برف پوش چوٹیوں کے دامن سے ایک ننھی سی دھار پھوٹی۔ ابتدا میں وہ اتنی کمزور دکھائی دیتی تھی کہ جیسے ہوا کا ایک جھونکا بھی اسے روک دے گا۔ مگر اس کے اندر سمندر تک پہنچنے کی خاموش لگن موجزن تھی۔
وہ پہاڑوں کے سینے چیرتی، وادیوں سے گزرتی اور چٹانوں سے ٹکراتی آگے بڑھتی رہی۔
راستے میں ایک عظیم الجثہ پتھر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی سختی پر ناز کرتے ہوئے کہا:
“یہیں رک جاؤ! میری دیوار سے آگے کوئی نہیں جا سکتا۔”
پانی نے مسکرا کر جواب دیا:
“میرا کام رکنا نہیں، بہنا ہے۔”
پتھر ہنسا۔ اسے اپنی مضبوطی پر کامل یقین تھا۔
دن گزرے، موسم بدلے، برسوں نے کروٹ لی۔ پانی ہر روز اسی خاموشی سے آتا، پتھر سے ٹکراتا اور آگے بڑھنے کی کوشش کرتا۔ نہ اس نے شور مچایا، نہ جنگ کا اعلان کیا؛ بس اپنے مزاج کے مطابق بہتا رہا۔
آخر ایک دن وہی پتھر، جو خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، دراڑوں میں بٹ گیا۔ اس کا غرور ریزہ ریزہ ہو گیا۔
اور پانی؟
وہ اب بھی اسی وقار کے ساتھ بہہ رہا تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
تفسیر: زندگی میں ہمیشہ طاقت جیتتی نہیں، اکثر تسلسل جیتتا ہے۔ نرمی، اگر ثابت قدم ہو، تو سخت ترین رکاوٹوں کو بھی گھِس دیتی ہے۔ پتھر اپنی سختی پر بھروسا کرتا رہا، جبکہ پانی اپنی فطرت پر قائم رہا۔ وقت نے فیصلہ اسی کے حق میں دیا جو بہتا رہا۔
#منقول
