سکون کی زندگی
ایک دن ایک نہایت امیر تاجر سمندر کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔ اس کی زندگی مسلسل مصروفیت، منصوبوں، کاروباری سودوں اور دولت بڑھانے کی جدوجہد میں گزرتی تھی۔ اس کے ذہن میں ہمیشہ اگلا ہدف، اگلا منافع اور اگلی کامیابی گردش کرتی رہتی تھی۔ چلتے چلتے اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی چھوٹی سی کشتی کے قریب ریت پر لیٹا ہوا سکون سے دھوپ سینک رہا تھا۔ قریب ہی چند تازہ مچھلیاں پڑی تھیں جو بظاہر ابھی ابھی پکڑی گئی تھیں۔ تاجر کو حیرت ہوئی۔ وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا: “ابھی تو دن کا آغاز ہے، تم نے مچھلیاں پکڑنا کیوں بند کر دیا؟” ماہی گیر نے اطمینان سے جواب دیا: “آج کے لیے جتنی ضرورت تھی، اتنی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔” تاجر نے حیرانی سے سر ہلایا اور بولا: “یہ تو بہت بڑی غلطی ہے! تم مزید مچھلیاں پکڑ سکتے ہو۔…
شیخ چلی کا اڑتا گدھا
نورپور ایک ایسا گاؤں تھا جہاں کی صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے نہیں، بلکہ اکثر و بیشتر شیخ چلی کے کسی نئے اور انوکھے کارنامے کی گونج سے شروع ہوتی تھیں۔ گاؤں کے لوگ دل کے برے نہیں تھے، مگر شیخ چلی کی روز روز کی خیالی پلواؤ پکانے کی عادت سے سبھی واقف تھے۔ شیخ چلی کا ایک ہی ساتھی تھا، اس کا وفادار اور سست رفتار گدھا، جس کا نام اس نے بڑے پیار سے “چونچو” رکھا تھا۔ چونچو بھی اپنے مالک کی طرح دنیا و مافیہا سے بے خبر، بس اپنے چارے اور نیند میں مست رہتا تھا۔اس دن بھی کچھ الگ نہیں تھا۔ شیخ چلی اپنے کچے مکان کے صحن میں کھٹیا پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی نظریں آسمان پر اڑتے ہوئے عقابوں پر ٹکی ہوئی تھیں۔ اس کے دماغ میں خیالات کے گھوڑے نہیں، بلکہ گدھے دوڑ رہے تھے۔“اگر اللہ نے عقاب کو…
*تین سوال*
ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیر کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیںوزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔ سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟…سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟ بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ کے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل…
خود کی تعریف
جنگل میں نعمتوں کی کوئی کمی نہ تھی۔ کہیں پھلوں کے ڈھیر لگے رہتے، کہیں اناج بکھرا پڑا ہوتا اور کہیں جانور دعوتوں میں مصروف نظر آتے۔ ہر جانور اپنی جسامت اور ضرورت کے مطابق کھاتا پیتا اور خوش رہتا، مگر ایک چونٹی تھی جس کے دل میں ہمیشہ ایک حسرت مچلتی رہتی تھی۔وہ جب ہاتھی کو ڈھیروں گھاس کھاتے دیکھتی، بھینس کو گھنٹوں جگالی کرتے دیکھتی یا ریچھ کو شہد کے چھتے صاف کرتے دیکھتی تو دل ہی دل میں سوچتی، “کاش میں بھی اتنا کھا سکتی”۔ اسی حسرت نے اسے ایک عجیب عادت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ خود تو ایک دانہ کھا کر سیر ہو جاتی، مگر بات ہمیشہ دیگوں کی کرتی۔وہ جب بھی کسی سے ملتی، کھانے کا ذکر ضرور چھیڑ دیتی۔اگر کوئی پوچھتا، “چونٹی بہن! کہاں سے آ رہی ہو؟”تو وہ گردن اکڑا کر جواب دیتی،“ارے مت پوچھو! لومڑی کے ہاں دعوت تھی۔ ایک…
حاضر دماغ کسان اور بادشاہ…..
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…
شاہی چھتری۔۔۔
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گھنے جنگل میں شیر بادشاہ کے محل میں ایک خاص نوکری نکلی۔ کام یہ تھا کہ بادشاہ کے تخت کے پیچھے کھڑے ہو کر شاہی چھتری سنبھالنی تھی۔ یہ ایک باعزت عہدہ سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ہر وقت بادشاہ کے قریب رہنے کا موقع ملتا تھا۔ جنگل بھر سے جانور آئے۔ان میں ایک چھوٹا سا خرگوش بھی تھا۔ وہ ذہین تھا، تیز تھا، آداب جانتا تھا اور ہر لحاظ سے اس نوکری کا اہل تھا۔ مگر جب انتخاب کا وقت آیا تو اسے صرف اس لیے مسترد کر دیا گیا کہ اس کا قد بہت چھوٹا تھا۔لومڑی نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: “بادشاہ کی شاہی چھتری اتنی اونچی ہے کہ تم اسے سنبھال ہی نہیں سکتے۔”آخرکار یہ نوکری ایک لمبے قد والے ہرن کو مل گئی۔خرگوش کا دل ٹوٹ گیا۔جب بھی وہ محل کے قریب سے گزرتا اور ہرن کو شاہی لباس میں…
بلاعنوان
ایک بھائی صاحب بیوٹی پارلر کے ویٹنگ روم میں بیٹھے میگزین پڑھ رہے تھے۔ 😌📖 بیوی اندر میک اپ اور فیشل کروانے گئی ہوئی تھی، اور بھائی صاحب سوچ رہے تھے کہ “بس پانچ منٹ کی بات ہو گی…” 😅 لیکن ایک گھنٹہ گزر گیا… پھر دوسرا… 😂 اتنے میں ایک خوبصورت عورت آئی، آہستہ سے ان کے کندھے کو دبایا اور بولی:“آئیے… چلتے ہیں!” 😳💕 بھائی صاحب کے تو پسینے چھوٹ گئے۔ 😰جلدی سے اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی جاننے والا تو نہیں دیکھ رہا۔ 😂 پھر ہکلاتے ہوئے بولے: “میں شادی شدہ ہوں… اور یہاں پارلر میں بیوی بھی ساتھ ہے!” 😭🤣 عورت نے ماتھا پکڑا، ہلکا سا غصے سے بولی: “ارے جناب! 😒 اتنی دیر میں میری شکل ہی بھول گئے؟ ذرا غور سے دیکھو…” “میں ہی ہوں!” 🤣🤣 منقول
تین گڑیا
فارس کا سلطان بڑا دانا مشہور تھا۔ اسے مسئلے سلجھانے، پہیلیاں بجھانے اور معمے حل کرنے کا بھی شوق تھا۔ ایک دن اسے کسی کا بھیجا ہوا تحفہ ملا۔ بھیجنے والا سلطان کے لئے اجنبی تھا۔ سلطان نے تحفے کو کھولا اس میں سے ایک ڈبہ نکلا۔ ڈبے کے اندر لکڑی کی تین خوبصورت گڑیاں نظر آئیں جنہیں بڑے سلقیے سے تراشا گیا تھا۔ اس نے ایک ایک کر کے تینوں گڑیوں کو اٹھایا اور ہر ایک کی کاریگری کی خوب تعریف کی۔ اس کا دھیان ڈبہ پر گیا جہاں ایک جملہ تحریر تھا: ’’ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتائیے۔‘‘ ان تینوں گڑیوں کے درمیان فرق بتانا سلطان کے لئے ایک چیلنج تھا۔ اس نے پہلی گڑیا کو اٹھایا اور اس کا مشاہدہ کرنے لگا۔ گڑیا کا چہرہ خوبصورت تھا اور وہ ریشم کے چمکیلے کپڑوں میں ملبوس تھی۔ پھر اس نے دوسری گڑیا کو اٹھایا۔ وہ بھی پہلی…
بادشاہ، عقاب اور صبر کی قیمت
قدیم عرب کا ایک طاقتور بادشاہ تھا جسے شکار کا بے حد شوق تھا۔ اس کے پاس ایک عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا۔ وہ عقاب اس کے لیے صرف ایک پرندہ نہیں بلکہ ایک وفادار ساتھی تھا جو ہر شکار میں اس کے کندھے پر بیٹھا رہتا۔ ایک دن بادشاہ اپنے سپاہیوں کے ساتھ تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ شدید گرمی اور سفر کی تھکن نے قافلے کو بکھیر دیا اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ پیاس کی شدت بڑھتی گئی، حتیٰ کہ زندگی مشکل ہونے لگی۔ اسی دوران اسے ایک چٹان سے ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے صبر سے ایک پیالہ بھرنا شروع کیا۔ قطرہ قطرہ پانی جمع ہوتا رہا، اور آخرکار جب پیالہ بھر گیا تو بادشاہ نے اسے ہونٹوں سے لگایا۔ لیکن اچانک اس کے عقاب نے جھپٹا مارا اور پیالہ گرا دیا۔ بادشاہ حیران ہوا، پھر دوبارہ کوشش…
بلاعنوان
ایک بڑی کمپنی میں نوکری کے لیے انٹرویو ھو رھا تھا۔ 😎 باس نے امیدوار سے پوچھا: “تمہاری کام کرنے کی رفتار کیسی ھے؟” امیدوار فوراً بولا: “سر! میری سپیڈ اتنی تیز ھے کہ ایک گھنٹے کا کام دس منٹ میں ختم کر دیتا ھوں!” 😌 باس متاثر ھوا۔ پھر پوچھا: “یادداشت کیسی ھے؟” امیدوار بولا: “سر! جو ایک بار سن لوں، زندگی بھر نہیں بھولتا!” 😏 باس اور خوش ہوا۔ آخری سوال آیا: “کیا تم ایماندار ھو؟” امیدوار نے سینے پر ہاتھ رکھا اور بولا: “سر! سچ بولنا میری عادت نہیں…میری عبادت ھے!” 🥹 باس نے مسکرا کر کہا: “بہت خوب!لیکن ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خامی ضرور ھوتی ھے… تمہاری کیا خامی ھے؟” امیدوار نے شرماتے ھوئے سر جھکایا اور بولا: “سر… میری بس ایک ھی چھوٹی سی خامی ھے…” باس:“کیا؟” امیدوار: “میں گپیں بُہت لمبی چھوڑتا ھوں…” 😁😂🤗 🤣🤣🤣
چودھری صاحب کی گھڑی
پرانے زمانے میں گاؤں میں گھڑی ہونا بھی ایک سٹیٹس سمبل ہوا کرتا تھا۔ 😎⌚ چوہدری شیدا کے بھتیجے نے شہر سے آتے ھوئے انہیں ایک ولایتی جیبی گھڑی تحفے میں دی۔ بس پھر کیا تھا! چوہدری صاحب دن بھر چوپال میں بیٹھے رہتے، گھڑی کان سے لگا کر اس کی “ٹک ٹک” سنتے اور فخر سے کہتے: “دیکھو بھئی! میرے پاس ایسی مشین ھے جو خود سارا دن بولتی رہتی ھے!” 😂 گاؤں والے بھی حیرت سے گھڑی کو دیکھتے رہتے۔ چند ماہ بعد ایک صبح چوہدری صاحب نے گھڑی کان سے لگائی تو خاموش… نہ ٹک ٹک…نہ حرکت… بڑے پریشان ھوئے! گھڑی کھولی تو اندر سے ایک مری ھوئی چیونٹی نیچے گر گئی۔ 🐜 چوہدری صاحب نے چیونٹی کو غور سے دیکھا…👁️پھر گھڑی کو دیکھا…اور ایک لمبی آہ بھر کر بولے: “اوئے یارو…! مشین نے تو رکنا ھی تھا… 😢 بیچارا ڈرائیور ھی مر گیا ھے،اب گھڑی خاک…
سمندر اور مچھلی
نیلگوں پانیوں کی بے کراں دنیا میں ایک مچھلی رہتی تھی۔ وہ چست، طاقتور اور اپنے جھنڈ میں سب سے بڑی سمجھی جاتی تھی۔ وقت گزرتا گیا، اور اس کے جسم کے ساتھ ساتھ اس کا غرور بھی بڑھتا گیا۔ایک دن اس نے اپنے گرد پھیلے ہوئے سمندر کو دیکھا اور نخوت بھرے لہجے میں بولی:“میں اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ میں بڑی ہو گئی ہوں۔ مجھے زیادہ جگہ چاہیے۔”سمندر کی موجیں ہلکے سے مسکرائیں۔ اس کی گہرائیوں میں صدیوں کی خاموش حکمت موجزن تھی۔وہ بولا:“جگہ؟ اے مچھلی! تم جس وسعت کی طلبگار ہو، وہ پہلے ہی تمہارے گرد موجود ہے۔ تم میرے اندر ہو، اور میں تمہارے خیال سے بھی کہیں بڑا ہوں۔”مچھلی نے اس بات کو معمولی جانا۔ اس نے مزید بڑھنے کی ٹھان لی۔موسم بدلتے رہے، برس بیتتے گئے۔ مچھلی واقعی پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہو گئی۔ اس کی طاقت میں اضافہ ہوا، اس کی رفتار…
ابو بخیل کے جوتے۔
بغداد شہر میں ابو بخیل طنبوری نامی ایک شخص رہتا تھا،وہ غضب کا کنجوس تھا۔ اس کے پاس جوتوں کا ایک پرانا جوڑا تھا۔ وہ ان جوتوں کو گزشتہ سات برس سے مسلسل پہن رہا تھا۔جب وہ کہیں سے ٹوٹ جاتے تو خود ہی ان میں پیوند لگا لیتا تھا۔ بار بار مرمت کرنے سے وہ جوتے اس قدر بھاری اور بدنما ہو گئے تھے کہ پورے شہر میں ابوبخیل کے جوتوں کی مثال دی جانے لگی۔ایک روز وہ شیشہ گروں کے بازار سے گزر رہا تھا ۔ ایک بروکر نے اسے روک کر مال بنانے کا مشورہ دیا۔ اس نے بتایا کہ حلب سے آئے تاجر کے پاس میناکاری کے برتن ہیں، جو سستے داموں مل سکتے ہیں۔ ابوبخیل نے دگنے منافع کے لالچ میں ساٹھ دینار خرچ کر کے وہ تمام قیمتی شیشہ خرید لیا۔کچھ دیر بعد ایک اور دلال نے اسے نصیبین سے آئے تاجر کے پاس…
بلاعنوان
کہتے ہیں ایک گاؤں تھا جہاں لوگ بہت سیدھے تھے۔ وہ محنت کرتے تھے، اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے اور امید رکھتے تھے کہ جو لوگ اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، وہ ان کی حفاظت کریں گے۔ وقت گزرا… گاؤں میں کچھ لوگ طاقتور بن گئے۔ انہوں نے خود کو محافظ کہنا شروع کر دیا۔ لوگ خوش تھے۔ انہیں لگا کہ اب ان کے مسائل حل ہوں گے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ جب کسی غریب کے ساتھ ظلم ہوتا، تو محافظوں کی آنکھیں بند ہو جاتیں۔ جب کسی کمزور کی آواز اٹھتی، تو محافظوں کے کان بہرے ہو جاتے۔ اور جب کسی طاقتور کا مفاد خطرے میں پڑتا، تو یہی محافظ شیر بن جاتے۔ گاؤں کے لوگ یہ سب دیکھتے رہے۔ شروع میں انہیں حیرت ہوئی۔ پھر عادت ہو گئی۔ اور آخر میں خاموشی۔ ایک دن گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے کہا: “مجھے ظالموں سے اتنا…
امانت کا صندوق
گاؤں میں ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔ اس کا نام کریم تھا۔ ایک دن اسے جنگل کے راستے میں ایک پرانا لکڑی کا صندوق ملا۔ جب اس نے کھولا تو اندر سونے کے سکے اور زیورات تھے۔ کریم کی حالت بہت خراب تھی۔ گھر میں کھانے کے لیے بھی مشکل سے کچھ ہوتا تھا۔ وہ صندوق گھر لے آیا، مگر ساری رات سو نہ سکا۔ صبح ہوتے ہی اس نے گاؤں میں اعلان کروا دیا: “جس کا صندوق گم ہوا ہے، وہ میرے پاس آ جائے۔” دو دن بعد ایک بوڑھا تاجر آیا۔ اس نے صندوق دیکھتے ہی رونا شروع کر دیا۔ “بیٹا! یہ میری زندگی بھر کی کمائی ہے۔” کریم نے فوراً صندوق اس کے حوالے کر دیا۔ تاجر حیران رہ گیا۔ “تم چاہتے تو سب کچھ اپنے پاس رکھ سکتے تھے۔” کریم مسکرایا: “جو میرا نہیں، وہ میرا کیسے ہو سکتا ہے؟” تاجر خاموشی سے چلا گیا۔ چند…
پانی اور چٹان
برف پوش چوٹیوں کے دامن سے ایک ننھی سی دھار پھوٹی۔ ابتدا میں وہ اتنی کمزور دکھائی دیتی تھی کہ جیسے ہوا کا ایک جھونکا بھی اسے روک دے گا۔ مگر اس کے اندر سمندر تک پہنچنے کی خاموش لگن موجزن تھی۔وہ پہاڑوں کے سینے چیرتی، وادیوں سے گزرتی اور چٹانوں سے ٹکراتی آگے بڑھتی رہی۔راستے میں ایک عظیم الجثہ پتھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی سختی پر ناز کرتے ہوئے کہا:“یہیں رک جاؤ! میری دیوار سے آگے کوئی نہیں جا سکتا۔”پانی نے مسکرا کر جواب دیا:“میرا کام رکنا نہیں، بہنا ہے۔”پتھر ہنسا۔ اسے اپنی مضبوطی پر کامل یقین تھا۔دن گزرے، موسم بدلے، برسوں نے کروٹ لی۔ پانی ہر روز اسی خاموشی سے آتا، پتھر سے ٹکراتا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا۔ نہ اس نے شور مچایا، نہ جنگ کا اعلان کیا؛ بس اپنے مزاج کے مطابق بہتا رہا۔آخر ایک دن وہی پتھر، جو خود…
بلاعنوان
ہسپانیہ کے ایک قدیم گاؤں میں، جہاں پتھروں سے بنی گلیاں دوپہر کی دھوپ میں چمکتی تھیں اور سرخ چھتوں پر کبوتر منڈلاتے رہتے تھے، ایک پرانا اناج گھر تھا۔ اس اناج گھر میں ایک نہایت چالاک چوہا رہتا تھا، جو بلیوں کے لیے کسی معمہ سے کم نہ تھا۔ایک دن وہ چوہا حسبِ معمول دانے چراتا ہوا نکلا ہی تھا کہ دو بلیوں کی نگاہ اس پر پڑ گئی۔ایک بلی جوان، پھرتیلی اور کچھ حد تک جلدباز تھی۔دوسری عمر میں ذرا بڑی، سنجیدہ اور تجربہ کار تھی۔چوہے نے دونوں کو اپنی طرف لپکتے دیکھا تو بجلی کی سی تیزی سے دوڑا اور ایک تنگ سے بل میں گھس گیا۔دونوں بلیاں بل کے دہانے پر آ کر رک گئیں۔پہلی بلی نے اپنی مونچھیں ہلاتے ہوئے کہا:“فکر کی کوئی بات نہیں! میں ابھی اندر جا کر اسے پکڑ لیتی ہوں۔”دوسری بلی نے بل کا جائزہ لیا اور آہستہ سے بولی:“یہ بل…
برکہ خان
چنگیز خان نے اپنی وفات (1227ء) سے قبل اپنی وسیع و عریض سلطنت اپنے چار بیٹوں میں تقسیم کی: جوجی خان، اوگتائی خان، جغتائی خان اور تولوی خان۔ یہ تقسیم دراصل منگول سلطنت کے مستقبل کی سیاسی ساخت کی بنیاد بنی۔جوجی خان، جو چنگیز خان کا سب سے بڑابیٹا تھا، کو بحیرۂ قزوین کے شمالی علاقے، دشتِ قبچاق، بلغار اور قفقاز کے خطے دیے گئے۔ تاہم جوجی خان اپنے والد کی زندگی میں ہی وفات پا گیا، جس کے بعد ان کے بیٹے باتو خان نے اس خطے کی قیادت سنبھالی۔ باتو خان نے 1236ء تا 1242ء یورپ پر عظیم حملے کیے اور مشرقی یورپ کے بڑے حصے کو روند ڈالا، جس کے نتیجے میں “سنہری اردُو” (Golden Horde) ایک طاقتور ریاست کے طور پر ابھری۔دوسری جانب تولوی خان کو منگولیا کا قلبی علاقہ ملا، اور اس کے بیٹے ہلاکو خان نے بعد میں مغربی ایشیاء کی طرف اپنی فتوحات…
بلاعنوان
آپ نے ملا نصر الدین کا نام تو سنا ہو گا۔ یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں یہ شخص ترکی کا ایک مسخرہ تھا جس طرح ہمارے ہاں ملا دو پیازہ اور شیخ چلی کے لطیفے مشہور ہیں، اسی طرح ترکی میں ملا نصر الدین کے لطیفے بڑے مزے لے لے کر بیان کیے جاتے ہیں۔ کہتے ہیں ملا نصر الدین یوں تو نہایت عقل مند اور عالم فاضل شخص تھا مگر لوگوں کی اصلاح اور تفریح کے لیے بے وقوف بنا رہتا اور ایسی ایسی حرکتیں کرتا کہ لوگ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے۔ملا نصر الدین کے پڑوس میں ایک مال دار یہودی رہتا تھا جو اتنا کنجوس تھا کہ کبھی کسی غریب اور…
سچی دولت
ایک گاؤں میں ایک غریب بڑھئی رہتا تھا۔ وہ دن بھر محنت کرتا مگر اس کی آمدنی بہت کم تھی۔ ایک دن اسے راستے میں پیسوں سے بھرا ہوا ایک بٹوہ ملا۔بٹوے میں اتنے پیسے تھے کہ اس کی کئی مہینوں کی پریشانیاں ختم ہو سکتی تھیں۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا، پھر بٹوہ لے کر گاؤں میں مالک کو تلاش کرنے لگا۔شام تک اسے ایک بوڑھا آدمی ملا جو روتے ہوئے اپنا بٹوہ ڈھونڈ رہا تھا۔ بڑھئی نے فوراً بٹوہ واپس کر دیا۔بوڑھے آدمی نے خوش ہو کر کہا: “تم یہ پیسے رکھ لو، تمہیں ان کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے۔”بڑھئی مسکرایا اور بولا: “مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، لیکن اپنی ایمانداری کھونے کی نہیں۔”یہ بات سن کر بوڑھا آدمی بہت متاثر ہوا۔ چند دن بعد اس نے بڑھئی کو اپنے کاروبار میں کام دے دیا۔ وقت گزرا اور وہی غریب بڑھئی کامیاب انسان بن گیا۔سبق:ایمانداری وہ دولت…