بصیرت عمر کے ساتھ بڑھتی ہے۔
ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک نوجوان بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے لوگ بےکار ہیں اور ملک پر بوجھ ہیں، کیونکہ وہ نہ زیادہ کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی پیداوار میں حصہ لیتے ہیں۔ بادشاہ کے درباری بھی نوجوان تھے، اس لیے وہ سب اس بات سے متفق ہو گئے۔ آخرکار ایک دن بادشاہ نے حکم جاری کر دیا کہ ساٹھ سال سے زیادہ عمر کے تمام لوگوں کو ملک سے ختم کر دیا جائے۔ پورے ملک میں خوف پھیل گیا۔ بوڑھے لوگوں کو الگ کر دیا گیا، اور معاشرہ خاموش ہو گیا… مگر ایک خاموشی جو اندر ہی اندر خالی پن سے بھر رہی تھی۔ اسی ملک میں ایک نوجوان رہتا تھا جو اپنے بوڑھے باپ سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس ظلم کو برداشت نہ کر سکا۔ سپاہیوں کے آنے سے پہلے…
نیکی کا بدلہ (ایک خوبصورت کہانی)
ایک شام، ایک شخص نے شاہراہ کے کنارے ایک بوڑھی خاتون کو پھنسے ہوئے دیکھا۔ شام کے ڈھلتے ہوئے اندھیرے میں بھی وہ دور سے دیکھ کر سمجھ سکتا تھا کہ خاتون کو مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے اپنی پرانی، کھٹارا فورڈ پنٹو گاڑی کو خاتون کی مرسڈیز کے آگے روکا۔ جب وہ سردی میں باہر نکلا تو اس کی گاڑی کا پرانا انجن زور زور سے کھانس اور ہنس رہا تھا۔اس شخص کے چہرے پر ایک تسلی بخش مسکراہٹ تھی، لیکن خاتون شدید خوفزدہ تھی۔ وہ پچھلے ایک گھنٹے سے وہاں اکیلی کھڑی تھی اور گاڑیاں اس کے پاس سے سائیں سائیں کرتی گزر رہی تھیں۔ کیا یہ شخص اسے نقصان پہنچانے والا تھا؟ وہ دیکھنے میں بالکل بھی قابلِ بھروسہ نہیں لگ رہا تھا—وہ غریب، تھکا ہوا اور بھوکا دکھائی دے رہا تھا۔وہ شخص سردی سے کانپتی ہوئی خاتون کی آنکھوں میں صاف چھپا خوف دیکھ سکتا…
بلاعنوان
ایک شخص بالاآخر جنت کے دروازے پر پہنچ گیا اور اپنے آخری فیصلے کے لیے خدا کے حضور کھڑا ہوا۔ کافی دیر تک، خدا گہری خاموشی میں ڈوبا اسے دیکھتا رہا۔ جب اس شخص سے مزید صبر نہ ہو سکا، تو وہ بول اٹھا۔“اے میرے مالک، میری تقدیر کیا ہے؟ آپ خاموش کیوں ہیں؟ میں نے جنت کی بادشاہت میں اپنی جگہ کمائی ہے۔ میں نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں،” اس شخص نے فخر اور وقار سے اپنا سر اونچا کرتے ہوئے دعویٰ کیا۔خدا نے حیرانی سے پوچھا، “اور کب سے تکلیف اٹھانے کو ایک کارنامہ سمجھا جانے لگا ہے؟”“میں نے ٹاٹ کے کھردرے پھٹے پرانے کپڑے پہنے اور بھاری زنجیریں اٹھائیں،” اس شخص نے ضدی غرور سے اپنی تیوریاں چڑھاتے ہوئے دلیل دی۔ “میں نے خشک مٹر اور چوکر کھا کر گزارا کیا۔ پانی کے سوا کچھ نہیں پیا، اور کبھی کسی عورت کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ میں…
“ریگستان کا گمشدہ کارواں
یہ کہانی 1900 کی دہائی کے آغاز کی ہے، جب عرب کے بڑے ریگستانوں میں قافلے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتے تھے۔ انہی قافلوں میں ایک مشہور تاجر کا کارواں بھی تھا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت تجربہ کار اور محتاط تھا۔ایک دن وہ کارواں ایک لمبے سفر پر نکلا، مقصد تھا ایک دور دراز شہر تک سامان پہنچانا۔ راستے میں سب کچھ ٹھیک تھا، مگر تیسرے دن کے بعد ایک عجیب سی خاموشی شروع ہو گئی۔ ہوا بھی رک سی گئی تھی، اور ریت بھی جیسے اپنی جگہ ٹھہر گئی ہو۔قافلے کے لوگوں نے بتایا کہ رات کے وقت انہیں دور ریت پر کچھ روشنیوں کا احساس ہوتا ہے، جیسے کوئی بستی قریب ہو۔ مگر دن میں وہاں صرف خالی صحرا ہوتا۔چوتھے دن ایک بڑا عجیب واقعہ ہوا۔ کارواں کے آگے چلنے والے اونٹ اچانک رک گئے۔ کوئی بھی انہیں آگے نہیں…
ایک دانا قاضی کا فیصلہ…انصاف جو سب کو یاد رہ گیا
ایک شخص قاضی کے پاس شکایت لے کر آیا۔ اس نے کہا: “جناب! میں روٹی لے کر گھر جا رہا تھا۔ راستے میں اس شخص کی دکان کے پاس سے گزرا۔ یہ دہکتے کوئلوں پر کباب بھون رہا تھا۔ کبابوں کی خوشبو اتنی دلکش تھی کہ میں وہیں رک گیا اور اپنی روٹی کھانے لگا۔ میں نے صرف خوشبو سے لطف اٹھایا، کباب کا ایک ٹکڑا بھی نہیں کھایا۔ جب میں جانے لگا تو دکان دار نے مجھے روک لیا اور کہا کہ کبابوں کی خوشبو کی قیمت ادا کرو!” قاضی نے دکان دار سے پوچھا: “تم کتنی قیمت چاہتے ہو؟” دکان دار بولا: “پانچ درہم۔” قاضی نے روٹی کھانے والے شخص سے کہا: “پانچ درہم نکالو اور زمین پر ایک ایک کرکے گرا دو۔” اس نے ایسا ہی کیا۔ عدالت میں موجود سب لوگوں نے سکوں کے گرنے کی آواز سنی۔ پھر قاضی نے دکان دار سے پوچھا: “کیا…
شرط 😂
شرط جیتنے کا انوکھا طریقہ….ایک مزاحیہ کہانی فوج میں ایک سپاہی شرطیں لگانے اور حیران کن طور پر ہر بار جیت جانے کے لیے مشہور تھا۔ جب اس کا تبادلہ دوسری یونٹ میں ہوا تو اس کے سابق کمانڈنگ آفیسر نے نئے کمانڈنگ آفیسر کو فون کرکے خبردار کیا: “ہمارا ایک سپاہی آپ کے پاس آ رہا ہے۔ شرطیں لگانے میں ایسا ماہر ہے کہ کبھی ہارتا نہیں، ذرا محتاط رہنا۔” نئے کمانڈنگ آفیسر کو تجسس ہوا۔ اگلے دن جب سپاہی نئی وردی میں اس کے سامنے پیش ہوا تو آفیسر نے پوچھا: “سنا ہے تم شرطیں لگانے کے بڑے ماہر ہو؟” سپاہی مسکرایا: “سر، ایسی کوئی خاص بات نہیں۔ بس کبھی کبھار بات ایسی ہو جائے تو شرط لگانی پڑتی ہے۔ مثلاً مجھے یقین ہے کہ آپ کی پیٹھ پر تل ہے۔ اگر آپ 500 روپے کی شرط لگائیں تو میں تیار ہوں۔” کمانڈنگ آفیسر نے سوچا، آج اسے…