Tag Archives: ،urdublogs

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ جنگل پر شیر کی حکومت تھی۔ ایک دن اس کا دور کا رشتہ دار بندر دربار میں حاضر ہوا اور بولا، “حضور! آخر رشتہ داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ ساری حکومت میں سب کو کوئی نہ کوئی عہدہ ملا ہوا ہے، صرف میں ہی خالی ہاتھ ہوں۔” پہلے تو شیر نے بات ٹال دی، مگر بندر روز آ جاتا۔ کبھی سفارش کرواتا، کبھی رشتہ داری یاد دلاتا، یہاں تک کہ شیر واقعی پریشان ہو گیا۔آخر اس نے اپنی وزیرِ اعظم لومڑی کو بلایا۔ لومڑی نے مسکراتے ہوئے کہا، “حضور! اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ ایک نیا عہدہ بنا دیجیے۔ ایسا عہدہ جس کا نام بڑا ہو، مگر کام کچھ بھی نہ ہو۔” شیر کو بات پسند آ گئی۔اسی وقت اعلان ہوا کہ بندر کو “سپریم چیف انسپکٹر برائے شاہی سلامیاں” مقرر کیا جاتا ہے۔ پورا جنگل حیران تھا۔ کسی نے آج…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک غریب چوہا روزگار کی تلاش میں اپنا جنگل چھوڑ کر شہر چلا گیا۔ قسمت نے اس کا ساتھ دیا اور ایک بڑے تاجر نے اسے ملازم رکھ لیا۔ اس کی ذمہ داری تھی کہ اونٹوں، بھینسوں اور گھوڑوں کو چارہ ڈالے، انہیں باندھے، کھولے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔چند ماہ بعد جب بھی وہ اپنے جنگل واپس آتا تو اپنے رشتہ داروں کے درمیان سینہ پھلا کر بیٹھ جاتا۔“تم لوگوں نے کبھی اونٹ دیکھا ہے؟ میں تو روز اس کی رسی پکڑ کر چلتا ہوں۔ بھینسیں بھی میرے ایک اشارے پر رک جاتی ہیں”۔ننھے ننھے چوہے حیرت سے منہ کھول لیتے اور بوڑھے چوہے بھی دل ہی دل میں سوچتے کہ واقعی شہر نے اسے بڑا بہادر بنا دیا ہے۔ ایک دن اچانک جنگل میں ہلچل مچ گئی۔ایک دیوہیکل جنگلی گینڈا بھٹکتا ہوا چوہوں کی بستی کی طرف آ نکلا۔ سب جانور…

Read more

😂💁‍♂️ آج کل کے کچھ نجی ٹی وی چینلز کی رپورٹنگ کچھ یوں ھوتی ھے! 😂🔥 🚨 بریکنگ نیوز!فیصل آباد کے نواحی علاقے میں ایک مرغی نے انڈا دے دیا! 😳🥚 جی ناظرین! اب سے چند لمحے پہلے ایک مرغی نے انڈا دیا ھے! ایک بار پھر بتاتے چلیں…📢 مرغی نے انڈا دے دیا ھے! چلتے ھیں اپنے نمائندے عارف کے پاس… 🎤 عارف! کیا صورتحال ھے؟ 😎 جی سمیہ! میں اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہوں، اور تصدیق ہو چکی ہے کہ انڈا واقعی مرغی نے ھی دیا ھے! 🎤 عارف! کیا انڈے سے بات ھوئی؟ 😆 جی بالکل! انڈے نے بھی اس بات کی تصدیق کی ھے کہ اسے مرغی نے ھی دیا ھے! 🎤 کیا مرغی سے رابطہ ھوا؟ 😂 کوشش جاری ھے، مگر مرغی فی الحال میڈیا سے بات کرنے سے گریز کر رھی ھے! 🎤 مرغی کے اہلِ خانہ کیا کہتے ھیں؟ 🤣 مرغی…

Read more

روس کے ایک گھنے اور سرد جنگل میں، جہاں دیودار کے درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور ہوا پتے ہلا ہلا کر پراسرار کہانیاں سناتی تھی، دو کسان روزی کی تلاش میں لکڑیاں کاٹنے آئے۔دونوں برسوں کے دوست تھے، مگر مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ایک محتاط اور سنجیدہ تھا، جبکہ دوسرا ذرا شوخ، چالاک اور دوسروں کو حیران کرنے کا شوقین۔لکڑیاں کاٹتے کاٹتے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔پہلے کسان نے کلہاڑی زمین پر رکھتے ہوئے پوچھا:“اگر اچانک کوئی بھالو آ گیا تو تم کیا کرو گے؟”دوسرا ہنسا اور بولا:“میں؟ میں بھالو کو ہی ڈرا دوں گا!”پہلا کسان مسکرایا۔“اور وہ کیسے؟”دوسرے نے فخر سے اپنے تھیلے کی طرف اشارہ کیا۔“میں ایک بھالو کی کھال ساتھ لایا ہوں۔ اسے پہن کر ایسا دھاڑوں گا کہ اصلی بھالو بھی اپنی ماں کو یاد کرے گا!”پہلا کسان سر ہلا کر ہنس دیا۔“بھائی، کھیل کھیل میں کبھی خود نہ کھیل بن جانا۔”دوسرے…

Read more

ہسپانیہ کے ایک قدیم قصبے کی پتھریلی گلیوں میں ایک عجیب منظر اکثر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیا کرتا تھا۔ہر شام، جب سورج سرخ سنہری چادر اوڑھ کر پہاڑوں کے پیچھے اترنے لگتا اور فضا میں زیتون کے باغات کی مہک گھل جاتی، ایک درویش مزاج موسیقار اپنے گدھے پر سوار بازار سے گزرتا۔اس کے ہاتھ میں ایک پرانا گٹار ہوتا، جس کے تاروں میں وقت کی دھول بھی بسی تھی اور خوابوں کی خوشبو بھی۔وہ چلتے چلتے گٹار چھیڑتا، اور مدھم دھنیں گلیوں میں تیرنے لگتیں۔اس روز بھی وہ حسبِ معمول گدھے پر بیٹھا گٹار بجا رہا تھا کہ چند راہگیر رک گئے۔ایک نے حیرت سے کہا:“دیکھو! گدھا گٹار بجا رہا ہے!”لوگوں میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔موسیقار نے بجانا بند کیا، مسکرایا اور بولا:“گدھا نہیں، میں گٹار بجا رہا ہوں۔”ایک نوجوان نے چٹکی لی:“اچھا! تو پھر گدھا کیا کر رہا ہے؟”موسیقار نے محبت سے اپنے گدھے…

Read more

ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا۔ سالوں پہلے پورا گاؤں اسی کنویں سے پانی لیتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ نلکے لگ گئے اور لوگ کنویں کو بھول گئے۔ کنواں ویران پڑا رہتا۔ صرف ایک بوڑھا آدمی، بابا رحمت، ہر ہفتے وہاں آتا۔ کنویں کی صفائی کرتا۔ اس کے اردگرد جھاڑیاں کاٹتا۔ اور پانی نکال کر دیکھتا کہ سب ٹھیک ہے یا نہیں۔ لوگ اسے دیکھ کر ہنستے۔ “بابا جی! اب اس کنویں کا زمانہ گیا۔” “فضول محنت کیوں کرتے ہیں؟” بابا رحمت مسکرا کر کہتے: “بیٹا، ضرورت کبھی بتا کر نہیں آتی۔” کسی کو ان کی بات سمجھ نہ آتی۔ وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک سال شدید گرمی پڑی۔ بارشیں نہ ہوئیں۔ نلکوں کا پانی کم ہونے لگا۔ چند ہفتوں میں پورے گاؤں میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا۔ لوگ پریشان ہو گئے۔ جانور پیاسے رہنے لگے۔ بچے پانی کے لیے ترسنے لگے۔ تب کسی کو…

Read more

🌿 گاؤں میں خدا بخش نامی ایک کسان رہتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت گھر تھا اور ساتھ ہی ایک باغ بھی تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا، جہاں سے وہ بڑی مشقت سے پانی نکال کر اپنے پودوں کو سیراب کرتا تھا۔ ایک سال شدید قحط پڑ گیا۔ بارش بالکل نہ ہوئی، سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین خشک ہو چکی تھی۔ خدا بخش نے اپنے مرجھاتے ہوئے پودوں کو دیکھا اور افسردہ ہو کر بولا: “اگر پانی نہ ملا تو میرے سارے پودے مر جائیں گے… مگر پانی اب بہت نیچے جا چکا ہے۔ میں بوڑھا بھی ہوں اور کمزور بھی۔ آخر کیا کروں؟” یہ سوچتے ہوئے وہ باغ کی دیوار کے قریب ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ اچانک اسے کھسر پھسر کی آواز سنائی دی۔ کوئی اس کا نام لے رہا تھا۔ اس نے خاموشی سے کان…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، ایک خوبصورت اور پرسکون گاؤں میں شیخ چلی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ شیخ چلی اپنی سادگی، معصومیت اور سب سے بڑھ کر اپنے خیالی پلاؤ پکانے کی عادت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ وہ اکثر دن کے اجالے میں ایسے خواب دیکھتا جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ کبھی وہ خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ تصور کرتا تو کبھی دنیا کا سب سے بڑا تاجر۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے پاس پہننے کو ایک پھٹا ہوا کُرتا، سر پر ایک پرانی پگڑی اور ایک وفادار گدھا تھا، جسے وہ پیار سے “مفتوں” کہتا تھا۔مفتوں کوئی عام گدھا نہیں تھا۔ وہ شیخ چلی کی ہر بات نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ اکثر اس کی حماقتوں پر اپنی لمبی لمبی زبان ہلا کر یا زور سے ہینگ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتا…

Read more

قدیم چین کے ایک پُرسکون خطے میں ایک دریا بہتا تھا۔ اس کا پانی شفاف آئینے کی مانند تھا، اور اس کی لہریں یوں گنگناتی تھیں جیسے قدرت کوئی خاموش نغمہ سنا رہی ہو۔ دریا کے کنارے ایک بزرگ فلسفی اکثر بیٹھا رہتا۔ وہ بہتے پانی کو دیکھتا اور اس کی روانی میں زندگی کے راز تلاش کرتا۔ایک صبح سورج کی سنہری کرنیں پانی پر بکھر رہی تھیں کہ ایک نوجوان وہاں آ پہنچا۔ اس کی آنکھوں میں خود اعتمادی اور لہجے میں غرور تھا۔اس نے فلسفی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:“استاد! لوگ کہتے ہیں کہ دریا کو روکا نہیں جا سکتا، مگر میں اسے تھام سکتا ہوں۔”فلسفی نے مسکرا کر کہا:“اگر ایسا ہے تو ضرور کوشش کرو۔”نوجوان آگے بڑھا۔ اس نے دونوں ہاتھ دریا کے پانی میں ڈال دیے اور پوری طاقت سے بہتے پانی کو روکنے کی کوشش کی۔مگر پانی ہنستا ہوا اس کی انگلیوں کے درمیان سے…

Read more

روس کے برف پوش جنگلات کے کنارے ایک نیلگوں دریا بہتا تھا۔ سرد ہوا درختوں کے درمیان سیٹیاں بجاتی پھرتی، اور پانی کی لہریں چاندی کی طرح چمکتی تھیں۔اسی دریا کے کنارے ایک غریب مگر حاضر دماغ مچھیرا بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں بانس کی سادہ سی چھڑی تھی اور نگاہ پانی کی سطح پر جمی ہوئی تھی۔ وہ صبر سے مچھلی کے جال میں آنے کا انتظار کر رہا تھا۔اچانک جھاڑیوں میں کھڑکھڑاہٹ ہوئی۔درختوں کے درمیان سے ایک دیوہیکل بھالو نمودار ہوا۔ اس کی گھنی کھال، بھاری پنجے اور گرج دار آواز کسی بھی شخص کے دل میں خوف پیدا کرنے کے لیے کافی تھے۔بھالو مچھیرا کے قریب آیا اور غرایا:“اے انسان! مجھے فوراً مچھلی دو، ورنہ میں تمہیں کھا جاؤں گا!”مچھیرا اگرچہ دبلا پتلا تھا، مگر عقل کا خزانہ رکھتا تھا۔ اس نے گھبرانے کے بجائے مسکرا کر کہا:“بھالو بھائی! مفت کی مچھلی مانگنے سے بہتر ہے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

دکان بند ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔ قصاب دن بھر کی تھکن سمیٹ رہا تھا کہ اچانک ایک عورت جلدی جلدی دکان میں داخل ہوئی۔ “کیا آپ کے پاس کوئی مرغی باقی ہے؟” قصاب نے فریزر کھولا اور آخری بچی ہوئی مرغی نکال کر ترازو پر رکھی۔ “جی ہاں، یہی آخری ہے۔” ترازو نے تقریباً ڈیڑھ کلو وزن دکھایا۔ عورت نے مرغی کو غور سے دیکھا، پھر بولی: “کیا اس سے بڑی کوئی مرغی بھی ہے؟” قصاب ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ فروخت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔ اس نے وہی مرغی دوبارہ فریزر میں رکھی، چند لمحے انتظار کیا، پھر نکال کر ترازو پر رکھ دی۔ اس بار اس نے چالاکی سے اپنا انگوٹھا ترازو پر دبا دیا۔ وزن دو کلو ظاہر ہوا۔ عورت کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ “بہت خوب! پھر مجھے دونوں مرغیاں دے دیجیے۔” یہ سنتے…

Read more

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔ اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل…

Read more

جنوبی امریکہ کے سرسبز ملک کولمبیا کے اوپر ایک بادل رہتا تھا، اور اس بادل کے دل میں ایک ایسی بارش بسی ہوئی تھی جس کے سینے میں برسوں سے ایک خاموش اداسی پل رہی تھی۔دن بھر وہ آسمان کی وسعتوں میں بھٹکتی رہتی، پہاڑوں کے سروں کو چھوتی، دریاؤں کے اوپر سے گزرتی اور جنگلوں پر سایہ کرتی، مگر اس کے دل کا بوجھ کم نہ ہوتا۔ایک رات جب چاند بادلوں کے پیچھے چھپ چھپ کر جھانک رہا تھا، بارش نے آہ بھری اور نیچے سوئی ہوئی زمین سے کہا:“اے زمین! میرے دل میں ایک درد ہے۔ میں رونا چاہتی ہوں، بہت رونا چاہتی ہوں۔”زمین نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:“پھر رو کیوں نہیں لیتی؟”بارش کی آواز کانپ گئی۔“میری مشکل یہی تو ہے۔ میں آنسو نہیں بہا سکتی، کیونکہ میں خود پانی ہوں۔ جب بھی رونے کی کوشش کرتی ہوں، میرے آنسو بارش بن کر برسنے لگتے ہیں۔ لوگ…

Read more

بہت زمانہ پہلے حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نامی ایک سنار رہتا تھا۔ وہ اپنے فن میں بے مثال تھا۔ اس کے تیار کردہ زیورات دور دور تک پسند کیے جاتے تھے، لیکن ایک خامی اس کی شخصیت پر حاوی تھی: لالچ۔ اس کا یقین تھا کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز وقت نہیں بلکہ سونا ہے، اسی لیے وہ اپنی پوری زندگی دولت جمع کرنے میں مصروف رہتا تھا۔ اس کے پڑوس میں ایک بزرگ اور دانا شخص رہتا تھا جسے لوگ احترام سے “الحکیم” کہتے تھے۔ وہ اکثر یوسف سے کہا کرتا: “یوسف! سونا تو مٹی کی مانند ہے، اصل خزانہ وقت ہے۔ ایک بار جو لمحہ گزر جائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔” مگر یوسف ہمیشہ یہ نصیحت ہنسی میں اڑا دیتا۔ ایک شام، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے غروب ہو رہا تھا، ایک پراسرار اجنبی اس کی دکان پر آیا۔…

Read more

ایک دن، ایک آدمی بحری جہاز کے ایک خوفناک حادثے میں بچ گیا اور بہتا ہوا ایک چھوٹے سے سنسان جزیرے پر پہنچ گیا۔ وہ اکیلا ہی زندہ بچا تھا۔ دن بہ دن، وہ خدا سے اپنی نجات کی دعائیں مانگتا رہا۔ ہر صبح، وہ ساحل پر کھڑا ہوتا اور افق پر نظریں جمائے رکھتا، اس امید میں کہ شاید کوئی کشتی اس کی طرف آ جائے۔کئی تھکا دینے والے دنوں کے بعد، اس نے لکڑی کے وہ ٹکڑے جمع کیے جو جہاز کے ملبے سے بہہ کر آئے تھے اور اپنے لیے ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنا لیا۔ یہ کوئی بہت بڑا سہارا تو نہیں تھا، لیکن اس نے اسے سونے کی جگہ اور دھوپ اور ہوا سے تھوڑی حفاظت فراہم کر دی۔پھر ایک دوپہر، جزیرے پر خوراک تلاش کرنے کے بعد جب وہ ساحل پر واپس آیا، تو وہ حیرت اور صدمے سے وہیں جم گیا۔اس کا جھونپڑا…

Read more

ایک ادھورے خواب کی سچی داستانانسان کی زندگی میں کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کی قیمت وہ اپنی پوری عمر چکا کر بھی ادا نہیں کر پاتا۔ میرا نام حیدر ہے۔ میری عمر پینتالیس سال ہے۔ آج جب میں اپنے اس عالی شان فارم ہاؤس کے لان میں بیٹھ کر چائے کی چسکیاں لیتا ہوں اور سامنے کھڑی قیمتی گاڑیوں کو دیکھتا ہوں، تو لوگ مجھے ایک کامیاب بزنس مین سمجھتے ہیں۔ مگر سچ پوچھیں تو اس کامیابی کی بنیادیں میرے اپنے بوڑھے باپ کے آنسوؤں اور اس مٹی کی بے وفائی پر رکھی ہیں جسے میں کبھی اپنی جان کہتا تھا۔یہ کہانی آج سے بیس سال پہلے شروع ہوئی تھی، جب میں ایک تروتازہ، خوابوں سے بھرا چوبیس سال کا نوجوان تھاہمارا تعلق پنجاب کے ایک چھوٹے سے سرسبز گاؤں سے تھا۔ میرے بابا ایک جفاکش کسان تھے۔ ان کے پاس کوئی بہت بڑی جاگیر تو نہیں تھی،…

Read more

   ایک دن مغل بادشاہ شاہ جہاں شکار کے لیے نکلے تو ایک زخمی ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے قافلے سے بچھڑ گئے۔ ہرن تو ہاتھ نہ آیا، مگر دوپہر ڈھل چکی تھی اور بادشاہ اپنے ساتھیوں سے بہت دور نکل آئے تھے۔ بادشاہ کو سخت پیاس لگی تھی۔ اتنے میں ان کی نظر بڑ کے ایک درخت پر پڑی، جس کی ٹھنڈی چھاؤں میں ایک گڈریا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔بادشاہ، جو شکار کے لباس میں تھے، نے گڈریے سے پانی مانگا۔ گڈریے نے معذرت کی کہ پانی ختم ہو چکا ہے، لیکن اس نے بڑی پھرتی سے ایک برتن کو بکری کے دودھ سے دھویا اور دوسری بکری کا تازہ دودھ دوہ کر بادشاہ کی خدمت میں پیش کر دیا۔شاہ جہاں کو گڈریے کا یہ انداز اور خدمت کا جذبہ بہت پسند آیا۔ انہوں نے سوچا کہ اس کی ہمت افزائی کی جائے۔ انہوں نے…

Read more

ایک بادشاہ تھا جس کی طاقت کا ڈنکا پورے ملک میں بجتا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، خزانے بھرے ہوئے تھے اور اس کے حکم کے آگے کوئی زبان نہیں کھول سکتا تھا۔ لیکن طاقت کے نشے میں وہ ظلم و جبر کا عادی ہو چکا تھا۔ لوگ اس سے محبت نہیں کرتے تھے، بلکہ اس سے خوف کھاتے تھے۔ ایک دن اس کے وزیر نے عرض کیا: “بادشاہ سلامت! آپ کے پاس سب کچھ ہے، مگر ایک چیز کی کمی ہے۔” بادشاہ نے حیرت سے پوچھا: “وہ کیا؟” وزیر نے جواب دیا: “سچ۔” بادشاہ ہنس پڑا اور بولا: “میں بادشاہ ہوں، جو میں کہتا ہوں وہی سچ ہوتا ہے!” وزیر نے ادب سے کہا: “حضور! حکم اور سچ ایک چیز نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا اور آپ کے بعد بھی رہے گا۔” یہ بات بادشاہ کو ناگوار گزری۔ اس نے اعلان کروا دیا:…

Read more

ایک پُرسکون صبح تھی۔ خانقاہ کے صحن میں ہوا درختوں کے پتوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی۔ ایک نوجوان شاگرد، جس کی آنکھوں میں جستجو کی چمک اور دل میں بے قراری کا طوفان تھا، استادِ دانا کے حضور حاضر ہوا۔ادب سے سر جھکا کر بولا:“استادِ محترم! مجھے روشنی چاہیے۔ میں حقیقت کی ایک کرن کا طالب ہوں۔”استاد نے مسکرا کر کوئی جواب نہ دیا۔ خاموشی سے چائے کی کیتلی اٹھائی اور شاگرد کے سامنے رکھے کپ میں چائے انڈیلنے لگے۔کپ بھرتا گیا… لبریز ہوا… مگر استاد کا ہاتھ نہ رکا۔چائے کناروں سے چھلکنے لگی، میز پر پھیل گئی، پھر زمین کو بھی تر کرنے لگی۔شاگرد بے اختیار چیخ اٹھا:“حضور! کپ بھر چکا ہے، اب اس میں ایک قطرہ بھی نہیں سما سکتا!”استاد نے کیتلی ایک طرف رکھی، شاگرد کی آنکھوں میں دیکھا اور دھیرے سے بولے:“بیٹے! تمہارا ذہن بھی اسی کپ کی مانند ہے۔ اپنے خیالات، یقینوں، گمانوں اور…

Read more

440/466
NZ's Corner