تصور کریں… سال 1218ء کا وسط ہے۔ دنیا کے سب سے خونخوار فاتح، چنگیز خان نے چین کو فتح کرنے کے بعد ایک طاقتور اور وسیع مسلم سلطنت کے حکمران کو دوستی اور تجارت کا پیغام بھیجا ہے۔ چنگیز خان کے بھیجے ہوئے 450 تاجروں کا ایک پرامن تجارتی قافلہ سونا، چاندی، ریشم اور قیمتی تحائف لے کر اس مسلم سلطنت کے سرحدی شہر ‘اترار’ (Otrar) پہنچتا ہے۔
لیکن اس شہر کا حاکم ایک انتہائی مغرور اور لالچی انسان تھا۔ اس نے ان تاجروں کو جاسوس قرار دے کر قتل کروا دیا اور سارا مال لوٹ لیا۔ چنگیز خان کو جب یہ خبر ملی تو اس نے غصے پر قابو رکھا اور اس مسلم شہنشاہ کو ایک آخری موقع دیتے ہوئے اپنے 3 خاص سفیر بھیجے تاکہ وہ اس سرحدی حاکم کو سزا دے۔
اس مسلم شہنشاہ نے تاریخ کی سب سے بڑی اور ہولناک حماقت کی۔ اپنے غرور کے نشے میں اس نے چنگیز خان کے مرکزی سفیر کا سر قلم کروا دیا، اور باقی دو سفیروں کی داڑھیاں جلا کر انہیں ذلیل کر کے واپس بھیج دیا۔
تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب چنگیز خان نے اپنے کٹے ہوئے سفیر کا سر اور باقی دو کی جلی ہوئی داڑھیاں دیکھیں، تو وہ تنہا ایک پہاڑ کی چوٹی پر گیا، اپنی بیلٹ اتاری، اپنا سر ننگا کیا اور اپنے دیوتا کو پکارتے ہوئے کہا: “میں نے اس جنگ کی شروعات نہیں کی، مجھے انتقام کی طاقت دے!”
اس ایک مغرور شہنشاہ کی اس حرکت نے ایک ایسے طوفان کو جنم دیا جس نے اگلی چند دہائیوں میں کروڑوں انسانوں کو کاٹ کر رکھ دیا، عظیم الشان شہروں کو قبرستان بنا دیا اور اسلامی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ برپا کر دیا۔
یہ دنیا کی اس سب سے بدقسمت اور طاقتور ‘خوارزم شاہی سلطنت’ (Khwarazmian Empire) کی 100 فیصد مستند داستان ہے، جس کا عروج جتنا شاندار تھا، اس کا زوال اتنا ہی عبرتناک اور شرمناک تھا۔
غلاموں کے پیالے سے شہنشاہ کے تاج تک
خوارزم شاہی سلطنت کی شروعات کسی شاہی خاندان سے نہیں، بلکہ ‘انوشتگین غارچائی’ نامی ایک ترک غلام سے ہوئی تھی۔ یہ سلجوقی سلطنت کے دربار میں محض ایک طشت دار (Cupbearer – پانی اور شراب پلانے والا) تھا۔ لیکن اس کی قابلیت کی وجہ سے سلجوقیوں نے اسے خوارزم (موجودہ ازبکستان/ترکمانستان) کا گورنر بنا دیا۔
جیسے جیسے سلجوقی سلطنت کمزور ہوئی، انوشتگین کی نسلوں نے خود کو آزاد کر لیا۔ ان میں سب سے طاقتور حکمران ‘سلطان علاؤالدین محمد خوارزم شاہ’ تھا۔ اس نے اپنے دور میں فارس (ایران)، افغانستان اور وسطی ایشیا کے تمام علاقوں کو فتح کر کے ایک ایسی دیوہیکل سلطنت قائم کی جس کی سرحدیں ایک طرف ہندوستان اور دوسری طرف بغداد کے قریب تک جا لگیں۔
سکندرِ ثانی کا غرور اور اترار کا سانحہ
سلطان علاؤالدین محمد کی فوجی طاقت اس قدر بڑھ چکی تھی کہ اس نے خود کو ‘سکندرِ ثانی’ (The Second Alexander) اور زمین پر خدا کا سایہ کہلوانا شروع کر دیا تھا۔ اس کا غرور اتنا تھا کہ اس نے عباسی خلیفہ کو بھی دھمکی دی کہ وہ بغداد پر حملہ کر دے گا۔
جب چنگیز خان کا تجارتی قافلہ ‘اترار’ پہنچا، تو وہاں کا حاکم ‘ینالچق’ (Inalchuq – جسے غائر خان بھی کہا جاتا تھا) دراصل سلطان کی والدہ کا رشتہ دار تھا۔ جب ینالچق نے تاجروں کو قتل کیا، تو سلطان نے اسے سزا دینے کے بجائے اس کا ساتھ دیا اور چنگیز خان کے سفیروں کو ذلیل کیا۔ یہ تاریخ کی وہ بھیانک ترین عسکری اور سفارتی غلطی تھی، جس کی قیمت پوری انسانیت کو چکانی پڑی۔
منگول طوفان کی آمد اور تہذیبوں کی موت
1219ء میں چنگیز خان ایک لاکھ سے زائد خونخوار منگول جنگجوؤں کا طوفان لے کر خوارزم شاہی سلطنت پر ٹوٹ پڑا۔
سلطان محمد کے پاس تقریباً 4 لاکھ کی عظیم الشان فوج تھی، لیکن وہ اتنا ڈرپوک ثابت ہوا کہ اس نے منگولوں کا کھلے میدان میں سامنا کرنے کی ہمت ہی نہیں کی۔ اس نے اپنی فوج کو مختلف قلعوں میں بانٹ دیا اور خود بھاگ کھڑا ہوا۔
منگولوں نے بخارا، سمرقند، اترار، اور خوارزم (گرگنج) جیسے عظیم الشان اور صدیوں پرانے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ لاکھوں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا، عورتوں کو غلام بنایا گیا، کتابوں کے عظیم کتب خانے جلا دیے گئے، اور کٹے ہوئے سروں کے مینار کھڑے کر دیے گئے۔
ایک فرعون کا عبرتناک اور شرمناک انجام
جو سلطان محمد کل تک خود کو سکندرِ ثانی کہتا تھا، وہ منگولوں کے خوف سے ایک چوہے کی طرح چھپتا پھر رہا تھا۔ وہ بھاگتا ہوا بحیرہ خزر (Caspian Sea) کے ایک انتہائی چھوٹے اور ویران جزیرے (جزیرہ آبسکون) پر جا چھپا۔
دسمبر 1220ء میں دنیا کی سب سے بڑی اور امیر ترین سلطنت کا یہ شہنشاہ، اسی تنہا جزیرے پر بھوک، بیماری اور شدید خوف کی حالت میں مر گیا۔ تاریخ کا یہ سچ انسان کے رونگٹے کھڑے کر دیتا ہے کہ مرتے وقت اس شہنشاہ کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ اس کا کفن بنایا جا سکے، اس لیے اسے اس کے خدمت گار کے کپڑوں میں ہی دفنا دیا گیا! غرور کی اس سے بڑی موت تاریخ نے شاید ہی کبھی دیکھی ہو۔
دریائے سندھ کی لہریں اور آخری جنگجو (جلال الدین خوارزم شاہ)
سلطان محمد کی بزدلی کے برعکس، اس کا بیٹا اور آخری خوارزم شاہ، ‘جلال الدین منکبرنی’ (Jalal al-Din Mingburnu)، ایک سچا اور عظیم جنگجو تھا۔ اس نے بکھری ہوئی فوج کو اکٹھا کیا اور منگولوں کو ‘پروان’ کی جنگ میں زبردست شکست دی (یہ منگولوں کی پہلی بڑی شکست تھی)۔
لیکن چنگیز خان نے خود ایک بہت بڑی فوج کے ساتھ اس کا پیچھا کیا۔ 1221ء میں ‘جنگِ دریائے سندھ’ (Battle of Indus) میں جلال الدین کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا۔ اس کے ساتھی مارے گئے، اس کا خاندان منگولوں کے قبضے میں چلا گیا، لیکن اس نے ہتھیار نہیں ڈالے۔
جب کوئی راستہ نہ بچا، تو جلال الدین نے اپنا گھوڑا، اپنی تلوار اور ڈھال کے ساتھ، 20 فٹ کی بلندی سے سیدھا دریائے سندھ کی بپھری ہوئی لہروں میں چھلانگ لگا دی۔ وہ تیروں کی بارش میں دریا تیر کر پار کر گیا۔
چنگیز خان خود دریا کے کنارے آیا، اس بہادر شہزادے کو تیر کر دریا پار کرتے دیکھا، اور اپنے بیٹوں کی طرف اشارہ کر کے تاریخ کا وہ مشہور جملہ کہا:
“ایک باپ کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کا بیٹا ایسا ہو!”
تاریخی سبق: خوارزم شاہی سلطنت محض 100 سال کے اندر ابھری اور ختم ہو گئی۔ یہ تاریخ کا سب سے بھیانک اور سچا سبق ہے کہ جب طاقتور حکمران غرور میں آ کر سفارتی آداب بھول جاتے ہیں اور اپنے دشمن کو کمزور سمجھتے ہیں، تو وہ نہ صرف اپنا، بلکہ اپنی پوری قوم کا نام و نشان مٹا دیتے ہیں۔
