Tag Archives: ،urdublogs

ایک رات ملا نصرالدین نے ایسا عجیب و غریب خواب دیکھا کہ صبح تک اس کی چمک ان کی آنکھوں میں باقی رہی۔خواب میں انہوں نے دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھل رہے ہیں، ستارے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہیں، اور ایک نورانی بزرگ ان کے ہاتھ میں ایک سنہری چابی تھما کر کہہ رہے ہیں:“ملا! یہ آسمان کی چابی ہے۔”ملا نے عقیدت سے چابی لی، اسے چوما اور سینے سے لگا لیا۔اچانک آنکھ کھل گئی۔صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آ رہی تھی، مگر ملا کا دل ابھی تک خواب کی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔وہ چارپائی سے اچھل کر اٹھے اور زور سے اعلان کیا:“لوگو! خوش خبری سنو! مجھے آسمان کی چابی مل گئی ہے۔”محلے والے حیران ہو کر جمع ہو گئے۔کسی نے پوچھا:“ملا! چابی کہاں ہے؟”ملا نے اعتماد سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔تعجب کی بات یہ تھی کہ جیب میں واقعی ایک پرانی سی چابی…

Read more

ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا: بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟ کسان: حضور، چار روپے۔ بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟ کسان مسکرایا اور بولا:کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔ بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے وضاحت کی:کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔ دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ…

Read more

ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎ ﯾﺎ ﮐﮧ ” ﻣﯿﮟ ﭘﻮ ﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮞﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ مجھ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﮐﺮ ﺷﺮﺍﺏ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮ ﺕ ﻧﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺐ ﭘﻨﺪﺭﮬﻮﯾﮟ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮞﻨﮯ ﻋﺸﺎﺀ…

Read more

ایک قدیم شہر میں ایک خوش حال تاجر رہتا تھا۔ لوگ اس کی دولت سے کم اور اس کی نرم دلی سے زیادہ واقف تھے۔ اس کا دروازہ ضرورت مندوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا، اور اس کے ہاتھ سے خیر کا سلسلہ کبھی رکتا نہ تھا۔مگر نرم دل لوگ اکثر ایک آزمائش کا شکار ہوتے ہیں:وہ دوسروں کی نیت کو اپنے دل کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ایک دن ایک شخص تاجر کے پاس آیا۔ اس کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر ندامت کا رنگ تھا اور آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔اس نے کانپتی آواز میں کہا:“حضور! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میں نے آپ کے مال میں خیانت کی، آپ کا نقصان کیا، اور آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اگر سزا دیں تو حق ہے، مگر اگر معاف کر دیں تو عمر بھر احسان مند رہوں گا۔”تاجر خاموش ہو گیا۔اس کے سامنے دو راستے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے۔ایک عظیم سلطنت کا بادشاہ اپنی شان و شوکت، دولت اور اقتدار کے باعث دور دور تک مشہور تھا۔ اس کے محل کے مینار بادلوں سے باتیں کرتے تھے، اس کے خزانوں میں سونا چاندی یوں بھرا تھا جیسے سمندر میں پانی، اور اس کے حکم پر ہزاروں سپاہی سر جھکائے کھڑے رہتے تھے۔مگر ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔سننے والا کوئی نہ تھا۔ہر صبح دربار سجتا۔وزیر آتے، مشیر آتے، درباری آتے۔بادشاہ بولتا، سب سر ہلاتے۔بادشاہ ہنستا، سب ہنستے۔بادشاہ ناراض ہوتا، سب خاموش ہو جاتے۔مگر ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو واقعی اس کی بات سنتا۔سب صرف اس کی آواز سنتے تھے، اس کے دل کی دھڑکن نہیں۔وقت گزرتا گیا۔ایک رات بادشاہ محل کی چھت پر اکیلا بیٹھا تھا۔ آسمان پر چاند اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا، مگر اس کے دل میں اندھیرا تھا۔اس نے آہ بھری اور خود سے کہا:“میرے…

Read more

کہتے ہیں ایک بدو کسی شہری بابوکا مہمان ہوا۔میزبان نے ایک مرغی ذبح کیجب دسترخوان بچھ گیا تو سبآ موجود ہوئے میزبان کے گھر میں کل چھ افراد موجود تھےدو میاں بیویدو ان کے بیٹےاوردو بیٹیاںمیزبان نے بدو کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کر لیا‏۔ میزبان:آپ ہمارے مہمان ہیں۔کھانا آپ تقسیم کریں۔بدو:مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کا اصرارہے تو کوئی بات نہیں۔ لائیے میں ہی تقسیم کر دیتا ہوں۔ بدو نے یہ کہہ کر مرغی اپنے سامنے رکھی اس کا سر کاٹا اور میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔آپ گھر کے سربراہ ہیں لہذا مرغی کا ‏سر ایک سربراہ کو ہی زیب دیتا ہے۔اس کے بعد مرغی کا پچھلا حصہ کاٹا اور کہا “یہ گھر کی بیگم کے لیے “پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹے اور کہا بیٹے اپنے باپ کے بازو ہوتے ہیں۔ پس بازو بیٹوں کے لیے۔ بدو نے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور…

Read more

ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…

Read more

ایک دن حضرت موسیٰؑ ایک ویران راستے سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک گڈریے کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ وہ اپنے رب سے نہایت سادگی، خلوص اور محبت بھرے انداز میں باتیں کر رہا تھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں سے دل کی بات کرتا ہے۔ وہ عرض کر رہا تھا:”اے میرے رب! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیری خدمت کروں، تیرے بال سنواروں، تیرے سر میں تیل لگاؤں، تیرے کپڑے دھوؤں، اگر تو بیمار ہو جائے تو ساری رات تیرے پاس جاگتا رہوں، تجھے دودھ پلاؤں اور تیرے قدم دباتا رہوں۔” وہ علمِ عقیدہ اور فلسفے کی باریکیوں سے واقف نہیں تھا، وہ تو صرف محبت کا انداز جانتا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے جب اس کی باتیں سنیں تو فرمایا: “اے شخص! تم کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ نہ اسے جسم ہے، نہ بیماری لاحق ہوتی…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک نوجوان بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ بےکار ہیں اور ملک پر بوجھ ہیں، کیونکہ وہ نہ زیادہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیداوار میں حصہ لیتے ہیں۔ بادشاہ کے درباری بھی نوجوان تھے، اس لیے وہ سب اس بات سے متفق ہو گئے۔ آخرکار ایک دن بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو ملک سے ختم کر دیا جائے۔ پورے ملک میں خوف پھیل گیا۔ بوڑھے لوگوں کو الگ کر دیا گیا، اور معاشرہ خاموش ہو گیا… مگر ایک خاموشی جو اندر ہی اندر خالی پن سے بھر رہی تھی۔ اسی ملک میں ایک نوجوان رہتا تھا جو اپنے بوڑھے باپ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکا۔ سپاہیوں کے آنے سے پہلے…

Read more

ایک شام، ایک شخص نے شاہراہ کے کنارے ایک بوڑھی خاتون کو پھنسے ہوئے دیکھا۔ شام کے ڈھلتے ہوئے اندھیرے میں بھی وہ دور سے دیکھ کر سمجھ سکتا تھا کہ خاتون کو مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنی پرانی، کھٹارا فورڈ پنٹو گاڑی کو خاتون کی مرسڈیز کے آگے روکا۔ جب وہ سردی میں باہر نکلا تو اس کی گاڑی کا پرانا انجن زور زور سے کھانس اور ہنس رہا تھا۔اس شخص کے چہرے پر ایک تسلی بخش مسکراہٹ تھی، لیکن خاتون شدید خوفزدہ تھی۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہاں اکیلی کھڑی تھی اور گاڑیاں اس کے پاس سے سائیں سائیں کرتی گزر رہی تھیں۔ کیا یہ شخص اسے نقصان پہنچانے والا تھا؟ وہ دیکھنے میں بالکل بھی قابلِ بھروسہ نہیں لگ رہا تھا—وہ غریب، تھکا ہوا اور بھوکا دکھائی دے رہا تھا۔وہ شخص سردی سے کانپتی ہوئی خاتون کی آنکھوں میں صاف چھپا خوف دیکھ سکتا…

Read more

ایک شخص بالاآخر جنت کے دروازے پر پہنچ گیا اور اپنے آخری فیصلے کے لیے خدا کے حضور کھڑا ہوا۔ کافی دیر تک، خدا گہری خاموشی میں ڈوبا اسے دیکھتا رہا۔ جب اس شخص سے مزید صبر نہ ہو سکا، تو وہ بول اٹھا۔“اے میرے مالک، میری تقدیر کیا ہے؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟ میں نے جنت کی بادشاہت میں اپنی جگہ کمائی ہے۔ میں نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں،” اس شخص نے فخر اور وقار سے اپنا سر اونچا کرتے ہوئے دعویٰ کیا۔خدا نے حیرانی سے پوچھا، “اور کب سے تکلیف اٹھانے کو ایک کارنامہ سمجھا جانے لگا ہے؟”“میں نے ٹاٹ کے کھردرے پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور بھاری زنجیریں اٹھائیں،” اس شخص نے ضدی غرور سے اپنی تیوریاں چڑھاتے ہوئے دلیل دی۔ “میں نے خشک مٹر اور چوکر کھا کر گزارا کیا۔ پانی کے سوا کچھ نہیں پیا، اور کبھی کسی عورت کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں…

Read more

یہ کہانی 1900 کی دہائی کے آغاز کی ہے، جب عرب کے بڑے ریگستانوں میں قافلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے تھے۔ انہی قافلوں میں ایک مشہور تاجر کا کارواں بھی تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت تجربہ کار اور محتاط تھا۔ایک دن وہ کارواں ایک لمبے سفر پر نکلا، مقصد تھا ایک دور دراز شہر تک سامان پہنچانا۔ راستے میں سب کچھ ٹھیک تھا، مگر تیسرے دن کے بعد ایک عجیب سی خاموشی شروع ہو گئی۔ ہوا بھی رک سی گئی تھی، اور ریت بھی جیسے اپنی جگہ ٹھہر گئی ہو۔قافلے کے لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت انہیں دور ریت پر کچھ روشنیوں کا احساس ہوتا ہے، جیسے کوئی بستی قریب ہو۔ مگر دن میں وہاں صرف خالی صحرا ہوتا۔چوتھے دن ایک بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ کارواں کے آگے چلنے والے اونٹ اچانک رک گئے۔ کوئی بھی انہیں آگے نہیں…

Read more

ایک شخص قاضی کے پاس شکایت لے کر آیا۔ اس نے کہا: “جناب! میں روٹی لے کر گھر جا رہا تھا۔ راستے میں اس شخص کی دکان کے پاس سے گزرا۔ یہ دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا۔ کبابوں کی خوشبو اتنی دلکش تھی کہ میں وہیں رک گیا اور اپنی روٹی کھانے لگا۔ میں نے صرف خوشبو سے لطف اٹھایا، کباب کا ایک ٹکڑا بھی نہیں کھایا۔ جب میں جانے لگا تو دکان دار نے مجھے روک لیا اور کہا کہ کبابوں کی خوشبو کی قیمت ادا کرو!” قاضی نے دکان دار سے پوچھا: “تم کتنی قیمت چاہتے ہو؟” دکان دار بولا: “پانچ درہم۔” قاضی نے روٹی کھانے والے شخص سے کہا: “پانچ درہم نکالو اور زمین پر ایک ایک کرکے گرا دو۔” اس نے ایسا ہی کیا۔ عدالت میں موجود سب لوگوں نے سکوں کے گرنے کی آواز سنی۔ پھر قاضی نے دکان دار سے پوچھا: “کیا…

Read more

شرط جیتنے کا انوکھا طریقہ….ایک مزاحیہ کہانی فوج میں ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیران کن طور پر ہر بار جیت جانے کے لیے مشہور تھا۔ جب اس کا تبادلہ دوسری یونٹ میں ہوا تو اس کے سابق کمانڈنگ آفیسر نے نئے کمانڈنگ آفیسر کو فون کرکے خبردار کیا: “ہمارا ایک سپاہی آپ کے پاس آ رہا ہے۔ شرطیں لگانے میں ایسا ماہر ہے کہ کبھی ہارتا نہیں، ذرا محتاط رہنا۔” نئے کمانڈنگ آفیسر کو تجسس ہوا۔ اگلے دن جب سپاہی نئی وردی میں اس کے سامنے پیش ہوا تو آفیسر نے پوچھا: “سنا ہے تم شرطیں لگانے کے بڑے ماہر ہو؟” سپاہی مسکرایا: “سر، ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ بس کبھی کبھار بات ایسی ہو جائے تو شرط لگانی پڑتی ہے۔ مثلاً مجھے یقین ہے کہ آپ کی پیٹھ پر تل ہے۔ اگر آپ 500 روپے کی شرط لگائیں تو میں تیار ہوں۔” کمانڈنگ آفیسر نے سوچا، آج اسے…

Read more

214/214
NZ's Corner