بادشاہ کا فیصلہ اور بوڑھی ماں کی جھونپڑی

بادشاہ کا فیصلہ اور بوڑھی ماں کی جھونپڑی

بادشاہ سلیمان اپنی انصاف پسندی اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے دربار سے کبھی کسی مظلوم کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا تھا۔

ایک دن اس نے دریا کے کنارے ایک شاندار محل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ محل تیار ہوا تو اس کی شان و شوکت دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔

مگر محل کے مرکزی دروازے کے قریب ایک چھوٹی سی پرانی جھونپڑی کھڑی تھی۔

وزیر نے جھونپڑی دیکھتے ہی کہا:

“یہ جھونپڑی یہاں سے ہٹاؤ! بادشاہ کے محل کے سامنے یہ جگہ اچھی نہیں لگتی۔”

سپاہی نے بتایا:

“حضور، اس میں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے۔”

وزیر بوڑھی عورت کے پاس گیا اور بولا:

“اماں! بادشاہ تمہیں اس جھونپڑی کے بدلے جتنا چاہو مال دینے کو تیار ہیں۔”

بوڑھی عورت نے جھونپڑی کی دیوار پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی آواز میں بولی:

“بیٹا، یہ میرے لیے جھونپڑی نہیں… میری پوری زندگی ہے۔”

وزیر حیران ہوا۔

بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

“میرے شوہر نے اپنے ہاتھوں سے یہ گھر بنایا تھا۔ ہم نے اسی چھت کے نیچے اپنی زندگی گزاری۔ اب وہ دنیا میں نہیں، مگر ان کی یادیں آج بھی ان دیواروں میں سانس لیتی ہیں۔ میں سونا لے کر ان یادوں کو کہاں سے خریدوں گی؟”

وزیر نے بہت سمجھایا، مگر وہ نہ مانی۔

آخرکار معاملہ بادشاہ سلیمان کے دربار میں پہنچا۔

بادشاہ نے پوچھا:

“اماں! اگر میں تمہیں اس جھونپڑی کے بدلے سونے سے بھرا خزانہ دے دوں تو کیا تم اسے چھوڑ دو گی؟”

بوڑھی عورت نے سر جھکا کر کہا:

“بادشاہ سلامت! خزانہ میرے لیے نیا گھر خرید سکتا ہے، مگر میرے شوہر کی آخری یاد نہیں۔”

دربار میں خاموشی چھا گئی۔

بادشاہ سلیمان کچھ دیر سوچتا رہا، پھر اپنے تخت سے اٹھ کر بولا:

“یہ جھونپڑی اپنی جگہ قائم رہے گی۔ کوئی اسے ہاتھ نہیں لگائے گا!”

وزیر نے حیرت سے پوچھا:

“لیکن حضور! یہ تو محل کی خوبصورتی خراب کرتی ہے۔”

بادشاہ مسکرایا اور بولا:

“اگر ہماری خوبصورتی کسی غریب کا دل توڑنے لگے، تو پھر وہ خوبصورتی نہیں، غرور ہے۔”

پھر اس نے کہا:

“یاد رکھو! محل انسان کی شان بتاتا ہے، مگر انصاف انسان کا کردار بتاتا ہے۔”

یوں عظیم الشان محل کے ساتھ وہ چھوٹی سی جھونپڑی بھی قائم رہی۔

اور لوگوں نے کہنا شروع کر دیا:

“اس محل کی سب سے قیمتی چیز اس کا سونا نہیں، بادشاہ کا انصاف ہے۔”

سبق: کسی کی چیز کو معمولی سمجھنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ شاید اس میں اس شخص کی پوری دنیا بسی ہو۔

Leave a Reply

NZ's Corner