روس کے ایک گھنے اور سرد جنگل میں، جہاں دیودار کے درخت آسمان سے باتیں کرتے تھے اور ہوا پتے ہلا ہلا کر پراسرار کہانیاں سناتی تھی، دو کسان روزی کی تلاش میں لکڑیاں کاٹنے آئے۔
دونوں برسوں کے دوست تھے، مگر مزاج میں زمین آسمان کا فرق تھا۔
ایک محتاط اور سنجیدہ تھا، جبکہ دوسرا ذرا شوخ، چالاک اور دوسروں کو حیران کرنے کا شوقین۔
لکڑیاں کاٹتے کاٹتے باتوں کا سلسلہ چل نکلا۔
پہلے کسان نے کلہاڑی زمین پر رکھتے ہوئے پوچھا:
“اگر اچانک کوئی بھالو آ گیا تو تم کیا کرو گے؟”
دوسرا ہنسا اور بولا:
“میں؟ میں بھالو کو ہی ڈرا دوں گا!”
پہلا کسان مسکرایا۔
“اور وہ کیسے؟”
دوسرے نے فخر سے اپنے تھیلے کی طرف اشارہ کیا۔
“میں ایک بھالو کی کھال ساتھ لایا ہوں۔ اسے پہن کر ایسا دھاڑوں گا کہ اصلی بھالو بھی اپنی ماں کو یاد کرے گا!”
پہلا کسان سر ہلا کر ہنس دیا۔
“بھائی، کھیل کھیل میں کبھی خود نہ کھیل بن جانا۔”
دوسرے نے اس نصیحت کو مذاق میں اڑا دیا۔
مگر قسمت شاید ان کی گفتگو سن رہی تھی۔
اچانک جھاڑیوں میں زور سے سرسراہٹ ہوئی۔
درختوں کے درمیان سے ایک دیوہیکل بھالو نمودار ہوا۔
اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں اور اس کے بھاری قدم زمین کو ہلا رہے تھے۔
پہلے کسان نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا اور بجلی کی سی پھرتی سے درخت پر چڑھ گیا۔
دوسرا کسان گھبرا تو گیا، مگر اپنی شیخی یاد آ گئی۔
اس نے فوراً تھیلے سے بھالو کی کھال نکالی اور خود پر اوڑھ لی۔
پھر اس نے سینہ پھلا کر ایک خوفناک آواز نکالی:
“غرررررر!”
اصلی بھالو چند لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا۔
اس نے سامنے دیکھا، پھر دوبارہ دیکھا۔
شاید اسے لگا کہ اس کے علاقے میں اس سے بھی بڑا کوئی عجیب و غریب بھالو آ گیا ہے۔
بھالو نے احتیاط ہی میں عافیت سمجھی اور دم دبا کر جنگل کی گہرائیوں میں غائب ہو گیا۔
خطرہ ٹل گیا۔
درخت پر بیٹھا کسان خوشی سے چلایا:
“واہ! تم تو واقعی کامیاب ہو گئے!”
مگر نیچے سے کوئی جواب نہ آیا۔
جب اس نے غور سے دیکھا تو دوسرا کسان عجیب سی حالت میں کھڑا تھا۔
“کیا ہوا؟”
وہ بے بسی سے بولا:
“مسئلہ یہ ہے کہ یہ کھال اتر ہی نہیں رہی!”
پتہ چلا کہ جلدی اور گھبراہٹ میں اس نے جو کھال پہنی تھی، وہ کسی خاص چپکنے والے مادے سے اندر سے لیپت تھی، اور اب اس کے جسم سے ایسے چمٹ گئی تھی جیسے دوسری جلد بن گئی ہو۔
وہ جتنا کھینچتا، اتنی ہی مضبوطی سے چپک جاتی۔
پہلا کسان درخت سے اترا، اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور قہقہہ لگا کر بولا:
“مبارک ہو! تم نے بھالو کو تو ڈرا دیا، لیکن اب خود بھالو بن گئے ہو!”
اگلے تین دن وہ کسان اسی کھال میں گھومتا رہا۔
گاؤں کے بچے اسے دیکھ کر ہنستے، کتے بھونکتے، اور مرغیاں اسے دیکھ کر ادھر ادھر بھاگ جاتیں۔
آخرکار ایک بوڑھے دانا نے مشورہ دیا کہ کھال پر تیل مل کر اسے نرم کیا جائے۔
بڑی محنت، صبر اور کئی بوتلوں کے تیل کے بعد جا کر وہ کھال اس کے جسم سے الگ ہوئی۔
کھال اتارتے وقت اس نے گہرا سانس لیا اور کہا:
“میں نے دوسروں کو ڈرانے کا سوچا تھا، مگر خود ہی مصیبت میں پھنس گیا۔”
بوڑھا دانا مسکرایا اور بولا:
“بیٹا، اکثر ایسا ہی ہوتا ہے۔ انسان جو چہرہ دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے پہنتا ہے، کبھی کبھی وہی اس کی اپنی قید بن جاتا ہے۔”
سبق
جو شخص دوسروں کو مرعوب کرنے، دھوکا دینے یا ڈرانے کے لیے مصنوعی روپ اختیار کرتا ہے، وہ اکثر اسی روپ کا قیدی بن جاتا ہے۔ اصل طاقت سچائی میں ہے، بھیس میں نہیں۔
🌲🐻 اور مزاحیہ انداز میں:
“بھالو کو ڈرانے سے پہلے یہ ضرور دیکھ لیں کہ کھال واپسی کی پالیسی کے ساتھ آتی ہے یا نہیں!” 😄🐾
