Author Archives: NZ's Collection

ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے: “آفے دائے… آفے دائے…!” 😥 سرائیکی دوست نے سوچا: “ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹 وہ خاموش بیٹھا رہا۔ صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔ سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا: “بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺 بلوچ نے پوچھا: “کیا پڑھ رھے تھے؟” سرائیکی بولا: “بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇 یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا: “اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨 سرائیکی گھبرا کر بولا: “اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣 سبق:کبھی کبھی ایک لفظ…

Read more

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔(جاری ہے) وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب…

Read more

ایک چھوٹی سی پہاڑی میں چوہوں کے کئی بل تھے، اس پر پودے بھی لگے ہوئے تھے۔پودوں کے درمیان میں چوہوں کے بل دکھائی نہیں دیتے تھے۔ان بلوں میں ایک بل ایک چوہیا کا بھی تھا۔وہ اکیلی رہتی تھی۔وہ کافی عقلمند تھی، اکثر چوہے اپنے مسائل لے کر اس کے پاس آتے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق حل بتاتی۔اس کے مشورے اکثر چوہوں کی مشکل کو دور کر دیتے تھے۔اسی لئے سب چوہے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات کے موسم میں بارشیں خوب برسیں، جس کے باعث کئی کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانور گھبرا کر ان بلوں کی طرف آ گئے۔چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے تو چوہوں کی غذا بن گئے، جبکہ بڑے کیڑوں کو انہوں نے وہاں سے مار بھگایا۔انہی میں ایک چھوٹا کچھوا بھی شامل تھا جو جسامت میں چوہوں سے تھوڑا سا بڑا تھا۔(جاری ہے) وہ ہر کسی کے…

Read more

علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن…

Read more

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔بادشاہ حیران تھا۔“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”بادشاہ خاموش ہو…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گھنے جنگل پر ایک شیر کی حکمرانی تھی۔ جنگل کے تمام جانور پرسکون اور خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے۔ شیر جب دھاڑتا تو اس کی ہیبت ناک گونج پورے جنگل پر چھا جاتی اور سب کو فوراً معلوم ہو جاتا کہ بادشاہ سلامت دربار بلا رہے ہیں۔ تمام جانور اسی وقت اکٹھے ہو کر شیر کے حضور پیش ہوتے اور وہ ہر کسی کو اس کے حصے کا کام سونپ دیتا۔اسی جنگل میں ایک مکار گیدڑ بھی رہتا تھا جسے شیر کا یہ جاہ و جلال ایک آنکھ نہ بھاتا تھا۔ وہ ہر وقت اسی ادھیڑ بن میں رہتا کہ کس طرح اس شیر سے جان چھڑائی جائے۔ آخرکار اس کے شیطانی ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ جنگل کے مضافات میں شکاریوں کا ایک ڈیرہ تھا جو جال اور بندوقوں سے لیس تھے۔ گیدڑ نے ان کے پاس جا کر پیشکش کی،…

Read more

بیگم نے اچانک شوہر سے موبائل📱مانگ لیا۔ شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا اور دل ھی دل میں درود شریف پڑھنے لگا۔ 😅 کال لاگ میں ایک نمبر نظر آیا: “اختر” بیگم نے پوچھا: “یہ اختر کون ھے؟” 🤔 شوہر بولا: “ماموں اختر ھیں!” 😶 بیگم کو شک ھوا، فوراً نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: “ہیلو…” (عورت کی آواز) بس پھر کیا تھا… پانچ منٹ بعد شوہر ہسپتال میں پٹیاں بندھوائے بیٹھا تھا۔ 🤕 وہاں اس نے دیکھا کہ سامنے والے بیڈ پر ماموں اختر بھی لیٹے ھیں! 😳 شوہر نے حیران ھو کر پوچھا: “ماموں جان! آپ یہاں؟” ماموں اختر آہ بھرتے ھوئے بولے: “بیٹا! تمہاری کال آئی تھی، میری بیگم نے عورت کی آواز سن لی…” 🤕🤣🤣

گاؤں میں رحیم نامی کمہار کی بہت شہرت تھی۔گاؤں کے ارد گرد دوسری آبادیوں کے لوگ رحیم کے بنائے گھڑے،تسلے،کونڈے،پیالے اور ہانڈیاں استعمال کرتے۔رحیم کے ہاتھ سے بنے برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔چکنے گھڑے میں رکھا پانی شدید گرمی میں بھی کئی دن تک ٹھنڈا اور ذائقے دار رہتا۔اسی طرح ہانڈیاں بھی سال ہا سال چلتیں اور ان میں پکنے والے سالن بھی ذائقے میں لاجواب ہوتے۔مٹی کی ہانڈی میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ کسی دوسرے برتن میں پکنے والے کھانے سے یکسر مختلف ہوتا۔رفتہ رفتہ رحیم کے برتنوں کی دھوم اور مانگ بڑھتی گئی۔گاؤں میں بیدو نامی ایک اور کمہار بھی رہتا تھا۔سرخ پہاڑیوں کے اس پار رہنے والا بیدو کمہار رحیم سے بغض رکھتا تھا اور کھلے عام اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے برتن دیدہ زیب تو ہوتے،مگر انتہائی ناپائیدار،جن کے کنارے جلد جھڑ…

Read more

En un bosque, un cachorro de león se estaba ahogando. Al verlo, una cabra sintió lástima y lo salvó. Cuando el león se enteró, anunció que, a partir de ese día, la cabra sería la reina del bosque.El águila observaba la escena. Pensó que si hacía el bien a alguien, también recibiría respeto. Un día, vio un ratón ahogándose y lo sacó del agua. El ratón tenía frío, así que se escondió entre sus alas. Enseguida, el ratón huyó y, cuando el águila comenzó a volar, cayó al suelo. El ratón se había arrancado las alas de un mordisco.El águila se acercó a la cabra y le dijo que si la ayudaba, se convertiría en reina, y si la ayudaba, también se iría con sus alas. La cabra le respondió: «¡Tonto! Al menos mira a la cría antes de ayudarla». Conclusión: La bondad es buena con quien tiene crías.Si respetas…

Read more

Se cuenta que, en tiempos muy antiguos, vivía en una ciudad un hombre llamado Amanat. Trabajaba como vendedor de grano y tenía una tienda en un gran mercado en el centro de la ciudad. En su tienda vendía trigo, arroz, panela, azúcar, maíz y legumbres. Gracias a su honestidad, buenos modales y precios razonables, la gente venía de todas partes a comprarle. Dos niños también trabajaban en su tienda. Uno se llamaba Ehsan y el otro Maqsood. Tenían casi la misma edad, unos doce años. Estos niños pertenecían a familias pobres y sus padres ya habían fallecido. Vivían en el barrio de Amanat. Él conocía la situación de sus hogares, así que los contrató para trabajar en su tienda. Lo que ganaban allí se lo entregaban a sus madres, con quienes se encargaban de los gastos del hogar. Ambos ayudaban a Amanat con gran esfuerzo y dedicación. Amanat estaba muy…

Read more

Se cuenta que en cierto país vivía un rey muy justo y compasivo, pero que carecía de una pierna y un ojo. Un día, el rey llamó a los pintores más expertos de su reino para que le pintaran un retrato, con la condición de que sus defectos no fueran visibles en la obra. Todos los pintores se negaron. ¿Cómo iban a pintar un retrato del rey con dos ojos si ya le faltaba uno? ¿Cómo iban a representarlo de pie sobre dos piernas si también tenía una pierna amputada? Pero en medio de esta negativa colectiva, un pintor muy ingenioso dijo: «Rey, pintaré su retrato». Y cuando el cuadro estuvo listo, era un ejemplo de belleza y una obra maestra. ¿Cómo fue posible? En el cuadro, se ve al rey cazando, con arco y flecha en mano, montado a caballo. Mientras caza, tiene cerrado un ojo, el que le…

Read more

Una paloma había construido su nido en un árbol frondoso de un jardín, donde vivía con sus crías todo el día y también las alimentaba con semillas. Estaba muy contenta porque a sus crías les empezaba a crecer pelo. Un día, sus crías le dijeron a la paloma muy angustiadas: «Mamá, parece que nuestro nido va a ser destruido. Hoy vino el dueño de este jardín con su hijo y le decía que ya es hora de recoger la fruta. Mañana traeré a mis amigos y con su ayuda recogeré la fruta de este árbol. Me duele el brazo, así que no puedo hacerlo sola. Necesito la ayuda de mis amigos». Al oír esto, la paloma consoló a sus crías y les dijo: «No se preocupen, ni él vendrá mañana con su amigo ni recogerá la fruta». Y así fue. Ni el dueño del jardín ni su amigo llegaron. Pasaron…

Read more

Antes del Islam, en Arabia, donde reinaba el mal por doquier, también existían personas buenas. Una de ellas era Hatim. Se han contado numerosas historias sobre Hatim. Incluso sin exagerar, su generosidad es proverbial. En el Islam, la generosidad de Hazrat Uthman (que Allah esté complacido con él) es ejemplar, y se conocen numerosos episodios sobre él. Es un hecho que la riqueza, las donaciones y la generosidad de Hazrat Uthman facilitaron enormemente la expansión del Islam.Hatim pertenecía a la tribu Tay. Por ello, se le conoce como Hatim Tay. Fue gobernante de Yemen, región que limitaba con Arabia. En aquella época, Arabia estaba gobernada por el rey Nawfal, quien estaba muy preocupado por la generosidad y la popularidad de Hatim en la región. No solo el pueblo de Yemen se benefició de su generosidad, sino que todo aquel que se acercaba a él podía beneficiarse de ella. Mucha gente…

Read more

Se cuenta una historia de hace siglos sobre la India, gobernada por reyes y maharajás. Un rey hindú, cruel y despiadado, había conquistado muchos territorios y solía matar ministros por capricho. Uno de sus ministros era un hombre sabio y compasivo que enseñaba valiosas lecciones a sus súbditos y los ayudaba. Un día, al llegar a la orilla del río para cruzar, vio a un marinero que lo esperaba con una barca nueva. Al llegar a la otra orilla, el ministro se percató de que todos los sirvientes del rey estaban listos para apoderarse de la barca. El ministro la salvó y el marinero regresó agradeciéndole. Al cabo de un tiempo, alguien empezó a influir negativamente en el rey sobre el ministro. El rey ya buscaba una oportunidad para vengarse. Tiempo atrás, cuando el segundo rey ascendió al trono, le había regalado un elefante blanco. Era un niño, pero ahora…

Read more

Un mendigo pasaba por un campo cuando vio a dos mercaderes. Les preguntó: «¡Hermanos! ¿Se les ha perdido el camello?». Los mercaderes, contentos, le preguntaron: «¿Lo han visto?». El mendigo respondió: «No era sordo ni cojo de la pata derecha». Los mercaderes estaban convencidos de que lo había visto, así que decidieron averiguarlo. Le dijeron: «Hermano, es cierto que era sordo y cojo, pero ¿adónde fue?». El mendigo, con el mismo tono, preguntó: «¿No tenía un diente roto?». Los mercaderes insistieron: «Sí, señor, sí, por el amor de Dios, díganos dónde estaba. ¿Dónde lo vio?». El mendigo repitió: «Había cajas de miel a un lado y un saco de trigo al otro». Ahora ambos estaban convencidos. Le dijeron: «¡Fakir Baba! ¡Ve rápido y dinos dónde está el camello!». El mendigo dijo: «¡Hermano! A decir verdad, no he visto tu camello ni he oído hablar de él. Solo he oído de…

Read more

660/3782
NZ's Corner