Tag Archives: ،urdublogs

ایک دن بہار کے شروع میں ایک شخص ندی کے پانی میں اور کھیت میں سونا تلاش کر رہا تھا۔ گھنے جنگل کے قریب اس نے شیر کی گرج سنی۔ اس نے بہت احتیاط سے اردگرد دیکھا ۔گرج کی آواز دوبارہ آئی ۔سمت کا تعین کرتے ہوئے جہاں سے آواز آئی تھی اس نے بیس قدم کے فاصلے پر ایک بڑے شیر کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا۔آدمی شکاری نہ تھا اور نہ ہی اس کا ارادہ درندے کو مارنے کا تھا اگر وہ اس پر حملہ نہ کرے، اس نے جنگل میں کافی سال گزارے تھے اور وہ جانتا تھا کہ شیر خونخواردرندہ ہوتاہے وہ اس خطر ناک صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔شیر اس کی طرف بڑھا تب اس نے دھیمی آواز میں کراہنا شروع کر دیا۔ آدمی نے دیکھا شیر کا پچھلا پنجہ ایک پھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ آدمی نے پھندے میں پھنسے…

Read more

سمندر کنارے جہازوں کی رہنمائی کیلئے ایک روشنی کا مینار کھڑا تھا جس کے اوپر ایک گھونسلہ بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک سمندری بگلا اور ایک کھٹ بڑھئی رہتے تھے۔وہ دونوں بہت گہرے دوست تھے اور ہمیشہ سے اکٹھے رہ رہے تھے۔لیکن ننھا کھٹ بڑھئی پریشان تھا کیونکہ اُس کا دوست ایک بری اور خطرناک عادت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ ہر رات جیسے ہی سوتا بگلا اپنے گھونسلے سے اُڑتا اور سمندر کے اوپر چلا جاتا۔جب کبھی وہ ایسا کرتا تھا اُس کی زندگی خطرے میں ہوتی تھی کیونکہ کئی مرتبہ اُسے شارک مچھلیاں ہڑپ کرنے لگیں تھیں۔کیونکہ وہ رات کو جب اُڑتا تھا تو وہ دراصل سویا ہوتا تھا۔کھٹ بڑھئی خوفزدہ تھا کہ کہیں وہ سوتے میں اُڑتا ہوا اُتنی دور نہ نکل جائے کہ پھر واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔ ننھے کھٹ بڑھئی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کرے۔وہ بگلے…

Read more

ایک بلی آبادی سے دور جنگل میں رہتی تھی،جہاں قریب میں ہی ایک لومڑی کا بھی بھٹ تھا۔آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ہو جاتی تھی، پھر گھنٹوں آپس میں باتیں ہوتیں۔ لومڑی کو اپنی چالاکی پر بہت غرور تھا،وہ بلی کو زیادہ تر اپنی چالاکیوں کے قصے سنایا کرتی تھی،جن میں سے زیادہ تر من گھڑت ہوتے تھے۔ایک دن جب سورج انتہائی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی،ایک گھنے پیڑ کے نیچے دونوں کی ملاقات ہوئی۔خاصی دیر تک دونوں باتیں کرتی رہیں۔لومڑی نے کہا،”اے بی بلی،اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آجائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی پروا نہیں۔مجھے ہزاروں گُر اور ترکیبیں آتی ہیں،میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی،لیکن خدانخواستہ اگر تو کسی آفت سے دوچار ہو جائے تو کیا کرے گی بلی بولی،”اے بوا،مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب…

Read more

موسم برسات اپنی خوبصورتیوں اور ذائقے دار پھلوں کے ساتھ ختم ہو چکا تھا۔درختوں کے پتے تیزی سے گر رہے تھے اور سردیوں کی آمد تھی۔ایک امرود کے درخت پر ایک ننھی سی چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا۔چڑیا کا نام ہیبل تھا،اس گھونسلے میں اس کے بچے رہتے تھے۔مگر جب وہ بڑے ہوئے تو ایک دن ہیبل کو بتائے بغیر ہی ایسے اڑ کر گئے کہ واپس ہی نہ آئے۔ننھی ہیبل پہلے ہی ان کی وجہ سے اداس رہتی تھی۔ پھر جب سردیاں آئیں تو باقی پرندے بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں دبک گئے۔اب اس امرود کے پیڑ سے امرود بھی تقریباً ختم ہو چکے تھے، بس ایک آدھ امرود باقی رہ گیا تھا امرود کے تنے میں چند بڑی بڑی چیونٹیاں رہتی تھیں۔ہیبل سارا دن شاخ پر بیٹھی ان چیونٹیوں کو دیکھتی رہتی۔ سردیوں میں جب کبھی چیونٹیوں کا راشن ختم ہوتا تو ہیبل سے امرود مانگنے آجاتیں۔…

Read more

ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔(جاری ہے) کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔ اس نے چڑیا کو…

Read more

سردی اپنے عروج پر تھی ۔سورج ڈوبنے کے بعد سبھی انسان ،چرند پرند اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے اور سورج طلوع ہونے تک اپنے بستروں میں دبکے رہتے تھے ۔ہر طرف خاموشی اور سکون دیکھ کر بر گد کا بوڑھا درخت جلدی اونگھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے گہری نیند سو گیا لیکن اس گہرے سناٹے میں اچانک ہی ٹپ ٹپ ،ٹپ کی آواز کے ساتھ اس کے اندر نمی اترنے لگی ۔ سرد ترین رات میں بھیگنے کے احساس نے اس کی نیند توڑ دی ۔یہ کون بد تمیز ہے جو اتنی سردی میں رات کے وقت مجھ پر پانی ڈال رہا ہے ۔وہ غصے اور سردی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔یہ ٹوٹو طوطا تھا۔ جو اس کی ساخوں میں منہ چھپائے خاموشی سے آنسو بہار ہا تھا ۔معاف کرنا برگد چاچا! میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی ۔اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ بھائی…

Read more

! ایک جنگل کے بڑے حصے پر بھیڑیوں کی حکومت قائم تھی اور دوسرے چھوٹے سے حصے پر بھیڑوں کی حکمرانی تھی۔اکثر دونوں میں کسی نہ کسی بات پر لڑائی ہو جاتی۔بھیڑیے خونخوار اور طاقتور تھے، اس لئے بھیڑوں نے اپنی حفاظت کے لئے کتے پال رکھے تھے۔جب بھیڑیے ان پر حملہ کرتے تو یہ کتے ان کا مقابلہ کرتے اور بھیڑیوں کو بھگا دیتے۔کتوں کی وجہ سے بھیڑیں محفوظ تھیں۔جب بھیڑیوں اور بھیڑوں کو آپس میں لڑتے لڑتے ایک مدت گزر گئی تو جنگل کے چند دوسرے بڑے جانوروں نے بیچ میں پڑ کر دونوں میں صلح کرا دی۔طے پایا کہ دونوں طرف سے ایسی ضمانت دی جائے کہ امن قائم رہے۔بھیڑیوں نے تجویز پیش کی کہ وہ اپنی جان سے زیادہ عزیز بچے ضمانت کے طور پر بھیڑوں کے سپرد کریں گے اور بھیڑیں اپنے کتے ہمارے حوالے کر دیں۔ یہ بات بھیڑوں کو پسند آئی اور معاہدہ…

Read more

ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔ کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔اس نے چڑیا کو مار کر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بہت ہی غریب دھوبی رہتا تھا۔ کپڑوں کی دھلائی کے ساتھ ساتھ اس کو آسمان کو قریب سے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اور اس کی بیوی روز دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھونے جاتے تھے۔ ایک روز جب اس کی بیوی کپڑے سکھا رہی تھی، تو اچانک اُس کی نظر آسمان پر پڑی۔ وہ کیا دیکھتی ہے کہ آسمان سے ایک ہاتھی اڑتا ہوا زمین پر اتر رہا ہے، اور جیسے ہی وہ زمین پر اترا، غائب ہوگیا۔ دو تین روز تک وہ یوں ہی ہاتھی کو زمین پر اترتے دیکھتی رہی۔ ایک رات اس نے یہ سارا ماجرا اپنے شوہر (دھوبی) کو بتایا۔ دھوبی پہلے تو بہت حیران ہوا، مگر پھر فیصلہ کیا کہ کل وہ خود اس ہاتھی پر نظر رکھیں گے کہ آخر یہ ہاتھی زمین پر کیوں اترتا ہے اور پھر غائب کیوں ہو جاتا…

Read more

احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔وہ شرارتی، ہنس مکھ اور سب کا دوست تھا، لیکن اس کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔اس کے پاس اسکول جانے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا جوتے کا تھا، اور وہ بھی کئی سال پرانا۔ایک دن صبح اسکول جاتے ہوئے وہ کیچڑ والے راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک جوتے کا اگلا حصہ پھٹ گیا۔احمد نے جوتے کو دیکھ کر آہ بھری۔”ارے یہ کیا ہوا! اب سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“ اس نے جلدی سے جوتے کو ہاتھ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اور زیادہ عجیب لگنے لگا۔بہرحال، وہ دل میں تھوڑی شرمندگی لئے اسکول پہنچ گیا۔جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا، اس کے دوست اکٹھے ہو گئے۔ایک دوست بولا:”واہ احمد! یہ تو کمال کا نیا ڈیزائن ہے۔ کہاں سے لیا؟“احمد نے حیرانی سے کہا:”یہ؟ اوہ، یہ میں نے خود بنایا ہے!“سب بچے ہنسنے لگے،…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی بْرا جانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ اس کی شکل ہو بہو بادشاہ سے ملتی تھی۔فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریب جیسی تھی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا آ رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔ بادشاہ نے غریب کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ میں ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کرتا۔ غریب کسان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ ایک تالاب…

Read more

ایک صاحب کا اصول تھا: “پڑوسی کا وائی فائی استعمال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ھے!” 😎 ایک رات انہوں نے یوٹیوب سے “ہیکنگ” سیکھی اور پڑوسی کا پاسورڈ چرانے بیٹھ گئے۔ ایک لنک کھلا: “صرف ایک کلک میں وائی فائی پاسورڈ حاصل کریں!” 😲 ان صاحب نے فوراً کلک کر دیا۔ 😈 اگلےھی لمحے… ان کے لیپ ٹاپ سے سب کچھ غائب! پھر محلے کے واٹس ایپ گروپ میں ایک ایک کر کے ویڈیوز آنے لگیں: واش بیسن کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے  صاحب۔ 🕺 “کدو کی سبزی” پر روتے ہوئے صاحب۔ 😭 اور بیگم کے لیے لکھی گئی شاعری: > “تیری آنکھیں وائی فائی جیسی ھیں، دل خود بخود کنیکٹ ھو جاتا ھے!” 😂 صبح دروازے پر پڑوسی آیا اور بولا: “بھائی! پاسورڈ مانگ لیتے…” “اب پورا محلہ آپ کے ساتھ کنیکٹ ھو چکا ھے!” 🤣🤣 سبق:فری وائی فائی کے چکر میں کبھی کبھی اپنی عزت کا…

Read more

ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے: “آفے دائے… آفے دائے…!” 😥 سرائیکی دوست نے سوچا: “ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹 وہ خاموش بیٹھا رہا۔ صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔ سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا: “بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺 بلوچ نے پوچھا: “کیا پڑھ رھے تھے؟” سرائیکی بولا: “بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇 یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا: “اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨 سرائیکی گھبرا کر بولا: “اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣 سبق:کبھی کبھی ایک لفظ…

Read more

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔(جاری ہے) وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب…

Read more

ایک چھوٹی سی پہاڑی میں چوہوں کے کئی بل تھے، اس پر پودے بھی لگے ہوئے تھے۔پودوں کے درمیان میں چوہوں کے بل دکھائی نہیں دیتے تھے۔ان بلوں میں ایک بل ایک چوہیا کا بھی تھا۔وہ اکیلی رہتی تھی۔وہ کافی عقلمند تھی، اکثر چوہے اپنے مسائل لے کر اس کے پاس آتے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق حل بتاتی۔اس کے مشورے اکثر چوہوں کی مشکل کو دور کر دیتے تھے۔اسی لئے سب چوہے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات کے موسم میں بارشیں خوب برسیں، جس کے باعث کئی کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانور گھبرا کر ان بلوں کی طرف آ گئے۔چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے تو چوہوں کی غذا بن گئے، جبکہ بڑے کیڑوں کو انہوں نے وہاں سے مار بھگایا۔انہی میں ایک چھوٹا کچھوا بھی شامل تھا جو جسامت میں چوہوں سے تھوڑا سا بڑا تھا۔(جاری ہے) وہ ہر کسی کے…

Read more

علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن…

Read more

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

460/726
NZ's Corner