ایک مرتبہ تین آدمیوں میں
سترہ اونٹوں کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا وہ
انصاف پر مبنی فیصلہ کروانے کے لئے حضرت علیؓ کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے
کہا کہ ”ہمارے پاس 17 اونٹ ہیں جس میں سے
ایک کا حصہ کل اونٹوں کا آدھا ( 1 / 2 ) ہے جبکہ
دوسرے کا حصہ تہائی ( 1 / 3 ) اور تیسرے کا
کل اونٹوں کا نواں حصہ ( 1 / 9 ) بنتا ہے، اگر اونٹوں کو
ذبح کر کے تقسیم کیا گیا تو کوئی فائدہ نہیں ہو گا اس لئے
آپؓ کوئی ایسی تدبیر بتا دیں کہ اونٹ ذبح کیے بغیر ہمارے درمیان تقسیم ہوجائیں اور ہمارا آپس کا جھگڑا ختم ہو جائے۔
“ حضرت علی ؓ نے ان تینوں کی بات سننے کے بعد بیت المال سے ایک اونٹ منگوایا اور ان 17 اونٹوں میں شامل کر دیا، اب اونٹوں کی کل تعداد 18 ہو گئی تھی، آپ ؓ نے بتائے گئے حصوں کے مطابق اونٹوں کی تقسیم شروع کردی۔ آپؓ نے پہلے شخص، جس کا حصہ تمام اونٹوں میں آدھا تھا اسے 18 اونٹوں کے آدھے اونٹ یعنی 9 اونٹ دے دیے، اس کے بعد آپؓ نے دوسرے شخص جس کا حصہ تہائی بنتا تھا اسے 18 اونٹوں کا تہائی یعنی 6 اونٹ دے دیے اور پھر آخر میں آپؓ نے تیسرے شخص جس کا حصہ کل اونٹوں میں سے نواں بنتا تھا اسے 18 اونٹوں کا نواں حصہ یعنی 2 اونٹ دے دیے۔ اس طرح آپ ؓ اپنی ذہانت اور دانشمندی سے تینوں آدمیوں میں بالترتیب پہلے کو 9، دوسرے کو 6 اور تیسرے کو 2 اونٹ جن کا کل 17 بنتا ہے، بغیر کاٹے تقسیم کر دیے جبکہ ایک اونٹ جو بیت المال سے منگوایا گیا تھا، اسے واپس بیت المال بھجوا دیا گیا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔علم و حکمت کی اعلی مثال❣️💖
اپنے دوستوں کے ساتھ شئیر کرتے جائیں شکریہ۔
(خلفائے راشدین، ص: 126 ملخصاً)
