Tag Archives: ،urdublogs

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔بادشاہ حیران تھا۔“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”بادشاہ خاموش ہو…

Read more

بیگم نے اچانک شوہر سے موبائل📱مانگ لیا۔ شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا اور دل ھی دل میں درود شریف پڑھنے لگا۔ 😅 کال لاگ میں ایک نمبر نظر آیا: “اختر” بیگم نے پوچھا: “یہ اختر کون ھے؟” 🤔 شوہر بولا: “ماموں اختر ھیں!” 😶 بیگم کو شک ھوا، فوراً نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: “ہیلو…” (عورت کی آواز) بس پھر کیا تھا… پانچ منٹ بعد شوہر ہسپتال میں پٹیاں بندھوائے بیٹھا تھا۔ 🤕 وہاں اس نے دیکھا کہ سامنے والے بیڈ پر ماموں اختر بھی لیٹے ھیں! 😳 شوہر نے حیران ھو کر پوچھا: “ماموں جان! آپ یہاں؟” ماموں اختر آہ بھرتے ھوئے بولے: “بیٹا! تمہاری کال آئی تھی، میری بیگم نے عورت کی آواز سن لی…” 🤕🤣🤣

گاؤں میں رحیم نامی کمہار کی بہت شہرت تھی۔گاؤں کے ارد گرد دوسری آبادیوں کے لوگ رحیم کے بنائے گھڑے،تسلے،کونڈے،پیالے اور ہانڈیاں استعمال کرتے۔رحیم کے ہاتھ سے بنے برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔چکنے گھڑے میں رکھا پانی شدید گرمی میں بھی کئی دن تک ٹھنڈا اور ذائقے دار رہتا۔اسی طرح ہانڈیاں بھی سال ہا سال چلتیں اور ان میں پکنے والے سالن بھی ذائقے میں لاجواب ہوتے۔مٹی کی ہانڈی میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ کسی دوسرے برتن میں پکنے والے کھانے سے یکسر مختلف ہوتا۔رفتہ رفتہ رحیم کے برتنوں کی دھوم اور مانگ بڑھتی گئی۔گاؤں میں بیدو نامی ایک اور کمہار بھی رہتا تھا۔سرخ پہاڑیوں کے اس پار رہنے والا بیدو کمہار رحیم سے بغض رکھتا تھا اور کھلے عام اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے برتن دیدہ زیب تو ہوتے،مگر انتہائی ناپائیدار،جن کے کنارے جلد جھڑ…

Read more

ایک کنجوس آدمی کو ایک جادوئی چراغ ملا۔ رگڑتے ھی جن حاضر ھو گیا۔ 😳 جن: “تین خواہشیں مانگو، مگر شرط یہ ھے کہ تمہیں جو ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” کنجوس نے سوچا: “چلو ٹھیک ھے!” پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” اچانک خبر آئی کہ پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے۔ 😳 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” لیکن پڑوسی کے گھر ایک نہیں، دو گاڑیاں پہنچ گئیں! 🚗🚗 اب کنجوس غصے سے لال ھو گیا۔ 😡 تیسری خواہش پر بولا: “اے جن! میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن حیران ھو گیا: “تم پاگل ھو گئے ھو؟” کنجوس بولا: “مجھے منظور ھے… بس پڑوسی اندھا ھو جانا چاہیے!” 😂🤣 > “ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک آنکھ قربان کر دیں گے، بس پڑوسی کی دونوں چلی جائیں!” 😂😆

ایران کے ایک بادشاہ کو حکیموں اور دانشمندوں کی صحبت کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بار ایک دور دراز ملک کے مشہور حکیم کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ وہ طب پر ایک ایسی کتاب مرتب کرے جس میں تمام بیماریوں کے علاج کے طریقے نہایت سادہ زبان میں درج ہوں، تاکہ عام آدمی، یہاں تک کہ بچے بھی اسے پڑھ کر اپنا علاج خود کر سکیں۔ حکیم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ایک نہایت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی۔ بادشاہ اس کتاب سے بے حد متاثر ہوا اور حکیم کو لاکھوں روپے انعام سے نوازا۔کچھ عرصے بعد حکیم کا انتقال ہو گیا تو اس کا بیٹا بادشاہی حکیم مقرر ہوا۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح ذہین اور خدمت گزار تھا، اس لیے بادشاہ اس سے بہت خوش رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ وہی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

ایک گاوں ایک لڑکا رہتا تھا جس کا نام میک تھا ۔ اس کا باپ کھیتی باڑئ کرتا تھا جو کہ بہت محنت اور مشقت کا کام تھا میک سکول پڑھنے جاتا ۔ اور سکول سے واپس أکر اپنے دوستوں کے ساتھ آوارہ پھرتا ۔ اور کھیل کود میں وقت گزارتا ۔ اس کے باپ  نے سوچا کہ سکول سے پڑھنے کے بعد میک کو کسی کام میں مصروف رکھا جاے ۔ اور کھیل کود کے ساتھ کچھ سیکھنے کو بھی مل جاے ۔ میک کے باپ میک کو مرغی خرید کر دئ ۔ اور اسے اس کی دیکھ بھال کرنے کو کہا  میک نے مرغی کے لیے ایک خوبصورت ڈربہ بنایا ۔ میک سکول سے گھر أنے کے بعد مرغی کو دانہ کھلاتا اور اسے پانی پلاتا۔ وقت گزرتا گیا ۔  میک کو جو پیسے ان میں کچھ خرچ کرتا اور باقی پیسوں سے مرغی کے لیے دانہ خریدتا…

Read more

کھیوڑہ کی نمک کی کانوں کے قریب ایک بوڑھا چوکیدار رہتا تھا جو راتوں کو کان کے دروازے پر پہرہ دیتا۔ کہا جاتا کہ کان کی گہرائیوں میں ایک پراسرار مخلوق بستی ہے جو لالچی کان کنوں کو بھٹکا دیتی ہے۔ ایک نوجوان کان کن، جو زیادہ نمک نکال کر جلد امیر ہونا چاہتا تھا، رات کو چھپ کر بند کان میں گھس گیا۔ گہرائی میں جاتے ہی روشنی غائب ہو گئی اور راستے آپس میں گڈمڈ ہونے لگے، جیسے کوئی جان بوجھ کر اسے بھٹکا رہا ہو۔نوجوان کا سانس پھولنے لگا اور خوف سے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے۔ اسے اپنی نانی کی نصیحت یاد آئی کہ ایسی حالت میں سورۃ یٰسین کی ابتدائی آیات پڑھو۔ اس نے کانپتی آواز میں تلاوت شروع کی۔ آہستہ آہستہ اسے دور سے دروازے کی جانب سے ہلکی روشنی نظر آنے لگی، اور وہی راستہ جو کچھ دیر پہلے تک گم تھا، اب صاف…

Read more

پرانے بازار میں، ہر جمعرات کی شام، ایک عجیب سوداگر نمودار ہوتا جو نایاب اور خوبصورت اشیاء نہایت کم قیمت پر بیچتا۔ لوگ للچا کر اس سے سودا کرتے، مگر جو بھی اس سے کوئی چیز خریدتا، اگلے دن اس کے گھر میں کوئی نہ کوئی نقصان یا جھگڑا ضرور ہو جاتا۔ ایک بزرگ نے یہ بات محسوس کی اور غور کرنا شروع کیا۔ایک جمعرات، ایک بزرگ نے جان بوجھ کر اس سوداگر کے پاس گئے اور اس سے سودا کرنے سے پہلے بلند آواز سے “بسم اللہ” پڑھی۔ جیسے ہی انہوں نے یہ کلمہ کہا، سوداگر کا چہرہ بگڑ گیا اور وہ پیچھے ہٹنے لگا۔ بزرگ نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں۔ انہوں نے بلند آواز میں آیت الکرسی پڑھنی شروع کر دی، اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ سوداگر اپنے اسٹال سمیت دھویں کی طرح غائب ہو گیا، اور اس کی جگہ صرف خالی زمین رہ…

Read more

Read more

ایک شیر بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا۔بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا۔اس نے کہا۔”فکر نہ کرو،میں اس کا بندوبست کر دوں گی۔یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے۔یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لئے آنے والے جانوروں کا شکار کرکے اپنی بھوک مٹاتا رہتا۔ایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لئے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی۔اتفاقاً اس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا۔اس نے لومڑی سے کہا۔”باہر کیوں کھڑی ہو،اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔”لومڑی نے چالاکی سے جواب دیا۔”نہیں میں اندر نہیں آ سکتی۔میں یہاں…

Read more

ایک عقاب بادلوں کو چیرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا اور اس کا چکر لگا کر ایک صدیوں پرانے دیودار کے درخت پر جا بیٹھا۔وہاں سے جو منظر دکھائی دے رہا تھا، اس کی خوبصورتی میں وہ محو ہو گیا۔اسے ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ دنیا ایک سرے سے دوسرے سرے تک تصویر کی طرح سامنے کھلی رکھی ہے۔کہیں پر دریا میدانوں میں چکر لگاتے ہوئے بہہ رہے ہیں۔کہیں پرجھیلیں اور اُن کے آس پاس درختوں کے کنج پھولوں سے لدے ہوئے بہار کی پوشاک میں رونق افروز ہیں۔عقاب نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ”اے اللہ میں تیرا کہاں تک شکر ادا کروں۔تو نے مجھے اڑنے کی ایسی طاقت دی ہے کہ دنیا میں کوئی بلندی نہیں ہے، جہاں میں پہنچ نہ سکوں، میں فطرت کے منظروں کا لطف ایسی جگہ بیٹھ کر اٹھا سکتا ہوں جہاں کسی اور کی پہنچ نہیں۔“ایک مکڑی درخت کی ایک…

Read more

ایک مرتبہ ایک فقیر کسی میدان سے گزر رہا تھا۔اسے دو سوداگر نظر آئے۔اس نے سوداگروں سے پوچھا:”بھائیو!کیا تمہارا اونٹ کھو گیا ہے؟“سوداگر خوش ہوئے اور بولے،”تم نے دیکھا ہے کیا؟“فقیر نے کہا،”کانا تو نہیں تھا اور دائیں پیر سے لنگڑا تو نہیں تھا؟“ان سوداگروں کو یقین ہو گیا کہ اس نے اونٹ دیکھا ہے،لہٰذا اسی سے معلوم کیا جائے۔وہ کہنے لگے،”بھائی یہ حقیقت ہے کہ وہ کانا اور لنگڑا تھا،مگر وہ گیا کہاں؟“فقیر نے اسی لہجے میں کہا،”آگے والا دانت ٹوٹا ہوا تو نہیں تھا؟“سوداگر جلدی سے بولے،”یہی جناب یہی،اللہ کے واسطے پتا بتا دو۔کہاں دیکھا تھا؟“فقیر نے ایک مرتبہ پھر اسی انداز میں کہا،”ایک طرف شہد کے ڈبے اور دوسری طرف گندم کی بوری لدی ہوئی تھی۔“اب دونوں کو پکا یقین ہو گیا۔کہنے لگے،”فقیر بابا!اب جلدی سے ہمیں چل کر بتائیے کہ اونٹ کہاں ہے“؟“فقیر نے کہا،بھائی!اگر سچ پوچھو تو نہ میں نے تمہارے اونٹ کو دیکھا ہے…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے ہندوستان پر اس وقت کے راجہ مہاراجے حکومت کیا کرتے تھے ۔ ایک ہندو راجے نے بہت سے علاقوں پر قبضہ کیا ہوا تھا، وہ ایک ظالم بادشاہ تھا،بات بات پر وزیروں کو قتل کروادیا کرتا تھا۔ اُس کا ایک وزیر ایک عقلمند اور رحمدل شخص تھا ، وہ رعایا سے نیک سکول کرتا تھا اور اُن کی مدد بھی کرتا تھا۔وہ ایک مرتبہ دریا کی دوسری طرف جانے کیلئے دریا پر پہنچا تو اُس نے دیکھا کے ایک ملاح نئی کشتی لئے اُس کے استقبال کیلئے موجود ہے۔ جب وہ دوسری طرف پہنچا تو وزیر نے دیکھا کہ بادشاہ کے ہر کارے کشتی پر قبضہ کرنے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔ وزیر نے ملاح کی کشتی ان سے بچا لی تو وہ وزیر کا شکریہ کرتے ہوئے واپس لوٹ گیا۔کچھ عرصے بعد کسی نے اس مسئلہ پر وزیر کے خلاف بادشاہ کے کان بھرنا شروع کردیئے۔…

Read more

 عرب میں اسلام سے پہلے جہاں ہر طرف برائیاں ہی برائیاں تھیں وہاں کچھ اچھے لوگ بھی تھے۔جن میں سے ایک حاتم بھی تھا۔حاتم کے بارے میں بے شمار کہانیاں بیان کی گئی ہیں۔جن میں سے اگر مبالغہ نکال بھی دیا جائے تو پھر بھی حقیقت یہی ہے کہ حاتم کی سخاوت ضرب المثل ہے۔اسلام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سخاوت مثالی ہے،اُن کے بارے میں بے شمار واقعات مشہور ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان غنی کے مال وزر اور عطیات وسخاوت کی وجہ سے اسلام کے پھیلاؤ میں بڑی سہولت پیدا ہوئی۔حاتم کا تعلق”طے“نامی ایک قبیلے سے تھا۔اِسی کی نسبت سے اُسے حاتم طائی کہا جاتا ہے۔وہ یمن کا حکمران تھا۔یمن کا علاقہ عرب سے جڑا ہوا تھا۔عرب پر اُن دنوں نوفل نامی بادشاہ کی حکومت تھی۔ وہ حاتم کی سخاوت اور علاقے میں مقبولیت سے بہت پریشان تھا۔ اُس کی سخاوت سے محض یمن کے…

Read more

کسی باغ کے ایک گھنے درخت پر ایک فاختہ نے اپنا گھونسلہ بنایا ہوا تھا جس میں وہ دن بھر اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی اور اُن کو دانہ دنکا بھی چگاتی تھی ۔ وہ بہت خوش تھی کیونکہ اب اُن بچوں کے بال وپر بھی نکلنے لگے تھے۔ ایک روز فاختہ کو اُسکے بچوں نے بڑی پریشانی کے عالم میں یہ بتایا؛ ” ماں ایسا لگ رہا ہے کہ ہمارا گھونسلہ برباد ہونے والا ہے ، آج اس باغ کا مالک اپنے بیٹے کے ساتھ یہاں آیا تھا او ر اُس سے کہہ رہا تھا کہ اب پھل توڑنے کا زمانہ آگیا ہے ، کل میں اپنے دوستوں کو ساتھ لاؤں گا اور اُن کی مدد سے اِس درخت کے پھل توڑوں گا۔میرے بازو میں تکلیف ہے اسلئے یہ کام تنہا نہیں کرسکتا، مجھے اپنے دوستوں کی مدد کی ضرورت ہوگی“ یہ سُن کو فاختہ نے بچوں کو…

Read more

Read more

220/470
NZ's Corner