آج سے کئی سو سال پہلے کا ذکر ہے کہ ملک شام کے ایک شہر میں ایک نہایت پرہیزگار بزرگ تھے۔ ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا اور وہ نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے۔ لوگ ان کو اللہ کا ولی سمجھتے تھے اور ان کی بہت عزت کرتے تھے۔
بد قسمتی سے شیطان نے ان کو غلط راستے پر ڈال دیا۔ وہ اللہ کو بھلا بیٹھے اور ہر وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کی نظروں میں ان کی کوئی عزت نہ رہی اور وہ ان کو ایک ذلیل دھوکےباز سمجھنے لگے۔ اللّٰہ تعالی نے بھی ان کے دل کا سکون اور چین چھین لیا ان کے کسی کام میں برکت نہ رہی اور وہ اللہ تعالیٰ کو اپنا دشمن سمجھ کر اس کی رحمت سے مایوس ہو گئے ۔ ایک دن وہ شہر کی ایک گلی سے گزر رہے تھے کہ ایک جگہ انھوں نے دیکھا کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا اور اس گھر سے ایک بچہ روتا چلاتا ہوا نکلا۔ اس نے کوئی ایسی حرکت کی تھی جس سے اس کی والدہ ناراض ہو گئی تھی۔ اس نے بچے کو گھر سے دھکے دے کر نکال دیا تھا اور گھر کا دروازہ بند کر لیا تھا۔ بچہ روتا روتا کچھ دور تک گیا پھر ایک جگہ کھڑا ہو گیا اور سوچنے لگا کہ میں اپنے ماں باپ کے گھر کے سوا کہاں جا سکتا ہوں اور کون مجھے اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ یہ سوچ کر وہ بجھے ہوئے دل کے ساتھ اپنے گھر کی طرف پلٹ پڑا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند ہے تو بے چارہ دروازے کے باہر چوکھٹ پر سر رکھ کر لیٹ گیا یہاں تک کہ اس کو نیند آ گئی۔ کافی دیر کے بعد ماں نے دروازہ کھولا تو بچے کو چوکھٹ پر سر رکھے سوتا دیکھ کر اس کا دل بھر آیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مامتا کی ماری کو بچے کی بری حرکت یاد نہ رہی اس نے اسے اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور اس کا منہ سر چوم کر کہا:
Alfaz Ki Shararat
”میرے بچے ! تو نے دیکھا کہ میرے سوا تیرا کون ہے تو نے میرا کہا نہ مان کر اور بری حرکتیں کرکے میرا دل دکھایا اور مجھے ایسا غصہ دلایا جو ایک ماں کو ( عام حالات میں ) اپنے جگر کے ٹکڑے پر نہیں آتا۔ اللہ تعالی نے ہر ماں کے دل کو ایسا بنایا ہے کہ وہ اپنے بچوں سے پیار کرتی ہے اور ان کو سکھ پہنچانے کی کوشش کرتی ہے۔ میں بھی تمہاری ماں ہوں اور میرا بھی دل چاہتا ہے کہ تجھے پیار کروں تجھے ہر طرح کا آرام اور سکھ پہنچاؤں اور تیرے لیے ہر بھلائی اور بہتری چاہوں۔ میرے پاس جو کچھ ہے تیرے ہی لیے ہے۔ وہ راہ سے بھٹکے ہوئے بزرگ گلی میں ایک جگہ بیٹھ کر یہ سارا ماجرا دیکھ رہے تھے۔ ان پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ یہ کہتے ہوئے زار زار رونے لگے۔
الہی میں سیدھے راستے سے بھٹک گیا تھا اور تجھے بھلا بیٹھا تھا میں اپنے کیے پر شرمندہ اور پشیمان ہوں، میں سچے دل سے تو بہ کرتا ہوں تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے تیرے در پر رحم اور معافی کا بھکاری بن کر آیا ہوں میری خطاؤں کو بخش دے اے میرے خالق اے میرے مالک مجھے اپنے دروازے سے نہ دھتکارنا کہ تیرے سوا میرا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔“
اس کے بعد وہ بزرگ پھر اپنی پرانی حالت پر آگئے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ کی عبادت اور مخلوق خدا کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ لوگ ان کی پھر عزت کرنے لگے اور ان کے دل کو بھی اب سکون اور چین مل گیا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔
