر ان کے منہ میں نہ ڈال دیتی۔ بچوں کے جاگنے سے پہلے ہی خوراک کی تلاش میں نکل جایا کرتی…
غرور کا رنگ –
چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔ ”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو…
شاہی چور
سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔ اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا چوروں نے کہا کہ اچھا…
بھیڑیے کا بچّہ بھیڑیا ہی ہوتا ہے
عرب کے لٹیروں کا ایک گروہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا تھا۔ ادھر سے گزرنے والے قافلوں کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ پہاڑ کے نیچے جو راستہ تھا اس پر جب کوئی شخص یا قافلہ آتا تو لٹیرے پہاڑ سے اتر کر اسے لوٹ لیتے تھے۔ لوگوں نے ان کے ڈر سے اس طرف سفر کرنا چھوڑ دیا۔ پولیس اور فوج بھی ان لیٹروں کا پتہ نہ لگا سکی۔ کیونکہ جہاں وہ رہتے تھے بہت محفوظ جگہ تھی۔ وہاں پہنچنا آسان نہ تھا۔ بہت مدت تک یہ حالت رہی۔جب لوگ بہت پریشان ہو گئے تو اس ملک کے بادشاہ نے لٹیروں کا پتہ لگانے کے لیے ایک جاسوس مقرر کیا۔ اس نے کوشش کر کے وہ ٹھکانہ دیکھ لیا جہاں لٹیرے رہتے تھے۔ ایک دن فوج کا ایک دستہ اس پہاڑ پر پہنچ کر ایک گھاٹی میں چھپ رہا۔ لٹیرے کہیں ڈاکہ ڈالنے گئے ہوئے تھے۔ شام کے…
حقیقی اور پائیدار رزق صرف اللہ پر بھروسے اور حلال ذرائع سے ہی آتا ہے۔
ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی چراگاہوں میں رہتا تھا۔ ایک رات اسے ایک نہایت خوبصورت اجنبی ملا جس نے کہا کہ اگر وہ اپنی ایک بھیڑ ہر مہینے اسے بغیر کسی کو بتائے دے دیا کرے، تو وہ اس کے باقی ریوڑ کو ہر بیماری اور بھیڑیے سے محفوظ رکھے گا۔ لالچ میں آ کر چرواہے نے ہاں کر دی، اور کچھ عرصہ اس کا ریوڑ واقعی خوب پھلتا پھولتا رہا۔مگر ایک دن چرواہے کی ملاقات ایک بزرگ عالم سے ہوئی جسے اس نے اپنی “برکت” کا راز فخر سے سنایا۔ عالم کا چہرہ سن کر متفکر ہو گیا۔ اس نے کہا: “بیٹا، تم نے کسی نامعلوم مخلوق سے خفیہ معاہدہ کر کے اپنا رزق اس کے حوالے کر دیا ہے، جو کھلا شرک اور دھوکہ ہے۔ ظاہری برکت دراصل تمہیں مزید دلدل میں دھکیلنے کی چال ہے۔” عالم نے چرواہے کو سکھایا کہ وہ اس اجنبی…
کنجوسی کی سزا –
بہت دنوں کی بات ہے ۔بغداد میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام ابو قاسم تھا۔وہ بہت کنجوس تھا۔ایک ایک پیسے پر جان دیتا تھا۔ابو قاسم کے پس روپوں کے ڈھیر لگے تھے وہ انہیں روز گنتا اور بہت خوش ہوتا۔دن رات اسی فکر میں رہتا کہ کسی طرح اسکی دولت بڑھتی رہے مگر گھٹے نہیں سارے بغداد کو معلوم تھا کہ ابو قاسم بہت امیر آدمی ہے۔مگر ابو قاسم سب کو یہی کہتا کہ وہ بہت غریب آدمی ہے۔وہ روکھی سوکھی کھاتا تھا۔اسکے کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے اور اتنے گندھے ہوتے کہہ دیکھنے سے ہی گھن آتی تھی اور اسکے جوتے؟توبہ توبہ جوتے تو ایسے تھے کہ دیکھنے سے بھی گھن آتی بھکاریوں کے پاس بھی اچھے جوتے تھے ان جوتوں کی اتنی دفعہ مرمت ہوئی کہ اصل چمڑا غائب ہو گیا تھا اور پیوند ہی پیوند دکھائی دیتے تھے۔ ابو قاسم کے دوست…
برائی کا جواب –
ایک چونٹا بڑا محبتی اور شفیق تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی مند میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محبت سے کرتا تھا۔وہ وقت کی بھی بڑی قدرکرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا تو کسی سے بے مقصد بات نہ کرتا وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا چونٹا مل گیا تو دور ہی سے سلام دعا کرلی اور اپنی راہ پکڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردمنددل کا مالک بھی تھا۔ اگر راہ میں کوئی مصیبت زدہ مل جاتا تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے بڑوں کی عزت کرتا اور چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آتا تھا۔اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔شریر اور گندے بچے گھنٹوں اس میلے…
سبق آموز۔۔۔! بدصورت گدھ۔۔! Instructive: The ugly vulture
ایک دن ایک گدھ راستے سے چل رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت برتن زمین پر پڑا ہے۔ وہ حیران تھا اور یقین نہیں کر رہا تھا کہ اتنا خوبصورت برتن دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔ اچانک برتن نے گدھ سے کہا، “میرا نام اوپور ہے۔ میں مافوق الفطرت طاقتوں سے مالا مال ایک زبردست برتن ہوں۔ میں آپ کو خوبصورت بنا سکتا ہوں کیونکہ میں خوبصورتی کی دیوی ہوں۔ میں نے ہزاروں پرندوں اور جانوروں کو خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہاں، صرف میرے مائع کو پیو، اور تم ایک خوبصورت اور دلکش پرندے میں تبدیل ہو جاؤ گے، میں نے بہت سے پرندوں کو، طوطے، فلیمنگو، فیزنٹ، کوکاٹو اور ہر ایک کو منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے۔” گدھ نے برتن کو مشکوک نظروں سے دیکھا، ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا، اور پھر سیٹی بجائی، “میں تم پر یقین نہیں رکھتا، اور مجھے تم پر بھروسہ نہیں…