Responsabilidad de los charlatanes
Había un vasto bosque donde reinaban los animales más poderosos. Los grandes animales tomaban sus propias decisiones, mientras que a nadie le importaban las criaturas más pequeñas. Los elefantes construían los caminos, los leones imponían la ley y los búfalos custodiaban los almacenes. Por otro lado, los ratones, las ardillas y, sobre todo, los guepardos vivían tranquilamente. Los guepardos eran las criaturas más laboriosas del bosque. Recolectaban granos, semillas y hojas desde la mañana hasta la noche y construían túneles subterráneos de kilómetros de longitud. Aparentemente, su existencia era muy pequeña, pero su arduo trabajo desempeñaba un papel importante en el mantenimiento de la vida del bosque. Un año, el consejo de animales poderosos anunció que se construiría una gran represa en el río para que ningún animal pasara sed durante los días de sequía. El elefante dijo con orgullo: “Construiremos una represa que será fuente de vida para todo…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
Intitulado
En una pequeña aldea de Irlanda vivía un joven llamado Thomas. Vivía con su esposa y sus ancianos padres en una pequeña cabaña. Un año, la cosecha de patatas fracasó. La gente no tenía qué comer. Thomas se vio obligado a cazar en los campos de su amo, a pesar de que el castigo era la muerte. Thomas vagó por el bosque todo el día, pero no encontró ningún animal. Al regresar al anochecer, vio un hermoso ciervo. Cuando le disparó una flecha para matarlo, el ciervo le dijo: «¡No me mates! Te concederé un deseo. Ven mañana por la mañana y dime tu respuesta». Thomas se sorprendió, pero dejó ir al ciervo. Al regresar a casa, consultó con su padre. El padre le dijo: «¡Hijo! Pide oro». Consultó con su madre, que llevaba tiempo ciega. La madre le dijo: «¡Hijo! Pide que me devuelvas la vista». Luego consultó con…
Intitulado۔۔۔!
Había un zorro en un bosque nevado de Noruega. Una noche de invierno, mientras la nieve caía y el viento silbaba y barría las montañas nevadas, el zorro sintió que la vida se le escapaba. Pensó que moriría congelado. Necesitaba algo caliente para sobrevivir a ese frío. Miró sus pies; las bolas de nieve los envolvían. Se dijo a sí mismo: “En cuanto amanezca, haré una manta con la corteza de los árboles. Con esta manta me cubriré y sobreviviré”. Se tranquilizó y se durmió. Al amanecer, salió el sol y sus rayos comenzaron a brillar sobre la nieve. El zorro vio que ya no hacía tanto frío. Pensó que ya no necesitaba hacer una manta, así que se sentó cómodamente y no hizo nada. Al anochecer, el frío se intensificó aún más. El zorro comenzó a temblar de nuevo. Pensó otra vez: “Sin duda haré una manta mañana por…
groundhogday Spain Spanish blog spanish stories weekend warrior
بلاعنوان
ایک گاؤں میں ایک بہت بڑا اور پرانا درخت تھا۔لوگ گرمی میں اس کے سائے میں بیٹھتے، مسافر آرام کرتے اور بچے اس کے نیچے کھیلتے تھے۔ 😊 وقت گزرتا گیا، درخت بوڑھا ہو گیا۔اس کی شاخیں سوکھنے لگیں اور پھل بھی کم آنے لگے۔ ایک دن گاؤں کے کچھ لوگ کہنے لگے:“اب یہ درخت کسی کام کا نہیں، اسے کاٹ دیتے ہیں!” 😒 یہ سن کر ایک بوڑھا شخص آگے آیا اور بولا:“جب یہ جوان تھا تو تم سب کو سایہ دیتا تھا، پھل دیتا تھا، کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔آج جب یہ بوڑھا ہو گیا ہے تو تم اسے بوجھ سمجھ رہے ہو؟” 💔 لوگ خاموش ہو گئے۔ بوڑھے شخص نے پھر کہا:“یاد رکھو!جو لوگ اپنے بڑوں اور بوڑھوں کی عزت نہیں کرتے، وقت ایک دن انہیں بھی اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔” ⏳ یہ بات سب کے دل میں اتر گئی۔لوگوں نے درخت کو…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday
بلاعنوان
ریاستِ خراسان کے مغربی کنارے پر ایک چھوٹی سی بستی تھی “نور آباد”۔ بظاہر یہ ایک عام سی بستی تھی۔ مٹی کے کچے گھر، تنگ گلیاں، گرد سے اٹے راستے، چھوٹے چھوٹے بازار، اور سادہ دل لوگ، جو کم کھا کر بھی اللہ کا شکر ادا کرتے تھے۔ وہاں کے لوگ دولت مند نہیں تھے، مگر دلوں میں سکون تھا۔ صبح اذان کے ساتھ جاگتے، دن بھر محنت کرتے، اور شام کو اپنے گھروں کے باہر بیٹھ کر ایک دوسرے کے حال پوچھتے۔ بچوں کی ہنسی گلیوں میں گونجتی رہتی، عورتیں کنویں سے پانی بھرتیں، اور بوڑھے مسجد کے باہر بیٹھ کر پرانی باتیں کیا کرتے تھے۔ مگر پھر ایک دن اس بستی پر ایک عجیب آفت اترنے لگی۔ شروع میں کسی نے زیادہ توجہ نہ دی۔ ایک بوڑھے شخص نے شکایت کی کہ اُسے چیزیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں۔ پھر ایک عورت نے کہا کہ شام ہوتے ہی اُس…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
بلاعنوان
ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگااتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟چور مسکرایا اور بولاارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتاباغبان نے چور سے کہاجناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں ۔۔۔۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ھے جو کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا ہی کرتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
بلاعنوان
ایک بادشاہ نے اپنے پورے ملک میں اعلان کروا دیا کہ: “جو بھی شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا، اُس پر پانچ دینار جرمانہ عائد کیا جائے گا!” یہ اعلان ہوتے ہی پورے شہر میں ایک عجیب سی خاموشی پھیل گئی۔ لوگ اب ہر لفظ سوچ سمجھ کر بولتے تھے۔ بازاروں میں گفتگو دھیمی ہو گئی، محفلوں میں احتیاط بڑھ گئی، کیونکہ ہر شخص کو خوف تھا کہ کہیں زبان سے نکلا ہوا ایک جھوٹ اُسے سزا نہ دلوا دے۔ کچھ دن بعد بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا: “چلو، آج بھیس بدل کر شہر کا حال دیکھتے ہیں” دونوں عام لباس پہن کر شہر کی گلیوں میں نکل پڑے۔ چلتے چلتے شام ہو گئی۔ تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک تاجر کی دکان پر جا بیٹھے۔ تاجر نے نہایت ادب سے دونوں کی خدمت کی، چائے پیش کی اور آرام کا بندوبست کیا۔ گفتگو کے دوران بادشاہ نے تاجر…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
Intitulado
En un pequeño pueblo de Italia vivía una anciana llamada Chicherella. Era muy pobre y tenía un hijo llamado Pervanto. Pervanto era un niño muy travieso. Su madre se preocupaba por él día y noche. Le explicaba las cosas, lo regañaba y lloraba, pero Pervanto no dejaba de hacer travesuras. No hacía ninguna tarea doméstica. Finalmente, un día, Chicherella lo convenció y le dijo: «¡Hijo! Es hora de buscar comida. Ve a buscar leña al bosque. Le pediré algunas hojas al vecino, cocinaremos verduras y las comeremos». Pervanto caminó con la cabeza gacha hacia el bosque. Caminaba como si lo llevaran a una prisión. Daba pasos lentos, deteniéndose a menudo, mirando en todas direcciones, como si contara las hormigas por el camino. Tardó horas en llegar al bosque. En medio del bosque había un campo por el que corría un río. Allí, tres jóvenes dormían sobre un lecho de hierba.…
بلاعنوان
اطالیہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس کا نام چیچریلا تھا۔ وہ بہت غریب تھی اور اس کا ایک بیٹا تھا جس کا نام پیروانٹو تھا۔ پیروانٹو شاید ہی کوئی ایسا احمق لڑکا ہو جو اس سے زیادہ نکما پیدا ہوا ہو۔ اس کی ماں دن رات اس کی وجہ سے پریشان رہتی تھی۔ وہ اسے سمجھاتی، ڈانٹتی، روتی، لیکن پیروانٹو اپنی کمینیوں سے باز نہ آتا تھا۔ گھر کا کوئی کام کاج وہ کرنے کو تیار نہیں تھا۔ آخرکار ایک دن چیچریلا نے اسے بہت سمجھا بجھا کر کہا، “بیٹا! اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کچھ کھانے کو حاصل کریں۔ جا، جنگل سے لکڑیاں لا۔ میں کچھ پتے پڑوس سے مانگ لاتی ہوں، تھوڑی سی سبزی پکا کر کھا لیں گے۔” پیروانٹو اپنا سر جھکائے جنگل کی طرف چل دیا۔ وہ ایسے چل رہا تھا جیسے کسی کو قید خانے لے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt urdustory urdupoetry urdu blog
بلاعنوان
ایک دن ایک بادشاہ اپنے محل کی بلند و بالا چھت پر ٹہل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا، دجلہ کے کنارے ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور سورج اپنی آخری کرنیں پانی پر بکھیر رہا تھا۔ اچانک بادشاہ کی نظر نیچے راستے سے گزرتے ہوئے بہلول دانا پر پڑی۔ بادشاہ کے دل میں خیال آیا:“آج بہلول سے کچھ گفتگو کی جائے” اس نے فوراً خادموں کو حکم دیا: “بہلول کو ہمارے پاس حاضر کیا جائے!” چنانچہ محل کی چھت سے ایک ڈولی نیچے لٹکائی گئی۔ سپاہیوں نے بہلول کو اس میں بٹھایا اور چند لمحوں میں رسی کھینچ کر اوپر لے آئے۔ تھوڑی ہی دیر میں بہلول بادشاہ کے سامنے کھڑا تھا۔ بادشاہ نے مسکراتے ہوئے کہا: “بہلول! ایک سوال ہے… تم خدا تک کیسے پہنچے؟” بہلول نے خاموشی سے بادشاہ کی طرف دیکھا، پھر مسکرا کر بولا: “بادشاہ سلامت! جیسے میں آپ تک پہنچا ہوں…” بادشاہ حیران…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
بلاعنوان
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عظیم الشان سلطنت کا نہایت طاقتور بادشاہ اپنے جاہ و جلال، خزانے اور شان و شوکت پر ناز کیا کرتا تھا۔ اس کے محل کی دیواریں سونے سے مزین تھیں، دربار ہیرے جواہرات سے جگمگاتے تھے، اور اس کے ایک اشارے پر ہزاروں خادم حاضر ہو جاتے تھے۔ مگر اس بے پناہ دولت اور طاقت کے باوجود اس کے دل میں ایک انجانی بے چینی بسی رہتی تھی۔ ایک صبح وہ اپنے شاہی لشکر کے ساتھ محل سے باہر نکلا۔ راستے میں ایک بوسیدہ کپڑوں میں ملبوس فقیر درخت کے سائے تلے خاموش بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سکون تھا، ایسا سکون جو بڑے بڑے تاجداروں کے نصیب میں نہیں ہوتا۔ بادشاہ اس کے قریب رکا اور غرور بھرے لہجے میں بولا: “اے فقیر! مانگ، کیا چاہتا ہے؟” فقیر نے آہستہ سے سر اٹھایا، مسکرایا، اور بولا: “کیا واقعی تم میری…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs
Intitulado
Érase una vez un comerciante muy rico. Tenía camellos y vacas. Vivía en las aldeas con su esposa e hijos. Alá le había concedido el don de entender el lenguaje de los animales, pero con una condición: si le hablaba a un humano sobre los animales, moriría. Una tarde, estaba sentado cerca de su establo, viendo a sus hijos jugar, cuando oyó al toro hablar con el burro. El toro le decía al burro: «¡Oh, burro! ¿Cómo es que vives tan cómodamente? Tienes el mejor forraje, agua limpia, la gente te sirve y vives a tus anchas. Pero mira mi situación. Temprano por la mañana me llevan al campo, me ponen un yugo pesado al cuello y me azotan la espalda. Tengo que arar desde la mañana hasta la noche. Cuando regreso por la noche, estoy agotado. Dime, ¿cómo puedo sobrevivir?». El burro se rió y dijo: «¡Qué tonto eres!…
بلاعنوان
ایک زمانے میں ایک تاجر تھا جو بہت مالدار تھا۔ اس کے پاس اونٹ اور گائیں تھیں۔ وہ دیہات میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اللہ نے اسے جانوروں کی بولی سمجھنے کی خاص طاقت عطا کی تھی، لیکن اس کی یہ طاقت ایک شرط کے ساتھ تھی کہ وہ کسی انسان کو جانوروں کی باتیں بتائے گا تو اسے موت آ جائے گی۔ ایک شام وہ اپنے اصطبل کے قریب بیٹھا اپنے بچوں کو کھیلتا دیکھ رہا تھا کہ اس نے بیل کو گدھے سے باتیں کرتے سنا۔ بیل گدھے سے کہہ رہا تھا، “اے گدھے! تم کیسے آسودہ حال ہو۔ تمہیں بہترین چارہ ملتا ہے، صاف پانی ملتا ہے، لوگ تمہاری خدمت کرتے ہیں اور تمہیں آرام ہے۔ لیکن دیکھو میری حالت کیا ہے۔ صبح سویرے وہ مجھے کھیتوں میں لے جاتے ہیں، میری گردن پر بھاری جوئل ڈال دیتے ہیں، میری پیٹھ پر کوڑے…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
بلاعنوان
دھوبی کی بیوی بادشاہ کے گھر میں کام کرتی تھی اور بڑی خوش نظر آرہی تھی ، تب ملکہ سلطنت نے پوچھا کہ آج تم اتنی خوش کیوں ہو۔ دھوبن نے کہا کہ آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ ملکہ نے اسکو مٹھائی پیش کرتے ہو کہا،دَھنُوں کی پیدائش کی خوشی میں کھاؤ۔ اتنے میں بادشاہ بھی کمرے میں داخل ہوا۔ ملکہ کو خوش دیکھ کر پوچھا آج آپ اتنی خوش کیوں ہیں کوئی خاص وجہ ہے؟ ملکہ نے کہا! سلطان یہ لیں مٹھائی کھائیں آج دَھنُوں پیدا ہوا ہے۔ اس لیئے خوشی کے موقع پہ خوش ہونا چاہیے…. !! بادشاہ کو بیوی سے بڑی # محبت تھی۔ بادشاہ نے دربان کو کہا کہ مٹھائی ہمارے پیچھے پیچھے لے آو۔ بادشاہ باہر دربار میں آیا توبادشاہ بہت خوش تھا۔ وزیروں نے جب بادشاہ کو خوش دیکھا تو۔۔۔ واہ واہ کی آوازیں گونجنے لگیں۔ بادشاہ مزید خوش ہونے۔ بادشاہ نے کہا سبکو…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday messageoftheday messages #MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ
پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت رحم دل اور عقلمند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی؛وہ ہر سال اپنے وزیروں اور مشیروں کا امتحان لیتا تھا تاکہ یہ جان سکے کہ کون سب سے زیادہ دانا ہے۔ایک دن بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بڑا اور خوبصورت پیاسہ کوا (کرافٹڈ) لٹکایا اور اپنے تین سب سے خاص وزیروں کو بلایا۔ بادشاہ نے ان کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا:”مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟”بادشاہ نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔پہلے وزیر کا جواب: تین دن بعد پہلا وزیر آیا اور بولا، “عالی جاہ! دنیا کا سب سے بڑا سچ ‘موت’ ہے جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا، اور سب سے بڑا جھوٹ ‘دنیا کی زندگی’ ہے جو ایک…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بکری کہیں سے ایک بھیڑیے کے یتیم بچے کو اٹھا کر اپنے پاس لے آئی۔ ممتا کے جذبے سے مجبور ہو کر وہ اسے اپنا ہی بچہ سمجھنے لگی اور باقاعدگی سے اسے اپنا دودھ پلانے لگی۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور دودھ اس بھیڑیے کے بچے کی رگوں میں اترتا گیا، ویسے ویسے بکری دن بدن سکھڑتی اور کمزور ہوتی چلی گئی۔ وہ اپنے حصے کی پوری طاقت اور توانائی اس بچے کو پالنے میں نچوڑ رہی تھی۔ دوسری طرف وہ بچہ اس کا دودھ پی پی کر طاقتور اور جوان ہو رہا تھا۔جب وہ بھیڑیا پوری طرح جوان ہو گیا، تب تک بیچاری بکری اس کو اپنا سب کچھ پلا کر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی، اس میں اب چلنے پھرنے کی سکت بھی نہیں رہی تھی۔ ایک دن جیسے ہی بھیڑیے کو موقع ملا، اس نے ایک ہی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt
عقل مند بوڑھا اور چور
ایک گاؤں میں ایک نہایت عقل مند بوڑھا رہتا تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مشورہ لینے آتے تھے۔ اسی گاؤں میں ایک چالاک چور بھی رہتا تھا جو رات کے اندھیرے میں لوگوں کا سامان چرا لیتا اور کبھی پکڑا نہ جاتا۔ ایک رات چور نے سوچا: “اس بوڑھے کے گھر میں ضرور خزانہ ہوگا۔ آج اسی کے گھر ہاتھ صاف کرتا ہوں۔” رات گہری ہوئی تو چور آہستہ سے بوڑھے کے گھر میں داخل ہوا۔ گھر میں اندھیرا تھا۔ بوڑھا چارپائی پر لیٹا تھا مگر جاگ رہا تھا۔ اسے فوراً اندازہ ہوگیا کہ کوئی گھر میں داخل ہوا ہے۔ بوڑھے نے زور سے اپنی بیوی سے کہا: “سنو! وہ سونے کے سکے والی تھیلی کہاں رکھی ہے؟” بیوی حیران ہوئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی سونے کے سکے تھے ہی نہیں۔ مگر وہ سمجھ گئی کہ بوڑھا کچھ تدبیر کر رہا ہے۔ اس نے جواب…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt bloganuary dailyprompt groundhogday weekend warrior
Intitulado
Una vez, Nasreddin llevaba un burro con un fardo de leña atado a su lomo. Estaba cruzando la frontera cuando el inspector lo detuvo para registrarlo. El inspector preguntó: “¿Qué hace usted aquí?”. Nasreddin respondió: “Soy un contrabandista honrado”. El inspector se sorprendió por su respuesta y dijo: “¿Y bien? De acuerdo, entonces déjeme registrarlo todo, y si encuentro algo, tendrá que pagar el impuesto fronterizo”. Nasreddin dijo: “Claro. Como desee. Pero le aseguro que no encontrará nada”. El inspector registró todo minuciosamente, abrió todo, y aun así no encontró nada. Finalmente, dejó que Nasreddin cruzara la frontera y dijo: “Parece que hoy se me ha escapado”. La semana siguiente, Nasreddin volvió. Esta vez el burro iba cargado con un fardo de paja. Cuando el inspector lo vio, lo reconoció de inmediato y pensó: “Esta vez seguro que lo atrapo”. El inspector registró minuciosamente el fardo de paja e incluso…
ہتھوڑے والے مہمان
ساجدہ اپنے نیک دل شوہر محمود سے بہت محبت کرتی تھی۔ اگرچہ غریب تھا، محمود بڑا مہمان نواز آدمی تھا۔ وہ ہر روز کسی نہ کسی کو دوپہر کے کھانے پر گھر لے آتا۔ اکثر، مہمانوں کو کھانا کھلانے کے بعد میاں بیوی خود بھوکے رہ جاتے۔ ساجدہ نے اپنے شوہر سے کہا کہ مہمانوں کو کھلانا مشکل ہے جب وہ خود دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔ لیکن محمود نے نہ سنی اور بولا: “مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ مہمان کو کھانا کھلانے سے برکت ہوتی ہے۔” ساجدہ سمجھ گئی کہ شوہر کو سمجھانا ناممکن ہے۔ اسے مہمانوں کو دوپہر کے کھانے پر آنے سے روکنے کے لیے کچھ کرنا تھا۔ ایک صبح، محمود نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس نے تین مہمانوں کو بلایا ہے، ان کے لیے کھانا پکاؤ۔ “دوپہر تک وہ آ جائیں گے،” اس نے کہا۔ ساجدہ بتانا چاہتی تھی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #InspirationalQuotes #NZEECollection #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdustory urdu blog bloganuary weekend warrior
بلاعنوان
ایک بار نصرالدین ایک گدھا لیے جا رہا تھا جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا بندھا ہوا تھا۔ وہ سرحد پار کر رہا تھا کہ وہاں انسپکٹر نے اسے تلاشی کے لیے روک لیا۔ انسپکٹر نے پوچھا، “یہاں تمہارا کیا کام ہے؟” نصرالدین نے جواب دیا، “میں ایک ایماندار اسمگلر ہوں۔” انسپکٹر اس کے جواب پر حیران ہوا اور بولا، “اچھا؟؟ ٹھیک ہے، پھر مجھے سب کچھ تلاش کرنے دو، اور اگر مجھے کچھ ملا تو تمہیں سرحد کا ٹیکس دینا ہوگا۔” نصرالدین نے کہا، “ضرور۔ جیسے تمہاری مرضی۔ لیکن میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں کچھ نہیں ملے گا۔” انسپکٹر نے بڑی باریکی سے ہر چیز کی تلاشی لی، سب کچھ کھول کر دیکھا لیکن پھر بھی اسے کچھ نہ ملا۔ آخرکار اس نے نصرالدین کو سرحد پار جانے دیا اور کہا، “لگتا ہے آج تم مجھ سے بچ کر نکل گئے ہو۔” اگلے ہفتے نصرالدین پھر…
#DailyInspiration Use long-tail keywords: "Daily inspirational quotes about hope #urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday bloganuary dailyprompt blogs