Author Archives: NZ's Collection

If you read the history of the pharaohs, you can imagine how much power they had in their time.They were not ordinary kings, but were considered the “gods” of their time. They were regularly worshipped.Their slaves were treated like humans, not even like animals.Their food was also prepared under a special system. Royal cooks and priests prepared it in a specific way. Then the food was tasted, monitored, and delivered to the pharaoh after strict protocol.Most of the time, they did not eat food with their own hands, because they were considered gods. Therefore, from feeding them to cleaning their hands and mouth, all the work was done by slaves (I don’t know what the situation was about the washroom 😜)Not only thatIf there was a fear of flies or insects coming towards them during the meal, according to some traditions, the slaves were made to stand nearby with honey…

Read more

Si lees la historia de los faraones, puedes imaginar el inmenso poder que ostentaban en su época. No eran reyes comunes, sino considerados los dioses de su tiempo. Eran venerados con regularidad. Sus esclavos eran tratados como seres humanos, no como animales. Su comida también se preparaba bajo un sistema especial. Cocineros y sacerdotes reales la preparaban de una manera específica. Luego, la comida era probada, supervisada y entregada al faraón siguiendo un estricto protocolo. La mayoría de las veces, no comían con sus propias manos, ya que eran considerados dioses. Por lo tanto, desde alimentarlos hasta lavarles las manos y la boca, todo el trabajo lo realizaban los esclavos (no sé cómo sería la situación con los baños 😜).Y eso no es todo.Si existía el temor de que las moscas o los insectos se acercaran durante la comida, según algunas tradiciones, se hacía que los esclavos se colocaran cerca…

Read more

Un hombre fue a la barbería a que le cortaran el pelo y la barba, como de costumbre. Mientras el barbero trabajaba, surgió una interesante conversación entre ambos. En ella, hablaron de diversos temas del mundo: la vida, las circunstancias, la gente… y de repente, la conversación derivó hacia la existencia de Dios. El barbero, mientras sostenía las tijeras, dijo:—Mira, hermano, no creo en la existencia de Dios. El cliente preguntó sorprendido:—¿Por qué dices eso? El barbero respiró hondo y dijo:—Es muy sencillo. Sal a la calle y te darás cuenta de que Dios no existe. Si existiera, ¿habría tanta gente enferma? ¿Habría niños inocentes vagando indefensos por ahí? Si existiera, ¿por qué habría tanta tristeza, tanto dolor en el mundo? No puedo creer en un Dios que permite que todo esto suceda. El cliente guardó silencio. Reflexionó un momento, pero no dijo nada para evitar una discusión. El barbero…

Read more

A man went to the barber shop to get his hair and beard trimmed as usual. While the barber was busy with his work, an interesting conversation started between the two. In the conversation, various topics of the world came under discussion—life, circumstances, people… and then suddenly the conversation reached the existence of God. The barber said while wielding the scissors:“Look, brother, I don’t believe in the existence of God.” The customer asked in surprise:“Why do you say that?” The barber took a deep breath and said:“It’s very simple. Just go out on the street—you will understand for yourself that there is no God. If there was a God, would there be so many sick people? Would innocent children be wandering around helpless like this? If there was a God, why would there be so much sorrow, so much pain in the world? I cannot believe in a God who…

Read more

ایک شہر میں موتو بھائی نام کا ایک امیر تاجر رہتا تھا۔ برسوں کی محنت کے بعد اُس نے دولت کمائی اور آخرکار ایک شاندار، کشادہ اور خوبصورت گھر خرید لیا۔نئے گھر میں آنے کے بعد وہ بہت خوش تھا۔ اُس نے سوچا: “اب سکون سے زندگی گزاروں گا… نہ شور، نہ پریشانی!”ایک دوپہر کھانا کھانے کے بعد وہ آرام کرنے کے لیے اپنے نرم بستر پر لیٹا۔ ابھی اُس کی آنکھ ذرا سی لگی ہی تھی کہ اچانک ایک خوفناک آواز نے اُسے چونکا دیا۔“گڑرررر… گڑرررر…!!!”موتو بھائی گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ اُسے لگا جیسے سڑک پر کوئی بھاری انجن چل رہا ہو۔وہ فوراً کھڑکی کی طرف دوڑا، مگر باہر کوئی انجن نہ تھا۔کچھ لمحوں بعد اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا…آواز پڑوس کے گھر سے آ رہی تھی!وہاں ایک گویّا اپنی ریاض کر رہا تھا۔ مگر اُس کی آواز اتنی بے سُری، اتنی اونچی اور اتنی خوفناک تھی…

Read more

ایک شہر میں ایک بہت بڑا کنجوس رہتا تھا۔ وہ اتنا بخیل تھا کہ اپنی ذات پر بھی ایک روپیہ خرچ کرتے ہوئے اس کی جان نکلتی تھی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی کہ کبھی بغیر پیسے خرچ کیے کوئی اچھی چیز کھانے کو مل جائے۔ایک دن اس کے ایک امیر دوست نے اسے اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ کنجوس خوشی خوشی وہاں پہنچا۔ دوست نے رات کے کھانے میں بہت ہی لذیذ اور مہنگی تلی ہوئی مچھلی (Fried Fish) بنوائی ہوئی تھی۔ مچھلی اتنی خوشبودار تھی کہ کنجوس کے منہ میں پانی آگیا۔ کنجوس نے بغیر وقت ضائع کیے مچھلی کھانا شروع کی اور اتنی تیزی سے کھائی کہ مچھلی کا ایک بڑا اور تیز کانٹا اس کے گلے میں پھنس گیا۔ کنجوس کا دم گھٹنے لگا، اس کا چہرہ لال ہو گیا اور وہ کھانسنے لگا۔امیر دوست پریشان ہو گیا اور نوکر سے بولا: “جلدی بھاگو اور…

Read more

ایک مشہور فلسفی دنیا بھر میں اپنی عقل، منطق اور لمبی لمبی تقریروں کے لیے جانا جاتا تھا۔ایک دن سفر کرتے کرتے وہ ملا نصرالدین کے گاؤں پہنچ گیا۔ گاؤں والوں نے کہا:“اگر واقعی عقل کے سمندر ہو تو پہلے ملا نصرالدین سے مل لو!” فلسفی فوراً ملا کے گھر پہنچا۔ دونوں کی ملاقات ہوئی، لمبی گفتگو ہوئی، اور پھر فلسفی نے پوچھا:“ملا صاحب! یہاں کوئی اچھی جگہ ہے جہاں کھانا کھایا جا سکے؟”ملا نے مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوئے کہا:“ہاں کیوں نہیں! ایک ایسی جگہ ہے جہاں کھانا بھی ملتا ہے اور قسمت بھی آزمائی جاتی ہے!” فلسفی کو بات سمجھ نہ آئی، مگر وہ ملا کو ساتھ لے کر ہوٹل پہنچ گیا۔دونوں بیٹھے ہی تھے کہ ویٹر آگیا۔فلسفی نے بڑے رعب سے پوچھا:“آج کی خاص ڈش کیا ہے؟”ویٹر بولا:“حضور! آج تازہ مچھلی ہے… اتنی تازہ کہ شاید ابھی تک تیرنے کا ارادہ رکھتی ہو!” فلسفی نے کہا:“دو لے…

Read more

ایک شخص ہمیشہ کی طرح بال اور داڑھی بنوانے کے لیے نائی کی دکان پر گیا۔ نائی کام میں مصروف ہوا تو دونوں کے درمیان دلچسپ گفتگو شروع ہو گئی۔ باتوں باتوں میں دنیا کے مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے—زندگی، حالات، لوگ… اور پھر اچانک گفتگو خدا کے وجود تک جا پہنچی۔ نائی نے قینچی چلاتے ہوئے کہا:“دیکھو بھائی، میں خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔” گاہک نے حیرت سے پوچھا:“ایسا کیوں کہتے ہو؟” نائی نے گہری سانس لی اور بولا:“بات بہت سادہ ہے۔ بس باہر سڑک پر نکل جاؤ—تمہیں خود سمجھ آ جائے گی کہ خدا نہیں ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اتنے بیمار لوگ ہوتے؟ کیا معصوم بچے یوں بے سہارا پھرتے؟ اگر خدا ہوتا تو دنیا میں اتنا دکھ، اتنی تکلیف کیوں ہوتی؟ میں ایسے خدا کو نہیں مان سکتا جو یہ سب ہونے دے۔” گاہک خاموش ہو گیا۔ اس نے کچھ لمحے سوچا، مگر…

Read more

یتیم لڑکے کی ایسی بات کہ بادشاہ خاموش رہ گیا ایک نیک دل اور رحم دل بادشاہ تھا۔ اُس کے دل میں غریبوں، یتیموں اور بے آسرا لوگوں کے لیے بے پناہ محبت تھی۔ایک دن اُس نے ایک یتیم اور نہایت غریب لڑکے کو دیکھا، جس کی آنکھوں میں محرومی تو تھی، مگر دل میں عجیب سی شرافت اور عاجزی تھی۔ بادشاہ اُس بچے کی معصومیت سے اتنا متاثر ہوا کہ اُسے اپنے محل میں جگہ دے دی۔وقت گزرتا گیا…لڑکا محل میں رہنے لگا، مگر اُس کی عاجزی اور ادب میں کبھی فرق نہ آیا۔ وہ ہر وقت بادشاہ کے احسانات کو یاد رکھتا اور دل ہی دل میں اُس کے لیے دعائیں کرتا رہتا۔بادشاہ کی ایک عادت تھی…جب بھی اُس کے سامنے کوئی خاص کھانا، قیمتی پھل یا لذیذ نعمت پیش کی جاتی، وہ سب سے پہلے اُس لڑکے کو دیتا، پھر خود کھاتا۔محل کے لوگ اکثر حیران ہوتے…

Read more

ایک قدیم شہر کی خاموش گلیوں میں ایک دانا استاد رہتا تھا، جس کے گرد شاگردوں کا ہجوم رہتا۔ ہر کوئی اس کی حکمت، بصیرت اور دانائی کا معترف تھا۔ مگر انہی شاگردوں میں سے ایک نہایت ذہین مگر قدرے مغرور نوجوان کے دل میں ایک سوال نے جنم لیا: “کیا واقعی ایسا کوئی سوال نہیں جس کا جواب ہمارے استاد نہ دے سکیں؟” ایک دن وہ نوجوان شہر سے باہر ایک سرسبز و شاداب میدان میں گیا، جہاں رنگ برنگے پھول ہوا کے ساتھ جھوم رہے تھے۔ اسی دوران اس کی نظر ایک نہایت خوبصورت تتلی پر پڑی، جس کے پر قوسِ قزح کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے خاموشی سے اسے پکڑ لیا اور اپنے ہاتھوں کی اوٹ میں چھپا لیا۔ تتلی اس کی ہتھیلیوں میں پھڑپھڑانے لگی، اس کے ننھے پروں کی لرزش اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی۔ نوجوان کے…

Read more

اگر آپ کی بھی گھر میں کوئی عزت نہیں تو یہ  واقع پڑھ کر دل کو تسلی دیں ایک نہایت جلیلُ القدر بزرگ تھے۔ ان کی خانقاہ پر ہر وقت عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا۔ کوئی تعویذ لینے آتا، کوئی استخارہ کروانے، کوئی رزق میں کشادگی کی دعا کے لیے حاضر ہوتا، تو کوئی محض ان کے دستِ مبارک چومنے کو سعادت سمجھتا۔ ان کے مریدین کا حال یہ تھا کہ اگر حضرت ذرا سا کھانس دیتے تو لوگ اس میں بھی کوئی روحانی اشارہ تلاش کر لیتے۔ محفلوں میں ان کی کرامات کے قصے بیان کئے جاتے۔ کسی کے نزدیک حضرت نے ایک اندھے کو بینائی عطا کر دی تھی، کسی کے نزدیک ان کے دم کیے پانی سے بھینس نے دودھ دینا شروع کر دیا تھا، اور بعض خوش عقیدہ افراد تو یہاں تک کہتے تھے کہ حضرت کی دعا سے ایک شخص کا ناکام عشق بھی کامیاب…

Read more

فرعونوں کی تاریخ پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے وقت میں ان کے پاس کتنی طاقت تھی۔وہ کوئی عام بادشاہ نہیں تھے، بلکہ اپنے دور کے “خدا” سمجھے جاتے تھے۔ ان کی باقاعدہ پرستش ہوتی تھی۔ان کے غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک تو دور کی بات، جانوروں جیسا بھی نہیں ہوتا تھا۔ان کا کھانا بھی ایک خاص نظام کے تحت تیار ہوتا تھا۔ شاہی باورچی اور پجاری اسے مخصوص طریقے سے بناتے تھے۔ پھر کھانے کو چکھا جاتا، اس کی نگرانی ہوتی، اور سخت پروٹوکول کے بعد فرعون تک پہنچایا جاتا۔زیادہ تر وہ اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں کھاتے تھے، کیونکہ انہیں خدا سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے کھانا کھلانے سے لے کر ان کے ہاتھ اور منہ صاف کرنے تک سب کام غلام کرتے تھے (واش روم کے بارے میں پتہ نہیں کیا صورتحال تھی 😜)صرف یہی نہیںکھانے کے دوران اگر کوئی مکھیاں یا کیڑے مکوڑے…

Read more

ایک زمانے میں ایک بادشاہ تھا جسے عجیب و غریب شوق پالنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن اُس نے اعلان کیا:“ہم ایک ایسا شاندار تالاب بنوائیں گے جس کی مثال پوری سلطنت میں نہ ملے!”چند ہی دنوں میں محل کے سامنے ایک بہت بڑا اور خوبصورت تالاب تیار ہوگیا۔مگر بادشاہ کی شرارت ابھی باقی تھی۔افتتاح کے دن پورے ملک کے لوگ جمع ہوئے۔وزیر، سپاہی، سوداگر، فقیر، حتیٰ کہ بچے بھی تماشہ دیکھنے آگئے۔پھر بادشاہ نے حکم دیا:“تالاب میں سانپ چھوڑ دو!”“مگرمچھ بھی!”“اور وہ سب خطرناک جانور بھی… جنہیں دیکھ کر انسان کی روح کانپ جائے!”چند لمحوں میں پرسکون پانی خوفناک منظر بن گیا۔کہیں سانپ پھنکار رہے تھے، کہیں مگرمچھ پانی میں غوطے لگا رہے تھے، اور لوگ دور کھڑے کانپ رہے تھے۔بادشاہ تخت پر بیٹھا مسکرایا اور بلند آواز میں بولا:“سن لو میری شرط!جو شخص اس کنارے سے تیر کر دوسرے کنارے تک زندہ پہنچ گیا…میں اُسے منہ مانگا انعام…

Read more

جنگل میں دو شیر رہتے تھے۔ایک جوان، طاقتور اور تیز تھا… جبکہ دوسرا بوڑھا مگر تجربہ کار۔دونوں کی دوستی پورے جنگل میں مشہور تھی۔ جہاں ایک جاتا، دوسرا اُس کے ساتھ ہوتا۔مگر وقت بدلا…ایک دن کسی غلط فہمی نے دونوں کے دلوں میں نفرت بھر دی۔بات چیت بند ہوگئی… راستے الگ ہوگئے… اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔کچھ دن بعد ایک خطرناک واقعہ پیش آیا۔بوڑھا شیر اکیلا جنگل کے کنارے بیٹھا تھا کہ اچانک 25-30 جنگلی کتوں نے اُس پر حملہ کر دیا۔کتے مسلسل اُس پر بھونک رہے تھے، کاٹ رہے تھے، اور اُسے کمزور سمجھ کر نوچنے لگے۔بوڑھا شیر پوری کوشش کے باوجود بے بس ہوتا جا رہا تھا…اچانک پورا جنگل ایک خوفناک دھاڑ سے گونج اٹھا!!!وہ جوان شیر تھا۔اُس کی ایک ہی دھاڑ نے کتوں کے دل دہلا دیے۔سارے کتے دم دبا کر بھاگ گئے۔جوان شیر نے بوڑھے شیر کی طرف دیکھا… مگر…

Read more

ایک بوڑھا شخص اپنے پوتے کو زندگی کا سبق دے رہا تھا۔اس نے کہا: “ہر انسان کے دل کے اندر دو بھیڑیوں کی جنگ چلتی رہتی ہے۔” پوتے نے حیران ہو کر پوچھا:“دادا جان، وہ دو بھیڑیے کون سے ہیں؟” بوڑھے نے جواب دیا: “ایک بھیڑیا غصہ، حسد، لالچ، نفرت اور غرور سے بھرا ہوا ہے۔اور دوسرا محبت، صبر، سچائی، امید اور رحم سے بھرا ہوا ہے۔” پوتا کچھ دیر سوچتا رہا، پھر پوچھا:“دادا جان! آخر جیتتا کون ہے؟” بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا: “وہی جیتتا ہے جسے تم روز کھانا دیتے ہو۔” پوتا خاموش ہو گیا، کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہانسان جیسا سوچتا اور کرتا ہے، ویسا ہی بن جاتا ہے۔ سبق: اپنے اندر اچھائی کو طاقت دو،کیونکہ انسان کی اصل پہچان اُس کے اعمال ہوتے ہیں۔

ایک مشہور وکیل تھا جسے شکار اور مچھلی پکڑنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک صاف اور خوشگوار ہفتے کی صبح اُس نے سوچا کہ آج کا دن شہر کے شور سے دور جنگل اور جھیل کے کنارے گزارا جائے۔وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا اور لمبا سفر طے کرتے ہوئے ایک گھنے جنگل کے قریب واقع خوبصورت جھیل تک پہنچ گیا۔ جھیل کا منظر دلکش تھا، پانی شیشے کی طرح صاف تھا اور ٹھنڈی ہوا ماحول کو مزید حسین بنا رہی تھی۔وکیل نے بڑی امید کے ساتھ کانٹا ڈالا، مگر قسمت اُس کا ساتھ نہ دے سکی۔ کئی گھنٹے گزر گئے لیکن ایک بھی مچھلی ہاتھ نہ آئی۔ تھکا ہارا اور مایوس ہو کر اُس نے سامان سمیٹا اور واپسی کا ارادہ کیا۔اسی دوران اچانک اُس کی نظر قریب جھاڑیوں میں گھومتے ہوئے ایک موٹے تازے خرگوش پر پڑی۔ وکیل کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ اُس نے فوراً بندوق سیدھی…

Read more

                       ایک مزاحیہ مگر گہرا سبق آموز واقعہ…! ایک شہر میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔صبح سویرے لوگوں نے دیکھا کہ قبرستان کے ایک کونے میں تازہ مٹی ڈالی گئی ہے۔تجسس بڑھا تو معلوم ہوا کہ کسی شخص نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا ہے۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔لوگ غصے سے بھر گئے اور سیدھے قاضی کے دربار جا پہنچے۔“قاضی صاحب! یہ تو قبرستان کی بے حرمتی ہے!”“اگر آج ایک کتا دفن ہوگیا، تو کل نہ جانے کیا ہوگا!”قاضی یہ سن کر آگ بگولہ ہوگیا۔فوراً حکم دیا:“اس گستاخ شخص کو فوراً میرے سامنے پیش کیا جائے!” ⚖️کچھ دیر بعد وہ شخص کانپتا ہوا دربار میں حاضر ہوا۔قاضی نے غصے سے میز پر ہاتھ مارا اور گرج کر بولا:“اے بدبخت! کیا یہ سچ ہے کہ تُو نے اپنے کتے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا؟”…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریب سے بات تک کرنا برا جانتا تھا۔ اس لیے اکثر لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کی رکاب پکڑ لی۔ اس کسان کی شکل ہوبہو بادشاہ سے ملتی تھی۔ فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریبانہ تھی۔ کسان نے عرض کی۔ بادشاہ سلامت! میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔‘‘بادشاہ نے غریب کے میلے کپڑے دیکھ کر جھٹ ایک کوڑا لگا کر سامنے سے ہٹا دیا۔ کہ چل دور ہو۔ ہم ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کر سکتے۔‘‘Alfaz Ki Shararat غریب کسان کوڑا کھا کر ہٹ تو گیا مگر پھر بھی آہستہ آہستہ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک عظیم بادشاہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں تھا۔ عمر بھر کی حکومت، فتوحات، خزانے اور رعایا، سب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک کر کے دھندلے ہو رہے تھے۔ موت کا وقت قریب تھا، اور اس کے دل میں صرف ایک ہی فکر باقی رہ گئی تھی: “مرنے کے بعد میری کیا حالت ہوگی؟” اس نے سلطنت کے ایک ایسے بزرگ کو بلایا جن کے بارے میں پورے ملک میں یہ یقین پایا جاتا تھا کہ ان کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی۔ جو وہ اللہ سے مانگ لیں، قبولیت کی راہ ضرور نکل آتی ہے۔بادشاہ نے نہایت عاجزی سے کہا: “اے بزرگ! میرے لیے دعا کریں کہ مرنے کے بعد مجھے جنت نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں جگہ عطا فرما دے۔”اس بزرگ نے نہایت ادب سے عرض کیا: “حضور! آپ جو بھی حکم فرمائیں، میں کرنے کو…

Read more

ایک پرانی سلطنت تھی جہاں کا بادشاہ اپنی سنگ دلی اور ظلم کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔اس کی آنکھوں میں عجیب سی سختی تھی اور لہجے میں ایسا غرور کہ دربار میں کھڑے لوگ سانس بھی ناپ کر لیتے تھے۔وہ جب کوئی حکم دیتا، تو خود سے زیادہ اس کے اردگرد بیٹھے وزیر، مشیر اور امراء بے چین ہو جاتے۔ کیونکہ اصل مقابلہ حکم ماننے کا نہیں تھابلکہ بادشاہ کی خوشنودی حاصل کرنے کا تھا۔ اگر بادشاہ کہتا: “ٹیکس بڑھا دو” تو وزیر سوچتا: “اگر میں نے صرف ٹیکس بڑھایا تو شاید بادشاہ متاثر نہ ہو کیوں نہ دگنا بڑھا دوں؟” پھر وزیر کے نیچے قاضی، کوتوال اور افسر سوچتے: “اگر ہم نے صرف وزیر کا حکم مانا تو ہم عام نوکر رہ جائیں گے، کیوں نہ اس سے بھی زیادہ سختی کریں تاکہ وزیر ہم سے خوش ہو جائے؟” پھر سپاہیوں کی باری آتی۔ وہ سوچتے:…

Read more

1600/3798
NZ's Corner