Intitulado
Una vez, Nasreddin llevaba un burro con un fardo de leña atado a su lomo. Estaba cruzando la frontera cuando el inspector lo detuvo para registrarlo. El inspector preguntó: “¿Qué hace usted aquí?”. Nasreddin respondió: “Soy un contrabandista honrado”. El inspector se sorprendió por su respuesta y dijo: “¿Y bien? De acuerdo, entonces déjeme registrarlo todo, y si encuentro algo, tendrá que pagar el impuesto fronterizo”. Nasreddin dijo: “Claro. Como desee. Pero le aseguro que no encontrará nada”. El inspector registró todo minuciosamente, abrió todo, y aun así no encontró nada. Finalmente, dejó que Nasreddin cruzara la frontera y dijo: “Parece que hoy se me ha escapado”. La semana siguiente, Nasreddin volvió. Esta vez el burro iba cargado con un fardo de paja. Cuando el inspector lo vio, lo reconoció de inmediato y pensó: “Esta vez seguro que lo atrapo”. El inspector registró minuciosamente el fardo de paja e incluso…
ہتھوڑے والے مہمان
ساجدہ اپنے نیک دل شوہر محمود سے بہت محبت کرتی تھی۔ اگرچہ غریب تھا، محمود بڑا مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کو دوپہر کے کھانے پر گھر لے آتا۔ اکثر، مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد میاں بیوی خود بھوکے رہ جاتے۔ ساجدہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ مہمانوں کو کھلانا مشکل ہے جب وہ خود دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ لیکن محمود نے نہ سنی اور بولا: “مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مہمان کو کھانا کھلانے سے برکت ہوتی ہے۔” ساجدہ سمجھ گئی کہ شوہر کو سمجھانا ناممکن ہے۔ اسے مہمانوں کو دوپہر کے کھانے پر آنے سے روکنے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ ایک صبح، محمود نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس نے تین مہمانوں کو بلایا ہے، ان کے لیے کھانا پکاؤ۔ “دوپہر تک وہ آ جائیں گے،” اس نے کہا۔ ساجدہ بتانا چاہتی تھی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog bloganuary weekend warrior
بلاعنوان
ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟” نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…
#DailyInspiration Use long-tail keywords: "Daily inspirational quotes about hope #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Intitulado
En un pequeño pueblo de España vivía un campesino pobre. Tenía una pequeña granja, pero su tierra era muy pobre y la cosecha era escasa. Un año, durante una hambruna, no le quedó nada para comer. Estaba muy preocupado por cómo alimentaría a sus hijos. Un día, mientras caminaba por su campo, vio cuatro granos de trigo en el suelo. Los recogió, pensando que, aunque eran pocos en ese momento, tal vez darían fruto. Sembró esos cuatro granos en un rincón de su campo. Los regaba a diario y los cuidaba. En pocos días, los granos empezaron a crecer y, en unos meses, obtuvo una buena cosecha de trigo. Guardó esta cosecha y la sembró en todo su campo al año siguiente. En pocos años, el campesino se hizo rico. También repartió trigo entre otros campesinos pobres de su pueblo y les enseñó métodos agrícolas modernos. La situación de todo…
عقلمند ماہی گیر
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے مہمانوں کے لیے ایک بڑی ضیافت دینا چاہتا تھا۔ اس نے ان کے لیے ہر قسم کے کھانے تیار کروائے لیکن باورچیوں کے پاس پکانے کے لیے مچھلی نہیں تھی۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو کوئی ضیافت سے پہلے مچھلی لے کر آئے گا اسے انعام دیا جائے گا۔ اعلان سننے کے بعد ایک ماہی گیر مچھلی لے کر محل پہنچا۔ محل کے دروازے پر ایک دربان کھڑا تھا۔ اس نے ماہی گیر کو اندر جانے سے روک دیا اور کہا کہ جب تک ماہی گیر انعام میں سے آدھا حصہ دینے کا وعدہ نہ کرے وہ اسے اندر نہیں جانے دے گا۔ ماہی گیر مان گیا۔ جب بادشاہ نے مچھلی دیکھی تو بہت خوش ہوا کیونکہ اب اس کی ضیافت مکمل ہو سکتی تھی۔ وہ ماہی گیر کو بہت سارا انعام دینا چاہتا تھا، لیکن ماہی گیر…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
¡El peligroso secreto del pozo…!
Un granjero arrojó un cerdo muerto a un pozo seco. En cuestión de segundos, entre 70 y 80 ratas, atraídas por el hedor, saltaron al pozo una a una. Para ellas, fue una invitación fácil…Se comieron al cerdo entre todas, pero la verdadera historia comenzó aquí. Cuando estuvieron saciadas, la verdad salió a la luz…El pozo era profundo, no había salida. Pasaron los días…El hambre regresó, y con ella el miedo. Entonces, el mismo pozo se convirtió en un infierno. Algunas ratas estaban débiles, otras empezaron a matarse entre sí para fortalecerse…Y llegó un punto en que empezaron a devorarse entre ellas.Pasó el tiempo…Y finalmente, todas desaparecieron…Solo quedaba una rata, con los ojos rojos como la sangre, y solo pensaba en una cosa… «Sobrevivir». Unos días después, el granjero regresó.Metió una cuerda en el pozo y sacó a la última rata.En apariencia, esto parecía un acto de misericordia…Pero la realidad…
درویش طوطا
شہر میں ایک آدمی رہتا تھا جس کے پاس ایک طوطا تھا جو پنجرے میں رہتا تھا۔ ایک بار شہر میں ایک درویش آئے جو تعلیم دیا کرتا تھا۔ وہ آدمی روزانہ درویش کی محفل میں جاتا تھا۔ ایک دن اس کے طوطے نے اس سے پوچھا، “آپ روزانہ کہاں جاتے ہیں؟؟” اس نے جواب دیا، “میں درویش کی محفل میں اچھی باتیں سیکھنے جاتا ہوں۔” طوطے نے کہا، “کیا آپ میرا ایک کام کر دیں گے؟ مہربانی کر کے اس درویش سے پوچھیں — مجھے آزادی کب ملے گی؟” اگلے دن وہ آدمی درویش کی محفل میں گیا۔ تعلیم ختم ہونے کے بعد وہ درویش کے پاس گیا اور کہا، “مہاراج، میرے گھر میں ایک طوطا ہے اور وہ جاننا چاہتا ہے کہ اسے آزادی کب ملے گی؟” یہ سنتے ہی درویش بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب آدمی نے یہ دیکھا تو وہ ڈر گیا اور چپ…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
بلاعنوان
ایک عرب قبیلے کے سردار کو جب معلوم ہوا کہ اس کے جانوروں میں سے ایک مرغا غائب ہو گیا ہے تو وہ عجیب بے چینی میں مبتلا ہو گیا۔ لوگ حیران تھے کہ ایک معمولی سے مرغے کے لیے آخر اتنی پریشانی کیوں؟ مگر سردار کی آنکھوں میں صرف ایک پرندے کا غم نہیں تھا… وہ اس خاموش خطرے کو دیکھ رہا تھا جو ابھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل تھا۔ اس نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ پورا علاقہ چھان مارو۔ خود ٹیلوں پر چڑھ چڑھ کر دور تک دیکھتا رہا۔ رات گئے تک تلاش جاری رہی مگر مرغا نہ ملا۔ آخر ایک آدمی نے بے دلی سے کہا: “سردار! شاید کوئی بھیڑیا اسے اٹھا لے گیا ہوگا…” سردار نے فوراً سوال کیا: “اگر بھیڑیا لے گیا ہے… تو اس کے پر کہاں ہیں؟” یہ صرف ایک سوال نہیں تھا… ایک اشارہ تھا۔ مگر لوگ اس اشارے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
موت اور تقدیر
ایک دفعہ ایک بادشاہ نے خواب دیکھا۔ اپنے خواب میں اس نے ایک کالے سائے کو دیکھا جو اپنا ہاتھ بادشاہ کے کندھے پر رکھ رہا تھا۔ بادشاہ اس سائے کو دیکھ کر بہت خوفزدہ ہو گیا۔ اچانک سایہ بولا، “تمہیں پریشان ہونے یا ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ عام طور پر ہم بغیر بتائے آتے ہیں، لیکن چونکہ تم ایک عظیم بادشاہ تھے، اس لیے میں یہاں صرف تمہیں اطلاع دینے آیا ہوں۔” بادشاہ نے سوال کیا، “لیکن تم کون ہو؟؟” سایہ ہنسا اور جواب دیا، “میں تمہاری موت ہوں اور تیار ہو جاؤ۔ کل جب سورج غروب ہو رہا ہوگا، میں تمہیں لینے آؤں گا۔” اس ڈراؤنے خواب سے بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔ جاگنے کے بعد بھی اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ صرف ایک خواب تھا، بادشاہ کانپ رہا تھا۔ اس نے فوراً اپنے تمام عقلمندوں کی مجلس بلائی اور انہیں اپنے خواب کے بارے میں…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
محبت کی واپسی
میاں بیوی ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کے بھی روادار نہ رہے تھے۔ شروع شروع میں ان کا رابطہ صرف چیخنے چلانے اور لڑائی جھگڑے تک محدود تھا۔ پھر یہ زہریلے اور چبھتے ہوئے طنز میں بدل گیا اور آخر کار… ایک خاموشی چھا گئی۔ ایک سرد، بوجھل اور دم گھونٹنے والی خاموشی، جو دلوں میں بھری نفرت اور حقارت سے پیدا ہوئی تھی۔وہ ہر وقت لڑتے رہتے تھے، اور پھر اچانک انہوں نے لڑنا بھی بند کر دیا۔ انہوں نے ایک دوسرے پر توجہ دینا بالکل چھوڑ دیا۔ان کے درمیان کینہ، کڑواہٹ اور چڑچڑاپن ایک نادیدہ دیوار کی طرح بڑھتا گیا۔ آغاز میں تو وہ ایک دوسرے کے منہ پر بے عزتی کر دیا کرتے تھے، لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے مکمل طور پر ایک دوسرے سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور گھر میں کم سے کم وقت گزارنے لگے۔ دونوں میں سے کسی کو یاد بھی نہیں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt urdupoetry urduquotes urdupoetry
مفت کا خربوزہ۔۔۔!
ایک دن ایک موٹا اور سست آدمی بازار سے گزر رہا تھا۔ اس کا دل خربوزہ کھانے کو چاہا، لیکن وہ اتنا کنجوس تھا کہ جیب سے ایک روپیہ بھی نکالنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ ایک پھل والے کی دکان پر گیا اور بولا: “بھائی! یہ خربوزہ کتنے کا ہے؟”پھل والے نے کہا: “جناب! یہ بہت میٹھا خربوزہ ہے، صرف بیس روپے کا۔”کنجوس آدمی نے منہ بنا کر کہا: “بیس روپے؟ یہ تو بہت زیادہ ہیں۔ کیا یہ مجھے دس روپے میں مل سکتا ہے؟”پھل والے کو غصہ آ گیا، اس نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا: “دس روپے میں تو تمہیں اس سامنے والے درخت پر چڑھی ہوئی بیل سے بھی خربوزہ نہیں ملے گا۔ اگر تمہیں بالکل مفت میں چاہیے، تو وہ جو سامنے بڑی ندی ہے، اس کے پار ایک بہت بڑا کھیت ہے۔ وہاں جاؤ، جتنے مرضی خربوزے مفت میں توڑ کر کھا لو۔”کنجوس آدمی خوش ہو…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog bloganuary
شیخ چلی کی ہوشیاری
ایک دن شیخ چلی نے سوچا کہ اب وہ بہت عقل مند ہو گیا ہے اور گاؤں والوں کو اپنی ہوشیاری دکھانی چاہیے۔ صبح سویرے وہ ایک لمبی لاٹھی لے کر گھر سے نکلا۔ راستے میں ایک آدمی نے پوچھا: “شیخ چلی، یہ لاٹھی کیوں اٹھا رکھی ہے؟” شیخ چلی نے بڑے فخر سے کہا: “میں آج جنگل جا رہا ہوں۔ اگر شیر آ گیا تو اسے ڈرا دوں گا!” آدمی ہنس کر بولا: “اگر شیر نہ آیا تو؟” شیخ چلی فوراً بولا: “تو پھر میری لاٹھی بچ جائے گی!” وہ جنگل کی طرف چلتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ایک درخت پر شہد کا چھتا نظر آیا۔ اس کے منہ میں پانی آ گیا۔ اس نے سوچا: “اگر میں شہد لے آؤں تو پورا گاؤں میری تعریف کرے گا۔” شیخ چلی نے درخت پر چڑھنا شروع کیا۔ جیسے ہی اس نے چھتے کو ہاتھ لگایا، شہد کی مکھیاں غصے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog bloganuary
Groundhog Day
En una ciudad vivía un avaro muy grande. Era tan tacaño que no gastaba ni una rupia en sí mismo. Su único deseo era comer algo rico sin gastar dinero. Un día, un amigo rico lo invitó a cenar a su casa. El avaro llegó muy contento. El amigo había preparado un delicioso y caro pescado frito para la cena. El pescado era tan aromático que al avaro se le hizo agua la boca.El avaro empezó a comer el pescado sin perder tiempo y lo comió tan rápido que una espina grande y afilada se le atascó en la garganta. El avaro empezó a ahogarse, se le puso la cara roja y empezó a toser. El amigo rico se preocupó y le dijo al sirviente: «¡Corre rápido y trae al médico de la calle!». Al oír el nombre del médico, el avaro, que ni siquiera podía hablar por la espina…
Groundhog Day
In a city, there lived a very big miser. He was so stingy that he would spend even a rupee on himself. His only wish was to get something good to eat without spending any money.One day, a rich friend of his invited him to his house for dinner. The miser arrived there happily. The friend had prepared a very delicious and expensive fried fish for dinner. The fish was so fragrant that the miser’s mouth watered.The miser started eating the fish without wasting time and ate it so fast that a large and sharp fish bone got stuck in his throat. The miser started choking, his face turned red and he started coughing.The rich friend got worried and said to the servant: “Run quickly and bring the doctor from the street in front!”Hearing the doctor’s name, the miser, who could not even speak because of the thorn stuck in…
چار سست دوست
ایک شہر میں چار دوست رہتے تھے جو حد سے زیادہ سست تھے ۔وہ کوئی کام دھندا نہیں کرتے تھے اور دن بھر بس آرام کرنے کے نئے طریقے ڈھونڈتے رہتے تھے ۔ ایک دن وہ چاروں ایک درخت کے نیچے لیٹے ہوئے تھے،اور ان کے پاس بات کرنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔ اچانک ایک پکا ہوا آم درخت سے گرااور ان میں سے ایک دوست کے سینے پر آ کر رک گیا ۔ پہلا دوست سستی سے بولا :“یار… کوئی یہ آم اٹھا کر میرے منہ میں ڈال دو ۔” دوسرا دوست، جو اس سے بھی زیادہ سست تھا ، غصے سے بولا :“تم بھی کتنے خود غرض ہو! دیکھ نہیں رہے ایک کتا پچھلے دس منٹ سے میرا منہ چاٹ رہا ہے اور میں نے اسے ہٹانے کے لیے ہاتھ تک ن ہیں ہلایا ،اور تمہیں آم کھانے کی پڑی ہے؟!” تیسرا دوست ان دونوں کی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Dèjà vu
In British colonial India, a British officer once slapped an Indian citizen. The Indian citizen responded by slapping the officer with all his might and knocking him to the ground. The officer was shocked by this humiliating blow and left, wondering how an Indian citizen dared to slap an officer of the British army, which is part of an empire on which the sun never sets. He went to his headquarters to report the incident and ask for help in punishing the citizen. But the senior officer calmed him down and took him to his office, opened a treasury full of money and said: “Take ten thousand rupees from the treasury, and go to this Indian citizen and apologize to him, and give him this money as compensation.” The officer went mad and protested: “I have the right to slap and humiliate him, he slapped me when he had no…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Dèjà vu
Era una fría mañana de invierno de enero de 1921. Cuatro amigos —Arjun, Vikas, Sameer y Ratan— partieron de una pequeña aldea llamada Chandanpur con grandes sueños para el bosque. Su objetivo era cazar a un león devorador de hombres, que se había convertido en un azote para los aldeanos. Este león atacaba no solo a animales, sino también a humanos en la oscuridad de la noche. Una ola de miedo se había extendido por la aldea, y la gente temía salir de sus casas por la noche. Arjun, el líder del grupo, era alto, fuerte e intrépido. En su mirada se reflejaba la determinación de que solo regresaría a la aldea después de matar a ese león. Vikas, alegre y juguetón, convertía cada momento difícil en una broma. Sameer, tranquilo y discreto, siempre tenía su arma lista. Ratan, el más joven, sentía una extraña inquietud en su interior, como…
آدم خور شیر
سردی کی ایک ٹھنڈی صبح تھی، جنوری 1921ء۔ چار دوست ارجن، وکاس، سمیر، اور رتن — چندن پور نامی ایک چھوٹے سے گاؤں سے اپنے دلوں میں بڑے خواب لیے جنگل کی طرف نکل پڑے۔ ان کا مقصد تھا ایک آدم خور شیر کا شکار، جو گاؤں والوں کے لیے عذاب بن چکا تھا۔ یہ شیر رات کے اندھیرے میں نہ صرف جانور بلکہ انسانوں کو بھی اپنا شکار بنا رہا تھا۔ گاؤں میں خوف کی لہر دوڑ گئی تھی، اور لوگ رات کو گھروں سے نکلنے سے ڈرتے تھے۔ارجن، گروپ کا لیڈر، لمبا، مضبوط، اور نڈر۔ اس کی آنکھوں میں ایک عزم تھا کہ وہ اس شیر کو مار کر ہی گاؤں واپس لوٹے گا۔ وکاس، ہنس مکھ اور چنچل، ہر مشکل لمحے کو مذاق میں بدل دیتا تھا۔ سمیر، خاموش اور تدبیر سے کام لینے والا، اپنی بندوق کو ہمیشہ تیار رکھتا تھا۔ رتن، سب سے چھوٹا، لیکن…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
حضرت عیسٰی علیہ السلام اور بے وقوف شخص۔
ایک بے وقوف حضرت عیسیٰ کا شریکِ سفر تھا ۔اس نے ایک گہرے گڑھے میں ہڈیاں دیکھ کر کہا کہ اے روح اللہ! وہ کیا نامِ پاک ہے جس سے تو مردوں کو زندہ کرتا ہے ۔مجھے بھی تو وہ اسمِ پاک سکھادے تاکہ ان پرُانی ہڈیوں میں جان ڈال دوں۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا۔ چپ رہ یہ کام تیرا نہیں، تیرا دم اور تیری زبان اس کام کے لائق نہیں۔ اس نے کہا خیر اگر میں ان اسرار کو زبان پر نہیں لا سکتا تو توہی ان ہڈیوں پر کچھ پڑھ کر دم کردے۔ حضرت عیسیٰ نے اپنے دل میں کہا کہ الٰہی یہ بھید کیا ہے۔ اس بے وقوف کو اتنا اصرا کیوں ہوگیا ہے۔ اس بیمار کو اپنا غم کیوں نہیں اور اس مُردار کو اپنی جان کی فکر کیوں نہیں۔ اس نے اپنے مردے کو چھوڑ دیا ہے اور بیگانے مردے جِلانے چاہتا ہے۔ خدا نے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #UrduQuotes #MoralStory #urdustory #urduquotes #MoralStory bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
بلاعنوان
ایک بار شیر اور لومڑی میں کسی بات پہ ٹھن گئ لومڑی نے کہا کہ کچھ بھی ہو وہ شیر سے بدلا ضرور لے گی،، لومڑی نے جنگل میں ایک بیوٹی پارلر کھولا اور جنگل کے بادشاہ شیر سے عاجزی سے استدعا کی کہ حضور عالی مقام آپ اپنے مبارک پایہ قدم ہمارے بیوٹی پارلر میں رکھیں اور اسکی افتتاح کیجیے ،،شیر ہنسا اور کہا کہ اے نادان لومڑی میں تو شیر ہوں مجھے بناؤ سنگھار سے کیا لینا دینا ہے ،، یہ کام تم کسی اور سے کراو ،،لومڑی نے کہا اے خوبصورتی کے پیکر میرے رحمدل عالیجاہ میں آپکی ریپوٹیشن بہتر بنانا چاہتی ہوں آپکو علم ہی نہیں ہے بادشاہ عالی مرتبت کہ آپکے مخالفوں نے آپکے بارے میں کئ جھوٹے دعویں مشہور کیے ہیں ،، نت نئی افواہوں کا بازار گرم ہے ،، آپ کو جنگل میں قدامت پسند اور تنگ نظر بادشاہ کہا جارہا ہے ،،…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs