لومڑی کی پیشن گوئی –
ایک تھی لومڑی جو دوسری تمام لومڑیوں کی طرح چالاک اور عیار تھی اور چونکہ اتنی طاقت نہ رکھتی تھی کہ شیر اور چیتے کی طرح شکار کر سکے اس لئے ہمیشہ چکنی چپڑی باتوں اور مکر و فریب کے ساتھ پرندوں اور چھوٹے جانوروں کو اپنے جال میں پھنساتی،میٹھی میٹھی باتوں سے اُن کی قربت حاصل کرتی اور پھر اچانک انہیں دبوچ کر ہڑپ کر جاتی۔ایک روز یہ لومڑی صحرا کے وسط سے گزر رہی تھی اور اپنے دل میں سوچ رہی تھی۔آج میں نے کچھ نہیں کھایا۔کڑاکے کی بھوک لگی ہے مجھے چاہئے کہ اپنے ہوش و حواس قائم رکھوں اور اگر میرا سامنا کسی خرگوش،چکور،پرندے،مرغے یا کسی اور جاندار سے ہو جائے تو مجھے ایسا حیلہ کرنا چاہئے کہ وہ مجھ سے خوف کھا کر بھاگ نہ لے۔لومڑی یہ سوچتی ہوئی آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ وہ یہ سوچ رہی تھی کہ اگر وہ کسی جانور کو…
نافرمانی کی سزا –
وہ ایک بہت شرارتی چوہا تھا، جو اپنے ماں باپ کے ساتھ رہتا تھا۔اس گھر میں ایک بلی بھی اپنے بچوں کے ساتھ رہتی تھی۔بلی کسی کو کچھ نہ کہتی، لیکن جب کوئی اس کے بچوں کو تنگ کرنے کی کوشش کرتا تو وہ برداشت نہ کرتی۔چوہے کے ماں باپ نے اسے سختی سے تاکید کی تھی کہ وہ بلی اور اس کے بچوں سے کوئی شرارت نہ کرے، لیکن اس نے یہ بات سنی اَن سنی کر دی، پھر اس کے ذہن میں ایک شرارت سوجھی۔بلی جب رات کو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہی تھی تو وہ چپکے سے اُٹھ کر بلی کے پاس گیا اور اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے بلی کو زور سے کاٹ کر بھاگ گیا۔بلی کی یکدم آنکھ کھل گئی، لیکن چوہا یہ جا، وہ جا۔تب سے بلی کو تنگ کرنا چوہے کا روز کا معمول بن گیا۔بے چاری بلی اس کو پکڑنے کے…
دل کا پتھر 😁
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…
گدھے
نصرالدین اور حیران انسپکٹر..ایک ایسا راز جو برسوں بعد کھلاایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟” نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔”انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔”نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔”انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے…
گدھے کی گواہی
ملا نصرالدین اور گدھے کی گواہی- ایک دلچسپ مزاحیہ کہانیایک دن ملا نصر الدین کے پڑوسی کو کسی کام سے دوسرے گاؤں جانا تھا۔ وہ ملا کے گھر آیا اور بولا: “ملا جی! مجھے اپنی بیوی کو لانے دوسرے گاؤں جانا ہے، کیا آپ مجھے ایک دن کے لیے اپنا گدھا ادھار دے سکتے ہیں؟”ملا نصر الدین اپنے گدھے سے بہت پیار کرتے تھے اور اسے کسی کو نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے فوراً ایک بہانہ بنایا اور جھوٹ بولتے ہوئے کہا: “بھائی! میں تو تمہیں گدھا دے دیتا، لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں۔ میرا بیٹا اسے صبح ہی لکڑیاں لانے کے لیے جنگل لے گیا ہے۔”پڑوسی مایوس ہو کر جانے ہی لگا تھا کہ اچانک گھر کے پیچھے بنے اصطبل سے گدھے کے زور زور سے ہینچنے (ڈھینچو ڈھینچو کرنے) کی آواز آئی۔پڑوسی رک گیا اور غصے سے ملا کی طرف دیکھ کر بولا: “ملا…
چور کی توبہ 😄😆😅
ایک صاحب کا موبائل چوری ھو گیا۔ شام کو گھر پہنچے تو دیکھا، بیگم رو رھی ھیں، ساس پریشان ھیں اور سسر صاحب غصے میں بیٹھے ھیں۔ سسر صاحب بولے: “یہ کیا حرکت ھے؟ تم نے ھماری بیٹی کو تین طلاق کا میسج بھیجا ھے!” 😡 صاحب حیران: “لیکن میرا فون تو صبح چوری ھو گیا تھا!” 😕 فوراً اپنے نمبر پر کال کی۔ چور نے فون اٹھا لیا۔ صاحب غصے سے بولے: “اوئے لعنتی ! فون تو چوری کیا، لیکن میری بیوی کو طلاق کیوں بھیجی؟” 😡 چور نے لمبی سانس لیتے ھوئے کہا: “جناب! صبح سے آپ کی بیوی کے 36 میسج آ چکے ھیں!” “کہاں ھو؟ کب آؤ گے؟ یہ لیتے آنا، وہ ختم ھو گیا ھے، راستے میں دودھ بھی لیتے آنا…” پھر چور بولا: “فون میں نے چوری کیا تھا، سکون نہیں!” 😂 اور آخر میں آہ بھر کر کہا: “جناب! میں نے طلاق نہیں…
احسان کا بدلہ
پرانے زمانے کی بات ہے۔کسی شہر میں ایک بہت دولت مند آدمی رہتا تھا۔اس کی حویلی بادشاہوں کے محلات کی طرح عظیم الشان تھی۔ہر وقت نوکر چاکر اس کی خدمت کے لئے حاضر رہتے تھے۔وہ بہت ظالم تھا اور ذرا سی غلطی پر نوکروں کو سخت سزا دیتا۔اس کا ایک غلام آقا کے مظالم سے تنگ آ گیا۔ایک دن موقع پا کر وہ بھاگ گیا اور جنگل میں جا چھپا۔کئی دن وہ جنگل میں چھپا رہا۔ایک روز درخت پر چھپا بیٹھا تھا کہ اسے ایک شیر نظر آیا، جو لنگڑا کر چل رہا تھا۔اس کی حالت ایسی تھی کہ جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔شیر اس درخت کے پاس آ بیٹھا، جس پر غلام بیٹھا تھا۔غلام نے دیکھا کہ شیر کے پاؤں میں کانٹا چبھا ہوا ہے۔غلام کو بہت ترس آیا۔ اس نے سوچا آج نہیں تو کل آقا کے ملازم اسے ڈھونڈ نکالیں گے اور وہ موت کے گھاٹ…
سورج کا خوف
بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک گھنے جنگل میں ایک بندر رہتا تھا۔ وہ جنگل میں نہیں، بلکہ دور ایک انسانی بستی کے قریب مزدوری کرتا تھا۔ اور کئی کئی مہینوں تک گھر نہ آتا۔ ایک آدھ دن کے لیے اپنی بندریا اور ننھے سے بچے سے ملنے آتا اور دوبارہ روزی کی تلاش میں چلا جاتا۔ اس کا ننھا بچہ عجیب طبیعت کا مالک تھا۔ سوال پر سوال، اور ہر جواب کے بعد ایک نیا سوال۔بندریا کئی مرتبہ اس کے سوالوں سے گھبرا جاتی تھی۔ایک دن قسمت سے بندر کئی مہینوں بعد گھر آیا۔ رات بھر پورا خاندان خوشی سے جاگتا رہا۔مگر اگلی صبح آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے۔ سورج کہیں دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ننھا بندر ٹہنی سے ٹہنی اچھلتا ہوا آیا، آسمان کی طرف دیکھا اور حیرت سے بولا، “امّی! آج سورج چاچا کہاں ہیں؟ کیا وہ سو رہے ہیں؟”بندریا جانتی تھی کہ اگر…
جیب کترا –
”جلدی کیجئے امی!پہلے ہی مجھے کافی دیر ہو چکی ہے ۔اب آپ پوری چائے کی پیالی پلا کر ہی دم لیں گی۔کبھی کبھار تو ہلکا ناشتہ کرنے کی اجازت بھی ہونی چاہیے۔“جاوید نے اپنی ماں کے آگے ہاتھ جوڑے ہوئے کہا۔امی ہنس پڑیں اور بولیں:”بیٹا!کیا دفتر میں اپنے افسروں کے سامنے بھی اس طرح بولتے ہو؟وہاں تو،سر،اور جی نہیں سر،کے سوا تمہارے منہ سے کچھ نہیں نکلتا ہو گا۔“”امی!وہ دفتر ہے،یہ گھر ہے۔وہاں افسر ہیں اور آپ میری پیاری سی امی جان ہیں۔کافی فرق ہے۔“یہ کہہ کر جاوید نے اپنا لنچ بکس لیا اور سلام کرکے گھر سے باہر نکل آیا۔آج جمعرات کا دن تھا۔ سڑک پر کافی گہما گہمی تھی۔جاوید جیسے ہی بس اسٹاپ پر پہنچا،سواریوں سے بھری ہوئی ایک بس اسی وقت پہنچ گئی۔ کافی دھکم پیل کے بعد جاوید بس میں سوار ہو گیا۔ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے وہ بس کا ڈنڈا پکڑ کر کھڑا…
فقیر اور بادشاہ –
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک فقیر جہاں بھی کہیں جاتا بس یہی صدا لگاتا۔”تین باتیں سن لو اور ہر بات کا معاوضہ سو روپے دے دو“ کوئی بھی اُس کی اس صدا پر کان نہ دھرتا تھا۔تنگ آکر فقیر دریا کی طرف نکل گیا۔وہ کنارے کنارے چلتا جاتا اور بڑبڑاتے ہوئے لوگوں کو کوستا جاتا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ وقت کا بادشاہ بھی سیر کیلئے وہاں آیا ہوا تھا۔اُس نے فقیر کو کوستے ہوئے سنا تو اُسے بلا کر وجہ پوچھی۔فقیر نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا! ”میں تھکا ہارا (چندرا) بدنصیب ہوں۔“ جس نے قیمتی سودا سستے داموں فروخت کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے بھی میری نہ سنی۔بادشاہ بولا! ”فقیر!اب کہو میں تمہاری شرط منظور کرتا ہوں۔“ فقیر خوشی خوشی تیار ہو گیا۔ اس کے بعد فقیر نے تین باتیں سنائیں۔(1)”رات دا جگن بھلا“(یعنی رات کو جاگنا مفید ہے)پہلی بات بتا کر فقیر نے…
بھکاری –
ایک دفعہ احمد کہیں جا رہا تھا۔اس نے راستے میں ایک بھکاری کو دیکھا، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور گرمی کی تیزی سے رنگت کچھ سیاہ ہو گئی تھی۔اس کے سامنے ایک برتن پڑا ہوا تھا، جس میں تھوڑے سے پیسے تھے۔احمد جب اس کے قریب سے گزرا تو بھکاری نے صدا لگائی:”اللہ کے نام پہ کچھ دے دو بیٹا!“احمد رُکا اور اس سے کہنے لگا:”آپ بھیک کیوں مانگ رہے ہیں؟ اسلام میں بھیک مانگنے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔“بھکاری کہنے لگا:”بیٹا! تو پھر میں کیا کروں؟ آج کل مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ بازار سے کچھ بھی نہیں خرید سکتا۔گھر میں بیوی بچے اکثر بھوکے سو جاتے ہیں۔“احمد نے کہا:”بابا! میں آپ کی مدد کروں گا۔آپ میرے ساتھ گھر چلیں۔ “احمد، بابا کو اپنے گھر لے آیا اور امی سے کہا:”امی جان! یہ ایک مجبور بھکاری ہے۔میں نے سوچا کہ اس کو بھیک والی لعنت…
سات لڑکیاں اور جادو گر۔
کسی گائوں میں ایک فقیر اور اس کی بیوی رہا کرتے تھے۔ ان کی سات بیٹیاں تھیں۔ غربت کے مارے یہ میاں بیوی اپنا اور بچیوں کا گزر بسر بھیک مانگ کر کیا کرتے تھے۔ ایک دن فقیر نے اپنی بیوی سے کہا کہ میرا کھیر کھانے کا دل چاہ رہا ہے، یہ بات سن کر اسکی بیوی نے ایک سرد آہ بھری اور کہا کہ کھیر ہم غریبوں کے نصیب میں کہاں ہے۔فقیر اسکا جواب دیتے ہوئے بولا کہ ہم دودھ ،چاول اور چینی بھیک میں مانگ لیں گے پھر تم مجھے کھیر بنا کر کھلانا ،بیوی بولی کہ میاں! بھیک میں تو یہ سب اتنا نہیں مل سکے گا کہ ہماری سات بیٹیاں بھی کھاسکیں۔ فقیر گویا ہوا کہ اری پریشان کیوں ہوتی ہے؟ ہم کھیر تب بنائیں گے جب ساری لڑکیاں سو جائیں گی۔ اس طرح انھیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور ہم جی بھر کر…
چمگادڑ کی چالاکی –
جنگل میں ایک شیر اپنے غار کے باہر شکار کئے ہوئے گوشت کا ایک ٹکڑا لئے کھانے ہی والا تھا کہ اچانک ایک باز نے جھپٹا مارا اور گوشت پنجوں میں دبا کر اُڑ گیا۔باز کی اس حرکت پر شیر آگ بگولا ہو گیا۔اس نے عہد کر لیا کہ وہ جنگل کے سارے پرندوں کو کھا جائے گا۔ایک دن شیر نے جانوروں کو بلا کر کہا ”سنو! مَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ اِس جنگل کے تمام پرندوں کا شکار کر لو، مَیں اس جنگل میں ایک بھی پرندہ زندہ دیکھنا نہیں چاہتا، مَیں خود شکار کروں گا اور تم بھی اس مہم پر نکل جاوٴ۔“ شیر کے ساتھی تو پہلے ہی ان پرندوں سے پریشان تھے کیونکہ وہ عموماً ان کا مارا ہوا شکار لے اُڑتے تھے، اب وہ رات کو جب پرندے اپنے گھونسلوں میں سو رہے ہوتے تو ان کو کھا جاتے۔ اُلّو ایسا پرندہ ہے جو…
پریاں اور غریب موچی –
ایک شہر میں ایک موچی رہا کرتا تھا۔مکان کے اوپر والے حصے میں اس کی رہائش تھی جبکہ نچلے حصہ میں اس نے اپنی دوکان قائم کر رکھی تھی۔ اسی دوکان کے ایک کونے میں اس نے نئے جوتے بنانے کے اوزار رکھے ہوئے تھے۔یہ اوزار ایک چھوٹی سی میز پر بڑے سلیقے سے رکھے ہوتے تھے۔موچی دن رات خوب محنت کرتا لیکن اس کے باوجود اسے اتنی آمدنی نہ ہوتی کہ وہ خوشحال زندگی گزار سکے۔یہاں تک کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب موچی کی تمام جمع پونجی بھی ختم ہونے کو تھی۔اب موچی بہت پریشان ہوا اور سوچنے لگا اس مرتبہ بل ادا کرنے کے بعد تو اس کے پاس نئے جوتے بنانے کیلئے بھی رقم نہیں بچے گی۔یہ خیال آتے ہی موچی کا دل کام سے اچاٹ ہو گیا۔وہ جو جوتے بنا رہا تھا اس کا چمڑا وہیں پڑا چھوڑ کر اُٹھا اور اپنے رہائش والے…
بھروسہ
ایک دن بہار کے شروع میں ایک شخص ندی کے پانی میں اور کھیت میں سونا تلاش کر رہا تھا۔ گھنے جنگل کے قریب اس نے شیر کی گرج سنی۔ اس نے بہت احتیاط سے اردگرد دیکھا ۔گرج کی آواز دوبارہ آئی ۔سمت کا تعین کرتے ہوئے جہاں سے آواز آئی تھی اس نے بیس قدم کے فاصلے پر ایک بڑے شیر کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا۔آدمی شکاری نہ تھا اور نہ ہی اس کا ارادہ درندے کو مارنے کا تھا اگر وہ اس پر حملہ نہ کرے، اس نے جنگل میں کافی سال گزارے تھے اور وہ جانتا تھا کہ شیر خونخواردرندہ ہوتاہے وہ اس خطر ناک صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا ۔شیر اس کی طرف بڑھا تب اس نے دھیمی آواز میں کراہنا شروع کر دیا۔ آدمی نے دیکھا شیر کا پچھلا پنجہ ایک پھندے میں پھنسا ہوا تھا۔ آدمی نے پھندے میں پھنسے…
نیند میں اڑان
سمندر کنارے جہازوں کی رہنمائی کیلئے ایک روشنی کا مینار کھڑا تھا جس کے اوپر ایک گھونسلہ بھی بنا ہوا تھا جس میں ایک سمندری بگلا اور ایک کھٹ بڑھئی رہتے تھے۔وہ دونوں بہت گہرے دوست تھے اور ہمیشہ سے اکٹھے رہ رہے تھے۔لیکن ننھا کھٹ بڑھئی پریشان تھا کیونکہ اُس کا دوست ایک بری اور خطرناک عادت میں مبتلا ہو گیا تھا۔ وہ ہر رات جیسے ہی سوتا بگلا اپنے گھونسلے سے اُڑتا اور سمندر کے اوپر چلا جاتا۔جب کبھی وہ ایسا کرتا تھا اُس کی زندگی خطرے میں ہوتی تھی کیونکہ کئی مرتبہ اُسے شارک مچھلیاں ہڑپ کرنے لگیں تھیں۔کیونکہ وہ رات کو جب اُڑتا تھا تو وہ دراصل سویا ہوتا تھا۔کھٹ بڑھئی خوفزدہ تھا کہ کہیں وہ سوتے میں اُڑتا ہوا اُتنی دور نہ نکل جائے کہ پھر واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔ ننھے کھٹ بڑھئی کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیا کرے۔وہ بگلے…
مغرور لومڑی
ایک بلی آبادی سے دور جنگل میں رہتی تھی،جہاں قریب میں ہی ایک لومڑی کا بھی بھٹ تھا۔آتے جاتے اکثر ان کی ملاقات ہو جاتی تھی، پھر گھنٹوں آپس میں باتیں ہوتیں۔ لومڑی کو اپنی چالاکی پر بہت غرور تھا،وہ بلی کو زیادہ تر اپنی چالاکیوں کے قصے سنایا کرتی تھی،جن میں سے زیادہ تر من گھڑت ہوتے تھے۔ایک دن جب سورج انتہائی آب و تاب سے چمک رہا تھا اور خوب دھوپ نکلی ہوئی تھی،ایک گھنے پیڑ کے نیچے دونوں کی ملاقات ہوئی۔خاصی دیر تک دونوں باتیں کرتی رہیں۔لومڑی نے کہا،”اے بی بلی،اگر دنیا میں سو طرح کی آفتیں آجائیں یا کوئی مجھ پر حملہ کر دے تو مجھے کوئی پروا نہیں۔مجھے ہزاروں گُر اور ترکیبیں آتی ہیں،میں ان سب مصیبتوں سے بچ کر نکل جاؤں گی،لیکن خدانخواستہ اگر تو کسی آفت سے دوچار ہو جائے تو کیا کرے گی بلی بولی،”اے بوا،مجھے تو ایک ہی گُر اور ترکیب…
پچھتاوہ –
موسم برسات اپنی خوبصورتیوں اور ذائقے دار پھلوں کے ساتھ ختم ہو چکا تھا۔درختوں کے پتے تیزی سے گر رہے تھے اور سردیوں کی آمد تھی۔ایک امرود کے درخت پر ایک ننھی سی چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا۔چڑیا کا نام ہیبل تھا،اس گھونسلے میں اس کے بچے رہتے تھے۔مگر جب وہ بڑے ہوئے تو ایک دن ہیبل کو بتائے بغیر ہی ایسے اڑ کر گئے کہ واپس ہی نہ آئے۔ننھی ہیبل پہلے ہی ان کی وجہ سے اداس رہتی تھی۔ پھر جب سردیاں آئیں تو باقی پرندے بھی اپنے اپنے گھونسلوں میں دبک گئے۔اب اس امرود کے پیڑ سے امرود بھی تقریباً ختم ہو چکے تھے، بس ایک آدھ امرود باقی رہ گیا تھا امرود کے تنے میں چند بڑی بڑی چیونٹیاں رہتی تھیں۔ہیبل سارا دن شاخ پر بیٹھی ان چیونٹیوں کو دیکھتی رہتی۔ سردیوں میں جب کبھی چیونٹیوں کا راشن ختم ہوتا تو ہیبل سے امرود مانگنے آجاتیں۔…
عقلمند طوطا
ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔(جاری ہے) کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔ اس نے چڑیا کو…
آزاد پنچھی –
سردی اپنے عروج پر تھی ۔سورج ڈوبنے کے بعد سبھی انسان ،چرند پرند اپنے اپنے گھروں کی راہ لیتے اور سورج طلوع ہونے تک اپنے بستروں میں دبکے رہتے تھے ۔ہر طرف خاموشی اور سکون دیکھ کر بر گد کا بوڑھا درخت جلدی اونگھنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے گہری نیند سو گیا لیکن اس گہرے سناٹے میں اچانک ہی ٹپ ٹپ ،ٹپ کی آواز کے ساتھ اس کے اندر نمی اترنے لگی ۔ سرد ترین رات میں بھیگنے کے احساس نے اس کی نیند توڑ دی ۔یہ کون بد تمیز ہے جو اتنی سردی میں رات کے وقت مجھ پر پانی ڈال رہا ہے ۔وہ غصے اور سردی سے کانپتی ہوئی آواز میں بولا۔یہ ٹوٹو طوطا تھا۔ جو اس کی ساخوں میں منہ چھپائے خاموشی سے آنسو بہار ہا تھا ۔معاف کرنا برگد چاچا! میری وجہ سے تمہاری نیند خراب ہوئی ۔اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ۔ بھائی…