گھوڑے کا سودا –
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔محلہ صوفی کے خواجہ سعد اللہ کے پاس یوں تو کافی گھوڑے اور گائے بھینسیں تھیں،جنھیں وہ بیچ چکے تھے۔اب صرف ایک گھوڑا رہ گیا تھا،جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔اس کی فروخت کے لیے انھوں نے خاص خاص لوگوں سے کہہ رکھا تھا،تاکہ معزز افراد آکر سودے بازی کر سکیں۔مشہور مصنف اے ۔حمید کے والد چودھری صاحب کے پاس رئیسی ٹانگہ تھا۔ جس میں ان کے اہل خانہ سوار ہو کر سیر کرتے تھے ،لیکن گھوڑا نہیں تھا کہ جس پر وہ تن تنہا بیٹھ کر لوگوں پر رعب جماتے ۔چنانچہ انھوں نے سوچا خواجہ صاحب کا گھوڑا خریدلیتے ہیں۔ یہ بات انھیں اپنے ایک ملازم سے معلوم ہوئی تھی۔پہلے زمانے میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ معزز افراد اپنی چیزیں فروخت کریں۔(جاری ہے) وہ ایک روز دو تین افراد کو لے کر خواجہ صاحب کی حویلی پر پہنچ گئے۔ ملازم اللہ…
کچھوے کا غصہ –
یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا…
قاضی کا انصاف –
ایک گاؤں میں ارمان نامی آدمی رہتا تھا اُس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔ایک دن اُس نے سوچا کہ وہ نوکری ڈھونڈنے شہر جائے گا۔اُس کے پاس صرف تین اشرفیاں تھیں۔وہ اپنے سفر پر نکل گیا۔جب وہ شہر پہنچا تو اُسے وہاں بہت سے لوگ مختلف کام کرتے نظر آئے تو وہ خوش ہو گیا کہ اُسے یہاں نوکری ضرور مل جائے گی، مگر سب سے پہلے کہیں رہنے کی جگہ چاہیے۔اُس نے دیکھا کہ ایک گھر کے باہر لکھا ہے ”اوپر والا کمرہ خالی ہے۔“ اُس نے سوچا کہ وہ یہاں رہ سکتا ہے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے غصے سے بھرا آدمی باہر آیا اور پوچھا کیا چاہیے۔ارمان نے کہا کہ مجھے رہنے کے لئے کمرہ چاہیے۔آدمی نے کہا کہ کرایہ تین اشرفیاں ہو گا۔(جاری ہے) ارمان گھبرا گیا کہ اُس کے پاس تو تین ہی اشرفیاں ہیں۔اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تین اشرفیاں ہیں اور…
منحوس کون –
ایک بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ دربار میں موجود تھا کہ کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو سویرے اس کی شکل دیکھ لیتا ہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،لہٰذا اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں خود تجربہ کروں گا اور کل صبح سب سے پہلے اس کی صورت دیکھوں گا پھر کوئی دوسرا کام کروں گا۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کاد روازہ کھولا تو وہی ایک آنکھ والا آدمی کھڑاتھا بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پلٹ آیا اور دربار میں جانے کے لیے تیار ہونے لگا لباس تبدیل کرنے کے بعد جو نہی بادشاہ نے جوتے میں اپنا پاﺅں ڈالا اس میں موجود زہریلے بچھو نے…
بڑھیا اور لومڑی –
پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔ بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔(جاری ہے) اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔b اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو…
سبق آموز۔۔۔! بادشاہ اور نیل کنٹھ۔ instructive: A King and kingfisher
ایک بادشاہ کو شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت جنگل میں گیا،تاکہ پرندوں کا شکار کر سکے،لیکن وہاں انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ جنگل چھوڑ کر آگے ویرانوں میں چراگاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں کئی پہاڑیاں اور ندیاں بھی آئیں،جن کو انھوں نے عبور کیا،لیکن انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔ آخر دوپہر کے وقت وہ ایک بہت بڑی چراگاہ میں پہنچے۔یہ اتنا بڑا میدان تھا،جس کی حد نظر نہیں آ رہی تھی۔میدان کے عین درمیان میں ایک بڑا اور گھنا سایہ دار درخت کھڑا تھا۔بادشاہ اور اس کے مصاحب بے اختیار درخت کی طرف بڑھتے چلے گئے اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سستانے لگے۔اگرچہ وہ بہت تھک چکے تھے،لیکن عادی شکاریوں کی طرح ان کی نگاہیں اب بھی درخت کی شاخوں میں بیٹھے کسی پرندے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اچانک بادشاہ کی نظر ایک کنٹھ پر پڑی جو…
سبق آموز۔۔۔! گوہ اور چیل۔۔۔! Instructive: Monitor lizard and kite
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیل اور گوہ کی دوستی ہوگئی ۔ایک دن چیل نے گوہ سے کہا۔کیوں نہ ہم پاس رہیں۔پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی“۔ گوہ نے چیل کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کر کے رہائش کے لئے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔اس میں شگاف تھا۔دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔گوہ اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد گوہ کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی۔اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گوہ کا ایک…
😂🔥 مائی بشیراں 😂💁♂️
عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ 🙂📢 گواہ کے طور پر قصبے کی سب سے بزرگ خاتون، مائی بشیراں کو بلایا گیا۔ 👵 سرکاری وکیل بڑے اعتماد سے آگے بڑھا اور پوچھا: “مائی! کیا آپ مجھے جانتی ھیں؟” 😏 مائی نے چشمہ سیدھا کیا، غور سے دیکھا اور بولیں: “قدوس! میں تمہیں اُس وقت سے جانتی ھوں جب تم ننگے پاؤں گلیوں میں پھرتے تھے۔” “اور سچ پوچھو تو تم نے ساری زندگی مجھے مایوس ھی کیا ھے!” “جھوٹ بولتے ھو… وگوں کو استعمال کرتے ھو… بیوی سے جھوٹ بولتے ھو… دوسروں کی برائیاں کرتے ھو… اور خود کو بڑا عقلمند سمجھتے ھو، حالانکہ تمہاری عقل تو چنے کے دانے سے بھی چھوٹی ھے!” 🤣 پورا کمرہ خاموش ھو گیا۔ وکیل کا رنگ اُڑ گیا گیا۔ 😶 شرمندگی سے بچنے کے لیے اس نے فوراً دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کیا۔ “اچھا مائی! کیا آپ اِسے جانتی ھیں؟” مائی…
سبق آموز۔۔۔! بیل اور گدھا۔ Instructive: Ox and Donkey
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم…
سبق آموز۔۔۔! اپنا راز کسی کو مت دو۔ Instructive: Never share your secret with anyone
برسوں پہلے کی بات ہے کہ جنگل میں ایک چوہا رہتا تھا۔اس کے بل کے قریب ہی اخروٹ کا ایک بڑا درخت تھا۔جب اخروٹ پکتے تو چوہا بہت خوش ہوتا،کیونکہ ہوا سے پکے ہوئے اخروٹ چوہے کے بل کے بالکل آس پاس آ گرتے تھے اور وہ مزے لے لے کر اخروٹ کترتا اور گری نکال کر کھا جاتا۔ایک مرتبہ اس نے سوچا کہ اگر میں اخروٹوں کو محفوظ کر لوں تو سال بھر ان کے مزے لے سکتا ہوں۔وہ کسی محفوظ جگہ کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھرنے لگا۔اس کے بل میں بہت جگہ تھی،مگر جب بارشیں زیادہ ہوتیں تو پانی اس کے بل میں بھر جاتا تھا۔وہ ایک سوکھے ہوئے درخت کے پاس پہنچا۔درخت کے تنے میں اسے سوراخ نظر آیا۔اس نے اندر جھانکا تو خوشی سے وہ اچھل پڑا۔وہ درخت اندر سے کھوکھلا تھا۔ چوہے نے سوچا کہ اخروٹ ذخیرہ کرنے کی اس سے محفوظ جگہ اور…
**”بادشاہ کا انصاف”**
ایک زمانے میں ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی۔ اس ملک کا بادشاہ رخصت ہوا تو عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ نیا حکمران ان کے دن بدل دے گا۔ نئے بادشاہ نے آتے ہی محل کی رونقیں بڑھانا شروع کیں، درباریوں کو نوازا، اور ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی — یہ کہہ کر کہ “خزانہ خالی ہے، سب کو قربانی دینی ہوگی۔” مگر ایک عجیب بات ہوئی۔ جو تاجر پہلے سے امیر تھے، انہوں نے اپنے مال کی قیمتیں بڑھا دیں اور نیا ٹیکس بھی عوام کی جیب سے نکلوا لیا۔ ان کے گودام بھرتے گئے، ان کی حویلیاں سجتی گئیں۔ مگر جو کسان اپنے کھیت میں دن رات محنت کرتا تھا، اس کی گندم کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی، جبکہ بیج، کھاد اور اوزار مہنگے ہو گئے۔ جو مزدور صبح سے شام تک پتھر توڑتا تھا، اس کی مزدوری میں ایک پیسہ اضافہ نہ ہوا، مگر روٹی…
لالچی سوداگر –
کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔ کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔راستے میں کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا۔وہاں سے ایک درویش کا گزررہا تھا۔اس نے سوداگر کو دیکھا تو ان کے برابر میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگا۔وہ دونوں دوست بن گئے۔سوداگر نے پوچھا:”تم کہاں جارہے ہو؟“درویش نے جواب دیا:”مجھے ایک ایسی سرنگ کا پتاچلا ہے جس میں سونا بند ہے ،میں وہی سوناڈھونڈنے جارہا ہوں۔ اب میں چلتا ہوں۔“سوداگر نے کہا:”رکو،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔“سوداگر نے کہا:”اگر اس سرنگ میں سے سونا نکلا تو ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔(جاری ہے) “جب سرنگ کے قریب پہنچے تو درویش نے کوئی منتر پڑھا۔وہ سرنگ فوراً کھل گئی اور اس سرنگ کے کھلتے ہی…
چالیس دن کا بادشاہ –
آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی اجازت دی۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک فارس پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ بہت پریشان رہتا تھا کیونکہ ملک میں چوری اور ڈکیتی عام تھی،باوجود کوشش کے بھی وہ اس پر قابو نہیں پا رہا تھا۔ایک دن بادشاہ پریشانی میں محل سے نکل کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس نے دیکھا ایک لکڑہارا بہت محنت سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔لکڑہارا بادشاہ کو دیکھ کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت!آپ کسی شاہی سواری میں نہیں آئے؟بادشاہ نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو اس نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟بادشاہ نے سر ہلایا تو وہ بولا آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی…
لالچ بُری بَلا ہے
کسی گاؤں میں دینو نام کا ایک کمہار رہا کرتا تھا۔دینو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔مٹی سے بڑے خوبصورت اور پائیدار برتن بنانا جانتا تھا۔ایک دفعہ اس کے بنائے ہوئے ایک برتن کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر گاؤں کے سخی زمیندار نے اسے ایک چھوٹا سا کھیت تحفے میں دے دیا۔اب دینو تو کمہار تھا۔وہ برتن بنانا تو جانتا تھا، مگر وہ تو کھیتی باڑی کے کام سے بالکل واقف نہ تھا۔اسے بس یہ معلوم تھا کہ کھیت میں ہل چلا کر اگر بیج بو دیا جائے تو فصل اُگ آتی ہے۔اس نے کھیت میں ہَل تو چلا دیا، مگر اب سوچ میں پڑ گیا۔پھر وہ فوراً بازار گیا اور بازار میں اسے جو بیج اچھا لگا، وہ اُٹھا لایا۔وہ سیدھا اپنے کھیت میں پہنچا اور سارے بیج پورے کھیت میں پھیلا دیے۔(جاری ہے) دینو کمہار نے جو بیج لگائے تھے وہ کسی سبزی یا پھل کے نہیں،…
بھالو اور شہد کی مکھیاں –
رنگا بھالو اپنی سستی کی وجہ سے جنگل بھر میں نالائق اور نکما مشہور تھا۔جنگل کا قانون تھا کہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کا کھانا نہیں چرائے گا بلکہ خود محنت کرے گا لیکن اب بھلا رنگا کو یہ بات کون سمجھاتا؟اُسے جس نے بھی سمجھایا،وہ سمجھا سمجھا کر تھک گیا وہ کبھی کسی کی مچھلیاں چُرا لیتا اور کبھی شہد کی مکھیوں کو بھگا کر اُن کا شہد ہڑپ کر جاتا۔اپنی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے وہ کئی بار پٹ بھی چکا تھا لیکن رنگا کو باز آنا تھا،نہ آیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔سردیوں کی ایک رات بھوک سے رنگا کا بُرا حال تھا کہ اچانک اُسے درخت پر بھن بھن کی آوازیں سنائی دیں۔اس نے جب اوپر نظر اٹھائی تو اُسے شہد کا چھتا نظر آیا۔اب تو رنگا کے منہ میں پانی بھر آیا،اس نے چھلانگ لگائی اور درخت پر چڑھ گیا۔(جاری ہے) شہد کی مکھیوں…
اژدھے کا شکار
مچھلی کے شکار کے لیے ہم دریا کہ کنارے کانٹے ، ڈوریاں پانی میں ڈالے اور بنسیاں تھا مے بیٹھے تھے۔ یہاں ساتھ ساتھ تین درخت تھے جن سے ٹیک لگائے ہم تین دوست بیٹھے تھے ۔ ہمیں ادھر آتے دیکھ کر کئی لوگوں نے منع کیا کہ اُدھر نہ جاؤ، وہاں ایک اژدہا دیکھا گیا ہے ۔ہم نے سنی اَن سنی کردی اور یہاں آبیٹھے ۔خالد نے کہا : ہم اسی لیے تو یہاں آئے ہیں۔ اژد ہے کہ خوف سے مچھلیوں کے شکاری اس طرف نہیں آتے اور یہاں خوب مچھلیاں ملتی ہیں اور پھر ہمارے پاس یہ بندوق بھی تو ہے ۔ اس نے تھیلے میں پڑی بندوق کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔اس وقت شامل ڈھل چکی تھی اور چاند نکل آیا تھا۔ آسمان پہ چاند ستاروں کا کارواں رواں دواں تھا۔ دریا کے پانی میں چاند ستارے یوں جھلملارہے تھے جیسے جگنوؤں لہروں اور دائروں میں تحلیل…
بڑا چوہا،چھوٹا خرگوش
”چھوٹے میاں!میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم اپنی طاقت کو بڑھا لیں۔“بڑے چوہے نے چھوٹے خرگوش سے کہا۔دونوں میں بہت گہری دوستی تھی۔”بھائی جان!میں سمجھا نہیں،تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟“چھوٹا خرگوش کان ہلاتے ہوئے بولا۔”چھوٹے میاں!کل رات جب بندر تمہارے ہاتھ سے گاجر چھین کر بھاگ گیا تو مجھے بہت افسوس ہوا،میں رات بھر اپنے بل میں یہی سوچتا رہا کہ میں بھی بہادر ہوں،تم بھی بزدل نہیں ہو،پھر ہم میں ایسی کیا کمی ہے کہ بندر تم سے گاجر چھین کر بھاگ کھڑا ہوا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔“ بڑا چوہا تفصیل سے بولتا چلاy گیا۔”تو پھر؟“چھوٹے خرگوش نے آنکھیں مٹکائیں۔”پھر یہ کہ چھوٹے میاں!ہمیں اپنی طاقت بڑھانے کے لئے کسی طاقتور جانور سے دوستی کر لینی چاہیے،پھر کوئی بھی جانور ہم سے کچھ چھیننے سے پہلے سو بار سوچے گا۔(جاری ہے) “بڑے چوہے نے اپنی دانست میں بڑی ہی دانش مندانہ بات کی۔”ہاہاہاہا․․․․ہاہاہاہا۔ “چھوٹا خرگوش اپنے…
اُلو کی بیوقوفی
ارے تم نے یہ کیا کر دیا؟یہ تو میرے بچے تھے،اپنے دوست کے بچے ہی کھا گئی۔شور کی آواز سُن کر اَڑوس پڑوس کے چمگادڑ،اُلو کے گھر جمع ہو گئے،وہاں اُلو چیل سے جھگڑ رہا تھا اور اپنے بچے کھا جانے پر غصہ کر رہا تھا۔اُلو نے روتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو بتایا:”نئے سال کی خوشی میں جو جنگلی پرندوں کی دعوت تھی نا“!اس میں میری اس چیل سے دوستی ہو گئی تھی،میں نے اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ تم میرے بچوں کو نہیں کھاؤ گی،لیکن!یہ بے وفا نکلی،دوست نہیں میری دشمن نکلی اور آج اس نے میرے بچوں کو کھا لیا۔ اُلو روئے جا رہا تھا،بچوں کے غم میں اس کے آنسو رُک ہی نہیں پا رہے تھے۔اپنے پڑوسی کی حالت دیکھ کر چمگادڑوں نے بھی چیل کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ چیل نے انہیں خاموش کرواتے ہوئے کہا،آپ سب اس کے پڑوسی ہیں نا!پہلے…
گدھا بنا گھوڑا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک کسان کے پاس دو جانور تھے۔ ایک خوبصورت، تیز رفتار گھوڑا، اور دوسرا مضبوط مگر سادہ سا گدھا۔گھوڑا کسان کی شان سمجھا جاتا تھا۔جب بھی کوئی مہمان آتا، کسان بڑے فخر سے کہتا:“آئیے، پہلے میرا گھوڑا دیکھیے۔”وہ باہر کھڑے ہو کر صرف ایک آواز لگاتا:“ارے میرے شہسوار!” اور گھوڑا اصطبل سے گرد اڑاتا ہوا دوڑتا چلا آتا۔مہمان اس کی چال دیکھتے، اس کی گردن سہلاتے، اس کی تعریف کرتے اور کسان کی قسمت پر رشک کرتے۔یہ سب مناظر اصطبل کے ایک کونے میں کھڑا گدھا خاموشی سے دیکھا کرتا تھا۔شروع میں وہ صرف دیکھتا رہا، پھر اسے حسرت ہونے لگیاور آخرکار حسرت نے خواہش کی شکل اختیار کر لی۔ وہ سوچتا: “آخر مجھ میں کیا کمی ہے؟ اگر میں بھی گھوڑے جیسا بن جاؤں تو لوگ میری بھی تعریف کریں، مالک بھی مجھ پر فخر کرے، اور مہمان مجھے دیکھنے آیا کریں۔”ایک دن اس…
فرہاد
راوی کہتا ہے جب زمین نئی تھی، جب پہاڑ ابھی اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے، جب دریا اپنا راستہ بنانے میں تھے، اور جب پہلا انسان اس زمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ اس وقت کسی کو علم نہیں تھا کہ انسان کیا ہے، اسے کیا ملے گا، اور وہ کیا کھو دے گا۔ اس زمین کے پہلے انسانوں میں ایک شخص جیسے قیس کہا جاتا تھا۔ قیس کو اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کا بادشاہ بنا دیا تھا، ہر پہاڑ، ہر دریا، ہر جنگل، ہر جانور، ہر پرندہ، ہر وہ چیز جو زمین پر تھی، سب قیس کی بادشاہت میں تھی۔ اس کے پاس اتنا کچھ تھا کہ ہزاروں سال خوشی سے گزار سکتا تھا۔ مگر قیس کا دل ٹھہرا نہیں۔ ایک چھوٹا سا حصہ تھا، زمین کے مشرقی کنارے پر، پہاڑی سلسلے کے پیچھے، جو قیس کی بادشاہت میں شامل نہیں تھا۔ یہ حصہ اللہ تعالیٰ نے…