زمانۂ قدیم میں یونان کے ایک شہر پر ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جو ہر بیماری کا علاج نایاب چیزوں میں تلاش کرتا تھا۔
اگر اسے زکام ہو جاتا تو وہ عام جڑی بوٹیوں پر یقین نہ کرتا، بلکہ کسی دور دراز پہاڑ کی برف یا سمندر کے پار اگنے والے پھول کا نسخہ مانگتا۔
اس کا خیال تھا کہ جتنا عجیب علاج ہوگا، اتنا ہی مؤثر ہوگا۔
ایک دن اس کی آنکھوں میں شدید درد شروع ہو گیا۔
آنکھیں سرخ رہتیں، روشنی چبھتی اور سر بھاری رہتا۔
محل کے حکیم، طبیب اور ڈاکٹر سب جمع ہوئے، مگر بادشاہ کی بیماری کم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔
آخرکار ایک بوڑھا طبیب دربار میں حاضر ہوا۔
اس نے بادشاہ کی آنکھوں کا معائنہ کیا، نبض دیکھی، چند لمحے داڑھی سہلائی اور نہایت سنجیدگی سے بولا:
“جہاں پناہ! علاج ممکن ہے، مگر تھوڑا مشکل ہے۔”
بادشاہ فوراً سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔
“فوراً بتاؤ!”
طبیب نے آہستہ سے کہا:
“ہر صبح ایک گلاس گدھے کا تازہ دودھ نوش فرمائیے۔”
دربار میں ایسا سناٹا چھایا جیسے کسی نے وقت روک دیا ہو۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
“گدھے کا… دودھ؟”
“جی حضور۔”
بادشاہ نے وزیر کی طرف دیکھا۔
“انتظام کرو!”
وزیر نے دل ہی دل میں آہ بھری اور بولا:
“جو حکم۔”
گدھے کی شاہی ملازمت
اگلے ہی دن وزیر بازار سے ایک صحت مند گدھا خرید لایا۔
گدھے کو شاہی اصطبل میں جگہ دی گئی۔
اس کے لیے بہترین چارہ، صاف پانی اور سایہ دار جگہ کا انتظام ہوا۔
گدھا شاید پوری زندگی میں پہلی بار اتنی عزت پا رہا تھا۔
مگر مسئلہ یہ تھا کہ عزت ملنے سے دودھ نہیں آتا۔
اگلی صبح وزیر ایک بالٹی لے کر گدھے کے پاس پہنچا۔
جیسے ہی قریب ہوا، گدھے نے ایسی زوردار لات ماری کہ وزیر بالٹی سمیت ایک طرف جا گرا۔
سپاہی ہنسی روکنے کے لیے منہ پھیرنے لگے۔
وزیر نے کپڑے جھاڑے اور بڑبڑایا:
“شاہی خدمت آسان نہیں۔”
دوسرے دن پھر کوشش ہوئی۔
نتیجہ وہی نکلا۔
فرق صرف اتنا تھا کہ اس بار لات دوسری ٹانگ سے پڑی۔
عظیم سائنسی تجربات
چند دن بعد وزیر کو ایک “عظیم خیال” آیا۔
اس نے سوچا:
“شاید گدھا بکریوں کو دیکھ کر دودھ دینا سیکھ جائے۔”
چنانچہ گدھے کو کئی دودھ دیتی بکریوں کے ساتھ باندھ دیا گیا۔
وزیر دور کھڑا خوشی خوشی تجربہ دیکھ رہا تھا۔
مگر گدھے نے سائنسی اصولوں میں دلچسپی لینے کے بجائے ایک بکری کو ایسی لات ماری کہ بیچاری وہیں ڈھیر ہو گئی۔
وزیر نے سر پکڑ لیا۔
“یہ تو شاگردی کے بجائے استادی دکھا رہا ہے!”
پھر اس نے دوسرا تجربہ کیا۔
اس بار گدھے کو بھینسوں کے ساتھ باندھا گیا۔
وزیر نے سوچا:
“اگر بکریوں سے کچھ نہیں سیکھا تو شاید بھینسوں سے سیکھ لے۔”
مگر گدھا اپنے مزاج کا پکا تھا۔
چند لمحوں بعد ایک بھینس بھی اس کی لات کا شکار ہو گئی۔
اب اصطبل میں دودھ کم اور ہنگامہ زیادہ تھا۔
حقیقت کا انکشاف
کئی ہفتے گزر گئے۔
نہ گدھا دودھ دینے لگا، نہ بادشاہ کی آنکھوں کا درد کم ہوا۔
آخر ایک دن وزیر دربار میں حاضر ہوا۔
اس کے کپڑے گرد آلود تھے، چہرے پر تھکن تھی اور آنکھوں میں وہ مایوسی جو صرف گدھوں کے ساتھ طویل تجربات کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
بادشاہ نے پوچھا:
“کیا ہوا؟ دودھ آیا؟”
وزیر نے گہرا سانس لیا۔
“حضور، گدھے کا دودھ شاید اس دنیا میں دستیاب نہیں۔”
بادشاہ نے غصے سے کہا:
“پھر میرا علاج؟”
وزیر نے ادب سے جواب دیا:
“ایک دوسرا نسخہ ہے۔”
“کیا؟”
“ہر صبح دو گلاس تازہ پانی پی لیا کیجیے۔”
بادشاہ حیران رہ گیا۔
“بس؟”
“جی، بس۔”
معجزہ
بادشاہ نے بے دلی سے پانی پینا شروع کیا۔
پہلے دن، پھر دوسرے دن، پھر تیسرے دن۔
چند ہفتوں بعد اس کی آنکھوں کا درد کم ہونے لگا۔
سرخی ختم ہو گئی۔
بھاری پن جاتا رہا۔
اور ایک صبح وہ تقریباً مکمل طور پر صحت یاب تھا۔
وہ خوش ہو گیا۔
مگر اس کے ذہن میں ایک سوال بدستور گردش کر رہا تھا۔
اس نے وزیر کو بلایا۔
وزیر کا جواب
“سچ سچ بتاؤ، گدھے کے دودھ والی بات کیا تھی؟”
وزیر مسکرایا۔
“جہاں پناہ، اگر میں پہلے دن کہتا کہ روز دو گلاس پانی پیجیے، تو کیا آپ یقین کرتے؟”
بادشاہ خاموش ہو گیا۔
وزیر نے بات جاری رکھی:
“آپ کو ہمیشہ نایاب علاج پسند تھے۔”
“اگر میں پانی کا مشورہ دیتا تو آپ اسے معمولی سمجھ کر رد کر دیتے۔”
“اس لیے پہلے ایک ایسی چیز کا ذکر کیا جو ناممکن اور عجیب تھی، تاکہ آخر میں سادہ چیز قیمتی محسوس ہو۔”
دربار میں خاموشی چھا گئی۔
پھر بادشاہ ہنس پڑا۔
اتنا ہنسا کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
“تو اصل علاج پانی تھا؟”
وزیر بولا:
“جی حضور۔”
“اور اصل بیماری؟”
“یہ یقین کہ صرف مشکل چیز ہی فائدہ دیتی ہے۔”
سبق
بعض اوقات مسئلہ علاج کی کمی نہیں، ہماری سوچ کی پیچیدگی ہوتی ہے۔
لوگ اکثر سادہ حل کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور مشکل نسخوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔
اور یونانی داناؤں کے بقول:
“جب عقل سادہ راستہ دکھائے تو ضد پہاڑوں کا چکر لگاتی ہے۔”
زندگی میں بہت سے لوگ گدھے کا دودھ ڈھونڈتے رہتے ہیں، جبکہ ان کی شفا ایک گلاس پانی میں چھپی ہوتی ہے۔
