Author Archives: NZ's Collection

ایک گاؤں تھا۔اس میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مکان تھے۔ایک مکان میں میاں بیوی رہتے تھے۔یوں تو دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے ،لیکن ان میں جھگڑا بھی بہت ہوتا تھا۔میاں کہتا:”بڑی بی!ذرا دروازہ بند کردو۔“بیوی کہتی:”واہ ،میں کیوں بند کروں۔تم نے کھولا تھا،تم ہی بند کرو۔“میاں کہتا :”نہیں، تم نے کھولا تھا۔ بیوی کہتی :”تم نے ہی حکم دیا تھا تو میں نے کھولا،اب کم سے کم تم اسے بند تو کردو۔“میاں کہتا:”میں نے ساری عمر تمھارے لیے محنت کی۔اب تم میرے لیے ایک ذرا سادروازہ بھی بند نہیں کر سکتیں۔“بیوی کہتی:”کام بانٹ لو۔میں نے کھولا۔تم بند کرو۔“میاں کہتا:”دیکھا،تم مان گئیں کہ دروازہ تم نے کھولا تھا․․․․․․بس دونوں اسی طرح لڑتے رہتے ،لیکن جب لڑتے لڑتے تھک جاتے تو چین سے رہنے لگتے۔ ایک روز بیوی بولی:”سنو،ہم دونوں عمر بھر لڑتے رہے۔سارے گاؤں والے ہم پر ہنستے ہیں۔آؤ اب لڑائی جھگڑا ختم کریں اور ایک کام کریں۔اپنے شادی…

Read more

کسی بادشاہ کے دربار میں بہت سے خدمت گاروں میں دو گہرے دوست بھی تھے ۔ باقر دریا سے پانی بھر کر لاتا تھااور عاقل سوداسلف لانے اور کھانے پکانے پر مامور تھا۔ عاقل نہایت لاپروا اور فضول خرچ تھا ، مگر اس کے ساتھ نہایت ذہین بھی تھا۔ سلطنت کے بعض ایسے کام جن کو حل کرنے میں بادشاہ اور اس کے وزیر کو وقت پیش آتی ، اور وہ مسئلہ جب عاقل کے علم میں آتا تو وہ اسے نہایت آسانی سے حل کردیتا ۔اپنی اسی خوبی کی وجہ سے عاقل بادشاہ کی نظر میں ایک خاص مقام رکھتا تھا۔ بادشاہ اکثر اسے بہت سے انعامات سے نوازتا رہتا ۔باقر عام سی سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص ، مگر وہ کسی بھی قسم کی فضول خرچی واسراف کو سخت ناپسند کرتا تھا۔ عاقل باورچی کانے میں کام کے دوران کھانے پینے کا بہت سا سامان اپنی لاپروائی سے…

Read more

مرغی فارم میں سفید مرغیاں دور سے دیکھنے میں بہت حسین منظر پیش کر رہی تھیں۔یہ چھ ہزار مرغیاں تھیں، جنہیں ایک ہفتے بعد فروخت کیا جانا تھا۔مرغی فارم کے مالک فیصل نے مرغیوں کی فیڈ کی چالیس بوریاں دو دن قبل ہی منگوائی تھیں۔وہ نہیں چاہتا تھا مرغیوں کی خوراک میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی برتی جائے۔فیصل کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے مرغیوں میں کسی قسم کی کوئی بیماری نہیں آئی تھی اور مقررہ وقت میں مرغیاں تیار ہو گئی تھیں۔مرغی فارم سے کچھ دور پہاڑی سلسلہ تھا۔فارم کی حفاظت کے لئے ہر طرح کا انتظام کیا گیا تھا، تاکہ بارش کا پانی مرغی فارم میں داخل نہ ہو سکے۔آج بھی فیصل مرغی فارم آیا ہوا تھا۔اس نے فارم کے چوکیدار کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوئے پوچھا:”مرغی فارم میں سب خیریت ہے نا؟“”سر! مرغی فارم میں ہر طرح کا انتظام موجود ہے سب سے بڑی بات…

Read more

ایک تھا بادشاہ اس کاایک لڑکا تھا جسے تمام رعایا شہزادہ دلیر کے نام سے پکارتی تھی کیوں کہ اس نے بچپن میں بہت سے بہادری کے کام کئے تھے۔ جب وہ دس سال کا ہوا تو بادشاہ نے اس کے پڑھانے کے لیے ایک استاد نوکر رکھا۔ اس شہزادے کے بے ضرورت اور بہت بولنے کی عادت تھی کسی وقت چپ نہ رہ سکتا تھا اس کے اُستاد نے اسے کہا چپ رہا کرو خاموشی میں بہت سے فائدے ہیں۔ اب شہزادہ ہر وقت چپ رہا کرتا صرف اپنے اُستاد سے بولتا چالتا یا کبھی سخت ضرورت کے وقت معمولی بات چیت کرتا۔جب وہ اچھی طرح علم حاصل کر چکا تو اپنے محل کو واپس آگیا لیکن ہر وقت چپ چاپ بیٹھا رہتا بادشاہ ، ملکہ، امیر وزیر اور درباری سب حیران تھے کہ شہزادے کو اس کے استاد نے کیا تعلیم دی ہے۔کہ ہر وقت بت بنا بیٹھا…

Read more

امتیاز کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔وہ کمپیوٹر کے سامنے تو بیٹھا تھا،مگر کی بورڈ پر اس کی اُنگلیاں حرکت نہیں کر رہی تھیں۔وہ کسی گہری سوچ میں گم تھا۔نعمان کو معلوم ہو گیا تھا کہ امتیاز کسی وجہ سے پریشان ہے۔دونوں ایک دفتر میں برسوں سے اکٹھے کام کر رہے تھے۔نعمان اپنی کرسی سے اُٹھا۔امتیاز نے نعمان پر نگاہ ڈالی،لیکن زبان سے کچھ کہا نہیں۔ ”امتیاز بھائی!کیا پریشانی ہے؟“نعمان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔”پریشانی صرف میرے لئے نہیں،ہم سب کے لئے ہے،توصیف صاحب کا تبادلہ ہمارے دفتر میں کیا جا رہا ہے۔“امتیاز کی بات سن کر نعمان نے دہرایا:”توصیف صاحب!․․․․․لو بھئی سب گئے کام سے۔“امتیاز نے کہا:”اب صرف اور صرف تنخواہ میں گزر بسر کرنی پڑے گی۔توصیف صاحب ابھی جہاں کام کر رہے ہیں،وہاں کے نائب قاصد سے لے کر اوپر تک سبھی ناخوش اور پریشان ہیں۔توصیف صاحب نہ خود رشوت لیتے ہیں اور نہ کسی دوسرے…

Read more

کسی باغیچے میں ایک صحت مند مکھی رہتی تھی۔قریب ہی ایک مکڑا بھی رہتا تھا۔وہ اس مکڑے کے جال والے گھر کے پاس سے روز گزرتی،لیکن کبھی جال میں نہ پھنستی۔مکڑا بہت دنوں سے اس مکھی پر نظریں لگائے بیٹھا تھا۔وہ نئے نئے انداز سے جال لگاتا،لیکن مکھی جال کے قریب بھی نہ آتی۔ایک دن مکھی مکڑے کے پاس سے گزری تو مکڑا بولا:”بی مکھی!تمہارا اس راستے سے روز گزر ہوتا ہے،لیکن کبھی تم بھول کر بھی میرے گھر نہیں آئیں۔آخر میں تمہارا پڑوسی ہوں کوئی غیر تو نہیں ہوں۔کسی دن میرے اس غریب خانے کو بھی عزت بخشو۔“مکڑے کی بات سن کر مکھی بولی:”جناب!کسی اور کو بے وقوف بنائیے۔میں تو آپ کے جال میں آنے والی نہیں ہوں،جو بھی آپ کی سیڑھی پر چڑھا،پھر کبھی نہیں اُترا۔ “”واہ!بی مکھی!میں تو آپ کی خاطر داری کرنا چاہتا تھا،ورنہ میرا اس میں کیا فائدہ۔ اگر تھوڑی دیر میرے گھر میں ٹھہر…

Read more

ایک نئی آباد ہونے والی بستی میں مکان نمبر 15 عمر دین کا تھا،جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس مکان میں جن بھوت رہتے ہیں۔اس محلے میں تیس مکانات تھے۔عمر دین نے مکان پر رنگ روغن کروا لیا تھا۔اتوار کے دن ایک ٹرک میں سامان آیا۔نئے آنے والے کرائے دار کا نام ملک ہدایت اللہ تھا۔ملک صاحب نے دوسرے دن ایک گائے ذبح کرکے تمام گوشت پورے محلے میں تقسیم کر دیا۔ملک صاحب بہت سخی انسان تھے۔غریبوں کو کھانا کھلانا،مصیبت میں ہر ایک کی مدد کرنا،ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ملک صاحب کی خوبی تھی۔ملک صاحب دولت مند آدمی تھے۔وہ اس غریب محلے میں صرف اس لئے کرائے پر آئے تھے کہ وہ غریبوں کے کام آسکیں۔چاہتے تو کسی اچھے علاقے میں بہترین مکان بھی خرید سکتے تھے۔ ایک ماہ بعد رات کے پچھلے پہر ملک صاحب کے مکان کی چھت پر عورتوں کے رونے…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔وہ بہت انصاف پسند اور رحمدل تھا۔ملک میں ہر طرف امن و امان تھا۔ایک دن اسے بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ رعایا کی خبر لینی چاہئے۔پس اس نے اعلان کروایا کہ بادشاہ کو کوئی ایسی کہانی سنائے جو اس نے کبھی نہ سنی ہو۔جو ایسی کہانی سنائے گا اسے ”سونے کا ہاتھی“ ا نعام میں دیا جائے گا۔ ملک میں اعلان ہوتے ہی لوگ جوق در جوق بادشاہ کو کہانی سنانے کی غرض سے آنے لگے۔وہ بڑی مزے مزے کی کہانیاں سناتے۔بادشاہ سلامت کہتے۔”میں نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے“۔لوگ تھک ہار کر لوٹ جاتے۔کہانی سنانے والوں نے چڑیا سے باز مروایا۔کبھی کچھوے کو خرگوش سے ہروایا کبھی درخت پر ہاتھی چڑھا دیا،کبھی مچھلی کو صحرا میں زندہ کروایا،دن کو الو اور چمگاڈر کی کہانیاں سنائیں۔ لیکن بادشاہ سلامت ہر ایک کو کہتے،”میں نے یہ کہانی سنی…

Read more

”بڑی خوش نظر آرہی ہو اور پھد کتی پھر رہی ہو۔“درخت نے گلہری کو روک کر پوچھا۔ایسا کیا ہو گیا ہے؟“”ارے میاں درخت!مجھ سے پنگانہ لینا ۔ابھی ابھی پہاڑ کو آرام کرواکرآرہی ہوں ۔وہ بھی بہت بول رہا تھا،اُسے میں نے بتادیا ہے کہ میں چیز بہت کام کی ہوں ۔اب تم کیا چاہتے ہو ؟تمہارے سامنے بھی تقریرکروں ؟گلہری نے درخت پر چڑھتے چڑھتے ہی درخت کو جواب دیا۔“ہلکا بھو را درخت کچھ اور گہرے رنگ والا ہو گیا۔اُسے شاید غصہ آگیا تھا۔”ارے بی بی گلہری !غرور کا ہے کو کررہی ہو؟میں نے تو تم سے یونہی خوشی کا سبب پوچھ لیا اور تم تو سر پر ہی چڑھی جارہی ہو۔اگر تم کوئی کام کی شے ہوتو میں بھی کسی سے کم نہیں۔“میاں درخت کو شاخیں لہراتے جھومتے دیکھ کر بی گلہری غصے میں آگئی۔ ”ہاں ہاں!تم کام کے ہو ۔ کام کے ہو گے لیکن ہل تو نہیں…

Read more

Read more

ندی کنارے ایک ننھا سا گھر تھا۔اس گھر میں ایک بطخ اور ایک بطخا رہتے تھے۔بطخ بہت اچھی تھی صبح سویرے اٹھتی نہاتی دھوتی اور کام کاج میں لگ جاتی۔بطخا بہت خراب تھا کام چور نکٹھو۔نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔دن بھر پڑا اینڈتا رہتا۔بطخ بطخے کو بہتیرا سمجھاتی،پروہ نہ سمجھتا۔ ایک کان سے سنتا دوسرے سے اڑا دیتا۔ ایک دن بطخ بولی”کچھ خبر بھی ہے؟سارا اناج ختم ہو گیا اب کھائیں گے کیا؟“بطخے نے کہا”گھبراتی کیوں ہو خدا دے گا۔“بطخ بولی”خدا انہی کو دیتا ہے جو محنت کرتے ہیں۔کام چوروں کو خدا نہیں دیتا۔“بطخے نے کہا”تو میں کیا کروں؟نوکری تو ملتی نہیں۔“بطخ بولی”نوکری نہیں ملتی،نہ سہی مزدوری کرو۔ “بطخے نے کہا ”خدا کو مان!میں اور مزدوری کروں؟توبہ !توبہ!ارے!میرا باپ تحصیل دار تھا۔ اُس کے دروازے پر ہاتھی جھومتے تھے۔صبح شام لنگر بٹتا تھا۔سینکڑوں بھوکے پیٹ بھرتے تھے۔“بطخ بولی”باپ کو چھوڑ اپنے آپ کو دیکھ موا نکٹھو،کاہل،ٹٹو“یہ…

Read more

کسی جنگل میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کے دو بچے تھے۔وہ اپنے دونوں بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔جب تک بچے چھوٹے تھے تب تک شیرنی روزانہ انہیں دوسرے جانوروں کا شکار کرکے لاتی اور خوب پیٹ بھر کر انہیں کھلاتی۔پر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو اس نے انہیں بھی شکار پر لے جانا چاہا تاکہ انہیں بھی شکار کرنا آئے۔بڑا بچہ فوراً تیار ہو گیا لیکن چھوٹا کہنے لگا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے کچھ دنوں بعد چلوں گا۔آج نہیں کل وغیرہ جیسے بہانے بنانے لگا۔بڑا بچہ ماں کے ساتھ شکار پر جانے لگا۔کچھ دن اور بیت گئے پر چھوٹا بچہ اب بھی شکار پر جانے کے لئے راضی نہ ہوا۔دراصل وہ بہت کاہل تھا۔وہ سوچتا تھا کہ جب بیٹھے بیٹھائے کھانے کو مل جاتا ہے تو میں محنت کیوں کروں۔ شیرنی اس کو بہت سمجھاتی کہ وہ شیر کا بچہ ہے اسے اپنی خوراک حاصل کرنے…

Read more

پرانے وقتوں میں چین میں **کنگی** نام کا ایک ایسا انصاف پسند بادشاہ گزرا ہے جو اپنی رعیت کو اولاد کی طرح عزیز رکھتا تھا۔ اس کی عادلانہ حکومت اور رعیت پروری کے قصے آج بھی چین کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے ہیں۔ وہ اپنے افسروں پر کڑی نظر رکھتا تھا اور ذرا سی سختی یا ظلم پر انہیں سخت ترین سزا دیتا تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں کسی کو بھی کسی بے گناہ پر ظلم کرنے کی جرات نہ تھی۔ایک روز جوانی کے دنوں میں، بادشاہ شاہی لباس کے بجائے شکاری بھیس بدل کر شکار کے لیے نکلا۔ اتفاق سے اس کا گھوڑا دوڑتا ہوا بہت دور نکل گیا اور اس کے تمام راہی و ساتھی پیچھے ہی رہ گئے۔راستے میں بادشاہ نے ایک بوڑھے شخص کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا، محبت کے ساتھ بوڑھے کے پاس گیا اور…

Read more

Había un limonero a la orilla del río y un mango cerca. En el limonero había un nido de cuervo, mientras que en el mango había un nido de cuco. El cuervo, posado en la rama del limonero, emitía su característico sonido de cuco, mientras que en la rama del mango cantaba. Lo curioso era que ambos pájaros eran negros. En primavera, el cuco puso un huevo en su nido, y la cuerva también puso huevos en el suyo. La cuerva volaba todo el día buscando comida, mientras que el cuco se quedaba en el nido cuidando los huevos. El cuco no tenía esa ventaja. Vivía solo en su nido y tenía que salir a buscar alimento, lo que le impedía proteger el huevo. Se le ocurrió una idea: ¿por qué no poner su huevo en el nido del cuervo? La cuerva se pasa el día en el nido, así…

Read more

Dios Todopoderoso le preguntó a Azrael: «¡Oh, mensajero nuestro! Entre todos los muertos, ¿por quién sentiste compasión? ¿Y por la muerte de quién sentiste más dolor en tu corazón?» Azrael respondió: «Un día, por tu orden, rompí una barca que iba a la deriva en una fuerte ola y se hizo añicos. Después, ordenaste que se les quitara la vida a todos y que solo quedaran una mujer y un niño. Así que ambos quedaron sobre una tabla. Las olas siguieron empujando la tabla hacia adelante. Cuando el viento la empujó hacia la orilla, mi corazón se alegró mucho de que ambos se salvaran. Entonces dijiste: “Toma el alma de la madre y deja al niño solo”. Cuando separé al niño de su madre, tú mismo sabes cuánto dolor sufrí. Después de eso, vi cuánto dolor y tristeza presencié, pero no pude olvidar la soledad de este niño. Dios dijo:…

Read more

Un cazador de pájaros atrapó a un ave con una trampa ingeniosa. El pájaro le dijo: «¡Oh, gran jefe! Si atrapas y te comes a un pájaro pequeño como yo, ¿qué ganarás? ¿Cuántas vacas y ovejas has comido hasta ahora y cuántos camellos has sacrificado? Si no te satisfaces comiendo animales tan grandes, ¿cómo te vas a satisfacer con mi poca carne y mis huesos? En cambio, si me dejas, tu juventud y tu gran visión no estarán lejos de ti. Si me dejas, te daré tres consejos útiles que siempre te servirán. El primero te lo daré sentado en tu mano. El segundo, sentado en la pared. Será tal que florecerás de alegría y empezarás a compartir tu conocimiento. Y el tercero, sentado en un árbol. Con estos tres consejos, tendrás buena fortuna en la vida». El cazador de pájaros aceptó. Aflojó la trampa. El pájaro voló hasta su…

Read more

Un lobo, vagando en busca de presa, llegó a una cueva de donde emanaba el olor a carne fresca. El hambre y el aroma a carne fresca que emanaba del cielo lo atrajeron irresistiblemente, así que entró en la cueva. Al llegar, vio a su amigo el leopardo comiendo una cabra y, sorprendido, exclamó: «¡Oye! ¿Dónde has estado tanto tiempo? ¡Te lo estás pasando de maravilla comiéndote la cabra entera tú solo!». El leopardo respondió: «¡Sí, hermano! Me esforcé mucho cazando y ahora estoy disfrutando de los frutos de mi trabajo. Dime, ¿estás bien? Te ves muy débil, aunque antes estabas sano». El lobo dijo: «¡Qué te puedo decir! Tú cazas y comes con facilidad, pero yo estoy muy preocupado. Un rebaño de cabras de un pueblo cercano viene al bosque a pastar todos los días, pero hay muchos perros gordos y fuertes con el rebaño, así que no puedo…

Read more

Siglos atrás, existió un imperio cuya bandera jamás había conocido la derrota. El rey de este imperio era famoso en todo el mundo no solo por su poder, sino también por su sabiduría, justicia y liderazgo sin parangón. Pero ahora el tiempo había dejado su huella. Su cabello se tornaba plateado, sus manos comenzaban a perder fuerza y, sobre todo, no había un heredero al trono en quien pudiera confiar ciegamente. Al mismo tiempo, llegaron noticias que perturbaron la tranquilidad de todo el imperio. En las fronteras del este, un imperio sanguinario había reunido el ejército más grande de su historia. Los espías informaron que, si no se detenía este ataque, no solo perderían la guerra, sino que todo el imperio, su honor, su historia y el futuro de las generaciones venideras estarían a merced del enemigo.En ese instante, el rey emitió un decreto real.Se ordenó a todos los gobernadores…

Read more

En medio de un bosque sensual y misterioso, donde hasta el viento susurraba, se alzaba un viejo y gran árbol al que todos llamaban “Maestro Silencioso”. La peculiaridad de este árbol era que de él no crecían flores ni frutos, sino que de sus raíces salían brillantes cristales de color azul que iluminaban el espíritu de todo el bosque. En este bosque vivían una variedad de personajes míticos: un ciervo alado, un búho sabio, un zorro inteligente y el protector de todos ellos, un gentil dragón llamado ‘Agnes’.El dragón Agnes, a pesar de su tamaño dorado y rojo y su capacidad de escupir fuego, era el verdadero protector del árbol. Todos los animales del bosque amaban la luz y la paz de este árbol, pero Agnes siempre tuvo miedo de que alguien le robara esa luz. Ante este temor, Agnes colocó una estricta guardia alrededor del árbol y no permitió…

Read more

Un rey caminaba solo por un bosque cuando, de repente, un león lo atacó. Casualmente, un campesino también lo acompañaba. Llevaba un palo torcido en una mano y una hoz en la otra. El león estaba a punto de atacar al rey cuando el campesino rápidamente le puso el palo torcido alrededor del cuello y le abrió el estómago con la hoz. Esto salvó la vida del rey. El rey le otorgó al campesino el liderazgo de la aldea y muchas tierras a cambio de su ayuda, y le dijo: «Tú también deberías venir a la invitación especial que hacemos para amigos y familiares en cada día festivo, porque ahora eres mi verdadero amigo». Unos días después, el rey invitó al campesino, y este acudió. Al principio, su ropa no era muy elegante. Ni siquiera conocía las normas de etiqueta para sentarse junto al rey. Esto provocó muchos errores. Cuando…

Read more

Érase una vez, en una aldea, un hombre pobre llamado Aslam. Se ganaba la vida vendiendo cuerdas, manteniendo a su esposa e hijos. Un día, un comerciante llegó a su tienda acompañado de un amigo. Aslam comenzó a mostrarle las cuerdas.El comerciante le dijo a su amigo: «He visto a menudo a personas que prosperan en la vida porque la suerte les sonríe de repente.Mira a este hombre; si le llega algo de dinero, su negocio prosperará y, en lugar de fabricar cuerdas él mismo, podrá contratar a decenas de empleados». «¡Disculpe, señor!», interrumpió Aslam, «Tiene razón, pero ¿de dónde voy a sacar tanto dinero…?».El comerciante respondió: «Quien me da es un ser puro; me ha dado mucho.Cuando veo a alguien que merece ayuda, siempre lo ayudo. Dime, ¿con cuánto dinero puedes empezar tu negocio…?».Aslam, asustado, dijo: «Su Excelencia, con solo veinte ashrafias me bastan, a mí, un hombre pobre».…

Read more

620/3963
NZ's Corner