ایک نوجوان تھا۔ اس کا نام یوسف تھا۔ وہ بہت ذہین تھا، بہت ہوشیار تھا۔ لوگ اس کی عقل کی تعریف کرتے تھے، اس کی چالاکی کی داد دیتے تھے۔ وہ ہر مسئلہ حل کر لیتا، ہر مشکل سے نکل جاتا، ہر جگہ کامیاب ہو جاتا۔
لیکن وہ خوش نہیں تھا۔
وہ رات کو جاگتا، دن کو بے چین رہتا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی، لیکن اس کے دل میں خلاء تھا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی، لیکن اس کی روح میں اندھیرا تھا۔
ایک دن وہ شہر سے باہر جنگل میں چلا گیا۔ وہاں ایک بوڑھا درویش رہتا تھا۔ یوسف اس کے پاس بیٹھ گیا اور بولا: “مجھے سکون چاہیے۔ میں نے سب کچھ پا لیا، لیکن مجھے کچھ نہیں ملا۔”
درویش نے کہا: “بیٹا! تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے جو تجھے سکون نہیں لینے دیتی؟”
یوسف نے کہا: “آواز؟ کون سی آواز؟”
درویش نے کہا: “ہر آدمی کے دماغ میں ایک آواز ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کے دماغ میں ‘اور چاہیے’ کی آواز ہوتی ہے۔ کچھ کے دماغ میں ‘لوگ کیا کہیں گے’ کی آواز ہوتی ہے۔ کچھ کے دماغ میں ‘میں بہت چھوٹا ہوں’ کی آواز ہوتی ہے۔ کچھ کے دماغ میں ‘میں بہت بڑا ہوں’ کی آواز ہوتی ہے۔ بتا، تیرے دماغ میں کون سی آواز ہے؟”
یوسف نے سوچا۔ بہت دیر سوچا۔ پھر بولا: “میرے دماغ میں ‘اور’ کی آواز ہے۔ اور زیادہ، اور بہتر، اور اونچا، اور تیز۔ میں نے ساری زندگی یہی آواز سنی۔”
درویش نے کہا: “یہ آواز کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ اگر تو نے اسے سننا بند نہ کیا تو یہ تجھے کھا جائے گی۔”
یوسف نے پوچھا: “یہ آواز کیوں آتی ہے؟”
درویش نے کہا: “یہ آواز اس لیے آتی ہے کہ تو نے خود کو سننا نہیں سیکھا۔ تو دوسروں کی باتیں سنتا ہے، دوسروں کی تعریفیں سنتا ہے، دوسروں کی تنقیدیں سنتا ہے۔ لیکن تو نے اپنی روح کی بات کبھی نہیں سنی۔”
یوسف نے کہا: “میری روح کیا کہتی ہے؟”
درویش نے کہا: “یہ تو تجھے خود سننا پڑے گا۔ میں نہیں بتا سکتا۔”
یوسف واپس شہر آیا۔ اس نے اپنا گھر چھوڑ دیا، اپنا کام چھوڑ دیا، اپنے دوست چھوڑ دیے۔ وہ اکیلا جنگل میں چلا گیا۔
پہلے دن اسے بہت شور مچا۔ اس کا دماغ چلاتا رہا: “یہ کیا کر رہا ہے؟ لوگ کیا کہیں گے؟ تیرا کاروبار چھوڑ دیا؟ تیری عزت جا رہی ہے! تیرا وقت ضائع ہو رہا ہے! اور! اور! اور!”
یوسف نے کہا: “چپ رہو۔ میں سن رہا ہوں۔”
دوسرے دن دماغ نے کہا: “یہ پاگل پن ہے۔ تو جنگل میں بیٹھا ہے، لوگ شہر میں ترقی کر رہے ہیں۔ تو پیچھے رہ جائے گا۔ تیرے دوست آگے نکل جائیں گے۔ اور! اور! اور!”
یوسف نے کہا: “میں نے کہا چپ رہو۔”
تیسرے دن دماغ تھک گیا۔ وہ خاموش ہو گیا۔
یوسف نے پہلی بار سنا خاموشی۔ اس خاموشی میں اسے ایک دھیمی سی آواز سنائی دی۔
وہ آواز کہہ رہی تھی: “تم کون ہو؟”
یوسف نے کہا: “میں یوسف ہوں۔”
آواز نے کہا: “یوسف کون ہے؟ وہ جو لوگ کہتے ہیں؟ وہ جو تو بننا چاہتا ہے؟ وہ جو دوسروں نے بنا دیا؟”
یوسف خاموش رہا۔
آواز نے کہا: “جب تک تو دوسروں کی بنائی ہوئی شکل میں رہے گا، میری آواز نہیں سن سکے گا۔ اپنا چہرہ اتار۔”
یوسف نے اپنا چہرہ اتارنے کی کوشش کی۔ اس نے وہ چہرہ اتارا جو لوگوں نے دیکھا تھا ہوشیار، کامیاب، مضبوط۔ اس کے نیچے دوسرا چہرہ تھا وہ جو اس نے خود بنایا تھا۔ اسے بھی اتارا۔ اس کے نیچے تیسرا چہرہ تھا وہ جو اس کے والدین نے بنایا تھا۔ اسے بھی اتارا۔
آخر وہ اپنے اصلی چہرے تک پہنچ گیا۔ وہ چہرہ بہت چھوٹا تھا، بہت سادہ تھا، بہت کمزور تھا۔ وہ ڈر گیا۔
آواز نے کہا: “ڈر مت۔ یہی تو ہے۔ یہی تو ہمیشہ سے تھا۔”
یوسف نے پوچھا: “میں کون ہوں؟”
آواز نے کہا: “تو وہ ہے جو ڈرتا ہے، جو چاہتا ہے، جو کھو جاتا ہے، جو پھر مل جاتا ہے۔ تو وہ ہے جو سن رہا ہے۔ بس۔”
یوسف جنگل سے واپس آیا۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ بدل گیا ہے۔ وہ پہلے جیسا ہوشیار نہیں تھا، پہلے جیسی چالاکی نہیں تھی۔ لیکن اس کے چہرے پر سکون تھا۔
لوگوں نے پوچھا: “تم نے کیا پایا؟”
یوسف نے کہا: “میں نے وہ پایا جو میں نے کھو دیا تھا اپنے آپ کو۔”
لوگوں نے کہا: “لیکن تم پہلے بھی تو اپنے آپ میں تھے۔”
یوسف نے کہا: “نہیں۔ میں دوسروں میں تھا۔ لوگوں کی نظروں میں تھا، لوگوں کی تعریفوں میں تھا، لوگوں کی توقعات میں تھا۔ اب میں اپنے آپ میں ہوں۔”
اس نے دوبارہ کام شروع کیا، دوبارہ دوست بنائے، دوبارہ شہر میں رہنے لگا۔ لیکن اب اس کے دماغ میں ‘اور’ کی آواز نہیں تھی۔ اس کی جگہ ایک اور آواز تھی دھیمی، پرسکون، سچی۔
وہ آواز کہتی: “بس۔ اتنا کافی ہے۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی خود کو پہچاننے کی ہے۔ ہم سب کے دماغ میں کوئی نہ کوئی آواز ہوتی ہے “اور چاہیے”، “لوگ کیا کہیں گے”، “میں چھوٹا ہوں”، “میں بڑا ہوں”۔ یہ آوازیں ہمیں خود سے دور لے جاتی ہیں۔ ہم دوسروں کی بنائی ہوئی شکل میں جینے لگتے ہیں۔
حقیقی سکون اس وقت ملتا ہے جب ہم ان آوازوں کو خاموش کر دیں، اور اپنی روح کی آواز سنیں۔ وہ آواز کبھی ‘اور’ نہیں کہتی۔ وہ کہتی ہے: “جو ہے، وہی کافی ہے۔”
حوالہ:
یہ کہانی ترک صوفیانہ ادب کا حصہ ہے۔ اسے مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، جن میں “The Voice in My Head” اور “The Inner Voice” شامل ہیں۔ یہ کہانی یونس امرے (Yunus Emre) کی تعلیمات سے متاثر ہے، جو 13ویں صدی کے ترک صوفی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں انسان کی اپنی حقیقت کو پہچاننے اور دنیاوی آوازوں سے آزاد ہونے کی تعلیم ملتی ہے۔
