Tag Archives: ،urdublogs

ایک حسیں اور پراسرار جنگل کے درمیان، جہاں ہوا بھی سرگوشی کرتی تھی، ایک پرانا اور عظیم درخت کھڑا تھا جسے سب “خاموش مرشد” کہتے تھے۔ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس پر کوئی پھول یا پھل نہیں اگتا تھا، بلکہ اس کی جڑوں سے روشن نیلی کرسٹلز نکلتی تھیں جو پورے جنگل کی روح کو منور کرتی تھیں۔ اس جنگل میں مختلف قسم کے افسانوی کردار رہتے تھے—ایک پروں والا ہرن، ایک دانشمند الو، ایک ہوشیار لومڑی، اور ان سب کا محافظ ایک شریف مزاج ڈریگن، جس کا نام ‘اگنس’ تھا۔اگنس ڈریگن اپنے سنہرے اور لال سائز اور آگ اگلنے کی صلاحیت کے باوجود، اس درخت کا سچا محافظ تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس درخت کی روشنی اور امن کو عزیز رکھتے تھے، لیکن اگنس کو ہمیشہ ایک ڈر ستاتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی اس روشنی کو چرا نہ لے۔ اسی خوف کے تحت، اگنس…

Read more

ایک بادشاہ کسی جنگل میں اکیلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے شیر نے آ لیا۔اتفاق سے ایک کسان بھی ادھر آ نکلا۔جس کے ایک ہاتھ میں ٹیڑھی ترچھی لکڑی اور دوسرے میں درانتی تھی۔شیر بادشاہ پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ کسان نے پھرتی سے ٹیڑھی لکڑی اس کے گلے میں دے کر درانتی سے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔جس سے بادشاہ کی جان بچ گئی۔ بادشاہ نے کسان کو اس مدد کے صلے میں گاؤں کی نمبرداری کے ساتھ بہت سی زمین بھی دے دیں اور کہا کہ ”ہر تہوار کے موقع پر ہمارے یہاں دوستوں،رشتہ داروں کی جو خاص دعوت ہوتی ہے اس میں تم بھی آیا کرو کیونکہ تم بھی اب میرے سچے دوست ہو“۔تھوڑے دنوں میں بادشاہ کے یہاں دعوت ہوئی تو کسان بھی آیا۔اول تو اس کے کپڑے اتنے اعلیٰ نہیں تھے۔ دوسرے بادشاہ کے پاس بیٹھنے کا ادب و سلیقہ بھی…

Read more

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا…ایک شخص ٹرین میں سفر کر رہا تھا۔ ہر اسٹیشن پر اترتا، اگلے اسٹیشن کی نئی ٹکٹ لیتا اور پھر اسی ٹرین میں بیٹھ جاتا۔ساتھ بیٹھے مسافر نے حیران ہو کر پوچھا: “بھائی! جہاں جانا ہے، وہاں تک کی ایک ہی ٹکٹ کیوں نہیں لے لیتے؟”اس نے جواب دیا: “ڈاکٹر نے لمبا سفر کرنے سے منع کیا ہے، اس لیے تھوڑا تھوڑا سفر کرتا ہوں!” لگتا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی نسخہ اپنایا گیا ہے۔پہلے ایک ساتھ بڑا اضافہ ہوتا تھا تو لوگ شور مچاتے تھے، اب شاید سوچا گیا ہے کہ ایک ساتھ بڑا جھٹکا دینے کے بجائے، روز تھوڑا تھوڑا اضافہ کر دیا جائے۔سفر بھی وہی… خرچ بھی وہی… بس جھٹکے چھوٹے چھوٹے!😀

فاختہ،بھولُو بھیا!مجھے ناریل کےکچھ چھلکے دیجئے گا۔”بھولُو دُنبے“کی ناریل شاپ جنگل میں بہت مشہور تھی سب ہی جانور اور پرندے گرمیوں میں یہیں آ کر ناریل کے ٹھنڈے پانی سے اپنی پیاس بجھاتے تھے۔اس وقت بھی کافی جانور بھولُو کی شاپ پر اسٹرا (Straw) لگائے ناریل پانی پینے میں مصروف تھے۔فاختہ کی آواز پر شرارتی طوطے نے مُڑ کے اس کی طرف دیکھا اور طنز کرتے ہوئے کہا،”کیا آج کھانے کو کچھ نہیں ملا جو ناریل کے چھلکے مانگنے آ گئیں؟“فاختہ نے بُرا منائے بغیر جواب دیا،”ارے نہیں طوطے بھائی!کھانا تو کھا چکی ہوں،ان چھلکوں سے آہستہ آہستہ بال نکالوں گی،تاکہ اپنے لئے ایک اچھا سا گھر بنا سکوں“۔طوطے نے حیرانی سے پوچھا،خیریت؟تمہیں بڑی فکر ہو رہی ہے نیا گھر بنانے کیفاختہ نے شرارتی طوطے کو سمجھاتے ہوئے کہا،”ہاں بھائی!تمہیں تو پتا ہے اگلا موسم بارشوں کا ہے اور اوپر سے موسمیات والوں نے تیز بارشوں کی بھی پیشین گوئی…

Read more

موتی بندر اپنی ٹولی کے ساتھ آم کے ایک درخت پر رہتا تھا۔موتی بہادر اور سمجھ دار مگر تھوڑا بھولا بھی تھا۔تمام بندر اس کی عزت کرتے تھے اور اس کا ہر کہا مانتے ،لیکن ادھر کچھ دنوں سے سب بندر پریشان تھے ۔بات یہ تھی کہ آم کا پیڑ سوکھ رہا تھا۔ اس پر پھل نہیں لگتے تھے ۔پتے بھی جھڑنے لگے تھے چنانچہ اس پیڑ پر رہنا بندروں کے لئے مشکل ہو گیا تھا ۔جنگل میں کئی ہرے بھرے پیڑ تھے ۔بندر کسی بھی پیڑ پر رہ سکتے تھے اور اس مقصد کے لئے انہوں نے کئی بار موتی سے بات کی مگر موتی کہیں اورجانے کو تیار ہی نہ تھا ۔موتی کو آم کے اس پیڑ سے بہت لگاؤ تھا۔ اس کے بابا نے بتایا تھا کہ اُن کی ٹولی دادا پر دادا کے زمانے سے ہی اس پیڑ پر رہتی آئی ہے ۔اس پیڑ کے آم…

Read more

کسی دور دراز ملک میں ایک ننھی منی لڑکی اپنی امی کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ان کا گھر جنگل کے قریب ہی ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھا۔اس لڑکی کا نام شمائلہ تھا لیکن گاؤں کے تمام لوگ اس کو شمائلہ لال ٹوپی والی کہا کرتے تھے کیونکہ وہ ہر وقت لال رنگ کی ٹوپی پہنے رہتی تھی۔ایک روز شمائلہ صبح سو کر اُٹھی تو اس کی امی نے کہا”بیٹی!تمہاری نانی اماں کچھ بیمار ہیں میں ایک ضروری کام کی وجہ سے آج انہیں ملنے نہیں جا سکتی۔ایسا کرو تم جا کر اپنی نانی اماں کی خیریت دریافت کر آؤ اور اس ٹوکری میں میں نے ان کے لئے کچھ پھل رکھ دیئے ہیں یہ ان کو دے آؤ۔“شمائلہ جب پھلوں کی ٹوکری لے کر جانے لگی تو اس کی امی نے آواز دے کر کہا”دیکھو بیٹی راستے میں کسی اجنبی سے کوئی بات نہ کرنا اور سیدھی نانی اماں…

Read more

ایک دن ایک بوڑھی عورت اپنے کھیت میں سے بند گوبھی توڑنے جا رہی تھی۔راستے میں ایک غار پڑتا تھا جس میں بارہ آدمی رہتے تھے۔انہوں نے بڑھیا کو بلا کر کہا ”بی اماں،یہ بتاؤ سب سے اچھا کون سا مہینہ ہے؟“ ”سب ہی اچھے مہینے ہیں بیٹا۔“ بڑھیا نے کہا۔دیکھو تو جنوری میں سفید سفید برف گرتی ہے۔فروری میں بارش ہوتی ہے اور مارچ میں ہر طرف پھول ہی پھول کھل اُٹھتے ہیں۔باقی سارے مہینے بھی بہت اچھے ہیں۔”بی اماں،تم نے ہم سب کی تعریف کی۔اس لئے ہم تمہیں انعام دینا چاہتے ہیں۔تم جانتی ہو،ہم ہی بارہ مہینے ہیں۔“انہوں نے ٹوکری میں بہت سا سونا بھر کر بڑھیا کو دے دیا۔بڑھیا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور گھر چلی گئی۔گھر آ کر اس نے اپنے بچوں کو سونا دکھایا اور ان سے کہا ”اب ہم بہت امیر ہو جائیں گے۔ دیکھو تو میں کتنا سونا لائی ہوں“۔اسی وقت…

Read more

گاؤں میں ایک دھوبی تھا،جس نے ایک گدھا،ایک کتا اور ایک مرغا پال رکھا تھا۔دھوبی کے ساتھ جب گدھا گھاٹ پر جاتا تو کتا بھی اس کے ساتھ جاتا تھا۔گھاٹ پر پہنچ کر دھوبی گدھے کو ایک لمبی رسی سے باندھ دیتا۔کتا گدھے کے قریب گھاس پر سو جاتا تھا۔ایک دن مرغے نے کتے سے کہا:”تم دونوں آپس میں دوست ہو،مگر مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے۔ کتے نے جواب دیا:”تم بھی ہمارے دوست ہو ہم ایک ہی مکان میں رہتے ہیں اور ہمارا مالک بھی ایک ہے۔“مرغے نے کہا:”تم گدھے کے ساتھ باہر جاتے ہو۔میں تمام دن گھر کے چھوٹے سے صحن میں گھومتا رہتا ہوں۔میرا دل بھی چاہتا ہے کہ تم دونوں کی طرح باہر جا کر سیر کروں اور دنیا کی رونق دیکھوں۔ “کتے نے مرغے کو سمجھایا:”ہر جانور اور ہر انسان کا کام مختلف ہوتا ہے۔ گدھا بوجھ اُٹھاتا ہے۔میں تمام رات جاگ کر گھر کی رکھوالی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پنجاب کے ایک چھوٹے سے پنڈ میں دیسا سنگھ نامی ایک نہایت غریب اور محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس کاشتکاری کے لیے اپنی زمین نہیں تھی، اس لیے اس نے پنڈ کے ایک دوسرے کسان، کرم سنگھ سے ایک چھوٹا سا کھیت پیسوں پر خریدا۔ دیسا سنگھ نے جب اپنے نئے کھیت میں ہل چلانا شروع کیا، تو اچانک اس کا ہل زمین کے نیچے کسی سخت چیز سے ٹکرایا۔اس نے مٹی کھودی تو وہاں سے مٹی کا ایک پرانا گھڑا نکلا، جو سونے کے قیمتی سکھوں سے لبالب بھرا ہوا تھا! کوئی عام انسان ہوتا تو وہ سونا چھپا لیتا، لیکن دیسا سنگھ کا ایمان پکا تھا۔ وہ گھڑا اٹھا کر سیدھا کرم سنگھ کے گھر گیا اور بولا: “کرم سنگھ جی! یہ گھڑا مجھے کھیت سے ملا ہے، کیونکہ یہ زمین پہلے آپ کی تھی، اس لیے اس سونے پر…

Read more

یہ قصہ ہے سینکڑوں ہزاروں سال پہلے کا۔ ایک زمیندار تھا، زمین جائیداد کا مالک، عیش و عشرت کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اس کے دو حسین و جمیل انگور کے باغ تھے جن کے چاروں طرف کھجور کے درختوں کی خوبصورت قطاریں تھیں۔ بیچ بیچ میں لہلہاتے کھیت تھے۔ دونوں باغوں کے درمیان میں ایک نہر بہہ رہی تھی جس نے باغات کے حسن کو دوبالا کر دیا تھا۔ زمیندار کو اپنے مال و دولت پر ناز تھا، وہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ میں نے اپنے بل بوتے پر حاصل کیا ہے۔ وہ باغ کی سیر کو آتا تو پھولا نہ سماتا۔ اس کا ایک دوست تھا جو متوسط زندگی گزار رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ اپنے دوست کو لے کر اس خوبصورت باغ میں داخل ہوا اور اسے دیکھ کر کہنے لگا: “میرا تمہارا کیا جوڑ؟ میری دولت کی تہ نہیں، خدم و حشم ہاتھ…

Read more

بشیر صاحب کے بیٹے نظیر بھائی کی شادی تھی۔ سب کچھ طے تھا، بس ایک چھوٹی سی غلطی ھو گئی۔ 😬👇 گاؤں کا نام تھا چک نمبر 42، لیکن ڈرائیور صاحب، جو کہ راستے میں دو تین بار ٹھنڈی بوتل پی کر اونگھ رھے تھے، بارات کو لے کر چک نمبر 420 پہنچ گئے۔ 🚐😅 اتفاق سے اس گاؤں میں بھی ایک شادی ھو رھی تھی۔ جیسے ھی نظیر بھائی کی بارات پہنچی، وہاں کے لوگوں نے ڈھول بجانا شروع کر دیا۔ پپو میاں، جو سہرے کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، سمجھے کہ سسرالی بڑے جوشیلے ہیں۔ 🥁😄 نظیر بھائی کے ابا بشیر صاحب نے لڑکی والوں کے ابا کو گلے لگایا، جو اصل میں کسی اور لڑکی کے ابا تھے۔ 😆😂 دونوں نے ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کی، مگر شور اتنا تھا کہ کسی کو سمجھ ھی نہیں آئی کہ یہ اجنبی کون ھے۔ پپو میاں کو…

Read more

جنگل کی سلطنت میں برسوں تک ایک شیر کی حکمرانی رہی۔ وہ انصاف پسند، باوقار اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کی رفیقِ حیات، شیرنی، اپنی دانائی اور شفقت کے باعث پورے جنگل میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، نسلیں جوان ہوتی رہیں، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ پہنچا جب بڑھاپے نے دونوں کے شانے تھپتھپائے۔ شیر نے اپنی بادشاہت اپنے جوان بیٹے کے سپرد کر دی۔جنگل میں جشن منایا گیا، نئے بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی، اور بوڑھا شیر اپنی شیرنی کا ہاتھ تھامے جنگل کے ایک پُرسکون کنارے پر جا بسا، جہاں بہتے چشمے کی آواز، درختوں کی سرگوشیاں اور شام کے پرندوں کی چہچہاہٹ ان کی نئی زندگی کا سرمایہ تھیں۔ زندگی اگرچہ پرسکون تھی، مگر ایک عادت ایسی تھی جو دونوں کی عمر بھر نہ بدلی۔دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے…

Read more

ایک قصبے میں ایک عجیب مقدمہ آیا۔ دو آدمی ایک ہی گدھے پر اپنا حق جتا رہے تھے۔ پہلا بولا:“حضور! گدھا میرا ہے، میں نے پالا ہے۔” دوسرا فوراً بولا:“نہیں جناب! یہ میرا ہے، میں نے خریدا ہے۔” قاضی صاحب نے دونوں کی لمبی بحث سنی، مگر فیصلہ نہ ہو سکا۔ آخر انہوں نے سپاہی سے کہا:“گدھے کو درمیان میں چھوڑ دو، اور دونوں آدمی دور جا کر کھڑے ہو جائیں۔” جیسے ہی گدھا آزاد ہوا، وہ آرام سے چلتا ہوا سیدھا ایک گھاس کے ڈھیر کے پاس جا کھڑا ہوا اور کھانے لگا۔ دونوں آدمی حیران! قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا:“اب ایک ایک کرکے اسے آواز دو۔” پہلے آدمی نے بڑے پیار سے پکارا:“آ جا میرے لال!” گدھے نے ایک بار بھی مڑ کر نہ دیکھا۔ دوسرے نے زور سے آواز لگائی:“او بدماش! آج پھر کھیت میں گھس گیا تھا نا؟ ادھر آ!” گدھا فوراً کان کھڑے کرکے…

Read more

جنگل کے ایک کنارے پر لومڑی اور بھیڑیا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی ایسی مشہور تھی کہ جنگل کے جانور کہا کرتے تھے، “اگر ایک شرارت سوچتا ہے تو دوسرا اسے مکمل کرنے کا راستہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔” دونوں کی ایک عادت البتہ نہایت بری تھی۔ محنت سے انہیں ایسی چِڑ تھی جیسے بلی کو پانی سے۔ مگر کھانے کے شوقین اس قدر تھے کہ جنگل میں جہاں بھی کسی نئے ہوٹل یا سرائے کی خبر ملتی، سب سے پہلے وہی پہنچتے۔ ایک دن دونوں ایک مشہور ہوٹل میں جا بیٹھے۔ میز پر طرح طرح کے کھانے سج گئے۔ دونوں نے اس بے فکری سے کھایا جیسے کئی دنوں کے بھوکے ہوں۔ ابھی بل آنے ہی والا تھا کہ ساتھ والی میز پر بیٹھے ایک جنگلی سور سے ان کی معمولی سی تلخ کلامی ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شور برپا ہوگیا۔ ہوٹل کا مالک جھگڑا بڑھتا دیکھ سب کو…

Read more

کسی گاوٴں میں رحیم نامی کسان رہتا تھا۔ وہ بہت نیک دل اور ایماندار تھا۔ اپنی ہی خوبیوں کی وجہ سے گاوٴں بھر میں مشہور تھا۔ لوگ اپنی چیزیں امانت کے طور پر اس کے پاس رکھواتے تھے۔ ایک دن معمول کے مطابق صبح سویرے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک تھیلی نظر آئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھ کر تھیلی اٹھالی۔ اس نے تھیلی کھول کر دیکھی تو وہ اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔کسان تھیلی لے کر کھیتوں میں جانے کے بجائے گھر واپس آگیا اور اپنی بیوی کو بتادیا ۔ جب اس کی بیوی کو یہ معلوم ہوا کہ اس میں اشرفیاں ہیں تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا۔” ہم یہ تھیلی رکھ لیتے ہیں اور فوراً یہاں سے چلے جاتے ہیں ، شہر جاکر ہم بڑا سا گھر بنائیں گے اور اس…

Read more

وہ کافی دیر سے پرواز کر رہی تھی اور کسی تلاش میں تھی۔مسلسل پرواز کرنے سے اس کے پَر بُری طرح تھک چکے تھے،بھوک بھی ستانے لگی تھی۔اب وہ کوئی محفوظ ٹھکانہ تلاش کر رہی تھی۔کافی دیر کے بعد اسے ایک گھر نظر آیا،جہاں صحن میں ایک چھوٹی بچی ادھر ادھر پھدکتے چھوٹے چھوٹے چوزوں کو دانہ ڈالنے میں مصروف تھی،یہ دیکھ کر ننھی چڑیا فوراً صحن میں اتر گئی اور زمین پر بکھرے دانے چگنے لگی۔ مرغی نے جب اپنے بچوں کے درمیان کوئی نئی مخلوق دیکھی تو وہ ننھی چڑیا کے قریب آگئی،چڑیا اس کی آنکھوں میں چھپے غصے کو بھانپ گئی۔اسی لمحے وہاں ایک بلی نمودار ہوئی،مرغی اور بلی دونوں چڑیا کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے کوئی فتح حاصل کر لی ہو،ننھی چڑیا دونوں کے ارادوں کو بھانپ چکی تھی۔ چڑیا ابھی ان دونوں کے جارحانہ ارادوں کے خوف میں مبتلا تھی کہ اچانک وہاں ایک اور…

Read more

وہ سخت گرمیوں کی ایک شام تھی بی گلہری کا گھر بوڑھے برگد میں تھا اور اس کے تمام ننھے منے بچے اپنے سونے والے کمرے میں موجود تھے، اگرچہ اُن کے سونے کا وقت کب کا ہوچکا تھا لیکن وہ ابھی تک جاگ رہے تھے۔ نمو بی گلہری کا سب سے چھوٹا بچہ تھا وہ اپنے بستر پر اچھل کود رہا تھا۔ وہ کہنے لگا” مجھے نیند بالکل نہیںآ رہی ہے۔ابھی باہر تھوڑی روشنی دکھائی دے رہی ہے۔ میں تو ابھی کھیلنا چاہتا ہوں“ دوسروں نے منہ پر انگلی رکھ کر اُسے چپ رہنے کو کہا اور سرگوشی سے اُسے کہنے لگے”اتنا اونچا نہ بولو ورنہ اماں سن لیں گی تو ہم سب مشکل میں پڑجائیں گے“ لیکن نمونے اُن کی نصیحت پر کان دھرنے کی بجائے ہنسنا شروع کردیا اور زور سے بستر پر اُچھلنا کودنا شروع کردیا ۔ جب گلہری کے دوسرے بچوں نے دیکھا کہ نمو…

Read more

اکبر اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔والد موچی تھے۔اکبر سرکاری سکول میں پڑھتا تھا۔اسے کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا۔وہ ہر وقت سوچتا تھا کہ کاش!میں کسی ملک کا راجا ہوتا۔میں بہت امیر ہوتا،جو چاہتا وہ کرتا۔وہ اکثر خواب دیکھتا کہ وہ راجا بن گیا ہے۔سب اس کے احترام میں کھڑے ہیں۔عالیشان محل ہے،جہاں وہ ہیرے جواہرات کے تخت پر بیٹھا ہے،مگر جب وہ اُٹھتا ہے تو خود کو اس چارپائی پر پاتا۔ ایک دن اکبر اپنے گھر کے قریب جنگل میں گیا۔اچانک اس نے ایک بلی دیکھی۔اس نے دیکھا کہ بلی کے پیر میں کوئی نوکیلی چیز چبھی ہوئی ہے۔وہ بلی کے پیر سے نوک دار چیز نکالتا ہے تو وہ بلی ایک خوبصورت پری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔وہ پری کہتی ہے:”تم نے جادوئی تیر نکال کر مجھے آزاد کرایا۔ میں تمہاری احسان مند ہوں۔اس لئے تمہاری کوئی دو خواہش پوری کروں گی۔ “اکبر جلدی سے کہتا ہے کہ…

Read more

سر پر تاج رکھنے والا پرندہ ہدہد آنکھوں پر عینک لگائے ایک شاخ پر چپ چاپ بیٹھا رہتا تھا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔دن کے وقت اس کے پاس کئی جانور اور پرندے آتے اور جنگل کا سب سے عقل مند پرندہ سمجھ کر اس سے صلاح مشورہ کرتے۔ننھا ہدہد اپنے دادا کے پاس بڑی حیرت سے یہ دیکھتا رہتا۔اس کا جی چاہتا کہ پرندے اور جانور اس کے پاس بھی آئیں اور اسے بھی اپنے اپنے مسائل بتائیں۔مثلاً ننھے میاں بتاؤ بارش کب ہوگی․․․․؟لیکن کوئی بھی اس کے پاس ایسی باتیں پوچھنے نہ آتا۔دوسری طرف بوڑھے ہدہد کے پاس ہر وقت جانوروں کا تانتا بندھا رہتا۔ایک روز دو گلہریاں اپنا جھگڑا لے کر آگئیں۔ایک کہنے لگی:جناب مجھے درخت کے نیچے ایک بل سے اخروٹوں کا ڈھیر ملا ہے۔دوسری نے کہا:سرکار،یہ جھوٹ بولتی ہے۔ وہ اخروٹ مجھے ملے تھے،قبضہ اس نے جما لیا۔ بوڑھے ہدہد نے اپنی عینک کے شیشوں سے…

Read more

کسی گاؤں کے سردار کا انتقال ہو گیا۔گاؤں والوں کے درمیان بحث شروع ہو گئی کہ نیا سردار کس کو بنایا جائے۔گاؤں والے کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکے۔آخر یہ طے پایا کہ جو شخص سب سے پہلے گاؤں میں داخل ہو گا،اس کو سردار بنا لیا جائے گا۔یہ سن کر ایک تجربے کار دانا بزرگ نے کہا:”یہ مناسب نہیں ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ پہلے اپنے قریبی لوگوں میں،پھر علاقے میں اور پھر شہر سے باصلاحیت اور مخلص انسان کو منتخب کرو۔لیکن گاؤں والوں نے اس دانا شخص کی بات نہ مانی اور گاؤں میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص کے استقبال کی تیاری شروع کرنے لگے۔گاؤں والوں نے اپنی روایت کے مطابق کھجور کی شاخیں اُٹھا کر اور راہوں میں دریاں بچھا کر آنے والے کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد گدھے پر سوار نیلی چادر اوڑھے ایک شخص گاؤں میں داخل ہوا۔جس کو دیکھ کر…

Read more

500/841
NZ's Corner