جعلی پیر
ایک گاؤں میں ایک شخص آیا جو خود کو بڑا پیر اور صاحبِ کرامت بتاتا تھا۔ وہ دعویٰ کرتا تھا کہ اسے پوشیدہ باتوں کا علم ہے اور وہ ہر مشکل کا حل جانتا ہے۔ سادہ لوح گاؤں والے اس کی باتوں پر یقین کرنے لگے اور اسے تحفے اور نذرانے دینے لگے۔ گاؤں میں مریم نام کی ایک سمجھدار عورت رہتی تھی۔ اسے شک تھا کہ یہ شخص لوگوں کو دھوکا دے رہا ہے، مگر وہ بغیر ثبوت کے کسی پر الزام نہیں لگانا چاہتی تھی۔ ایک دن وہ ایک بند مٹکا لے کر پیر کے پاس پہنچی اور بولی: “اگر آپ واقعی سب کچھ جانتے ہیں تو بتائیے، اس مٹکے میں کیا ہے؟” پیر پریشان ہو گیا، لیکن اپنی جھوٹی شہرت بچانے کے لیے فوراً بولا: “اس میں سونے کا کڑا ہے!” مریم نے مسکرا کر مٹکا کھولا۔ اندر صرف چند کنکر پڑے تھے۔ مجمع خاموش ہو گیا۔…
بادشاہ اور قمیض
ایک ملک کا بادشاہ سخت بیمار ہو گیا۔ نہ بخار اترتا تھا، نہ نیند آتی تھی، نہ کھانے میں دل لگتا تھا۔ ملک کے نامور طبیب، حکیم اور معالج اس کا علاج کرنے آئے، مگر کوئی بھی اسے شفا نہ دے سکا۔ آخرکار ایک بزرگ حکیم دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے بادشاہ کا بغور معائنہ کیا، اس کی آنکھوں میں جھانکا اور پھر کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی بیماری کی دوا کسی دواخانے میں نہیں ملے گی۔ آپ کو ایک ایسے شخص کی قمیض پہننی ہوگی جو دل سے مطمئن ہو، اپنے رب سے راضی ہو، لوگوں سے راضی ہو اور اپنی قسمت پر خوش ہو۔” بادشاہ نے فوراً حکم دیا کہ پورے ملک میں ایسے شخص کی تلاش کی جائے۔ وزیر اور سپاہی نکل کھڑے ہوئے۔ وہ امیروں کے دروازوں پر گئے، علماء کے پاس گئے، تاجروں، درویشوں اور معزز لوگوں سے ملے۔ ہر شخص بظاہر خوش دکھائی…
صبح کا بھولا
آج سے کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے کہ ملک شام کے ایک شہر میں ایک نہایت پرہیزگار بزرگ تھے۔ ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا اور وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ لوگ ان کو اللہ کا ولی سمجھتے تھے اور ان کی بہت عزت کرتے تھے۔ بد قسمتی سے شیطان نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا۔ وہ اللہ کو بھلا بیٹھے اور ہر وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی کوئی عزت نہ رہی اور وہ ان کو ایک ذلیل دھوکےباز سمجھنے لگے۔ اللّٰہ تعالی نے بھی ان کے دل کا سکون اور چین چھین لیا ان کے کسی کام میں برکت نہ رہی اور وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو گئے…
باتوں کا بوجھ
پہاڑوں کے دامن میں بسی ایک خاموش خانقاہ سے دو ذین بھکشو سفر پر نکلے۔ صبح کی نرم دھوپ زمین پر سنہری چادر بچھا رہی تھی اور ہوا درختوں کی شاخوں میں کسی مدھر راگ کی طرح گنگنا رہی تھی۔ایک بزرگ بھکشو تھے، جن کے چہرے پر سکون کا نور جھلکتا تھا، اور ایک نوجوان بھکشو، جو عبادت و ریاضت میں تو کوشاں تھا مگر ابھی دل کی گہرائیوں سے ناواقف تھا۔چلتے چلتے وہ ایک تیز بہاؤ والی ندی کے کنارے پہنچے۔وہاں ایک نوجوان عورت کھڑی تھی۔ اس کے چہرے پر پریشانی کے سائے تھے۔ ندی کا پانی اتنا تیز تھا کہ وہ تنہا اسے پار کرنے کی ہمت نہ کر سکتی تھی۔اس نے جھجکتے ہوئے کہا:“مہربانی فرما کر میری مدد کیجیے، میں اس پار جانا چاہتی ہوں مگر پانی سے ڈرتی ہوں۔”بزرگ بھکشو نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا۔ انہوں نے شفقت سے سر ہلایا، عورت کو اپنے…
اگر نمک ہی خراب ہو جائے تو نمک کو کون درست کرے؟
عرب کے ایک بدوی نے اپنی ہی قوم کی ایک نیک، باحیا، خوش اخلاق اور دیندار لڑکی سے شادی کی۔ شادی کو ابھی ایک سال ہی گزرا تھا کہ اس کا اپنے ایک چچا زاد سے شدید جھگڑا ہو گیا۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ ایک شخص قتل ہو گیا اور قبائلی رسم و رواج کے مطابق بدوی کو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک دوسرے قبیلے میں جا بسا۔ نئے قبیلے میں اس کا آنا جانا سردار کی مجلس میں رہنے لگا، جہاں قبیلے کے مسائل پر گفتگو اور مشورے ہوتے تھے۔ ایک دن قبیلے کا سردار کسی کام سے گزرتے ہوئے بدوی کے گھر کے قریب سے نکلا۔ اتفاقاً اس کی نظر بدوی کی بیوی پر پڑی۔ عورت کی خوبصورتی اور وقار نے اس کے دل میں ایک غلط خواہش پیدا کر دی۔ اس نے سوچا کہ کسی نہ کسی طرح شوہر کو گھر سے…
انصاف
ایک شخص نے دو شادیاں کیں اور زندگی بھر دونوں بیویوں کے درمیان ایسا انصاف کیا کہ لوگ مثالیں دیا کرتے تھے۔ 🙂💁♂️ اتفاق دیکھیے کہ ایک دن دونوں بیویوں کا ایک ہی وقت میں انتقال ہو گیا۔ 😢 شوہر نے یہاں بھی انصاف کا دامن نہ چھوڑا… دو غسل والیاں بلائیں،دونوں کو ایک ہی وقت میں غسل دیا گیا۔ پھر مسئلہ آیا کہ گھر کا دروازہ ایک تھا! 🤔 فوراً مستری بلایا،دوسرا دروازہ بنوایا،اور دونوں جنازے ایک ہی وقت میں گھر سے نکلوائے گئے۔ 😅 دفن بھی ایک ہی وقت میں کیا گیا۔ کچھ دن بعد شوہر نے خواب میں ایک بیوی کو دیکھا… وہ ناراض کھڑی تھی! 😒 شوہر نے حیران ہو کر پوچھا:“میں نے تو زندگی بھر انصاف کیا، اب ناراضی کس بات کی؟” بیوی بولی: “انصاف؟! 😏 دوسری کو نئے دروازے سے نکالا…اور مجھے پرانے والے سے!” 🤣😂 بس پھر شوہر کی آنکھ کھل گئی… اور…
منفی منفی پلس
منحوس جوڑی اور بیچارا مولوی صاحب!😂 ایک مزاحیہ کہانی ایک آدمی جس کے بارے میں مشہور تھا کہ بہت ہی منحوس ہے، اس کی کی شادی ہوئی،اگلے ہی دن اُس کی بیوی مر گئی۔ سب لوگوں نے بڑا افسوس کیا اور باتیں بھی کیں۔ خیر تھوڑے دن بعد اُس آدمی کے لیے دوبارہ لڑکی ڈھونڈی جانے لگی تاکہ اسکی دوسری شادی کرا دی جائے، جوان تو تھا ہی، ایک اور جگہ رشتہ طے پا گیا۔ شادی ہوگئی،اگلے ہی دن دوسری بیوی بھی مر گئی۔ لوگوں حیرت زدہ ہوئے لیکن اسے اتفاق سمجھا اور تھوڑے وقت بعد اس کے لیے نئی لڑکی ڈھونڈی جانے لگی، قسمت تھی کہ اس بار بھی ایک اچھی جگہ اس کا رشتہ طے پا گیا۔شادی ہوگئی،لیکن یہ کیا،اگلے دن یہ بیوی بھی مر گئی۔ اب تو لوگوں کو پکا یقین ہوگیا کہ یہ لازماً اعلیٰ درجے کا منحوس ہے اور چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ خوب…
الو اور طوطے کا مقدمہ۔ ایک سبق آموز کہانی
ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک طوطا طوطی کا گزر ایک ویرانے سے ھواویرانی دیکھ کر طوطی نے طوطے سے کہا:کس قدر ویران گاؤں ھے؟ طوطے نے کہا:لگتا ھے یہاں کسی الو کا گزر ھوا ھے جس وقت طوطا طوطی باتیں کر رہے تھےعین اسی وقت ایک الّو بھی وہاں سے گزر رہا تھااس نے طوطے کی بات سنی اور وہاں رک کر ان سے مخاطب ھو کر بولا: تم لوگ اس گاؤں میں مسافر لگتے ھوآج رات تم لوگ میرے مہمان بن جاؤمیرے ساتھ کھانا کھاؤ اُلو کی محبت بھری دعوت سے طوطے کا جوڑا انکار نا کر سکا اور انہوں نے اُلو کی دعوت قبول کرلیکھانا کھا کر جب انہوں نے رخصت ھونے کی اجازت چاہی تو اُلو نے طوطی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: تم کہاں جا رھی ھو؟ طوطی پریشان ھو کر بولی:یہ کوئی پوچھنے کی بات ھے؟میں اپنے خاوند کے ساتھ واپس جا…
بلاعنوان
😂 پاگل خانے کا سب سے خطرناک مریض! 😂 ڈاکٹر نے ایک پاگل سے پوچھا:“تم پاگل کیسے ہوئے؟” پاگل بولا: “میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی۔اس کی جوان بیٹی سے میرے باپ نے شادی کر لی۔ اب میرا باپ میرا داماد بن گیا،اور میرے باپ کی بیوی یعنی میری سوتیلی بیٹی میری ماں بن گئی! 😵💫 پھر ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی،جو رشتے میں میری بہن بھی تھی اور نواسی بھی! 🤯 ادھر میرے گھر بیٹا پیدا ہوا تو وہ اپنے دادا کا سالا بن گیا،اور میں اپنے ہی بیٹے کا بھانجا بن گیا! 😵💫😂 یہ سن کر ڈاکٹر نے چند لمحے سوچا… پھر کرسی سے اٹھ کر بولا: “اُٹھ اوئے کھوتے دیا پُترا، مینوں وی پاگل کریں گا! 😰🫨 😂😂😂 اگر آپ کو سمجھ آ گئی ھو تو کمنٹ کر کے مُجھے بھی بتائیں 😜👇
سروائیورشپ بایس
دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: “بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔”وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر “کوئی نشان نہیں” دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔اِسے “سروائیورشپ بایس” کہتے ہیں — یعنی…
بلاعنوان
گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ اس کی دھاڑ سن کر درختوں کے پتے کانپ اٹھتے، پرندے اپنے گھونسلوں میں دبک جاتے اور جانور خوف کے مارے اپنی راہیں بدل لیتے۔ جنگل پر اس کی حکومت تھی، مگر یہ حکومت محبت کی نہیں، خوف کی تھی۔شیر اپنی طاقت پر بے حد ناز کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ تمام جانور اس کی عزت کرتے ہیں، اس کی بہادری کے قصیدے پڑھتے ہیں اور دل ہی دل میں اس کے گُن گاتے ہیں۔مگر ایک دن اس کے دل میں ایک عجیب خیال پیدا ہوا۔“کیا واقعی جانور میری عزت کرتے ہیں، یا صرف مجھ سے ڈرتے ہیں؟”اس سوال نے اس کی نیندیں اڑا دیں۔ آخرکار اس نے ایک بوڑھے جادوگر سے مدد لی اور جادو کے زور پر خود کو ایک ننھے سے چوہے میں تبدیل کر لیا۔اب وہ ایک عام چوہے کی صورت میں جنگل کی پگڈنڈیوں…
خواہش
بہت زمانہ پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جہاں کا بادشاہ دولت مند بھی تھا، طاقتور بھی اور رعایا کا محبوب بھی۔ اس کے خزانے سونے سے بھرے تھے، اس کے باغ پھولوں سے لدے تھے، اور اس کے دربار میں دور دور سے لوگ انصاف کی امید لے کر آتے تھے۔مگر ایک دن بادشاہ کے دل میں ایک عجیب خواہش نے جنم لیا۔اس نے سوچا:“اگر میں اپنی رعایا کا بادشاہ ہوں تو کیوں نہ ایسا کام کروں کہ میری سلطنت میں کوئی غمگین نہ رہے؟ کیوں نہ میں سب کو خوش کر دوں؟”یہ خیال اسے اتنا پسند آیا کہ اگلے ہی دن شاہی نقارے بجوائے گئے اور پورے ملک میں اعلان کر دیا گیا:“بادشاہ سلامت کا فرمان ہے! آج سے جو شخص جو چاہے مانگ سکتا ہے۔ اس کی خواہش پوری کی جائے گی تاکہ سلطنت کا ہر فرد خوش حال اور مطمئن ہو جائے۔”یہ خبر جنگل کی آگ کی…
سنہری چابی
ایک رات ملا نصرالدین نے ایسا عجیب و غریب خواب دیکھا کہ صبح تک اس کی چمک ان کی آنکھوں میں باقی رہی۔خواب میں انہوں نے دیکھا کہ آسمان کے دروازے کھل رہے ہیں، ستارے موتیوں کی طرح جھلملا رہے ہیں، اور ایک نورانی بزرگ ان کے ہاتھ میں ایک سنہری چابی تھما کر کہہ رہے ہیں:“ملا! یہ آسمان کی چابی ہے۔”ملا نے عقیدت سے چابی لی، اسے چوما اور سینے سے لگا لیا۔اچانک آنکھ کھل گئی۔صبح کی پہلی کرن کھڑکی سے اندر آ رہی تھی، مگر ملا کا دل ابھی تک خواب کی دنیا میں بھٹک رہا تھا۔وہ چارپائی سے اچھل کر اٹھے اور زور سے اعلان کیا:“لوگو! خوش خبری سنو! مجھے آسمان کی چابی مل گئی ہے۔”محلے والے حیران ہو کر جمع ہو گئے۔کسی نے پوچھا:“ملا! چابی کہاں ہے؟”ملا نے اعتماد سے جیب میں ہاتھ ڈالا۔تعجب کی بات یہ تھی کہ جیب میں واقعی ایک پرانی سی چابی…
چار روپے
ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا: بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟ کسان: حضور، چار روپے۔ بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟ کسان مسکرایا اور بولا:کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔ بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے وضاحت کی:کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔ دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ…
توبہ کا سبب
ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﻣﺮﻭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮ ﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﺎ ﯾﺎ ﮐﮧ ” ﻣﯿﮟ ﭘﻮ ﻟﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮞﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﺌﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﮨﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﭘﯿﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ مجھ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﺍﺏ ﭘﯿﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﮐﺮ ﺷﺮﺍﺏ ﮔﺮﺍ ﺩﯾﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮ ﺕ ﻧﮯ ﺩﻝ ﮐﺎ ﻣﺮﯾﺾ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺐ ﭘﻨﺪﺭﮬﻮﯾﮟ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﻤﻌﮧ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮞﻨﮯ ﻋﺸﺎﺀ…
بلاعنوان
ایک قدیم شہر میں ایک خوش حال تاجر رہتا تھا۔ لوگ اس کی دولت سے کم اور اس کی نرم دلی سے زیادہ واقف تھے۔ اس کا دروازہ ضرورت مندوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا، اور اس کے ہاتھ سے خیر کا سلسلہ کبھی رکتا نہ تھا۔مگر نرم دل لوگ اکثر ایک آزمائش کا شکار ہوتے ہیں:وہ دوسروں کی نیت کو اپنے دل کے پیمانے سے ناپتے ہیں۔ایک دن ایک شخص تاجر کے پاس آیا۔ اس کے کپڑے بکھرے ہوئے تھے، چہرے پر ندامت کا رنگ تھا اور آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔اس نے کانپتی آواز میں کہا:“حضور! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔ میں نے آپ کے مال میں خیانت کی، آپ کا نقصان کیا، اور آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ اگر سزا دیں تو حق ہے، مگر اگر معاف کر دیں تو عمر بھر احسان مند رہوں گا۔”تاجر خاموش ہو گیا۔اس کے سامنے دو راستے…
بلاعنوان
ایک زمانے کی بات ہے۔ایک عظیم سلطنت کا بادشاہ اپنی شان و شوکت، دولت اور اقتدار کے باعث دور دور تک مشہور تھا۔ اس کے محل کے مینار بادلوں سے باتیں کرتے تھے، اس کے خزانوں میں سونا چاندی یوں بھرا تھا جیسے سمندر میں پانی، اور اس کے حکم پر ہزاروں سپاہی سر جھکائے کھڑے رہتے تھے۔مگر ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی۔سننے والا کوئی نہ تھا۔ہر صبح دربار سجتا۔وزیر آتے، مشیر آتے، درباری آتے۔بادشاہ بولتا، سب سر ہلاتے۔بادشاہ ہنستا، سب ہنستے۔بادشاہ ناراض ہوتا، سب خاموش ہو جاتے۔مگر ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو واقعی اس کی بات سنتا۔سب صرف اس کی آواز سنتے تھے، اس کے دل کی دھڑکن نہیں۔وقت گزرتا گیا۔ایک رات بادشاہ محل کی چھت پر اکیلا بیٹھا تھا۔ آسمان پر چاند اپنی چاندنی بکھیر رہا تھا، مگر اس کے دل میں اندھیرا تھا۔اس نے آہ بھری اور خود سے کہا:“میرے…
بدو کا انصاف
کہتے ہیں ایک بدو کسی شہری بابوکا مہمان ہوا۔میزبان نے ایک مرغی ذبح کیجب دسترخوان بچھ گیا تو سبآ موجود ہوئے میزبان کے گھر میں کل چھ افراد موجود تھےدو میاں بیویدو ان کے بیٹےاوردو بیٹیاںمیزبان نے بدو کا مذاق اڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ میزبان:آپ ہمارے مہمان ہیں۔کھانا آپ تقسیم کریں۔بدو:مجھے اس کا کوئی تجربہ نہیں لیکن اگر آپ کا اصرارہے تو کوئی بات نہیں۔ لائیے میں ہی تقسیم کر دیتا ہوں۔ بدو نے یہ کہہ کر مرغی اپنے سامنے رکھی اس کا سر کاٹا اور میزبان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔آپ گھر کے سربراہ ہیں لہذا مرغی کا سر ایک سربراہ کو ہی زیب دیتا ہے۔اس کے بعد مرغی کا پچھلا حصہ کاٹا اور کہا “یہ گھر کی بیگم کے لیے “پھر مرغی کے دونوں بازو کاٹے اور کہا بیٹے اپنے باپ کے بازو ہوتے ہیں۔ پس بازو بیٹوں کے لیے۔ بدو نے بیٹیوں کی طرف دیکھا اور…
خاموش دعا کا معجزہ.. ایک دلچسپ سبق آموز کہانی
ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…
جان روح
ایک دن حضرت موسیٰؑ ایک ویران راستے سے گزر رہے تھے کہ اچانک ایک گڈریے کی آواز ان کے کانوں میں پڑی۔ وہ اپنے رب سے نہایت سادگی، خلوص اور محبت بھرے انداز میں باتیں کر رہا تھا، جیسے کوئی معصوم بچہ اپنی ماں سے دل کی بات کرتا ہے۔ وہ عرض کر رہا تھا:”اے میرے رب! اگر تو مجھے مل جائے تو میں تیری خدمت کروں، تیرے بال سنواروں، تیرے سر میں تیل لگاؤں، تیرے کپڑے دھوؤں، اگر تو بیمار ہو جائے تو ساری رات تیرے پاس جاگتا رہوں، تجھے دودھ پلاؤں اور تیرے قدم دباتا رہوں۔” وہ علمِ عقیدہ اور فلسفے کی باریکیوں سے واقف نہیں تھا، وہ تو صرف محبت کا انداز جانتا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے جب اس کی باتیں سنیں تو فرمایا: “اے شخص! تم کیا کہہ رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ نہ اسے جسم ہے، نہ بیماری لاحق ہوتی…