El tiempo no permanece igual.
Lejos, cerca de un jardín, vivían tres amigos. A menudo se les veía sentados en la cerca del jardín. Junto a la cerca había un gran estanque. Cuando los rayos del sol iluminaban las hojas de los árboles y el agua, y soplaba un fuerte viento, un búho que vivía en un árbol a cierta distancia volaba hacia la cerca y emitía un fuerte graznido. En ese momento, se formaban olas en el estanque y una gran rana verde asomaba la cabeza para observar. Luego, también salía del agua y volvía a la cerca dando saltos. De repente, se oía un cacareo… y una gallina gorda de alas negras aparecía de algún rincón del jardín y se unía a la reunión. Los tres charlaban de vez en cuando y se contaban sus sentimientos. El búho se quejaba a los humanos de que no les caía bien. La rana estaba triste…
Tutorial
Se cuenta que una vez un rey salió a pasear por el bosque con su ministro. Vio a un anciano sembrando dátiles en el jardín. El rey le dijo al ministro: «Pregúntale qué está sembrando». El ministro le preguntó y obtuvo la respuesta: «Estoy sembrando dátiles». El rey preguntó: «¿Cuánto tardarán en dar fruto?». El anciano respondió: «Veinticinco años». El rey se echó a reír, pensando que los pies del anciano colgaban en la tumba y que se estaba preparando para veinticinco años. Cuando el ministro le contó esto al anciano, este dijo: «Si todos los jardineros pensaran como tú, hoy no tendríamos ni un solo dátil». ¡Que la paz sea con el rey! El trabajo en el mundo continúa así: alguien planta y alguien come. Hoy también comemos los frutos de los árboles plantados por nuestros antepasados. Mañana nuestros hijos también comerán los frutos de estos árboles. El rey,…
B Fox se recuperó –
El mono Mian era famoso por sus travesuras y bromas, que todos los animales del bosque disfrutaban, pero a B-Lumri le resultaba muy desagradable, ya que casi siempre era ella la víctima. Si solo se tratara de bromas, no importaría; el mono Mian la insultaba en broma, y todos admiraban su honor. B-Lumri había decidido vengarse del mono Mian por su insulto, y pronto se le presentó la oportunidad. Resultó que B-Lumri tenía mucha hambre. Preparó un pastel plano que devoraba rápidamente. Al terminar de lamerse los dedos, empezó a lamer el plato. El mono, que estaba allí por casualidad, observaba con gran interés los extraños movimientos de la zorra, y ella, ajena a esto, reía a carcajadas diciendo: “¡Guau, qué divertido!”.¡Qué broma he hecho, guau, zorro, guau!En ese momento, el mono permaneció como un espectador silencioso, pero al cabo de un rato reunió a todos los animales e imitó…
Solo el recuerdo de la muerte puede devolver a una persona a la justicia y la bondad.
Un rey tirano gobernaba su reino con tal crueldad que el pueblo respiraba con dificultad, aterrorizado. Un día, una anciana se presentó en su corte y le dijo: «Rey Salamat, solo tengo una pregunta: ¿cuándo morirá?». El rey, furioso, ordenó que la encarcelaran. Unos días después, la trajeron de vuelta a la corte y le preguntaron por qué había dicho semejante insolencia. La anciana respondió: «Rey Salamat, le preguntaba esto porque, cuando usted muera, quizás llegue un gobernante bondadoso y yo pueda vivir en paz el resto de mi vida. Pero desde que hice esta pregunta, usted ha empezado a reflexionar sobre su comportamiento, preocupándose por mí, y he notado que su corte se ha vuelto algo más amable. Quizás mi pregunta le recordó que todo reino es mortal, y que la verdadera prueba del poder no reside en cuánto miedo infunde, sino en cómo la gente lo recordará después…
موت کی یاد دہانی ہی انسان کو انصاف اور نرمی کی طرف لوٹا سکتی ہے۔
ایک ظالم بادشاہ اپنی سلطنت میں اس قدر سختی سے حکومت کرتا کہ عوام خوف کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے دربار میں آئی اور بولی: “بادشاہ سلامت، مجھے آپ سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کب مریں گے؟” بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے۔ کچھ دن بعد اسے دوبارہ دربار میں پیش کیا گیا اور وجہ پوچھی گئی کہ اس نے ایسی گستاخانہ بات کیوں کی۔بوڑھی عورت نے کہا: “بادشاہ سلامت، میں یہ اس لیے پوچھ رہی تھی کیونکہ جب آپ مریں گے، تو شاید کوئی نرم دل حکمران آئے، اور میری زندگی کے باقی دن سکون سے گزریں۔ مگر جب سے میں نے یہ سوال پوچھا، آپ نے میری فکر کرتے ہوئے، اپنے رویے پر غور کرنا شروع کر دیا، اور مجھے پتا چلا کہ آپ کے دربار میں پہلے سے کچھ…
Balto – Un cuento de valentía
Cuando toda la ciudad estaba sumida en la sombra de la muerte en medio de una ventisca… ¡un perro hizo algo que aún asombra al mundo! Eran casi las dos de la madrugada. La ventisca era tan intensa que ni siquiera una persona a pocos pasos de distancia podía ser vista. El viento soplaba con tal fuerza que los árboles eran arrancados de raíz y la temperatura había descendido muy por debajo del punto de congelación. Un pequeño pueblo estadounidense estaba en silencio… Pero tras ese silencio se escondía un peligro inimaginable. Cientos de niños de la ciudad padecían una enfermedad mortal. Cada instante era precioso, porque si la medicina no llegaba a tiempo, muchas vidas inocentes se apagarían para siempre. El problema era que la ventisca había bloqueado todas las carreteras. Los trenes se habían detenido. Los coches no podían avanzar. Los aviones no podían volar. Era como si…
بالٹو
برفانی طوفان میں جب پورا شہر موت کے سائے میں تھا… تب ایک کتے نے وہ کر دکھایا جس پر آج بھی دنیا حیران ہے! رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔ برفانی طوفان اس قدر شدید تھا کہ چند قدم دور کھڑا انسان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کی رفتار اتنی تیز تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑ رہے تھے، اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے جا چکا تھا۔ ایک چھوٹا سا امریکی شہر خاموش تھا… لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا خطرہ چھپا تھا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ شہر کے سینکڑوں بچے ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ قیمتی تھا، کیونکہ اگر دوا وقت پر نہ پہنچی تو نہ جانے کتنی معصوم جانیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ برفانی طوفان نے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ٹرینیں…
بی لومڑی سدھر گئیں –
بندر میاں تو مشہور ہی اپنی نقالی اور شرارتوں کی وجہ سے تھے جس سے جنگل کے تمام جانور لطف اُٹھاتے لیکن بی لومڑی کو اُن کی یہ حرکت سخت ناگوار گزرتی تھی،کیونکہ اکثر و بیشتر وہ بندر میاں کی شرارت کا نشانہ بنتی تھیں۔بات محض شرارت تک ہوتی تو کوئی بات نہ تھی،بندر میاں مذاق ہی مذاق میں بی لومڑی کی بے عزتی کر دیا کرتے تھے اور اپنی عزت تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے۔بی لومڑی نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ بندر میاں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ ضرور لیں گی اور جلد ہی بی لومڑی کو موقع بھی مل گیا۔ہوا یوں کہ بی لومڑی کو سخت بھوک لگ رہی تھی۔انھوں نے چٹپٹی چاٹ بنائی جسے ندیدوں کی طرح جلدی جلدی کھا رہی تھیں،اپنی اُنگلیاں چاٹ چکیں تو پیالہ زبان سے چاٹنے لگیں۔ بندر میاں جو اتفاقاً وہاں آ نکلے تھے،بڑے اشتیاق سے بی لومڑی…
نعم“
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جنگل کی سیر کو گیا ۔اُسکو ایک بوڑھا دکھائی دیاجو باغ میں کھجوروں کی گھٹلیاں بورہا تھا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ یہ کیا بو رہا ہے ؟وزیر نے اُس سے پوچھا تو جواب ملا ؛“کھجور کی گھٹلیاں بورہا ہوں“۔بادشاہ نے پوچھا؛“یہ کتنے عرصے میں پھل لے آئیں گی؟“بوڑھے نے جواب دیا؛“پچیس برس بعد “۔ بادشاہ ہنسنے لگا کہ بوڑھے کے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں اور پچیس سال بعد کا سامان کررہا ہے ۔وزیر نے یہ بات بوڑھے سے کہی تو وہ بولا اگر سب باغ لگانے والے یہی سوچا کرتے جوتم سوچتے ہوتو آج ہمیں ایک بھی کھجور نصیب نہ ہوتی ۔بادشاہ سلامت ! دنیا میں کام یو نہی چلتا رہتا ہے کہ کوئی لگاتا ہے تو کوئی کھاتا ہے ۔ آج ہم بھی اپنے باپ دادا کے لگائے ہوئے درختوں…
وقت ایک سا نہیں رہتا –
بہت دور کہیں ایک باغ کے قریب تین دوست رہتے تھے۔وہ اکثر باغ کی باڑ پر بیٹھے نظر آتے۔باڑ کے ساتھ ہی ایک بڑا تالاب بھی تھی۔جب سورج کی شعاعیں درختوں کے پتوں اور پانی پر چمک رہی ہوتیں اور تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی ہوتی تو کچھ دور ایک درخت پر رہنے والا اُلو اُڑ کر باڑ پر آجاتا اور زور سے آواز نکالتا۔اسی وقت تالاب کے پانی میں لہریں پیدا ہوتیں اور ایک بڑا سبز مینڈک اپنا سر نکال کر دیکھتا۔پھر وہ بھی تیرتا ہوا پانی سے باہر نکل آتا اور پھدکتا ہوا باڑ کے پاس آجاتا،اچانک کُٹ کُٹ․․․․کی آواز آتی اور ایک موٹی سی کالے پروں والی مرغی باغ کے کسی کونے سے نمودار ہوتی اور اس محفل میں شریک ہو جاتی۔تینوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور اپنے اپنے دل کا حال سناتے۔ اُلو کو انسانوں سے شکایت تھی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتے۔مینڈک…
قسمت کے کھیل –
کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا،اس کا نام اسلم تھا۔وہ رسیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک روز اس کی دکان پر ایک سوداگر آیا۔سوداگر کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا۔اسلم ان کو رسے دکھانے لگا۔سوداگر نے اپنے دوست سے کہا”میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا میں ترقی اس لئے کر جاتے ہیں کہ ان پہ قسمت اچانک مہربان ہو جاتی ہے۔اب اس آدمی کو دیکھ لو اگر کہیں سے کوئی رقم اس کے پاس آ جائے تو اس کا کاروبار چل نکلے گا اور یہ خود رسے بنانے کے بجائے بیسیوں ملازم رکھ لے گا۔“”معاف کرنا جناب!“اسلم نے ان کی باتوں میں دخل دیتے ہوئے کہا”آپ درست فرما رہے ہیں،لیکن میرے پاس اتنی رقم آئے گی کہاں سے․․․؟“سوداگر بولا”دینے والی تو وہ پاک ذات ہے،اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔جب میں کسی…
کوئل اور کوا –
ندی کے کنارے لیموں کا پیڑ لگا تھا اس کے قریب ہی آم کا درخت تھا۔لیموں کے پیڑ پر کوے کا گھونسلا تھا جب کہ آم کے درخت پر کوئل نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔لیموں کے پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر کوا ”کائیں کائیں“ کرتا جب کہ آم کی ڈال پر بیٹھ کر کوئل کو کو کرتے ہوئے گاتی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں پرندوں کا رنگ کالا تھا۔موسم بہار میں کوئل نے اپنے گھونسلے میں انڈا دیا،ادھر کوے کی مادہ نے بھی اپنے گھونسلے میں انڈے دیے۔کوا دن بھر باہر دانہ دنکے کی تلاش میں اِدھر اُدھر اُڑتا پھرتا جب کہ ”کوی“ گھونسلے میں بیٹھی انڈوں کی رکھوالی کرتی۔کوئل کو یہ آسانی میسر نہیں تھی،وہ اپنے آشیانے میں اکیلی رہتی تھی،اسے کھانے کی تلاش میں باہر بھی جانا پڑتا تھا،اس صورت میں وہ انڈے کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔ اسے ایک ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ اپنا…
مولا بخش
مولا بخش اور اس کی بیوی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔وہ بچوں کے ساتھ صبر و شکر سے زندگی گزار رہے تھے۔گاؤں کے سبھی لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ایک دن مولا بخش سے اس کی بیوی نے کہا:”میرا خیال ہے ہمیں اپنی بیلوں کی جوڑی سے ایک بیل بیچ دینا چاہیے۔ہمارے کام کاج کے لئے ایک بیل ہی کافی ہے۔ویسے بھی ہم بوڑھے ہو رہے ہیں اور اب اپنا کام نہیں کر سکتے۔“مولا بخش نے جواب دیا:”ٹھیک ہے کل منڈی جا کر ایک بیل بیچ آتا ہوں۔“صبح سویرے مولا بخش بیل کو لے کر منڈی کی طرف روانہ ہو گیا۔راستے میں اسے ایک شخص ملا جو گھوڑے کے ساتھ جا رہا تھا۔گھوڑا بہت مضبوط اور چاق چوبند اور اچھی نسل سے لگ رہا تھا۔وہ شخص مولا بخش کو دیکھ کر رک گیا۔ اس نے پوچھا:”بھائی! اتنی صبح کدھر کی تیاری ہے؟“مولا بخش نے بتایا کہ وہ بیل بیچنے منڈی…
اللہ کی حکمت
حق تعالیٰ نے عزرائیل سے پوچھا کہ اے ہماری سنائی پہنچانے والے! سب مرنے والوں میں تجھے کس پر رحم آیا؟ اور کس کی موت پر تیرا دل زیادہ درد مند ہوا؟عزرائیل نے عرض کی کہ ایک دن ایک کشتی کو جو تیز موج پر بہہ رہی تھی، میں نے تیرے حکم سے توڑدیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگئی اس کے بعد تونے حکم دیا کہ ان سب کی جان قبض کر اور صرف ایک عورت اور ایک بچے کو چھوڑ دے۔ چنانچہ وہ دونوں ایک تختے پر رہ گئے۔ موجیں اس تختے کو آگے بڑھاتی رہیں۔ جب ہوا نے اس تختے کو کنارے لگادیا تو ان دونوں کے بچ جانے سے میرا دل بہت خوش ہوا۔ پھر تونے فرمایا کہ ماں کی روح قبض کر اور بچّے کو تنہا چھوڑ دے جب میں نے اس بچے کو ماں سے جدا کیا ہے تو خود ہی جانتاہے کہ مجھے کس…
چڑیا کی نصیحت
ایک چڑی مارنے بڑی ترکیب سے پھندے میں چڑیا پکڑی۔ چڑیا نے اس سے کہا اے بزرگ سردار! فرض کیجئے آپ مجھ جیسی چھوٹی سی چڑیا کو پکڑ کر کھا بھی جائیں گے تو کیا حاصل ہوگا۔ اب تک آپ کتنی گائیں اور دُنبے کھا چکے ہیں اور کتنے اونٹ قربانی کر چکے ہیں۔ جب کہ آپ اتنے بڑے بڑے جانوروں کو کھا کر سیر نہیں ہوئے تو میرے ذرا سے گوشت واستخواں سے آپ کیا سیر ہوں گے۔ بجائے اس کے اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو آپ کی جواں مردی اور بلند نظری سے بعید نہیں۔ دوسرے آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں ایسی تین مفید نصیحتیں کروں کہ آپ کے ہمیشہ کام آئیں ۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو آپ کے ہاتھ پر بیٹھے بیٹھے ہی کردوں گی۔دوسری نصیحت دیوار پر بیٹھ کر دوں گی۔ وہ ایسی ہوگی کہ آپ مارے خوشی کےپھول جائیں گے اور…
بھیڑیا پکڑا گیا –
ایک بھیڑیا شکار کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے گھومتے ایک غار کے پاس پہنچا،جہاں سے تازہ گوشت کی مہک آ رہی تھی،بھوک اور اُوپر سے تازہ گوشت اس سے رہا نہ گیا اور وہ غار کے اندر چلا گیا۔جب وہ غار میں پہنچا تو اس نے اپنے دوست چیتے کو بکری کھاتے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے بولا”ارے تم!کہاں غائب تھے اتنے عرصے سے؟بڑے مزے آ رہے ہیں اکیلے ہی پوری بکری کھا رہے ہو۔“چیتا بولا،”ہاں بھائی!شکار کے لئے محنت کی اور اب اس محنت کا پھل کھا رہا ہوں،تم سناؤ خیریت تو ہے؟بڑے کمزور دکھائی دے رہے ہو،حالانکہ پہلے تو اچھے بھلے صحت مند تھے۔“بھیڑیے نے کہا،کیا بتاؤں!تم تو آسانی سے شکار کرکے کھا لیتے ہو،مگر مجھے کافی پریشانی ہوتی ہے،قریب کے گاؤں سے روزانہ جنگل میں بکریوں کا ایک ریوڑ گھاس چَرنے آتا تو ہے،مگر ریوڑ کے ساتھ بہت سے موٹے تازے کتے ہوتے ہیں اس لئے…
زندگی ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ کامیابی ہمیشہ تعداد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی۔
صدیوں پہلے کی بات ہے،ایک ایسی سلطنت تھی جس کے پرچم نے کبھی شکست کا رنگ نہیں دیکھا تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکمت، انصاف اور بے مثال قیادت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ لیکن اب وقت اس کے کندھوں پر اپنے نشان چھوڑ چکا تھا۔ اس کے بال چاندی میں بدل رہے تھے، ہاتھوں کی مضبوطی کم ہونے لگی تھی، اور سب سے بڑھ کر… اس کے بعد تخت سنبھالنے والا کوئی ایسا وارث موجود نہ تھا جس پر وہ آنکھ بند کرکے بھروسا کر سکے۔ اسی دوران ایک ایسی خبر آئی جس نے پوری سلطنت کی نیندیں چھین لیں۔مشرق کی سرحدوں پر ایک خونخوار سلطنت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر جمع کر چکی تھی۔ جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اگر اس حملے کو نہ روکا گیا تو صرف ایک جنگ نہیں ہاریں گے… بلکہ…
ناقص بانسری کا کامل نغمہ
“ایک زمانہ تھا کہ سرسبز اور لہلہاتی وادی میں ایلیان نامی ایک استاد بانسری نواز رہتا تھا۔ وہ کوئی عام موسیقار نہیں تھا۔ جب وہ بانسری پر طاہرانہ انداز میں نغمہ چھیڑتا، تو ہزاروں لوگ اس کا سحر انگیز موسیقی سننے کھنچے چلے آتے۔ اس کی دھنوں میں یوں لگتا جیسے کوئی زندہ روح سانس لے رہی ہو۔ جب وہ بجاتا تو پورا ماحول اتنا ساکت ہو جاتا کہ پتوں پر گرتی شبنم کی آواز بھی سنائی دینے لگتی۔لیکن اس عظیم فن کے باوجود، ایلیان کے دل میں ایک چھپا ہوا غم تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اس کی بانسری—جو اس نے ایک پوشیدہ غار سے ملنے والی چمکدار نرکل سے تراشی تھی—ناقص ہے۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے نکلنے والی آواز، اگرچہ دلکش ہے، مگر اس کے دل میں گونجنے والے اس پاکیزہ اور خالص نغمے کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی جو اس کے خیالوں میں…
حقیقی حفاظت
ایک حسیں اور پراسرار جنگل کے درمیان، جہاں ہوا بھی سرگوشی کرتی تھی، ایک پرانا اور عظیم درخت کھڑا تھا جسے سب “خاموش مرشد” کہتے تھے۔ اس درخت کی خاصیت یہ تھی کہ اس پر کوئی پھول یا پھل نہیں اگتا تھا، بلکہ اس کی جڑوں سے روشن نیلی کرسٹلز نکلتی تھیں جو پورے جنگل کی روح کو منور کرتی تھیں۔ اس جنگل میں مختلف قسم کے افسانوی کردار رہتے تھے—ایک پروں والا ہرن، ایک دانشمند الو، ایک ہوشیار لومڑی، اور ان سب کا محافظ ایک شریف مزاج ڈریگن، جس کا نام ‘اگنس’ تھا۔اگنس ڈریگن اپنے سنہرے اور لال سائز اور آگ اگلنے کی صلاحیت کے باوجود، اس درخت کا سچا محافظ تھا۔ جنگل کے تمام جانور اس درخت کی روشنی اور امن کو عزیز رکھتے تھے، لیکن اگنس کو ہمیشہ ایک ڈر ستاتا رہتا تھا کہ کہیں کوئی اس روشنی کو چرا نہ لے۔ اسی خوف کے تحت، اگنس…
زبان کا زخم –
ایک بادشاہ کسی جنگل میں اکیلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے شیر نے آ لیا۔اتفاق سے ایک کسان بھی ادھر آ نکلا۔جس کے ایک ہاتھ میں ٹیڑھی ترچھی لکڑی اور دوسرے میں درانتی تھی۔شیر بادشاہ پر حملہ کرنے ہی والا تھا کہ کسان نے پھرتی سے ٹیڑھی لکڑی اس کے گلے میں دے کر درانتی سے اس کا پیٹ چاک کر دیا۔جس سے بادشاہ کی جان بچ گئی۔ بادشاہ نے کسان کو اس مدد کے صلے میں گاؤں کی نمبرداری کے ساتھ بہت سی زمین بھی دے دیں اور کہا کہ ”ہر تہوار کے موقع پر ہمارے یہاں دوستوں،رشتہ داروں کی جو خاص دعوت ہوتی ہے اس میں تم بھی آیا کرو کیونکہ تم بھی اب میرے سچے دوست ہو“۔تھوڑے دنوں میں بادشاہ کے یہاں دعوت ہوئی تو کسان بھی آیا۔اول تو اس کے کپڑے اتنے اعلیٰ نہیں تھے۔ دوسرے بادشاہ کے پاس بیٹھنے کا ادب و سلیقہ بھی…