Intitulado 😂
Una esposa pensó: > “¡A ver qué le pasa a mi marido si de repente me voy de casa!” 😏 Escribió una carta: > “¡Estoy harta de ti y ahora me voy para siempre!” 💔 Dejó la carta sobre la mesa… Y se metió sigilosamente debajo de la cama y se escondió. 😶 Un rato después, el marido llegó a casa. 🚶Ella leyó la carta… 👀¡Y de repente empezó a silbar alegremente! 🎶 Luego sacó ropa del armario mientras cantaba, cogió el teléfono y dijo: > “¡John! ¡Felicidades!” 😍> “¡Hoy es mi día de libertad!” 🥹 > “¡Estaba tan cansada de mi mujer!” 😒> “¡Por fin me dejó!” > “¡Llegaré en 10 minutos!” 🤩 Al oír esto, a la esposa, escondida bajo la cama, se le llenaron los ojos de lágrimas. 😢 Se dijo a sí misma: > “¡Ay! ¡Qué infiel me he casado!” 💔 Luego pensó: > “A ver,…
Príncipe de buen corazón –
En Egipto vivía un príncipe bondadoso. Era príncipe, pero carecía del orgullo y la gloria de los reyes. Vivía como la gente común. Comía pan seco y dedicaba la mayor parte del tiempo a servir a sus súbditos y a recordar a Dios. Su buena conducta era conocida en todo el reino. Había heredado estas cualidades de su misericordioso padre. Un día, tras escuchar los problemas de sus súbditos, el príncipe se encontraba en el bosque, como de costumbre, ajeno al mundo, absorto en la meditación, cuando vio a un pobre leñador cortando leña con su burro y hablándole, aunque sabía que el burro no le escuchaba ni le entendía, y entonces rompió a llorar. El príncipe se sorprendió mucho al ver que el leñador cortaba leña todos los días, hablaba con el burro unas pocas veces y luego se ponía a llorar desconsoladamente.Esto continuó durante algunos días, cuando el…
Anciana ignorante –
Una anciana vivía sola en una cabaña al borde del bosque. Se alimentaba de frutos silvestres y también aprovechaba el agua y los peces del río cercano. Un día, la anciana fue al río a pescar. Allí encontró un águila herida. La anciana dejó el pescado y rápidamente llevó al águila herida a la cabaña. La curó y la ayudó. Después de vendarla, la anciana la recostó cómodamente sobre la hierba. Al cabo de unos días, el águila se recuperó por completo y voló lejos. Sin embargo, al cabo de un tiempo, se acercó y se posó junto a la anciana, mirándola con ojos bondadosos. Como si le estuviera agradeciendo por haberle salvado la vida. La anciana iba a pescar en ese momento. Mientras caminaba, sus ojos se posaron en las garras del águila, así que se detuvo y pensó: «¡Ay, no puede comer nada con esas garras tan largas!…
El buitre feo
Un día, un buitre caminaba por el sendero cuando vio una hermosa vasija en el suelo. Sorprendido, no podía creer que existiera una vasija tan bella en el mundo. De repente, la vasija le dijo al buitre:“Me llamo Opor. Soy una gran vasija dotada de poderes sobrenaturales. Puedo embellecerte porque soy la diosa de la belleza. He bendecido a miles de aves y animales con belleza. Toma, bebe mi líquido y te convertirás en un ave hermosa y encantadora. He bendecido a muchas aves, loros, flamencos, faisanes, cacatúas, y a cada una con una belleza única”. El buitre miró a la vasija con recelo, negó con la cabeza con vacilación y silbó:“No te creo, no confío en ti. Solo quieres engañarme y hacerme daño”. La vasija refunfuñó: “Vamos, no soy malvada ni nada por el estilo. No subestimes mi poder. De verdad quiero embellecerte”. El buitre se detuvo un instante…
سبق آموز۔۔۔! بدصورت گدھ۔۔! Instructive: The ugly vulture
ایک دن ایک گدھ راستے سے چل رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت برتن زمین پر پڑا ہے۔ وہ حیران تھا اور یقین نہیں کر رہا تھا کہ اتنا خوبصورت برتن دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔ اچانک برتن نے گدھ سے کہا، “میرا نام اوپور ہے۔ میں مافوق الفطرت طاقتوں سے مالا مال ایک زبردست برتن ہوں۔ میں آپ کو خوبصورت بنا سکتا ہوں کیونکہ میں خوبصورتی کی دیوی ہوں۔ میں نے ہزاروں پرندوں اور جانوروں کو خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہاں، صرف میرے مائع کو پیو، اور تم ایک خوبصورت اور دلکش پرندے میں تبدیل ہو جاؤ گے، میں نے بہت سے پرندوں کو، طوطے، فلیمنگو، فیزنٹ، کوکاٹو اور ہر ایک کو منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے۔” گدھ نے برتن کو مشکوک نظروں سے دیکھا، ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا، اور پھر سیٹی بجائی، “میں تم پر یقین نہیں رکھتا، اور مجھے تم پر بھروسہ نہیں…
نادان بڑھیا –
جنگل کے کنارے بی جھونپڑی میں ایک بڑھیا بالکل اکیلی رہتی تھی وہ گزر بسر کے لئے جنگلی پھل کھاتی اور قریب ہی بہتی ندی کا پانی اور اس کی مچھلیاں بھی استعمال کرتی تھی۔ایک دن بڑھیا مچھلی پکڑنے ندی کنارے گئی۔تو وہاں اسے ایک عقاب زخمی حالت میں ملا۔بڑھیا مچھلی چھوڑ کر جلدی سے زخمی عقاب کو جھونپڑی میں لے آئی۔اور اس کا علاج اور مدد کرتی رہی۔مرہم پٹی کے بعد بڑھیا نے اسے آرام سے گھاس پھوس پر لٹا دیا۔کچھ دن بعد عقاب بالکل ٹھیک ہو گیا تو اس نے اُڑان بھری،اور یہ جا دو جا لیکن کچھ دیر بعد آکر بڑھیا کے پاس بیٹھ گیا اور احسان مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔جیسے وہ اپنی زندگی بچانے پر بڑھیا کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔بڑھیا اس وقت مچھلی پکڑنے جا رہی تھی چلتے چلتے بڑھیا کی نظر عقاب کے ناخنوں پر پڑی تو وہ رُک گئی اور…
نیک دل شہزادہ –
مصر میں ایک نیک دل شہزادہ حکومت کرتا تھا۔ وہ تھا شہزادہ مگر نہ تو اس میں شاہوں والا غرور تھا اور نہ ہی وہ جاہ وجلال ۔وہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا۔ روکھی سوکھی کھاتا بیشتر وقت اپنی رعایا کی خدمت اور خدا کی یاد میں بسر کرتا۔اس کی نیک چلنی کا پوری ریاست میں چرچا تھا۔ اسے یہ خصوصیات اپنے رحمدل باپ سے وراثت میں ملی تھیں ۔ایک دن شہزادہ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سننے کے بعد جنگل میں ،دنیا سے بے نیاز ،خدا کی یاد میں محو تھا ،کہ اس نے دیکھا کہ ایک غریب لکڑہارا اپنے گدھے کو ساتھ لئے ہوئے لکڑیاں کاٹ رہا ہے اور اس سے باتیں بھی کیے جا رہا ہے حالانکہ اسے معلوم تھا کہ نہ تو گدھا اس کی بات سن رہا ہے نہ ہی سمجھ رہا ہے اور پھر دوڑ اروقطار رونے لگا۔(جاری ہے) شہزادہ یہ…
بلاعنوان
ایک پاکستانی میاں صاحب اپنے ہندوستانی نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ 🇵🇰🤝🇮🇳 کھانے کے دوران میاں صاحب بولے: > “نواب صاحب! اگر ذرا دہی مل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ھو جائے!” 😋 نواب صاحب نے فوراً نوکر کو آواز دی:> “ارے بھئی! فوراً بازار سے دہی لے آؤ!” 😊 نوکر باہر نکلا، اور نواب صاحب نے بڑے فخر سے Live Commentary شروع کر دی۔ 😎 > “اب وہ دروازے سے نکل گیا ھے…”“اب گلی کا موڑ مڑ رہا ھے…”“اب دکان پر پہنچ گیا…”“اب دہی خرید لی ھے…”“اور اب واپس آ رہا ھے…” چند لمحوں بعد نواب صاحب نے آواز لگائی:> “ارے بھئی! دہی لے آئے؟” 😃 اندر سے آواز آئی:> “جی حضور! لے آیا!” 😌 میاں صاحب تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے! 😳 چند ماہ بعد نواب صاحب پاکستان آئے، تو میاں صاحب نے سوچا:> “آج میں بھی اپنی شان دکھاتا ھوں!” 😏 کھانے…
بلاعنوان 😂
ایک بیوی نے سوچا: > “آج دیکھتی ھوں، اگر میں اچانک گھر چھوڑ دوں تو میرے شوہر کا کیا حال ھوتا ھے!” 😏 اس نے ایک خط لکھا: > “میں تُم سے تنگ آ چکی ھوں اور اب میں ہمیشہ کے لیے جا رھی ھوں!” 💔 خط میز پر رکھا…اور خود خاموشی سے بیڈ کے نیچے جا کر چھپ گئی۔ 😶 کچھ دیر بعد شوہر گھر آیا۔ 🚶اس نے خط پڑھا…👀اور اچانک خوشی سے سیٹیاں بجانا شروع کر دیں! 🎶 پھر گانا گاتے ھوئے الماری سے کپڑے نکالے، اور فون ملا کر بولا:> “جان! مبارک ھو!” 😍> “آج میری آزادی کا دن ھے!” 🥹 > “میں اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا!” 😒> “آخرکار وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی!” > “بس 10 منٹ میں تم سے ملنے پہنچ رہا ھوں!” 🤩 یہ سن کر بیڈ کے نیچے چھپی بیوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ 😢 وہ دل ھی…
حکمت
ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت گر گئے ہیں۔ صبح اس نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے دربار کے سب سے بڑے عالم کو بلایا۔ عالم نے تعبیر سنی اور کہا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کے تمام خاندان والے آپ سے پہلے وفات پا جائیں گے۔” یہ سن کر بادشاہ غصے میں آ گیا اور عالم کو قید میں ڈلوا دیا۔کچھ دنوں بعد بادشاہ نے ایک اور، کم مشہور مگر دانا شخص کو بلایا اور وہی خواب دہرایا۔ اس شخص نے مسکرا کر جواب دیا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کی عمر آپ کے سارے خاندان سے زیادہ لمبی ہوگی، اور آپ سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہیں گے۔” بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اسے قیمتی انعام سے نوازا۔جب درباریوں نے حیرانی سے پوچھا کہ دونوں کی تعبیر تو دراصل ایک ہی بات…
ویران حویلی
پشاور کے قریب ایک پرانا گاؤں تھا جہاں ایک ویران حویلی صدیوں سے خالی پڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس میں جنات کا بسیرا ہے اور جو بھی رات کو وہاں جاتا، صبح تک پاگل ہو جاتا یا کبھی واپس ہی نہ آتا۔ گاؤں کا ایک نوجوان، اکرم، جو ابھی نیا نیا نماز اور تلاوت کی طرف مائل ہوا تھا، ایک شرط کے تحت اس حویلی میں رات گزارنے پر راضی ہو گیا تاکہ گاؤں والوں کا خوف ختم کرے۔رات کے پہلے پہر، حویلی کا درجہ حرارت اچانک گر گیا اور کمرے میں عجیب سرسراہٹ گونجنے لگی۔ دیواروں پر پرچھائیاں حرکت کرنے لگیں اور ایک بھاری آواز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی: “نکل جا یہاں سے، ورنہ برا ہوگا!” اکرم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے اپنی والدہ کی سکھائی ہوئی نصیحت یاد کی — خوف کے وقت سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی پڑھو۔…
🔥😂 حاجی صاحب اور مالشی! 😂💁♂️
ایک حاجی صاحب مالش کروا رھے تھے۔ 😌 اتنے میں ایک آدمی آیا اور بولا: “کیا حال ھے حاجی صاحب؟ آج کل نظر ھی نہیں آتے!” 😄 حاجی صاحب خاموش رھے… پھر وہ شخص بولا: “اچھا، میں آپ کی سائیکل لے جا رہا ھوں!” 🚲 اور سائیکل لے کر غائب! 😳 کچھ دیر بعد مالشی نے پوچھا: “حاجی صاحب! آپ کا دوست ابھی تک میری سائیکل واپس نہیں لایا؟” حاجی حیران ھو کر بولے: “کون دوست؟ میں تو اسے جانتا ھی نہیں!” 😐 مالشی سر پکڑ کر بیٹھ گیا: “حاجی صاحب! وہ تو میری سائیکل لے گیا!” 😭 حاجی صاحب بولے: “رو مت…! میں تمہیں نئی سائیکل لے دیتا ھوں۔” ❤️ دونوں دکان پر گئے… مالشی نے نئی سائیکل پسند کی، ایک چکر لگایا، پھر بولا: “حاجی صاحب! لگتا ھے سائیکل ذرا ٹیڑھی چل رھی ھے۔” 🤔 حاجی بولے: “لاؤ، میں چیک کرتا ھوں۔” حاجی سائیکل لے کر نکلے… اور…
گناہ برباد،نیکی لازم –
عاصم ایک پریشان حال آدمی تھا۔اس کے چھ بچے تھے اور وہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔وہ کسی نہ کسی طرح کرائے کا مکان حاصل تو کر لیتا،مگر کچھ ہی عرصے میں مالک مکان بچوں کی تعداد سے تنگ آ جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے عاصم کو مکان خالی کرانے کا نوٹس دے دیتا۔اس طرح عاصم ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتا کہ کسی طرح مالک مکان کو راضی رکھے اور ساتھ ہی نیا مکان بھی ڈھونڈ رہا ہوتا۔ ان دنوں بھی وہ اسی پریشانی کا شکار تھا۔مالک مکان اس کی پریشانی کو نہ سمجھ رہا تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعاون کرنے کو تیار تھا۔اس نے آخری مہلت دے رکھی تھی اور ہر دوسرے دن پوچھتا رہتا کہ کوئی مکان ملا؟عاصم اس سے تنگ آ چکا تھا۔وہ ایک پراپرٹی کمپنی کے کم پڑھے لکھے مالک کا ملازم تھا۔( مالک کو جو کہنا ہوتا،وہ…
الو کی عقلمندی –
سائبیریا کے گھنے اور پُراسرار جنگل میں جہاں دن کے وقت بھی رات کا سماں رہتا تھا، وہاں ایک خوبصورت اور برا اُلو رہتا تھا، اس کا نام نور تھا۔نور کو سارا جنگل عقلمند اور دانا سمجھتا تھا۔جنگل کے تمام جانور مشکل وقت میں اس سے مشورہ کرنے آتے تھے، وہ ہمیشہ ایسا مشورہ دیتا جو سننے والے کی پریشانی دور کر دیتا تھا۔نور ایک پرانے صنوبر کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو نوجوان ہوتی نسل اس کا دبے لفظوں میں مذاق اُڑانے لگی تھی کہ یہ تو تنہائی پسند ہے اور ہر وقت خاموش رہتا ہے، اس کی عقلمندی کی صرف کہانیاں ہی مشہور ہیں کچھ نہیں کرتا۔نوجوان لومڑی زیادہ گستاخ تھی وہ اکثر کہتی تھی کہ نور چاچا اتنا ہی سمجھدار ہے تو ہمیں شکاریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے جس سے ہم شکاریوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔…
چوہا لنڈورا ہی بھلا
پہاڑ کے دامن میں چشمے کے قریب ایک چوہے اور ایک چوہیا نے بِل بنایا ہوا تھا۔وہ ہر روز اپنے بِل سے باہر آتے،چشمے کے قریب ہی جھولا موجود تھا،جو اُلجھی ہوئی جھاڑیوں سے بن گیا تھا۔وہ کھیلتے،اُچھلتے کودتے اور اپنے بِل میں گھس جاتے تھے۔ایک دن دونوں بِل سے باہر آئے اور چشمے کے پاس بنے جھولے پر جھولا جھولنے لگے۔اسی وقت ایک بلی قریب سے گزری۔اس نے دونوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ان دو موٹے تازے چوہوں کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا،وہ ایک پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر کافی دیر تک دیکھتی رہی۔پھر سامنے آکر بولی:”کیا تم میرے ساتھ کھیلنا پسند کرو گے؟“بلی کی آواز سن کر دونوں اپنے بِل کی طرف بھاگے بلی نے کہا:”کہاں جا رہے ہو،تم مجھے اپنا دوست ہی سمجھو۔ “”بھلا آگ اور پانی کی کیا دوستی،تم ہماری دوست کبھی نہیں ہو سکتی۔“چوہے نے بِل میں گھستے…
قسمت صبر اور ذہانت کی کہا نی
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا اسے بہت بھوک اور پیاس لگی تھی۔اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔وہ بہت پریشان تھا اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔وہ بہت خوش ہوا۔اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا۔چلو کھانے کو کچھ ملا۔جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے۔مرغ نے اس کی بات سن کر اسے جواب دیا۔قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو۔اس شخص نے مرغ سے کہا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نا کھاؤں اور بھوکا رہوں۔مرغ نے اس شخص سے کہا! سوچ لو میں تمہارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں اگر تم مجھے نا کھاؤ اور تھوڑا صبر کر لو تو ہو سکتا ہے تمہاری…
اپنی کلہاڑی، اپنا پاوٴں –
حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا جلدی سے ماسٹر حنیف کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے ہزار روپے کے نوٹ کواُٹھا کر اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا:” بری بات ہے،یوں راستے میں پڑی ہوئی چیز کے مالک نہیں بن جاتے ، بلکہ مالک تک تو چیز پہنچا دیتے ہیں۔یقینا یہ ماسٹر حنیف کا نوٹ ہوگا۔ ان سے پوچھ لو اور ساتھ ہی آس پاس کے دو چار گھروں سے بھی معلوم کر لو جس کا ہو اس تک پہنچا دو ، بڑا ثواب ملے گا۔“گردن جھٹخ کر وہ اپنے آپ سے بولا:”واپس کیسے کردوں میں تو مزے اُڑاوٴں گا برگر، سموسے ، چاٹ، دہی بھلے اور بہت سی مزے مزے کی چیزیں کھاوں…
رونے والا درخت –
ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ایک جل پری سمندر کے کنارے ایک غار میں رہتی تھی۔شام کے وقت جب مچھیرے اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑنے آتے،تو جل پری کشتی کے ساتھ ساتھ تیرا کرتی اور اُن کی باتیں سنا کرتی تھی۔مچھیرے مزے مزے سے اپنے خوب صورت گاؤں ،ہرے بھرے کھیتوں اور رنگ برنگ کے پھولوں کا ذکر چھیڑتے اور یہ جل پڑی بڑے شوق سے ان کی باتیں سنتی اور حیران ہوتی۔ آخر اس کے دل میں یہ سب خوب صورت چیزیں دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک دن جل پری نے اپنے دل میں اس دریا میں تیرنے کا ارادہ کیا،جوان مچھیروں کے گاؤں کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا سمندر میں گرتا تھا۔ایک رات جب چاند نے سمندر کو اپنی کرنوں کانورانی لباس پہنا دیا،تو جل پری اُس دریا کی طرف چل کھڑی ہوئی۔دریا کا میٹھا پانی اسے بہت عجیب معلوم ہوا۔ مگر جل پری خوشی…
کنویں کا راز –
جو کوئی بھی کنویں سے پانی بھرنے جاتا،وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔پھر آہستہ آہستہ سب لوگوں نے کنویں سے پانی بھرنے جانا چھوڑ دیا اور بھی عجیب و غریب کئی باتیں کنویں سے متعلق مشہور ہیں سلمان اور عبداللہ شہر سے اپنے ماموں کے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔گاؤں کی صاف ستھری فضا انھیں بہت بھلی لگی۔دونوں کزن کے آنے سے حمزہ بہت خوش تھا۔وہ آپس میں بہت گہرے دوست بھی تھے۔صبح ناشتے کے دوران عبداللہ کو کچھ یاد آیا تو وہ بولا:”ماموں جان!اس گاؤں میں ایک بہت مشہور کنواں ہے۔اس کنویں کے بارے میں سب لوگ عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں۔ہمیں بھی وہ کنواں دیکھنا ہے۔“”ہاں بیٹا!وہ کنواں اپنی پُراسراریت کی وجہ سے بہت مشہور ہے،لیکن وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“ماموں جان نے کہا۔آخر کافی منت سماجت کے بعد اُنھیں اجازت مل گئی۔وہ کنواں گاؤں سے تھوڑی دور ہے۔جہاں سے جنگل شروع ہو جاتا…
جادو کی دیگ –
ایک غریب لکڑہارا جنگل کے قریب رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا،لکڑیاں کاٹتا اور اسے شہر میں لے جا کر بیچ دیتا تھا۔وہ اس سوچ کے ساتھ زمین بھی کھودتا تھا کہ کبھی شاید اس میں سے اسے خزانہ مل جائے اور اس کی زندگی سنور جائے۔اسی امید کے ساتھ وہ روزانہ اپنے ساتھ جنگل میں بیلچہ اور کلہاڑی بھی لے کر بھی جاتا تھا۔ایک دن خزانے کی تلاش میں زمین کھودنے لگا۔اچانک اسے ایک بہت بڑی دیگ نظر آئی۔وہ اس دیگ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا،”لگتا ہے کہ اس دیگ کے اندر کوئی خزانہ چھپا ہوا ہے،جبھی تو اسے کسی نے جنگل میں درخت کے پاس زمین کھود کر دبایا ہوا ہے۔وہ خوشی خوشی دیگ کی طرف بڑھا تاکہ اس کے اندر ہاتھ ڈال کر خزانے کو دیکھ سکے۔ اس نے جب دیگ میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ…