بلاعنوان

بلاعنوان

ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا جو انتہائی کاہل اور چالاک طبیعت کا مالک تھا۔ محنت کرنا اس کے مزاج کے خلاف تھا، مگر دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا اس کی عادت بن چکی تھی۔ اس کے پاس ایک گدھا تھا، جس کی دیکھ بھال بھی وہ خود نہیں کرتا تھا۔

وہ گدھے کو رات کے وقت چپکے سے لوگوں کے کھیتوں میں چھوڑ دیتا تاکہ وہ وہاں چر کر اپنا پیٹ بھر لے، اور اس طرح اس کی سستی بھی قائم رہے اور خرچ بھی نہ آئے۔ مگر جب لوگوں کو اس کی حرکتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سختی سے منع کر دیا کہ اگر تمہارا گدھا دوبارہ ہمارے کھیت میں آیا تو اسے مار دیا جائے گا۔

اب آدمی پریشان ہو گیا کہ بغیر خرچ کے کام کیسے چلے؟ بہت سوچنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک مکاری آئی۔ اس نے کہیں سے شیر کی کھال حاصل کی اور رات کے وقت اپنے گدھے پر ڈال کر اسے جنگل اور کھیتوں کی طرف چھوڑ دیتا۔

اب جو بھی رات میں اس جانور کو دیکھتا، دور سے شیر سمجھ کر خوفزدہ ہو جاتا اور بھاگ جاتا۔ گدھا بے خوف ہو کر کھیتوں میں فصلیں کھاتا رہتا، اور مالک اپنی چالاکی پر خوش ہوتا تھا۔

لیکن وقت کے ساتھ لوگوں کا نقصان بڑھتا گیا اور گاؤں میں خوف پھیل گیا۔ ایک دن گاؤں کا ایک سمجھدار اور بہادر شخص اس راز کو کھولنے کے لیے رات کو درخت پر چھپ کر بیٹھ گیا۔

جب رات ہوئی تو وہ “شیر” کھیت میں آیا اور گھاس چرنے لگا۔ اس کی حرکتیں دیکھ کر اس شخص کو شک ہوا۔ اس نے ایک پتھر مارا، گدھے نے فوراً لات ماری، اور یوں حقیقت واضح ہو گئی کہ یہ شیر نہیں بلکہ گدھا ہے۔

اس نے موقع پا کر “ڈھینچوں” کی آواز نکالی، جس کے جواب میں گدھے نے بھی ویسی ہی آواز نکال دی۔ اب سارا راز کھل گیا۔

اس نے گدھے کو قابو کیا، رسی سے باندھا اور صبح گاؤں والوں کے سامنے پیش کر دیا۔ شیر کی کھال اتار دی گئی تو حقیقت سب کے سامنے آ گئی۔

گاؤں والوں نے اس چالاک آدمی کو سخت سزا دی اور اسے نقصان کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اب اسے اپنی غلطی کا خمیازہ اپنی محنت سے بھرنا پڑا۔ کاہلی اور دھوکے سے حاصل کیا گیا فائدہ اس کے لیے عذاب بن گیا۔

اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دھوکہ، مکاری اور سستی کبھی فائدہ نہیں دیتی۔ جو انسان محنت سے بھاگتا ہے اور دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، وہ آخرکار خود نقصان میں پڑ جاتا ہے۔ اصل کامیابی محنت، دیانت اور سچائی میں ہے، نہ کہ چالاکی اور فریب میں۔

Leave a Reply

NZ's Corner