ابن بطوطہ‘‘میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ بحر انٹلا نٹک میں ایک مرتبہ طوفان کی وجہ سے عربوں کا ایک جہاز ٹوٹ گیا ،سمندر کی موجوں نے اسے برباد کردیا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک عرب کو جزیرہ کی طرف پہونچا دیا وہ آبادی میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ پوری بستی غیر مسلموں سے آباد ہے ایک غریب کے جھونپڑے میں فروکش ہوئے کچھ مدت کے بعد گھر والے غمگین اور شکستہ دل تھے ،
عرب مہمان نے اپنے محسن مالک ِمکان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ہر سال سمندر سے ایک بلا آتی ہے اور بستی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس بلا کو ٹالنے کے لیے ایک رسم ادا کی جاتی ہے کہ پوری بستی میں سے ایک حسین و جمیل لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے سمندر کے کنارے ایک مندر میں رات میں چھوڑ آتے ہیں لڑکی بلا کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے اور بلا دور ہو جاتی ہے؛ مگر دوسرے دن وہ لڑکی مردہ ہوتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو ساری بستی والے کی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے اس سال میری لڑکی کی باری ہے اس لیے فکر و غم لاحق ہے مسلم عرب نے کہا گھبراؤ نہیں اس کی جگہ پر مجھے بنا سنوار کر بھیج دو؛
چنانچہ گھر والوں نے ایسا ہی کیا اور مندر میں چھوڑ آئے اور وہ باہمت عرب قرآن پاک کی تلاوت میں مشغول ہوگئے پھر جب رات کو سمندر کی طرف سے ایک بلا جہاز کی شکل میں ساحل کی طرف آرہی تھی مسلم عرب نے بلا دیکھتے ہی اذان کہنی شروع کی، اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ پر پہنچتے ہی بلا لوٹ گئی صبح وہ عرب صحیح سلامت گھر واپس آگئے ملک میں چرچا ہونے لگا اور سب حیران اور متأثر تھے؛
یہاں تک کہ بادشاہ وقت تک یہ خبر پہنچ گئی دوسرے سال پھر اسی طرح کیا گیا کہ اس مسلم عرب مہمان کو آراستہ کرکے مندر میں چھوڑ آئے رات میں بلا آئی اور مسلم مہمان نے اذان کہنی شروع کی اور اشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ پر ہی بلا واپس ہوگئی لوگوں کا تأثر بڑھ گیا بادشاہ نے ابھی بھی احتیاط سے کام لیا تیسرے سال پھر اسی طرح کیا گیا بلا آنے پر مسلم عرب نے جیسے اذان شروع کی اور’’ اللّٰہ اکبر اللّٰہ اکبر‘‘ کہا تو وہ بلا ہمیشہ کے لیے غائب ہوگئی؛
چنانچہ بادشاہ اپنے وزیر سمیت اسلام سے مشرف ہوا اور اس کی وجہ سے ساری رعایا بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگئی
۔ (عرب ہند کے تعلقات۱۷۴)
اگر کسی کو پیڈ پروموشن کروانی ہے تو انباکس کر سکتے ہیں 📥
Info Planet #infoplanet
