بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک بہت پرانے جنگل پر ایک بوڑھا شیر حکومت کرتا تھا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھا، لیکن اس نے تخت چھوڑنے کے بجائے یہ طے کیا کہ اب اس کا بیٹا (شہزادہ شیر) تخت سنبھالے گا۔
مسئلہ یہ تھا کہ وہ شہزادہ شیر پیدا تو جنگل میں ہوا تھا، لیکن اس کی پرورش اور تعلیم ایک دوسرے دور دراز کے پرتعیش جزیرے پر ہوئی تھی۔ اسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ جنگل کی زمین کیسی ہوتی ہے یا جانوروں کے دکھ درد کیا ہیں۔
جب شہزادے کی واپسی ہوئی، تو پورے جنگل کو سجایا گیا۔ لومڑیوں نے (جو خوشامدی وزراء تھیں) ہر طرف یہ اشتہار لگوا دیے کہ: “آ رہا ہے وہ، جو جنگل کی قسمت بدلے گا! وہی خون، وہی نسل!”
ایک دن ایک دبلا پتلا گدھا شہزادے کے پاس آیا اور بولا: “حضور! ہم بھوکے مر رہے ہیں، گھاس ختم ہو گئی ہے اور دریا کا پانی گدلا ہو چکا ہے۔”
شہزادہ شیر، جو ریشمی صوفے پر بیٹھا ہوا تھا، حیرت سے بولا: “گھاس ختم ہو گئی ہے تو کیا ہوا؟ تم لوگ کیک (Cake) اور پیزا کیوں نہیں کھاتے؟ اور اگر پانی گندا ہے، تو منرل واٹر کیوں نہیں پیتے؟”
لومڑی نے فوراً بات سنبھالی اور گدھے کو دھکا دے کر باہر نکال دیا اور جانوروں میں یہ پروپیگنڈا پھیلا دیا کہ: “دیکھو! شہزادہ کتنا ذہین ہے، وہ تمہیں نئے نئے کھانوں کے مشورے دے رہا ہے!”
شہزادے نے اپنے بچپن کے دوستوں (جو دوسرے جنگلوں کے کتے اور چیتے تھے) کو بڑے بڑے عہدوں پر فائز کر دیا۔ وہ سب مل کر جنگل کے وسائل کو ایسے استعمال کرتے جیسے وہ ان کے باپ کی جاگیر ہو۔ جب بھی کوئی جانور شکایت کرتا کہ “میریت” (Merit) کہاں ہے؟ تو اسے جواب ملتا:
“یہ اس خاندان کا احسان ہے کہ انہوں نے تمہیں جنگل میں رہنے کی اجازت دی، ورنہ تم لوگ تو کہیں کے نہ رہتے۔”
آخر کار جنگل تباہ ہو گیا، پرندے اڑ گئے، اور صرف وہی جانور باقی رہ گئے جو یا تو غلام تھے یا خوشامدی۔ شہزادہ شیر اپنی دولت سمیٹ کر دوبارہ اپنے اسی جزیرے پر چلا گیا، یہ کہہ کر کہ: “یہاں کے جانور جاہل ہیں، وہ میری جدید سوچ کو سمجھ ہی نہیں سکے۔”

“جب عوام یہ سمجھنے لگیں کہ ان کی نجات صرف ایک ‘خاندان’ میں ہے، تو وہ شعور کی پہلی سیڑھی سے گر جاتے ہیں۔”

اگر آپ کو ہماری پوسٹ/کہانیاں پسند آتی ہیں تو لائک اور شئیر ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner