برگد کا درخت

برگد کا درخت

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب دلی برصغیر کی راجدھانی تھی، شہر کے گرد فصیل کھنچی ہوئی تھی، بلند دروازوں سے گزرنے کے لیے اجازت درکار ہوتی تھی اور دلی کی گلیوں میں قدم رکھنا بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ انہی دنوں جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کریم بخش نام کا ایک حجام رہتا تھا۔ اسے اپنے فن میں مہارت تھی، مگر گاؤں چھوٹا تھا، گاہک محدود تھے اور آمدنی اتنی کم کہ گھر کا خرچ پورا کرنا بھی مشکل ہو جاتا۔ آخر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ اب قسمت آزمانے دلی جائے گا۔ اس کے پاس چند سکے، استرے کا ایک جوڑا اور اپنے ہنر کے سوا کچھ نہ تھا۔ کئی دن کی مسافت، راستے کی تھکن اور طرح طرح کی دشواریوں کے بعد جب وہ دلی پہنچا تو اسے شہر کی بلند فصیل اور اس کے دروازے دیکھ کر اپنی بے مائیگی کا احساس ہوا۔ دروازے پر پہرے داروں نے اسے روک لیا۔ وہ کبھی اپنی غربت کا حال سناتا، کبھی اپنے ہنر کا ذکر کرتا، مگر اجازت ملنا آسان نہ تھا۔ بالآخر کئی دن کی کوشش اور منت سماجت کے بعد اسے شہر میں داخل ہونے کا موقع ملا۔ کریم بخش نے سوچا کہ اب اس کی محنت رنگ لائے گی، مگر اصل آزمائش تو ابھی باقی تھی۔ اس نے بازاروں میں جگہ جگہ حجاموں کی دکانیں دیکھیں اور ایک چھوٹی سی دکان کے مالک سے کرایہ پوچھا۔ جواب سن کر اس کے قدموں تلے زمین نکل گئی۔ دلی میں ایک معمولی سی دکان کی قیمت اتنی تھی کہ اس کے گاؤں کا نمبردار بھی شاید ایسی کئی دکانیں خریدنے کی استطاعت نہ رکھتا۔ وہ سارا دن بازاروں میں پھرتا رہا، مگر ہر جگہ قیمتیں سن کر مایوس لوٹ آتا۔ واپس جانے کا خیال دل میں آتا تو اسے گاؤں کی تنگ دستی یاد آ جاتی، اور وہ دوبارہ کسی نئی جگہ کی تلاش میں نکل پڑتا۔ آخر ایک روز اس کی ملاقات شہر کے ایک نگران سے ہوئی جو اسی علاقے سے تعلق رکھتا تھا جہاں کریم بخش کا گاؤں آباد تھا۔ کریم بخش نے اسے اپنی ساری داستان سنائی۔ نگران نے اس کی حالت پر ترس کھایا اور کہا، ’’دکان تو میں تمہیں نہیں دلا سکتا، مگر شہر کے ایک پرانے برگد کے نیچے کچھ جگہ خالی ہے۔ اگر چاہو تو وہاں بیٹھ کر اپنا کام شروع کر دو۔‘‘ کریم بخش کے لیے یہ پیش کش کسی نعمت سے کم نہ تھی۔ وہ اسی وقت اس کے ساتھ چل پڑا۔ شہر کے ایک مصروف حصے میں ایک قدیم برگد کھڑا تھا۔ اس کی شاخیں دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور گھنا سایہ زمین پر ایک سبز چھت کی مانند تن جاتا تھا۔ نگران نے درخت کے نیچے ایک چھوٹی سی جگہ دکھا کر کہا، ’’یہیں اپنا سامان رکھ لو۔ اس نے زمین صاف کی، ایک چھوٹا سا آئینہ لگایا، استرے سنبھالے اور اپنا کام شروع کر دیا۔ اس کی دکان اتنی مختصر تھی کہ بیک وقت صرف تین گاہک بیٹھ سکتے تھے۔ مگر کریم بخش کو اس بات کی فکر نہ تھی۔ وہ دل لگا کر کام کرتا، گاہک سے خوش اخلاقی سے پیش آتا اور اپنی آمدنی پر شکر ادا کرتا۔ چند ہی دنوں میں ایک عجیب بات ہونے لگی۔ اس کی جگہ پر صبح سے شام تک گاہکوں کا تانتا بندھا رہتا۔ تینوں نشستیں بھری ہوتیں، ایک گاہک اٹھتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔ کبھی ایسا ہوتا کہ کسی کو اپنی باری کے لیے انتظار کرنا پڑتا، مگر وہ پھر بھی کہیں اور جانے کے بجائے اسی برگد کے نیچے بیٹھا رہتا۔ بازار میں حجاموں کی کمی نہ تھی۔ کئی دکانیں ایسی تھیں جہاں عمدہ آئینے، آرام دہ نشستیں اور خوب صورت آرائش موجود تھی، لیکن ان سب کے باوجود کریم بخش کی چھوٹی سی جگہ آباد رہتی۔ تین ماہ کے اندر اس نے اتنا کما لیا جتنا اس نے دلی آنے سے پہلے کئی برسوں میں بھی نہ کمایا تھا۔ وہ اکثر اپنی قسمت پر حیران ہوتا اور دل ہی دل میں سوچتا کہ شاید اس کے ہاتھ میں واقعی کوئی خاص برکت ہے۔ مگر وقت کے ساتھ اس کے دل میں ایک اور خیال نے جنم لینا شروع کر دیا۔ سردیاں آئیں تو برگد کے پتے جھڑنے لگے، ہوا ٹھنڈی ہو گئی اور درخت کا سایہ اب گرمیوں جیسی ضرورت نہ رہا۔ ایک روز کریم بخش اپنی نشستوں پر نظر ڈال رہا تھا کہ اسے خیال آیا، ’’میری جگہ پر صرف تین آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔ اگر یہ درخت نہ ہو تو میں چھ نشستیں لگا سکتا ہوں۔ گاہک تو پہلے ہی اتنے آتے ہیں کہ کسی کو بٹھانے کی جگہ نہیں ملتی۔ اگر تین کے بجائے چھ آدمی ایک ساتھ حجامت بنوا سکیں تو میری آمدنی دگنی ہو جائے گی!‘‘ اس نے کچھ دیر درخت کی طرف دیکھا، پھر اپنی چھوٹی سی دکان پر نظر دوڑائی۔ اس کے دل نے کہا کہ اس درخت نے اسے جگہ تو دی ہے، مگر اب یہی درخت اس کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ چند ہی روز بعد اس نے ایک مزدور بلایا اور برگد کٹوا دیا۔ درخت گرا تو زمین کھل گئی۔ کریم بخش نے خوشی خوشی وہاں چھ نشستیں لگا دیں اور دل میں حساب لگانے لگا کہ اب اس کی آمدنی پہلے سے کہیں زیادہ ہو گی۔ سردیوں کے باقی دن بھی گزر گئے۔ گاہک آتے رہے، چھ نشستیں بھی اکثر بھر جاتی تھیں، اور کریم بخش اپنے فیصلے کو درست سمجھتا رہا۔ پھر بہار آئی، اس کے بعد گرمیوں نے دلی پر اپنا آہنی ہاتھ رکھ دیا۔ سورج کی تپش بڑھنے لگی، بازار کی زمین دوپہر کو آگ کی طرح دہکنے لگی اور گرم ہوا کے جھونکے لوگوں کو گھروں سے نکلنے پر آمادہ نہ کرتے۔ کریم بخش نے صبح سویرے اپنی دکان کھولی، استرے ترتیب دیے اور گاہکوں کا انتظار کرنے لگا۔ ایک گھنٹہ گزرا، پھر دوسرا، مگر کوئی نہ آیا۔ دوپہر تک اس کی چھ نشستیں خالی پڑی رہیں۔ اس نے سوچا شاید آج بازار میں رونق کم ہے، مگر اگلے روز بھی یہی ہوا، اور اس سے اگلے روز بھی۔ آہستہ آہستہ اس کی دکان ویران ہونے لگی۔ جو گاہک پہلے اس کے پاس باری کے انتظار میں بیٹھے رہتے تھے، اب دوسرے حجاموں کی دکانوں کا رخ کرنے لگے۔ کریم بخش حیران تھا۔ اس کے پاس اب پہلے سے دوگنی جگہ تھی، چھ نشستیں تھیں، کام کرنے کے لیے زیادہ سہولت تھی، مگر گاہک غائب تھے۔ اس نے آئینہ صاف کیا، نشستوں کو درست کیا، استرے تیز کیے اور کئی مرتبہ خود کو تسلی دی کہ شاید موسم بدلنے کے بعد کاروبار سنبھل جائے، لیکن دن گزرتے گئے اور اس کی آمدنی کم سے کم ہوتی گئی۔ ایک دوپہر جب گرمی ناقابلِ برداشت ہو چکی تھی، کریم بخش اپنی خالی دکان میں بیٹھا پسینہ پونچھ رہا تھا۔ اس کی نظر بار بار اس جگہ پر اٹھ جاتی جہاں کبھی برگد کی گھنی شاخیں ہوا کو چھان کر زمین تک پہنچنے دیتی تھیں۔ اسے یاد آیا کہ گاہک صرف حجامت بنوانے نہیں آتے تھے؛ وہ اس ٹھنڈے سائے میں بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار بھی کرتے تھے۔ وہاں ہوا نسبتاً خوش گوار ہوتی، زمین ٹھنڈی رہتی اور دھوپ کی شدت سے بچاؤ ملتا تھا۔ اب درخت نہیں تھا، سایہ نہیں تھا، اور چھ نشستوں کے باوجود اس کی جگہ پر بیٹھنا دشوار ہو گیا تھا۔ اسے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ جس چیز کو وہ اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ رہا تھا، درحقیقت اسی نے اس کی دکان کو دوسروں سے ممتاز بنا رکھا تھا۔ اس نے تین نشستوں کی جگہ چھ نشستیں تو حاصل کر لی تھیں، مگر وہ وجہ کھو بیٹھا تھا جس کے باعث تین نشستیں بھی ہمیشہ بھری رہتی تھیں۔ شام ہوئی تو کریم بخش نے اپنی دکان بند کی اور دیر تک کٹے ہوئے برگد کے تنے کو دیکھتا رہا۔ اس کے دل میں ایک ہی خیال گردش کر رہا تھا: کاش وہ چند نشستوں کے اضافے کی خاطر اس درخت کو نہ کٹواتا، جس کے سائے نے اسے دلی میں روزگار بھی دیا تھا اور عزت بھی۔

حاصلِ سبق:
بعض اوقات ہماری کامیابی کی اصل وجہ وہی چیز ہوتی ہے جسے ہم ترقی کی راہ میں رکاوٹ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ لالچ میں آ کر ہر چیز کو زیادہ کرنے کی کوشش نہ کریں؛ پہلے یہ پہچانیے کہ آپ کی کامیابی کی بنیاد کیا ہے، کیونکہ بنیاد ہی ختم ہو جائے تو وسعت بھی بے معنی رہ جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner