Tag Archives: ،urdublogs

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اور اُن کا بیٹا سلیمان تھا۔سلیمان جانوروں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ لیتا تھا۔وہ مچھلی، بھیڑوں اور کیڑوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سمجھ گیا۔بادشاہ پوری دنیا کا سفر کرتا تھا اور اپنے بیٹے سلیمان کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ سلیمان ان سے حکمت سیکھے۔لوگ ہر وقت بادشاہ کے پاس اپنے مسائل کے لئے آتے تھے۔اگر انھیں کسی قسم کی پریشانی ہوتی تو وہ بادشاہ کے پاس آتے۔اور بادشاہ ہمیشہ بہت غور سے سنتا تھا۔اور اسی طرح سلیمان بھی سنتا تھا۔ایک دن جب سلیمان کی عمر گیارہ سال تھی، کچھ آدمی ایک مسئلہ لے کر آئے۔ایک چرواہا اور ایک کسان اور بھیڑوں کا ایک ریوڑ آ گیا۔(جاری ہے) سلیمان کو بھیڑ بہت پسند تھی۔ان کے پاس اُون کے خوبصورت کوٹ تھے۔ بھیڑیں بیں بیں کرتی رہیں اور وہ انھیں سمجھ گیا۔پہلا آدمی غصے…

Read more

اٹلی میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا ۔ اس کی رعایا اُسے بہت ناپسند کرتی تھی مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اس کی بہت تعریف کرتے تھے ۔ اُس بادشاہ کا ایک خوشامدی وزیر تھا ۔ وہ دن رات بادشاہ کی نیکی ، سچائی اور انصاف کی جھوٹی تعریفیں کرتا ۔ بادشاہ کا حکم تھا مجھے رعایا کے لوگوں کا حال سچ سچ بتایا کرو کہ کون کس حالت میں ہے اور میرے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں ۔اس طرح میں ان کی رائے اور سب کے حالات صحیح طور پر معلوم کر سکوں گا ۔ اس کے جواب میں دوسرے وزیر توخاموش رہتے ، مگر تعریف کرنے والا وزیر فوراََ کہتا ، حضور کی نیکی اور انصاف کے چرچے سارے ملک بلکہ دنیا بھر میں ہوتے ہیں ۔بھلا وہ کون بے وقوف آدمی ہوگا جو حضور کے انتظام سے خوش نہ ہو ہمارے ملک کی رعایا…

Read more

ایک تھی لومڑی اور ایک تھا خرگوش۔ دونوں ہمسائے تھے۔ لومڑی بے حد چالاک اور مکار تھی جب کہ خرگوش سیدھا سادا سا۔ لومڑی رات دن مصروف پھرتی رہتی اور خرگوش ہر وقت گھوڑے بیچ کر سوتا رہتا۔ خرگوش کی تھوڑی سی زمین تھی لیکن اس پر محنت نہ کرنے کی وجہ سے بنجر پڑی تھی۔ ایک دن لومڑی خرگوش کے پاس آئی، اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد کھیتی باڑی کا ذکر چھیڑا۔ پوچھا: “خرگوش میاں! تم روز بروز کاہل ہوتے جا رہے ہو۔ تمہاری زمین ابھی تک بنجر پڑی ہے اور کاشت کا وقت نکلا جا رہا ہے۔” بات تو تمہاری ٹھیک ہے لیکن کیا کروں؟ مجھ سے زیادہ کام بھی تو نہیں ہوتا۔ خرگوش نے جواب دیا: “سچ پوچھو تو مجھے تمہاری بڑی فکر رہتی ہے۔ ڈرتی ہوں کہ خوراک پیدا نہیں کرو گے تو اگلی سردیوں میں بھوکے مرو گے۔” خرگوش یہ سن کر بڑا…

Read more

ایک دن پیر صاحب ایک مرید کے گھر تشریف لے گئے۔ سامنے گرم گرم بکرے کا گوشت، تازہ روٹیاں اور لسی حاضر تھی۔ 🍖😋 پیر صاحب مزے سے کھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک اور مرید آ گیا۔ ہاتھ جوڑ کر بولا: > “پیر صاحب! کبھی ھماری دال روٹی بھی نوش فرما لیں، ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں!” 🥹🙏 پیر صاحب نے سوچا:> “چلو، ایک اور مرید کا دل رکھ لیتے ھیں۔” 😌🥀 چنانچہ فوراً اس کے ساتھ روانہ ھو گئے۔ گھر پہنچے تو مرید نے بڑے فخر سے دال اور روٹی پیش کر دی۔ 🍲🍞 پیر صاحب نے پہلا نوالہ لیا… پھر دوسرا… اور پھر اُن کے چہرے کے تاثرات ایسے بدلنے لگے جیسے موبائل میں اچانک “Low Battery 1%” آ جائے! 😬 دال میں نہ نمک… نہ مرچ… نہ گھی… اور نہ ھی کوئی ایسی چیز جسے کھانے سے تعلق ھو! 😂 پیر صاحب نے پانی…

Read more

ایک امیر باپ کے تین بیٹے تھے۔ مرنے سے پہلے اس نے تینوں کو بلایا اور ہر ایک کو ایک ایک لکڑی کا گٹھا دیا جس میں دس دس لکڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔ اس نے کہا: “اس پورے گٹھے کو توڑ کر دکھاؤ۔” تینوں نے پوری طاقت لگائی مگر بندھا ہوا گٹھا نہ ٹوٹ سکا۔ پھر باپ نے ہر گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی الگ الگ دی اور کہا: “اب انہیں توڑو۔” ہر ایک لکڑی آسانی سے، بغیر کسی زور کے، ٹوٹ گئی۔باپ نے کمزور آواز میں کہا: “بیٹا، یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ جب تک تم تینوں اکٹھے، ایک دوسرے کا ساتھ دیتے رہو گے، کوئی طاقت تمہیں توڑ نہیں سکے گی۔ مگر اگر تم آپس میں جدا ہو گئے، ہر کوئی اپنی راہ الگ چل پڑا، تو دنیا کی معمولی سی مشکل بھی تمہیں ایک ایک کر کے توڑ دے گی۔” کچھ عرصے…

Read more

ایک کمہار روزانہ اپنے بنائے ہوئے گھڑے بھٹے میں پکاتا۔ ایک دن دو گھڑے، جو ساتھ ساتھ پکائے گئے تھے، آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ایک گھڑا شکایت کرنے لگا: “دیکھو، ہمیں کتنی تیز آگ میں جھونکا گیا، کتنی تکلیف سہنی پڑی، یہ کتنا ظلم ہے۔” دوسرا گھڑا خاموشی سے سنتا رہا۔ کچھ عرصے بعد دونوں گھڑے بازار میں فروخت ہونے کے لیے رکھے گئے۔ ایک گاہک نے دونوں کو ٹھونک ٹھونک کر آواز پرکھی۔ جو گھڑا آگ کی تپش پوری طرح جھیل کر مضبوط ہوا تھا، اس میں سے صاف اور بلند آواز نکلی، جبکہ جو گھڑا آدھا پکا رہ گیا تھا، اس میں دراڑ پڑ گئی اور وہ ٹوٹ کر رہ گیا۔مضبوط گھڑا برسوں تک ٹھنڈے پانی اور اناج کو محفوظ رکھنے کے کام آیا، لوگوں کے گھروں کی رونق بنا رہا، جبکہ کمزور گھڑا جلد ہی کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا۔ کمہار نے، جو یہ…

Read more

ایک مسافر پہاڑی علاقے میں سفر کرتے ہوئے رات کو ایک ویران مسافر خانے میں ٹھہرا جسے مقامی لوگ “منحوس” کہہ کر گزرتے تھے۔ رات گئے ایک بوڑھا شخص، سفید لباس میں ملبوس، اس کے کمرے میں داخل ہوا اور بغیر کچھ کہے اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ مسافر ڈر گیا، مگر بوڑھے کی آنکھوں میں کوئی بدی نہ تھی، بلکہ ایک عجیب اداسی تھی۔بوڑھے نے آہستہ سے کہا: “ڈرو مت، میں تمہیں نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ میں یہاں صدیوں سے پھنسا ہوں کیونکہ اپنی زندگی میں، میں نے ایک مسافر کو دھوکہ دے کر اس کا سارا مال لوٹ لیا تھا اور اسے بھوکا پیاسا چھوڑ دیا تھا، جس سے اس کی موت ہو گئی۔ تب سے میری روح اسی گناہ کی وجہ سے یہاں بھٹک رہی ہے۔” مسافر نے ہمت کر کے پوچھا کہ کیا وہ اس کی کوئی مدد کر سکتا ہے۔ بوڑھے نے کہا: “میرے اہلِ…

Read more

سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ جنگل میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔نیلے پانی کی جھیل کے سامنے جنگل کے سارے جانور جمع تھے۔سب ہی تیز تیز بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔صبح سویرے ہی جنگل میں خلافِ معمول ہنگامہ مچ گیا تھا۔بی چڑیا نیلے پانی کی جھیل کے سامنے برگد کے درخت پر اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ ایک گھونسلے میں رہتی تھی۔برگد کا درخت بہت گھنا تھا اور اس میں کئی دوسرے پرندوں کے گھونسلے بھی تھے۔چڑیا معمول کے مطابق، صبح سویرے ہی اپنے ننھے منے بچوں کے لئے خوراک کی تلاش میں نکل جاتی تھی۔چڑیا کے جاتے ہی اس کے بچے بیدار ہو جاتے اور اُس وقت تک شور مچاتے رہتے، جب تک بی چڑیا جنگل سے کوئی دانا دُنکا، لا کر ان کے منہ میں نہ ڈال دیتی۔ بچوں کے جاگنے سے پہلے ہی خوراک کی تلاش میں نکل جایا کرتی…

Read more

چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔ ”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو…

Read more

Read more

سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔ اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا چوروں نے کہا کہ اچھا…

Read more

عرب کے لٹیروں کا ایک گروہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا تھا۔ ادھر سے گزرنے والے قافلوں کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ پہاڑ کے نیچے جو راستہ تھا اس پر جب کوئی شخص یا قافلہ آتا تو لٹیرے پہاڑ سے اتر کر اسے لوٹ لیتے تھے۔ لوگوں نے ان کے ڈر سے اس طرف سفر کرنا چھوڑ دیا۔ پولیس اور فوج بھی ان لیٹروں کا پتہ نہ لگا سکی۔ کیونکہ جہاں وہ رہتے تھے بہت محفوظ جگہ تھی۔ وہاں پہنچنا آسان نہ تھا۔ بہت مدت تک یہ حالت رہی۔جب لوگ بہت پریشان ہو گئے تو اس ملک کے بادشاہ نے لٹیروں کا پتہ لگانے کے لیے ایک جاسوس مقرر کیا۔ اس نے کوشش کر کے وہ ٹھکانہ دیکھ لیا جہاں لٹیرے رہتے تھے۔ ایک دن فوج کا ایک دستہ اس پہاڑ پر پہنچ کر ایک گھاٹی میں چھپ رہا۔ لٹیرے کہیں ڈاکہ ڈالنے گئے ہوئے تھے۔ شام کے…

Read more

ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی چراگاہوں میں رہتا تھا۔ ایک رات اسے ایک نہایت خوبصورت اجنبی ملا جس نے کہا کہ اگر وہ اپنی ایک بھیڑ ہر مہینے اسے بغیر کسی کو بتائے دے دیا کرے، تو وہ اس کے باقی ریوڑ کو ہر بیماری اور بھیڑیے سے محفوظ رکھے گا۔ لالچ میں آ کر چرواہے نے ہاں کر دی، اور کچھ عرصہ اس کا ریوڑ واقعی خوب پھلتا پھولتا رہا۔مگر ایک دن چرواہے کی ملاقات ایک بزرگ عالم سے ہوئی جسے اس نے اپنی “برکت” کا راز فخر سے سنایا۔ عالم کا چہرہ سن کر متفکر ہو گیا۔ اس نے کہا: “بیٹا، تم نے کسی نامعلوم مخلوق سے خفیہ معاہدہ کر کے اپنا رزق اس کے حوالے کر دیا ہے، جو کھلا شرک اور دھوکہ ہے۔ ظاہری برکت دراصل تمہیں مزید دلدل میں دھکیلنے کی چال ہے۔” عالم نے چرواہے کو سکھایا کہ وہ اس اجنبی…

Read more

بہت دنوں کی بات ہے ۔بغداد میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام ابو قاسم تھا۔وہ بہت کنجوس تھا۔ایک ایک پیسے پر جان دیتا تھا۔ابو قاسم کے پس روپوں کے ڈھیر لگے تھے وہ انہیں روز گنتا اور بہت خوش ہوتا۔دن رات اسی فکر میں رہتا کہ کسی طرح اسکی دولت بڑھتی رہے مگر گھٹے نہیں سارے بغداد کو معلوم تھا کہ ابو قاسم بہت امیر آدمی ہے۔مگر ابو قاسم سب کو یہی کہتا کہ وہ بہت غریب آدمی ہے۔وہ روکھی سوکھی کھاتا تھا۔اسکے کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے اور اتنے گندھے ہوتے کہہ دیکھنے سے ہی گھن آتی تھی اور اسکے جوتے؟توبہ توبہ جوتے تو ایسے تھے کہ دیکھنے سے بھی گھن آتی بھکاریوں کے پاس بھی اچھے جوتے تھے ان جوتوں کی اتنی دفعہ مرمت ہوئی کہ اصل چمڑا غائب ہو گیا تھا اور پیوند ہی پیوند دکھائی دیتے تھے۔ ابو قاسم کے دوست…

Read more

ایک چونٹا بڑا محبتی اور شفیق تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی مند میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محبت سے کرتا تھا۔وہ وقت کی بھی بڑی قدرکرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا تو کسی سے بے مقصد بات نہ کرتا وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا چونٹا مل گیا تو دور ہی سے سلام دعا کرلی اور اپنی راہ پکڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردمنددل کا مالک بھی تھا۔ اگر راہ میں کوئی مصیبت زدہ مل جاتا تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے بڑوں کی عزت کرتا اور چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آتا تھا۔اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔شریر اور گندے بچے گھنٹوں اس میلے…

Read more

ایک دن ایک گدھ راستے سے چل رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت برتن زمین پر پڑا ہے۔  وہ حیران تھا اور یقین نہیں کر رہا تھا کہ اتنا خوبصورت برتن دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔ اچانک برتن نے گدھ سے کہا، “میرا نام اوپور ہے۔ میں مافوق الفطرت طاقتوں سے مالا مال ایک زبردست برتن ہوں۔ میں آپ کو خوبصورت بنا سکتا ہوں کیونکہ میں خوبصورتی کی دیوی ہوں۔ میں نے ہزاروں پرندوں اور جانوروں کو خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہاں، صرف میرے مائع کو پیو،  اور تم ایک خوبصورت اور دلکش پرندے میں تبدیل ہو جاؤ گے، میں نے بہت سے پرندوں کو، طوطے، فلیمنگو، فیزنٹ، کوکاٹو اور ہر ایک کو منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے۔” گدھ نے برتن کو مشکوک نظروں سے دیکھا، ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا، اور پھر سیٹی بجائی، “میں تم پر یقین نہیں رکھتا، اور مجھے تم پر بھروسہ نہیں…

Read more

جنگل کے کنارے بی جھونپڑی میں ایک بڑھیا بالکل اکیلی رہتی تھی وہ گزر بسر کے لئے جنگلی پھل کھاتی اور قریب ہی بہتی ندی کا پانی اور اس کی مچھلیاں بھی استعمال کرتی تھی۔ایک دن بڑھیا مچھلی پکڑنے ندی کنارے گئی۔تو وہاں اسے ایک عقاب زخمی حالت میں ملا۔بڑھیا مچھلی چھوڑ کر جلدی سے زخمی عقاب کو جھونپڑی میں لے آئی۔اور اس کا علاج اور مدد کرتی رہی۔مرہم پٹی کے بعد بڑھیا نے اسے آرام سے گھاس پھوس پر لٹا دیا۔کچھ دن بعد عقاب بالکل ٹھیک ہو گیا تو اس نے اُڑان بھری،اور یہ جا دو جا لیکن کچھ دیر بعد آکر بڑھیا کے پاس بیٹھ گیا اور احسان مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔جیسے وہ اپنی زندگی بچانے پر بڑھیا کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔بڑھیا اس وقت مچھلی پکڑنے جا رہی تھی چلتے چلتے بڑھیا کی نظر عقاب کے ناخنوں پر پڑی تو وہ رُک گئی اور…

Read more

مصر میں ایک نیک دل شہزادہ حکومت کرتا تھا۔ وہ تھا شہزادہ مگر نہ تو اس میں شاہوں والا غرور تھا اور نہ ہی وہ جاہ وجلال ۔وہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا۔ روکھی سوکھی کھاتا بیشتر وقت اپنی رعایا کی خدمت اور خدا کی یاد میں بسر کرتا۔اس کی نیک چلنی کا پوری ریاست میں چرچا تھا۔ اسے یہ خصوصیات اپنے رحمدل باپ سے وراثت میں ملی تھیں ۔ایک دن شہزادہ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سننے کے بعد جنگل میں ،دنیا سے بے نیاز ،خدا کی یاد میں محو تھا ،کہ اس نے دیکھا کہ ایک غریب لکڑہارا اپنے گدھے کو ساتھ لئے ہوئے لکڑیاں کاٹ رہا ہے اور اس سے باتیں بھی کیے جا رہا ہے حالانکہ اسے معلوم تھا کہ نہ تو گدھا اس کی بات سن رہا ہے نہ ہی سمجھ رہا ہے اور پھر دوڑ اروقطار رونے لگا۔(جاری ہے) شہزادہ یہ…

Read more

ایک پاکستانی میاں صاحب اپنے ہندوستانی نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ 🇵🇰🤝🇮🇳 کھانے کے دوران میاں صاحب بولے: > “نواب صاحب! اگر ذرا دہی مل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ھو جائے!” 😋 نواب صاحب نے فوراً نوکر کو آواز دی:> “ارے بھئی! فوراً بازار سے دہی لے آؤ!” 😊 نوکر باہر نکلا، اور نواب صاحب نے بڑے فخر سے Live Commentary شروع کر دی۔ 😎 > “اب وہ دروازے سے نکل گیا ھے…”“اب گلی کا موڑ مڑ رہا ھے…”“اب دکان پر پہنچ گیا…”“اب دہی خرید لی ھے…”“اور اب واپس آ رہا ھے…” چند لمحوں بعد نواب صاحب نے آواز لگائی:> “ارے بھئی! دہی لے آئے؟” 😃 اندر سے آواز آئی:> “جی حضور! لے آیا!” 😌 میاں صاحب تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے! 😳 چند ماہ بعد نواب صاحب پاکستان آئے، تو میاں صاحب نے سوچا:> “آج میں بھی اپنی شان دکھاتا ھوں!” 😏 کھانے…

Read more

ایک بیوی نے سوچا: > “آج دیکھتی ھوں، اگر میں اچانک گھر چھوڑ دوں تو میرے شوہر کا کیا حال ھوتا ھے!” 😏 اس نے ایک خط لکھا: > “میں تُم سے تنگ آ چکی ھوں اور اب میں ہمیشہ کے لیے جا رھی ھوں!” 💔 خط میز پر رکھا…اور خود خاموشی سے بیڈ کے نیچے جا کر چھپ گئی۔ 😶 کچھ دیر بعد شوہر گھر آیا۔ 🚶اس نے خط پڑھا…👀اور اچانک خوشی سے سیٹیاں بجانا شروع کر دیں! 🎶 پھر گانا گاتے ھوئے الماری سے کپڑے نکالے، اور فون ملا کر بولا:> “جان! مبارک ھو!” 😍> “آج میری آزادی کا دن ھے!” 🥹 > “میں اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا!” 😒> “آخرکار وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی!” > “بس 10 منٹ میں تم سے ملنے پہنچ رہا ھوں!” 🤩 یہ سن کر بیڈ کے نیچے چھپی بیوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ 😢 وہ دل ھی…

Read more

Read more

ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت گر گئے ہیں۔ صبح اس نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے دربار کے سب سے بڑے عالم کو بلایا۔ عالم نے تعبیر سنی اور کہا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کے تمام خاندان والے آپ سے پہلے وفات پا جائیں گے۔” یہ سن کر بادشاہ غصے میں آ گیا اور عالم کو قید میں ڈلوا دیا۔کچھ دنوں بعد بادشاہ نے ایک اور، کم مشہور مگر دانا شخص کو بلایا اور وہی خواب دہرایا۔ اس شخص نے مسکرا کر جواب دیا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کی عمر آپ کے سارے خاندان سے زیادہ لمبی ہوگی، اور آپ سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہیں گے۔” بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اسے قیمتی انعام سے نوازا۔جب درباریوں نے حیرانی سے پوچھا کہ دونوں کی تعبیر تو دراصل ایک ہی بات…

Read more

Read more

500/725
NZ's Corner