Tag Archives: ،urdublogs

پھانسی گھاٹ کا راستہ صاف نظر آ رہا تھا، مگر اس 25 سالہ نوجوان کے چہرے پر خوف کے بجائے ایسی مسکراہٹ تھی جس نے مجھ جیسے سخت گیر اور پتھر دل ڈیوٹی افسر کے بھی پسینے چھڑا دیے تھے!حوالات کی سلاخوں کے پیچھے وہ سجدے میں گرا گڑگڑا رہا تھا۔ اس پر ایک لرزہ خیز قتل کا الزام تھا، ثبوت اور گواہ سب اس کے خلاف تھے اور چند دنوں میں اسے سزائے موت سنائی جانی تھی۔ میں شروع دن سے اس کے ساتھ انتہائی درشتگی سے پیش آ رہا تھا، مگر وہ جواب میں ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔ایک دن جب وہ دعا مانگ کر اٹھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے تلخ لہجے میں پوچھا: “تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ چند دن بعد تمہیں پھانسی کا پھندا پہنا دیا جائے گا۔ تم نے قتل کیا ہی کیوں؟”اس نے بڑی پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف…

Read more

ایک مشہور قصہ ہے کہ😅ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی…

Read more

Read more

ایک سرد رات تھی…چاندنی شہر کی خاموش گلیوں پر ایسے بکھری ہوئی تھی جیسے کسی نے چاند کو زمین پر اتار دیا ہو۔ بادشاہ اپنے وفادار قاضی کے ساتھ سادہ لباس میں بغداد کی گلیوں میں نکل آیا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ تخت پر بیٹھنے والا شخص آج خود ایک مسافر بن کر چل رہا ہے… اچانک ایک پرانی مسجد کے باہر اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی۔ پھٹے ہوئے کپڑے…کانپتا ہوا جسم…اور آنکھوں میں خاموش بھوک… یہ شہر کا مشہور بھکاری تھا — اللہ داد۔ بادشاہ رک گیا۔ اس نے دیکھا کہ اللہ داد نے اپنی جھولی سے ایک سادہ سی روٹی نکالی…آسمان کی طرف دیکھا…خاموش دعا کی…اور روٹی دو حصوں میں توڑ دی۔ آدھی خود کھائی…اور آدھی ایک تھیلی میں رکھ دی۔ بادشاہ حیران رہ گیا… اتنی غربت میں بھی “کل” کی فکر؟ بادشاہ قریب گیا اور بولا: “بھائی… ہم مسافر ہیں، کچھ کھانے…

Read more

رات کے 2 بجے ایک ٹیکسی ڈرائیور سنسان سڑک پر گاڑی چلا رہا تھا۔ پیچھے سیٹ پر ایک مسافر بیٹھا ھوا تھا جو بالکل خاموش تھا۔ ماحول بہت ڈراؤنا تھا، ہلکی ہلکی دھند تھی۔ اچانک… پیچھے بیٹھے مسافر نے ڈرائیور کے کندھے پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔ جیسے ھی مسافر کا ہاتھ کندھے پر لگا، ڈرائیور نے خوفناک چیخ ماری! اسٹیرنگ وہیل چھوٹ گیا، ٹیکسی لہراتی ھوئی فٹ پاتھ پر چڑھی، ایک کھمبے سے بال بال بچی اور بڑی مشکل سے ایک جھاڑی میں جا کر رکی۔ ڈرائیور کا سانس پھولا ھوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھا۔مسافر بھی ڈر گیا اور بولا: “بھائی صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو صرف آپ سے ٹائم (وقت) پوچھنے کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنا ڈر جائیں گے۔” ڈرائیور نے لمبی سانس لی، ماتھے سے پسینہ پونچھا اور…

Read more

یہ انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے گھنے جنگلوں کی ایک سچی کہانی ہے۔‎محکمہ جنگلات کے خفیہ کیمروں نے ایک ایسا منظر ریکارڈ کیا جس نے دیکھنے والوں کو گنگ کر دیا۔‎منظر انتہائی دردناک تھا۔ ایک مادہ اورنگوٹان اپنے ننھے، زخمی بچے کو سینے سے لگائے درختوں پر بیٹھی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس بچے پر ایک شیر نے حملہ کیا تھا۔ ماں اسے بچا کر لے تو آئی، لیکن بچہ اس کے بازوؤں میں تیزی سے کمزور پڑ رہا تھا۔‎وہ بار بار بچے کو دیکھتی۔ وہ منتظر تھی کہ شاید اس کا بچہ کوئی حرکت کرے۔‎لیکن… بچہ دم توڑ چکا تھا۔‎کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ اس نے اپنے مرے ہوئے بچے کو دیر تک سینے سے لگائے رکھا۔ پھر اسے آہستہ سے جنگل کی زمین پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ریسرچرز کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ…

Read more

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…

Read more

ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔ اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل…

Read more

ایک شکاری نے ایک خوبصورت ہرن شکار کیا اور اسے گدھوں سے بھرے ایک اصطبل میں باندھ دیا۔ بے چارہ ہرن گھبراہٹ سے کبھی اِدھر بھاگتا، کبھی اُدھر۔ دوسری طرف گدھے مزے سے گھاس کھانے میں مگن تھے، جیسے دنیا میں انہیں کسی اور چیز کی فکر ہی نہ ہو۔ شکاری رات بھر ان کے آگے گھاس ڈالتا رہا، مگر ہرن نہ وہ گھاس کھا سکا، نہ اس ماحول سے مانوس ہو سکا۔ دھواں، گرد و غبار اور اجنبی ماحول اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جب اس کی فطرت اور اصل جنس سے جدا کر دیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی سزا ہے۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُدہُد کی غیر حاضری پر فرمایا تھا کہ اگر وہ معقول عذر پیش نہ کرے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اہلِ معرفت کہتے ہیں…

Read more

دو شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اُڑ ھی نہ سکے!” دونوں شکاری فوراً بول اٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی… مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ کچھ دیر بعد ایک شکاری کو ھوش آیا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر…

Read more

ایک آدمی جھوٹ بولنے میں اتنا مشہور تھا کہ پورے علاقے میں اس کے چرچے تھے۔ 😄 ایک دن ایک نیک دل بوڑھی خاتون اس کی اصلاح کرنے پہنچ گئیں۔ کہنے لگیں:“بیٹا! سنا ھے تم دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے آدمی ھو؟” آدمی نے خاتون کو غور سے دیکھا اور بولا: “دنیا کو چھوڑیں اماں جی…مجھے تو حیرت یہ ھے کہ اس عمر میں بھی آپ کا حسن، آپ کی دلکشی اور یہ نورانی چہرہ… سبحان اللہ!” 😍 بوڑھی خاتون شرما کر دوپٹہ سنبھالتے ھوئے بولیں: “ہائے اللہ! 😳 یہ دنیا والے بھی کتنے ظالم ھیں… اتنے اچھے بھلے، سچے انسان کو جھوٹا کہتے ھیں!” 😂😂 🤣🤣🤣 سبق:کچھ لوگ سچ سے نہیں…تعریف سے فوراً قائل ھو جاتے ھیں! 😄 مزید مزاحیہ اور دلچسپ پوسٹس کے لیے ہماری پروفائل کو فالو کریں 😊👍

کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے بھائی! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…

Read more

ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا: بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟ کسان: حضور، چار روپے۔ بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟ کسان مسکرایا اور بولا:کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔ بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے وضاحت کی:کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔ دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ…

Read more

ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!” استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔” استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے…

Read more

کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ بغداد سے باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ ان کے مرید بھی ساتھ تھے۔ راستے میں شیخ نے پوچھا: “بہلول کہاں ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔” مریدوں نے عرض کیا:“حضرت! وہ تو ایک پاگل شخص ہے، آپ کو اس سے کیا کام؟” شیخ نے فرمایا:“مجھے اسی سے کام ہے، اسے تلاش کرکے لاؤ۔” لوگوں نے بہلولؒ کو تلاش کیا تو وہ ایک صحرا میں سر کے نیچے اینٹ رکھے، اللہ کی یاد میں گم بیٹھے تھے۔ شیخ جنیدؒ نے سلام کیا۔ بہلولؒ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: “تم کون ہو؟” انہوں نے فرمایا:“میں جنید بغدادی ہوں۔” بہلولؒ نے پوچھا:“کیا تم وہی شیخ جنید ہو جو لوگوں کو روحانی تعلیم دیتے ہو؟” شیخ نے جواب دیا:“جی ہاں۔” بہلولؒ نے اگلا سوال کیا:“کیا تم کھانا کھانے کا صحیح طریقہ جانتے ہو؟” شیخ جنیدؒ نے کھانے کے تمام ظاہری آداب بیان…

Read more

ایک ساحلی شہر میں، جہاں صبح کی پہلی کرن سمندر کی لہروں پر سنہری چادر بچھا دیتی تھی اور شام ڈھلے افق یوں سرخ ہو جاتا تھا جیسے کسی مصور نے آسمان پر سرخ رنگ بکھیر دیا ہو، وہیں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ مٹی کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ باغ، نہ مویشی، نہ سونا چاندی۔ اگر اس کے پاس کچھ تھا تو صرف ایک پرانی کشتی، برسوں پرانا جال اور دو مضبوط بازو، جن کے سہارے وہ ہر صبح رزق کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتا۔رزق کا واحد ذریعہ دریا تھا۔ جو مچھلی ہاتھ آتی، وہی بیچ کر دونوں کا چولہا جلتا۔ایک صبح قسمت نے عجیب کروٹ لی۔جال پانی سے کھینچا تو اس میں ایک ایسی نایاب مچھلی تھی جس کا جسم چاندی کی طرح چمک رہا تھا، اس کے پر سنہری تھے اور اس…

Read more

ایک برفانی گاؤں میں ایک غریب بڑھئی نے ایک زخمی سارس کو شکاری کے جال سے آزاد کروایا۔ کچھ دن بعد ایک برفانی رات میں ایک پراسرار عورت اس کے دروازے پر پناہ مانگنے آئی۔ بڑھئی نے اسے اندر بلایا، رفتہ رفتہ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ عورت نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک قیمتی کپڑا بُنے گی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ بُنائی کے دوران کبھی کمرے میں نہ جھانکے۔ بڑھئی نے وعدہ کیا۔ عورت نے ایک نہایت خوبصورت، چاندی جیسا چمکتا کپڑا بُن کر دیا جسے بیچ کر ان کی غربت دور ہونے لگی۔یہ سلسلہ دو بار مزید چلا، مگر ہر بار عورت پہلے سے زیادہ کمزور ہوتی گئی۔ بڑھئی، لالچ اور تجسس میں گھر کر، تیسری بار خود کو روک نہ سکا اور دبے پاؤں کمرے میں جھانک لیا۔ اندر عورت نہیں بلکہ وہی سارس تھا، جو اپنے ہی جسم سے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک شیخ صاحب رہتے تھے۔ شکل سے بڑے معصوم مگر باتوں میں خاصے چالاک تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اور دل ہی دل میں پسند کر بیٹھے۔ اگلے ہی دن ہمت کرکے اس کے گھر جا پہنچے۔ شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” لڑکی نے حیران ہو کر پوچھا:“آخر تم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں؟” شیخ صاحب نے بڑے فخر سے جواب دیا:“میرے ابا گاؤں کے سب سے بڑے آدمی ہیں!” یہ سن کر لڑکی سوچنے لگی کہ یقیناً اس کے والد کوئی بہت بڑے زمیندار یا بااثر شخص ہوں گے۔ متاثر ہو کر اس نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی۔ چند دن بعد شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ جب لڑکی پہلی بار سسرال پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک نہایت بوڑھے بابا جی لاٹھی…

Read more

ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔ سوداگر نے کہا: “عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو…

Read more

ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…

Read more

ایک غریب عورت ایک نیک عالمِ دین کے پاس آئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “حضرت! میرا بچہ ہر رات بھوک سے روتا ہے۔ میرے لیے دعا کر دیں، اب یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔” عالمِ دین نے خاموشی سے ایک کاغذ پر چند الفاظ لکھے، اسے تہہ کیا اور عورت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: “اسے سنبھال کر رکھنا، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا۔” اگلی صبح جب دروازہ کھلا تو وہاں روپوں سے بھرا ایک تھیلا پڑا تھا۔ آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون رکھ گیا تھا۔ عورت اور اس کے شوہر نے اس رقم کو امانت سمجھ کر ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لی۔ وہ دن رات محنت کرتے، ایمانداری سے کاروبار کرتے اور ہر قدم پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ کاروبار بڑھنے لگا۔ ایک دکان دو بنی، دو سے چار، اور دیکھتے…

Read more

560/723
NZ's Corner