ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔
اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔
ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔
اس کے بجائے اس نے انعام کے طور پر اپنی پیٹھ پر سو کوڑے مارنے کا مطالبہ کیا۔ سب حیران رہ گئے۔ آخر بادشاہ نے ایک خادم کو حکم دیا کہ اسے سو کوڑے مارے جائیں۔ جب ماہی گیر کو پچاس کوڑے لگ چکے تو اس نے رکنے کو کہا اور بتایا کہ اس کاروبار میں اس کا ایک شریک بھی ہے۔ وہ شریک دربان تھا۔
بادشاہ ساری بات سمجھ گیا۔ اس نے دربان کو دربار میں بلایا، اسے باقی کے پچاس کوڑے لگوائے اور نوکری سے بھی نکال دیا۔ اور عقلمند ماہی گیر کو بادشاہ نے انعام کے طور پر بہت ساری دولت دی۔
حاصل سبق:
تمہاری عقلمندی تمہیں مشکل سے نکال سکتی ہے۔ لہٰذا عقلمند بنو اور اچھے کام کرو۔
#منقول
مزید ایسی کہانیوں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں:
