سسرال کی دعوت اور “شرمیلا” داماد 🍗 یہ قصہ ہے نصیر صاحب کا، جن کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ نصیر صاحب ویسے تو ماشاءاللہ سے “کھاؤ پیو” قسم کے انسان تھے، لیکن سسرال میں اپنی شرافت اور نفاست کا رعب جمانے کے لیے انہوں نے “کم گو اور کم خور” بننے کی اداکاری شروع کر رکھی تھی۔ ایک بار انہیں سسرال سے خصوصی دعوت آئی۔ ساس صاحبہ نے داماد کے لیے دیسی گھی کے پراٹھے، کڑاہی گوشت، مچھلی اور کھیر کا اہتمام کیا۔ دسترخوان پر بیٹھ کر نصیر صاحب کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے، لیکن شرم کے مارے انہوں نے ایسے منہ بنایا جیسے انہیں بھوک ہی نہ ہو۔ساس نے پیار سے کہا: “نصیر میاں! ایک پراٹھا اور لیں نا۔”نصیر صاحب نے ایک چھوٹی سی نوالہ لیتے ہوئے کہا: “جی نہیں امی جی! بس آدھا پراٹھا ہی کافی ہے، میرا معدہ بہت نازک ہے، زیادہ نہیں کھا…