اُڑنے والا گھوڑا –
جب شہزادہ البرٹ نے تحفہ دیکھا تو وہ حیرت اور خوشی سے اچھل پڑا یہ ایک بہت ہی پیارا اورخوبصورت سفید رنگ کا گھوڑا تھا جس کے کندھوں پر بھی بہت ہی خوبصورت سفید چمک دار پَر تھے۔شہزادہ البرٹ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یونان میں ایک خوبصورت اور باوقار شہزادہ البرٹ رہتا تھا۔اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے بادشاہ اس پر بہت مہربان تھا۔شہزادہ البرٹ کی سوتیلی ماں کو بادشاہ کا شہزادے کی طرف جھکاؤ ایک آنکھ بھی نہ بھاتا تھا۔اس نے شہزادہ البرٹ کی الٹی سیدھی شکایتیں لگا کر بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ شہزادہ البرٹ کو قتل کردے۔بادشاہ شہزادے کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا،چنانچہ بادشاہ نے شہزادہ البرٹ کو ایک خط دے کر اس کو اپنے دوست بادشاہ کے پاس روانہ کیا۔جو شہزادہ البرٹ کے والد کے دوست تھے اور قریب کے ملک ہی…
خود غرضی –
ایک سرسبز و شاداب وادی میں وسیع و عریض باغ واقع تھا۔باغ کے وسط میں ایک بہت پرانا کنواں بھی موجود تھا۔یہ باغ کسی وقت میں بہت سے درختوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔چنار، شہتوت، املی اور جامن جیسے درخت یہاں کی زینت تھے۔یہ درخت سایہ فراہم کرتے تھے۔ان پر بسنے والے رنگ برنگے پرندے اس باغ کو گلستاں بنا دیتے تھے۔ایسی ہی شاخوں پر خوش رنگ تتلیاں منڈلاتیں، جگنو راتوں کو چراغاں کرتے۔یہیں پر قدیم شہتوت کے درخت پر چمن نامی چڑیا کا گھونسلہ تھا۔اس کے قریب بڑے سے چنار پر کالو نامی کوا رہتا تھا۔دونوں میں دیرینہ دوستی تھی مگر یہ دوستی یک طرفہ تھی۔چمن ہر خوشی کا موقع اپنے دوست کے ساتھ بانٹتی۔وہ میٹھے میٹھے پھل، بیج یا دانے لے کر چنار کی شاخوں پر آتی اور کالو خوشی سے آ کر لے جاتا لیکن شکر تو دور کبھی حال چال بھی نہ پوچھتا۔چمن بہت معصوم تھی،…
عقلمند وزیر کے حاسد دشمن –
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ملک میں امن وامان تھا ، رعایا پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں تھا، ہر طرف خوشحالی تھی ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر بادشاہ کو الٹی سیدھی باتیں بتاتے رہتے تھے ، ان سب کا ٹارگٹ اکثر وزیر ہوتا، اس طرح کئی وزیر سوا ہوئے اور کئی ایک کوبادشاہ نے مروادیا ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے ۔ ایک دن بادشاہ نے ایک نیاوزیر مقرر کیا ، اس وزیر کو چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ دربار میں حاسدی ٹولہ بہت خطرناک ہے وزیر ان کی طرف سے محتاط ہو گیا، وہ انہیں اہمیت نہ دیتا جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف ہوگئے ۔ ایک دن ایک درباری نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہابادشاہ نے ایک بکری منگوائی اور وزیر…
آخری ادھار –
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا :” بھائی ! مجھے آخری بار دھار دے دو؟“رحیمو کا کانے دوٹوک انداز میں جواب دیا: “تمھارا تین مہینے کا حساب باقی ہے۔ جب تک وہ ادا نہیں ہوتا، میں تمہیں مزیدا دھار نہیں دے سکتا۔وہ تقریبا رو دینے کے قریب تھا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا : آج کے بعدتم کبھی مجھے ادھار مانگتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ بس آخری بار۔ رحیمو کاکا نے ہاتھ اٹھایا اور بولا:” بس ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا “اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے…
پکا چور
خوبرو جوان بائیک پر جا رہا تھا کہ ایک انکل اور آنٹی پر نظر پڑی جو کافی پریشانی کے عالم میں آتے جاتے لوگوں کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔نوجوان نے رُک کر پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:“کار لاک ہے اور چابی اندر ہی رہ گئی ہے”اُن کی بات سُن کر نوجوان کے اندر کا ہیرو جوش میں آیا اور کافی دیر سوچنے کے بعد حل نکالا۔کار کے دروازے کے شیشے کے اوپر سے ربڑ ہٹایا اور ایک دھاگے کو ڈھیلی گرہ ڈال کے وہاں سے اندر ڈالا اور کافی تگ و دو کے بعد دھاگے کی گرہ کھڑکی کے لاک میں پھنس گئی اس کے بعد جھٹکے سے دھاگہ کھینچا تو لاک کھل گیا۔ نوجوان نے انکل کی طرف شکریہ طلب نظروں سے دیکھا تو انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا۔نوجوان اپنے آپ کو ایک کامیاب ہیرو تصور کرتے ہوئے جانے کے لیے آگے…
Negociación de caballos –
Fue hace mucho tiempo. Khwaja Saadullah de Mohalla Sufi tenía bastantes caballos, vacas y búfalos, que había vendido. Ahora solo le quedaba un caballo, que quería vender. Había pedido a personas especiales que lo vendieran, para que gente respetable pudiera venir a negociar. El padre del famoso escritor A. Hameed, Chaudhry Sahib, tenía un carruaje real. En el que su familia solía viajar, pero no tenía un caballo en el que pudiera sentarse solo e intimidar a la gente. Así que pensó en comprar el caballo de Khwaja Sahib. Se enteró de esto por uno de sus sirvientes. En el pasado, no se consideraba bien visto que la gente respetable vendiera sus cosas. Un día, llegó a la mansión de Khwaja Sahib con dos o tres personas. El sirviente, Allah Rakha, lo conocía. Mantuvo a cinco o seis hombres a la sombra de los árboles de la despensa en la…
گھوڑے کا سودا –
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔محلہ صوفی کے خواجہ سعد اللہ کے پاس یوں تو کافی گھوڑے اور گائے بھینسیں تھیں،جنھیں وہ بیچ چکے تھے۔اب صرف ایک گھوڑا رہ گیا تھا،جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔اس کی فروخت کے لیے انھوں نے خاص خاص لوگوں سے کہہ رکھا تھا،تاکہ معزز افراد آکر سودے بازی کر سکیں۔مشہور مصنف اے ۔حمید کے والد چودھری صاحب کے پاس رئیسی ٹانگہ تھا۔ جس میں ان کے اہل خانہ سوار ہو کر سیر کرتے تھے ،لیکن گھوڑا نہیں تھا کہ جس پر وہ تن تنہا بیٹھ کر لوگوں پر رعب جماتے ۔چنانچہ انھوں نے سوچا خواجہ صاحب کا گھوڑا خریدلیتے ہیں۔ یہ بات انھیں اپنے ایک ملازم سے معلوم ہوئی تھی۔پہلے زمانے میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ معزز افراد اپنی چیزیں فروخت کریں۔(جاری ہے) وہ ایک روز دو تین افراد کو لے کر خواجہ صاحب کی حویلی پر پہنچ گئے۔ ملازم اللہ…
کچھوے کا غصہ –
یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا…
قاضی کا انصاف –
ایک گاؤں میں ارمان نامی آدمی رہتا تھا اُس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔ایک دن اُس نے سوچا کہ وہ نوکری ڈھونڈنے شہر جائے گا۔اُس کے پاس صرف تین اشرفیاں تھیں۔وہ اپنے سفر پر نکل گیا۔جب وہ شہر پہنچا تو اُسے وہاں بہت سے لوگ مختلف کام کرتے نظر آئے تو وہ خوش ہو گیا کہ اُسے یہاں نوکری ضرور مل جائے گی، مگر سب سے پہلے کہیں رہنے کی جگہ چاہیے۔اُس نے دیکھا کہ ایک گھر کے باہر لکھا ہے ”اوپر والا کمرہ خالی ہے۔“ اُس نے سوچا کہ وہ یہاں رہ سکتا ہے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے غصے سے بھرا آدمی باہر آیا اور پوچھا کیا چاہیے۔ارمان نے کہا کہ مجھے رہنے کے لئے کمرہ چاہیے۔آدمی نے کہا کہ کرایہ تین اشرفیاں ہو گا۔(جاری ہے) ارمان گھبرا گیا کہ اُس کے پاس تو تین ہی اشرفیاں ہیں۔اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تین اشرفیاں ہیں اور…
منحوس کون –
ایک بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ دربار میں موجود تھا کہ کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو سویرے اس کی شکل دیکھ لیتا ہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،لہٰذا اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں خود تجربہ کروں گا اور کل صبح سب سے پہلے اس کی صورت دیکھوں گا پھر کوئی دوسرا کام کروں گا۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کاد روازہ کھولا تو وہی ایک آنکھ والا آدمی کھڑاتھا بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پلٹ آیا اور دربار میں جانے کے لیے تیار ہونے لگا لباس تبدیل کرنے کے بعد جو نہی بادشاہ نے جوتے میں اپنا پاﺅں ڈالا اس میں موجود زہریلے بچھو نے…
بڑھیا اور لومڑی –
پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔ بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔(جاری ہے) اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔b اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو…
سبق آموز۔۔۔! بادشاہ اور نیل کنٹھ۔ instructive: A King and kingfisher
ایک بادشاہ کو شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت جنگل میں گیا،تاکہ پرندوں کا شکار کر سکے،لیکن وہاں انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ جنگل چھوڑ کر آگے ویرانوں میں چراگاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں کئی پہاڑیاں اور ندیاں بھی آئیں،جن کو انھوں نے عبور کیا،لیکن انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔ آخر دوپہر کے وقت وہ ایک بہت بڑی چراگاہ میں پہنچے۔یہ اتنا بڑا میدان تھا،جس کی حد نظر نہیں آ رہی تھی۔میدان کے عین درمیان میں ایک بڑا اور گھنا سایہ دار درخت کھڑا تھا۔بادشاہ اور اس کے مصاحب بے اختیار درخت کی طرف بڑھتے چلے گئے اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سستانے لگے۔اگرچہ وہ بہت تھک چکے تھے،لیکن عادی شکاریوں کی طرح ان کی نگاہیں اب بھی درخت کی شاخوں میں بیٹھے کسی پرندے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اچانک بادشاہ کی نظر ایک کنٹھ پر پڑی جو…
سبق آموز۔۔۔! گوہ اور چیل۔۔۔! Instructive: Monitor lizard and kite
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیل اور گوہ کی دوستی ہوگئی ۔ایک دن چیل نے گوہ سے کہا۔کیوں نہ ہم پاس رہیں۔پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی“۔ گوہ نے چیل کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کر کے رہائش کے لئے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔اس میں شگاف تھا۔دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔گوہ اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد گوہ کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی۔اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گوہ کا ایک…
😂🔥 مائی بشیراں 😂💁♂️
عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ 🙂📢 گواہ کے طور پر قصبے کی سب سے بزرگ خاتون، مائی بشیراں کو بلایا گیا۔ 👵 سرکاری وکیل بڑے اعتماد سے آگے بڑھا اور پوچھا: “مائی! کیا آپ مجھے جانتی ھیں؟” 😏 مائی نے چشمہ سیدھا کیا، غور سے دیکھا اور بولیں: “قدوس! میں تمہیں اُس وقت سے جانتی ھوں جب تم ننگے پاؤں گلیوں میں پھرتے تھے۔” “اور سچ پوچھو تو تم نے ساری زندگی مجھے مایوس ھی کیا ھے!” “جھوٹ بولتے ھو… وگوں کو استعمال کرتے ھو… بیوی سے جھوٹ بولتے ھو… دوسروں کی برائیاں کرتے ھو… اور خود کو بڑا عقلمند سمجھتے ھو، حالانکہ تمہاری عقل تو چنے کے دانے سے بھی چھوٹی ھے!” 🤣 پورا کمرہ خاموش ھو گیا۔ وکیل کا رنگ اُڑ گیا گیا۔ 😶 شرمندگی سے بچنے کے لیے اس نے فوراً دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کیا۔ “اچھا مائی! کیا آپ اِسے جانتی ھیں؟” مائی…
سبق آموز۔۔۔! بیل اور گدھا۔ Instructive: Ox and Donkey
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم…
سبق آموز۔۔۔! اپنا راز کسی کو مت دو۔ Instructive: Never share your secret with anyone
برسوں پہلے کی بات ہے کہ جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔اس کے بل کے قریب ہی اخروٹ کا ایک بڑا درخت تھا۔جب اخروٹ پکتے تو چوہا بہت خوش ہوتا،کیونکہ ہوا سے پکے ہوئے اخروٹ چوہے کے بل کے بالکل آس پاس آ گرتے تھے اور وہ مزے لے لے کر اخروٹ کترتا اور گری نکال کر کھا جاتا۔ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ اگر میں اخروٹوں کو محفوظ کر لوں تو سال بھر ان کے مزے لے سکتا ہوں۔وہ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرنے لگا۔اس کے بل میں بہت جگہ تھی،مگر جب بارشیں زیادہ ہوتیں تو پانی اس کے بل میں بھر جاتا تھا۔وہ ایک سوکھے ہوئے درخت کے پاس پہنچا۔درخت کے تنے میں اسے سوراخ نظر آیا۔اس نے اندر جھانکا تو خوشی سے وہ اچھل پڑا۔وہ درخت اندر سے کھوکھلا تھا۔ چوہے نے سوچا کہ اخروٹ ذخیرہ کرنے کی اس سے محفوظ جگہ اور…
**”بادشاہ کا انصاف”**
ایک زمانے میں ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی۔ اس ملک کا بادشاہ رخصت ہوا تو عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ نیا حکمران ان کے دن بدل دے گا۔ نئے بادشاہ نے آتے ہی محل کی رونقیں بڑھانا شروع کیں، درباریوں کو نوازا، اور ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی — یہ کہہ کر کہ “خزانہ خالی ہے، سب کو قربانی دینی ہوگی۔” مگر ایک عجیب بات ہوئی۔ جو تاجر پہلے سے امیر تھے، انہوں نے اپنے مال کی قیمتیں بڑھا دیں اور نیا ٹیکس بھی عوام کی جیب سے نکلوا لیا۔ ان کے گودام بھرتے گئے، ان کی حویلیاں سجتی گئیں۔ مگر جو کسان اپنے کھیت میں دن رات محنت کرتا تھا، اس کی گندم کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی، جبکہ بیج، کھاد اور اوزار مہنگے ہو گئے۔ جو مزدور صبح سے شام تک پتھر توڑتا تھا، اس کی مزدوری میں ایک پیسہ اضافہ نہ ہوا، مگر روٹی…
لالچی سوداگر –
کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔ کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔راستے میں کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا۔وہاں سے ایک درویش کا گزررہا تھا۔اس نے سوداگر کو دیکھا تو ان کے برابر میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگا۔وہ دونوں دوست بن گئے۔سوداگر نے پوچھا:”تم کہاں جارہے ہو؟“درویش نے جواب دیا:”مجھے ایک ایسی سرنگ کا پتاچلا ہے جس میں سونا بند ہے ،میں وہی سوناڈھونڈنے جارہا ہوں۔ اب میں چلتا ہوں۔“سوداگر نے کہا:”رکو،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔“سوداگر نے کہا:”اگر اس سرنگ میں سے سونا نکلا تو ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔(جاری ہے) “جب سرنگ کے قریب پہنچے تو درویش نے کوئی منتر پڑھا۔وہ سرنگ فوراً کھل گئی اور اس سرنگ کے کھلتے ہی…
چالیس دن کا بادشاہ –
آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی اجازت دی۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک فارس پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ بہت پریشان رہتا تھا کیونکہ ملک میں چوری اور ڈکیتی عام تھی،باوجود کوشش کے بھی وہ اس پر قابو نہیں پا رہا تھا۔ایک دن بادشاہ پریشانی میں محل سے نکل کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس نے دیکھا ایک لکڑہارا بہت محنت سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔لکڑہارا بادشاہ کو دیکھ کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت!آپ کسی شاہی سواری میں نہیں آئے؟بادشاہ نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو اس نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟بادشاہ نے سر ہلایا تو وہ بولا آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی…
لالچ بُری بَلا ہے
کسی گاؤں میں دینو نام کا ایک کمہار رہا کرتا تھا۔دینو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔مٹی سے بڑے خوبصورت اور پائیدار برتن بنانا جانتا تھا۔ایک دفعہ اس کے بنائے ہوئے ایک برتن کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر گاؤں کے سخی زمیندار نے اسے ایک چھوٹا سا کھیت تحفے میں دے دیا۔اب دینو تو کمہار تھا۔وہ برتن بنانا تو جانتا تھا، مگر وہ تو کھیتی باڑی کے کام سے بالکل واقف نہ تھا۔اسے بس یہ معلوم تھا کہ کھیت میں ہل چلا کر اگر بیج بو دیا جائے تو فصل اُگ آتی ہے۔اس نے کھیت میں ہَل تو چلا دیا، مگر اب سوچ میں پڑ گیا۔پھر وہ فوراً بازار گیا اور بازار میں اسے جو بیج اچھا لگا، وہ اُٹھا لایا۔وہ سیدھا اپنے کھیت میں پہنچا اور سارے بیج پورے کھیت میں پھیلا دیے۔(جاری ہے) دینو کمہار نے جو بیج لگائے تھے وہ کسی سبزی یا پھل کے نہیں،…