Tag Archives: ،urdublogs

انسان کی زندگی ایک خوبصورت اور مسلسل سفر ہے، لیکن اس سفر میں ہر موڑ پر ہمارا سامنا مختلف رویوں سے ہوتا ہے۰  بعض لوگ ہمیں حوصلہ دیتے ہیں، جبکہ بعض اپنی منفی سوچ اور کم ظرفی سے ہمیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۰ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہر چیلنج کا جواب دینا ضروری ہے؟ نفسیات کے مطابق، انسان کا غصہ اور انا (ego) اکثر اسے ان لڑائیوں میں دھکیل دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۰ عقلمند اور کامیاب لوگ وہ نہیں ہوتے جو ہر میدان میں کود پڑیں، بلکہ وہ ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ کون سی جگہ ان کےلیے بہتر ہےاور کہاں خاموشی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۰ اس بات کو سمجھنے کے لیے جنگل کے بادشاہ شیر اور ایک جنگلی سور کا قصہ ایک بہترین مثال ہے۰ ایک بار ایک طاقتور شیر نہایت سکون کے ساتھ…

Read more

سائبیریا کے گھنے اور سرسبز جنگل میں ایک خوبصورت خرگوش اور اس کا گھرانہ رہتا تھا، یہ نرم نرم مٹی میں گھر بنا کر رہتا تھا۔گوکہ خرگوش خاصا سمجھدار تھا لیکن کچھ بزدل بھی تھا۔ایک دن دوپہر کو خرگوش اور اس کے بچے گاجر سے بنا کیک کھا کر سونے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بچے آپس میں کھیل کود کرنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی، جس کو سن کر خرگوش کے کان کھڑے ہو گئے۔پھر زمین ہلتی ہوئی محسوس ہوئی، خرگوش ڈر کے گھر سے باہر نکل آیا اور اِدھر اُدھر دیکھے بغیر سر پٹ دوڑنے لگا۔دوڑتے دوڑتے اپنے گھر سے بے حد دور نکل گیا، اتنے میں اسے ایک ہرن ملا، ہرن نے اس سے دوڑنے کی وجہ پوچھی۔ ”میں نے زمین پھٹنے کی زور دار آواز سنی تھی۔“ خرگوش گھبرائے ہوئے انداز میں بولا، یہ سنتے ہی ہرن بھی دوڑنے…

Read more

ایک کسان نے ایک بوڑھے، بے بس اور بظاہر بیمار بھیڑیے کو بھیڑوں کے ریوڑ کے عین درمیان میں پھینک دیا، بھیڑیا اتنا کمزور تھا کہ کھڑا بھی نہیں ہو سکتا تھا۰ اس کے باوجود پورے ریوڑ میں ڈر کی وجہ سےشدید افرا تفری پھیل گئی۰ ریوڑ میں سب سے وزنی مینڈھا، جو ہمیشہ محفوظ رہنے کے لیے ریوڑ کے مرکز میں رہتا تھا، اچانک خود کو بھیڑیے کے بالکل سامنے کھڑا پاتا ہے۰ اس سے پہلے کہ وہ سنبھل پاتا، اس کے پیچھے موجود وہی بھیڑیں، جو روزانہ اس کے ساتھ چمٹ کر کھڑی ہوتی تھیں، اپنے لیے راستہ بنانے کی خاطر بھیڑیے کی طرف دھکیل دیتی ہیں۰ مینڈھے کی ٹانگ ٹوٹ جاتی ہے، لیکن بھیڑیے کے کاٹنے سے نہیں، بلکہ اس کے اپنے ساتھیوں کے سموں تلے کچلے جانے کی وجہ سے اور وہ ایک بوڑھے ییمار بھیڑیے کی آسان ترین خوراک بن جاتا ہے۰ یہ کہانی ایک…

Read more

ایک صاحب بیگم کے ساتھ کھانا کھانے بیٹھے تو دو تین نوالے کھانے کے بعد بولے: “یہ آج کیا پکا دیا ھے؟ نہ گوشت گلا ھے، نہ سبزی! مجھ سے تو یہ کھانا کھایا ھی نہیں جا رہا!” 🤔😒 بیگم فوراً بولیں: “غلطی اپنی اور غصہ مُجھ پر؟ یہ کھانا تو میرے گلے سے بھی نہیں اتر رہا!” 😕😡 شوہر حیران ھو کر بولا: “میری غلطی؟ کیا کھانا میں نے پکایا ھے؟” بیگم نے جواب دیا: “کھانا پکانے کی کتاب آپ ھی تو لائے تھے! میں نے اسی میں لکھی ترکیب سے یہ ڈش بنائی ھے۔” پھر فخر سے بولیں: “ترکیب چار آدمیوں کے لیے تھی، لیکن ھم دو تھے، اس لیے میں نے ہر چیز آدھی کر دی…” شوہر نے کہا: “اچھا، پھر؟” بیگم بولیں: “میں نے احتیاط کی انتہا کر دی، مصالحے آدھے، تیل آدھا، پانی آدھا…” تھوڑی دیر رک کر فاتحانہ انداز میں بولیں: “اور پکانے کا…

Read more

شیدا ایک بھولا بھالا سا انسان تھا۔آج وہ اپنی بیوی کو لینے اس کے گاؤں جا رہا تھا۔راستے میں اس نے ایک جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے دیکھا۔خیر وہ اپنے سسرال پہنچا۔بیوی کے بھائی نے اسے بیٹھک میں بیٹھا دیا۔اتنے میں ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ بھائی! میرے گدھے گم ہو گئے ہیں۔اگر آپ نے دیکھے ہوں تو بتائیے۔ شیدے نے فوراً کہا کہ ہاں میں نے فلاں جگہ گدھوں کو گھاس چَرتے ہوئے دیکھا ہے۔وہ آدمی دوڑتا ہوا چلا گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ آدمی دوبارہ آیا اور کہا کہ آپ تو عظیم آدمی ہیں۔آپ نے جس جگہ بتایا تھا، ٹھیک اسی جگہ گدھے موجود ہیں، پھر وہ چلا گیا۔اب روٹیاں پکنی شروع ہوئیں۔چونکہ وہ باورچی خانے کے قریب ہی کمرے میں بیٹھا تھا، اس لئے اسے روٹیوں کے تھپ تھپ کی آواز سنائی دی۔ اس آواز سے وہ روٹیاں گننے لگا۔جب اسے کھانا پیش کیا…

Read more

مرزا انور بڑے سرکاری افسر تھے،لیکن نیکی کے کاموں میں حصہ لینا اور سخاوت ان کی خصوصیت تھی۔ایک دن وہ گھر والوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھے۔شادی ہال میں ان کی بیوی کو یاد آیا کہ وہ تو جلدی جلدی میں سونے کا ہار سنگھار میز پر ہی بھول آئی ہیں۔انھوں نے فوراً مرزا صاحب سے کہا تو انھوں نے بے فکری کے انداز میں جواب دیا۔سارے کمروں کو اپنے ہاتھ سے بند کرکے آیا ہوں اور بڑے گیٹ پر چوکیدار موجود ہے۔بے فکر ہو جاؤ،تمہارا ہار میز پر ہی ہو گا۔وہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔شادی کی تقریب کے بعد جب گھر پہنچے تو سنگھار میز پر ہار موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئے اور سارا کمرہ چھان مارا،لیکن ہار نہیں ملا۔ چوکیدار سے معلوم کیا کہ ہمارے بعد کوئی آیا تو نہیں تھا۔ چوکیدار نے جواب دیا:”کوئی نہیں آیا تھا صاحب․․․!“انور صاحب…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک آدمی کے پاس ایک خوبصورت کتا تھا اُس کتے سے بہت پیار کرتا تھا وہ اسے اپنے پاس بٹھا کر کھانا کھلاتا کتا بھی ہر وقت اسکے پیچھے پیچھے دم ہلاتا پھرتا اور جہاں وہ جاتا ساتھ ہو لیتا آدمی کے پاس ایک گدھا بھی تھا جو دن بھر بوجھ اُٹھاتا اور رات کو اکیلا جگہ پر پڑارہتا ایک دن گدھے نے کھڑکی میں منہ ڈال کر مالک کے کمرے میں جھانکا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ کتا مزے سے کھاناکھارہا تھا اور مالک پاس بیٹھا اسے چمکا رہا تھا گدھا اسے دیکھ کر جل گیا اور دل میں کہنے لگا آخر میرا مالک اس کتے کو اتنا پیار کیوں کرتا ہے میں دن بھر سخت محنت کرتا ہوں اور کتاصرف دم ہلاتا ادھر اُدھر اُچھلتا کودتا ہے اس نے سوچا کہ اگر میں بھی کتے کی طرح اُچھلنے کودنے اور…

Read more

مستانہ اپنے علاقے کا ایک مشہور حجام تھا۔بے تکی شاعری کرتا تھا۔قافیہ اور ردیف سے ناواقف یہ خود ساختہ شاعر اپنے آپ کو غالب اور مومن کے برابر کا شاعر سمجھتا تھا۔فیس بک پر اپنے اُلٹے سیدھے اشعار لگاتا اور انھیں اقبال کا ہم پلہ بتاتا۔کبھی دکان پر اپنی کسی بے وزن غزل کو مرزا غالب کے معیار کا سمجھ کر سناتا اور ملازموں اور ادب سے ناواقف گاہکوں سے خوب داد سمیٹتا۔اس علاقے میں مسافر دہلوی نام کے ایک شاعر بہت مشہور تھے۔مسافر دہلوی تنہائی پسند آدمی تھے۔انھیں لوگوں میں گھلنا ملنا پسند نہیں تھا،اس لئے اکثر لوگ اُن کے صرف نام اور کلام ہی سے واقف تھے۔”چھوٹے!تین کپ چائے لا!“”ابھی لایا استاد۔“مستانے نے ابھی ابھی دکان کھولی تھی۔”اجو!ٹی وی کھول،دیکھوں تو ذرا امریکا میں کورونا کی اب کیا حالت ہے؟“”کیوں استاد جی!امریکا جانے کا ارادہ ہے کیا؟“اجو نے کچو کا لگاتے ہوئے کہا۔”ارے احمق!وہاں میرا فیس بک فرینڈ…

Read more

Read more

ایک کنجوس کے گھر کوئی مہمان آیا تو اُس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ آدھا کلو عمدہ قسم کا گوشت کہیں سے لے کرآؤ۔ بیٹا بازار گیا اور خاصی دیر بعد خالی ہاتھ گھر لوٹا آیا۔ کنجوس باپ نے پوچھا؛”گوشت کہاں ہے؟“ بیٹا بولا ابا جان میں قصائی کے پاس گیا اور اُسے کہا کہ جو سب سے عمدہ گوشت تمہارے پاس ہے ، وہ آدھا کلو دے دو۔قصائی نے کہا ؛ بے فکر رہو میں تمہیں ایسا گوشت دوں گا کہ گویا مکھن ہو“ میں نے سوچا اگر ایسا ہی ہے تو مکن ہی لے لیتا ہوں۔ میں نے قصائی سے گوشت لینے کا ارادہ ترک کردیا اور سیدھا بقال کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ تمہارے پاس جو سب سے عمدہ مکھن ہے وہ دیدو۔ بقال نے کہا؛ بے فکر رہو میں تمہیں ایسا مکھن دوں گا کہ شہد ہو“میں نے سوچا کہ اگر ایسا…

Read more

ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور محتاج کو ایک پیسہ نہ دیتا تھا۔ ملا نے کئی مرتبہ اسے سمجھایا کہ خدا نے تمہیں دولت عطا کی ہے ، اسے غریب اور مفلس لوگوں پر خرچ کیا کرو، لیکن اس نے ملا کی کوئی نصیحت نہ سنی۔ آخر ملا نصر الدین نے اسے سزا دینے کے لیے ایک ترکیب سوچی۔ ایک روز صبح سویرے وہ نماز پڑھ کر زور زور سے دعا مانگنے لگا۔ یا اللہ، اگر تو مجھے ایک ہزار اشرفیوں کی تھیلی بھیج دے تو میں اسے محتاجوں پر صرف کر دوں۔ لیکن اگر اس میں سے ایک اشرفی بھی کم ہوئی تو ہرگز قبول نہ کروں گا۔ یہودی نے یہ دعا سنی تو سوچا کہ ملا بڑا ایمان دار بنتا ہے ، اس کی ایمانداری آزمانی چاہیے۔ یہ سوچ کر اس نے تھیلی…

Read more

گاؤں کچا بھاگو میں اللہ دتہ نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اپنی حاضر جوابی اور شرارتوں کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کا ایک پڑوسی بھی تھا جس کا نام منیر تھا۔ منیر کی ایک بری عادت تھی، دوسروں کے گھر جھانکنا اور ہر وقت یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ کس کے گھر کیا ہو رہا ہے۔ اگر کسی کے گھر کوئی نئی چیز آ جائے تو رات تک پورے گاؤں میں خبر پھیلا دیتا تھا۔ 😄 ایک دن اللہ دتہ نے مذاق کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے جان بوجھ کر گاؤں کے چند لوگوں کے سامنے کہا، “آج رات میرے گھر ایک بہت بڑا خزانہ آنے والا ہے، بس کسی کو خبر نہ ہو!” یہ بات سنتے ہی منیر کے کان کھڑے ہو گئے۔ شام ہوتے ہی وہ اپنے گھر کی بجائے دیوار کے ساتھ کان لگا کر بیٹھ گیا کہ دیکھوں…

Read more

کسی ملک میں بادشاہ کے بیشتر درباری اس کے مشیرِ خاص کی مقبولیت کی وجہ سے اس سے حسد کرتے تھے۔وہ مشیرِ خاص کو نا پسند کرنے لگے تھے اور اسے دربار سے نکلوانے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔وہ سارے خود کو چالاک اور عقل مند سمجھتے تھے اور سب سر جوڑ کے اس کے خلاف سازش کر رہے تھے۔ ایک درباری نے کہا:”ہم سب مشیرِ خاص کو ذلیل کر کے دربار سے نکلوانے کے کئی طریقے آزما چکے ہیں، لیکن اب تک کامیاب نہ ہو سکے۔“”پچھلی باتوں کو چھوڑو۔“ دوسرے درباری نے غصے سے کہا:”اس مرتبہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔“”میرے دماغ میں ایک ترکیب آئی ہے۔“ تیسرے درباری نے کہا:”ہم سب ملکہ معظمہ کے پاس جائیں گے۔ان کا بھائی شکار کھیلنے اور نئے نئے کپڑے پہننے کا شوقین ہے۔ ہم ملکہ سے کہیں گے کہ ان کا بھائی مشیرِ خاص سے زیادہ عقل مند اور قابل ہے۔لہٰذا مشیرِ…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں ایک ننھا خرگوش رہتا تھا، جس کی چھوٹی سی دُم تھی اور لمبے لمبے کان تھے وہ انتہائی شرارتی اور بد تمیز تھا۔ہمیشہ لوگوں کے نام بگاڑتا رہتا اور جب کبھی کوئی غصے سے ڈانٹتا تو اس کا تُرکی بہ تُرکی جواب دیتا۔اس کا نام جینو تھا۔وہ قریب ہی ایک بِل میں رہنے والے خارپشت (چوہے جیسا جانور جس کے جسم پر کانٹے ہوتے ہیں خطرے کے وقت وہ ان سے اپنا بچاؤ کرتا ہے) کو کانٹوں کا بوجھ کہہ کر پکارتا جس کا وہ بہت بُرا مناتا اور جینو سے کہتا کہ میں تمہاری ماں سے تمہاری شکایت کروں گا۔یہ سن کر جینو کی ہمیشہ ہنسی چھوٹ جاتی اور وہ شرمندہ ہونے کے بجائے کہتا کہ ٹھیک ہے تم میرے امی ابا کو بتاؤ، میرے بہن بھائی کو بتاؤ، بلکہ میرے دادا، دادی کو بتا کر اپنا شوق پورا کر لو۔…

Read more

گاؤں کا چودھری جمیل خان کتوں کو سخت ناپسند کرتے تھے، مگر پھر اچانک ان کی سوچ تبدیل ہو گئی۔انھیں کتے اچھے لگنے لگے۔چودھری کے کہنے سے ان کے منشی نے اخباروں میں اچھی نسل کے ایک کتے کی ضرورت کا اشتہار دے دیا۔جمیل خان کو ایسا کتا درکار تھا جو ہر وقت ان کے ساتھ رہے اور ان کے اشاروں کو سمجھے۔آخر جمیل خان کو اپنے مطلب کا کتا مل ہی گیا۔کتے کے ساتھ اس کو سدھانے والا بھی آیا اور کتے کی اس طرح ترتیب کی، جیسا کہ جمیل خان چاہتے تھے اور پھر وہ کتا ہر وقت جمیل خان کے ساتھ رہنے لگا۔وہ واقعی ایک اعلیٰ نسل کا کتا تھا، جو جمیل خان کے اشارے پر چلتا تھا۔یہاں تک کہ وہ جمیل خان کے کمرے میں سوتا بھی تھا۔اس کی دیکھ بھال اور حفاظت کے لئے دو نوکر مقرر تھے۔ کتا اتنے مزے میں تھا کہ بعض…

Read more

پرانے زمانے کا دور تھا۔ایک شخص ٹوپیاں فروخت کرکے اپنی گزر بسر کیا کرتا تھا۔لوگ اس وقت ننگے سر پھرنا معیوب سمجھتے تھے اس لئے اپنے سروں پر ٹوپی یا پگڑی رکھتے تھے ایک دن گرمی کے موسم میں ٹوپیاں بیچنے والا دوپہر کے وقت ایک درخت کے سائے میں آرام کرنے کے لئے لیٹ گیا اسے نیند آگئی۔اس کے برابر میں ٹوپیوں سے بھرا ہوا تھیلا رکھا ہوا تھا۔جب سوکر اٹھا تو اس نے دیکھا کہ ٹوپیوں سے بھرا ہوا تھیلا غائب ہے۔اچانک اس کی نظر درخت کے اوپر بیٹھے ہوئے بندروں پر پڑی جہاں بندر اس کی ٹوپیوں سے کھیل رہے تھے۔ٹوپیاں فروخت کرنے والا پریشانی میں اپنا سر کھجانے لگا۔لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تمام بندر اس کی نقل کرتے ہوئے اپنا اپنا سر کھجا رہے ہیں اس نے ایک دو حرکتیں اور کیں بندر اس کی ہر حرکت کی نقل کرتے رہے۔…

Read more

کہتے ہیں کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا اور بڑا مالدار بھی تھا وہ مختلف جانوروں کی بولیاں بھی اچھی طرح سمجھتا تھا اسی دن اس نے اپنے مویشی خانے میں گدھے اور بیل کو آپس میں باتیں کرتے سنا بیل گدھے سے کہہ رہا تھا تم خوش قسمت ہوں جبکہ میں سارا دن ہل چلاتا ہوں اور تم مزے سے رہتے ہوں گدھے نے کہا میرا کہا مانو تو تم بھی آرام پاﺅ گے کل کام کے وقت بیمار پڑجانا تو مالک تم سے کام نہیں لیں گا بیل نے خوش ہوکر تجویز پر پورا عمل کرنے کا یقین دلایا سوداگر نے ان کی باتیں سن لیں مگر خاموش رہا اگلے دن جب ملازم نے بیل کے بیمار ہونے کی اطلاع دی تو سوداگر مسکرا دیا اور کہا کہ گدھے کو لے جاﺅ نوکر گدھے کو لے گیااور شام تک کام لیا رات کو جب گدھا آیا تو بیل…

Read more

ایک دن راحیل نے سنا کہ ایک نیا کلینک کھلا ہے اور ڈاکٹر کے پاس ہر قسم کی بیماری کا علاج ہے وہ بھی صرف تین سو روپے میں۔اگر علاج نہ ہو تو ایک ہزار روپے لے جائیں۔راحیل یہ سن کر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔اسے شرارت سوجی۔اگلے ہی دن وہ ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہا:”ڈاکٹر صاحب!مجھے کسی چیز کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر نے نرس سے کہا:”دوا نمبر 21 لے کر آؤ۔“ڈاکٹر نے ایک چمچہ دوا راحیل کو پلا دی۔راحیل بے اختیار چیخا:”ڈاکٹر صاحب!یہ تو پیٹرول ہے۔“ڈاکٹر نے کہا:”ماشاء اللہ!آپ کی زبان کا ذائقہ واپس آگیا ہے۔تین سو روپے فیس دے دیجیے۔“راحیل کو مجبوراً پیسے دینے پڑے۔اگلے دن راحیل نے ڈاکٹر سے کہا:”ڈاکٹر صاحب!میری یادداشت ختم ہو گئی ہے،مجھے کچھ یاد نہیں رہتا۔ “ڈاکٹر نے نرس سے کہا:”دوا نمبر 21 لے کر آؤ۔“”نہیں ڈاکٹر صاحب نہیں۔“راحیل چیخا:”یہ تو پیٹرول ہے۔“”مبارک ہو،آپ کی یادداشت واپس آگئی،لائیے میری فیس۔“اس…

Read more

کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔وہ سارا دن اپنے کھیت میں کام کرتا اور مشکل سے اتنا کما پاتا کہ دو وقت کا کھانا کھا سکے۔وہ خود بھی بہت سیدھا سادا تھا،مگر اس کو جو بیوی ملی وہ حد درجہ بے وقوف تھی۔ان کی شادی کو کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ایک دن صبح سویرے جب کسان کھیتوں پر جانے کو تیار ہوا تو اپنی بیوی سے کہنے لگا:”آج کھیت میں سارا دن ہل چلانا پڑے گا جس سے بہت تھکاوٹ ہو جائے گی اور بھوک بھی بہت لگے گی،اس لئے تم میری واپسی تک اچھا اور لذیذ کھانا بنا کر رکھنا اور ساتھ ایک گلاس سرکہ بھی جو میں پچھلے سال خرید کر لایا تھا۔“یہ کہہ کر وہ اپنے کام پر چلا گیا۔جب کسان کی واپسی کا وقت قریب آیا تو بیوی نے کھانا تیار کرنا شروع کیا۔ اپنے شوہر کو خوش کرنے کے لئے اس نے گوشت…

Read more

کسی گاؤں میں ایک بہت غریب موچی اپنے گھر میں اکیلا رہتا تھا۔یہاں اس کا کوئی بھی رشتے دار نہیں تھا۔وہ اتنا غریب تھا کہ اس نے کبھی شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ایک دن اسے بہت بھوک لگی تھی اور چاول کھانے کا دل چاہ رہا تھا۔اتفاق سے اسی دن اس کے پاس بہت سے گاہک آئے۔وہ بہت خوش تھا۔اس نے جلدی جلدی اپنا کام ختم کیا اور پیسوں سے چاول اور مسالے خرید کر لایا اور جلدی جلدی دال چاول پکانا شروع کیے۔چاول پکانے کے بعد ان کو ایک بڑی سی پلیٹ میں ڈال دیا۔چاول بہت گرم تھے، اس لئے وہ ان کو اس وقت نہیں کھا سکتا تھا۔اس نے سوچا کہ پہلے پڑوسی کا ٹھیک کیا ہوا جوتا ان کو واپس کر آتا ہوں پھر آ کر مزے سے کھاؤں گا۔ وہ جوتا واپس کرنے چلا گیا، لیکن جاتے وقت اپنے گھر کا دروازہ بند کرنا…

Read more

ارے ، ارے اب کیا ہوگا؟ سب کی زبان سے یہی الفاظ نکل رہے تھے۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ بندر صبح درخت پہ بیٹھا مزے سے کیلا نوش کررہا تھا کہ اچانک اس نے سست طریقے سے چلتے ہاتھی کو دیکھا تو اس کو شرارت سوجھی اور جب ہاتھی اس درخت کے نیچے سے گزررہاتھا تو اس نے کیلے کا چھلکا اس کے پاؤں کے قریب پھینک دیا۔جس سے ہاتھی پھسلتے پھسلتے بچ گیا اور جب اُوپر بندر کو دیکھا تو غصے سے سونڈ لہرائی اور زور سے درخت پر ماری۔ بندر کی جرأت نہ پڑی کہ دوسرے درخت پہ چھلانگ لگاسکے اور دوسری مسئلہ یہ کہ درخت بھی کچھ فاصلے پر تھا اور جب ہاتھی نے اپنے پاؤں سے درخت کو جھٹکا دیا تو شرارتی بندر کوجان کے لالے پڑ گئے اس کو لگ رہا تھا ہاتھی درخت اکھاڑ کر اپنے پاؤں سے تلے مسل دے گا۔ اب…

Read more

440/841
NZ's Corner