Tag Archives: ،urdublogs

کسی باغیچے میں ایک صحت مند مکھی رہتی تھی۔قریب ہی ایک مکڑا بھی رہتا تھا۔وہ اس مکڑے کے جال والے گھر کے پاس سے روز گزرتی،لیکن کبھی جال میں نہ پھنستی۔مکڑا بہت دنوں سے اس مکھی پر نظریں لگائے بیٹھا تھا۔وہ نئے نئے انداز سے جال لگاتا،لیکن مکھی جال کے قریب بھی نہ آتی۔ایک دن مکھی مکڑے کے پاس سے گزری تو مکڑا بولا:”بی مکھی!تمہارا اس راستے سے روز گزر ہوتا ہے،لیکن کبھی تم بھول کر بھی میرے گھر نہیں آئیں۔آخر میں تمہارا پڑوسی ہوں کوئی غیر تو نہیں ہوں۔کسی دن میرے اس غریب خانے کو بھی عزت بخشو۔“مکڑے کی بات سن کر مکھی بولی:”جناب!کسی اور کو بے وقوف بنائیے۔میں تو آپ کے جال میں آنے والی نہیں ہوں،جو بھی آپ کی سیڑھی پر چڑھا،پھر کبھی نہیں اُترا۔ “”واہ!بی مکھی!میں تو آپ کی خاطر داری کرنا چاہتا تھا،ورنہ میرا اس میں کیا فائدہ۔ اگر تھوڑی دیر میرے گھر میں ٹھہر…

Read more

ایک نئی آباد ہونے والی بستی میں مکان نمبر 15 عمر دین کا تھا،جس کے متعلق مشہور تھا کہ اس مکان میں جن بھوت رہتے ہیں۔اس محلے میں تیس مکانات تھے۔عمر دین نے مکان پر رنگ روغن کروا لیا تھا۔اتوار کے دن ایک ٹرک میں سامان آیا۔نئے آنے والے کرائے دار کا نام ملک ہدایت اللہ تھا۔ملک صاحب نے دوسرے دن ایک گائے ذبح کرکے تمام گوشت پورے محلے میں تقسیم کر دیا۔ملک صاحب بہت سخی انسان تھے۔غریبوں کو کھانا کھلانا،مصیبت میں ہر ایک کی مدد کرنا،ہر نیک کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ملک صاحب کی خوبی تھی۔ملک صاحب دولت مند آدمی تھے۔وہ اس غریب محلے میں صرف اس لئے کرائے پر آئے تھے کہ وہ غریبوں کے کام آسکیں۔چاہتے تو کسی اچھے علاقے میں بہترین مکان بھی خرید سکتے تھے۔ ایک ماہ بعد رات کے پچھلے پہر ملک صاحب کے مکان کی چھت پر عورتوں کے رونے…

Read more

صدیوں پرانی بات ہے کہ ملک یمن میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔وہ بہت انصاف پسند اور رحمدل تھا۔ملک میں ہر طرف امن و امان تھا۔ایک دن اسے بیٹھے بٹھائے خیال آیا کہ رعایا کی خبر لینی چاہئے۔پس اس نے اعلان کروایا کہ بادشاہ کو کوئی ایسی کہانی سنائے جو اس نے کبھی نہ سنی ہو۔جو ایسی کہانی سنائے گا اسے ”سونے کا ہاتھی“ ا نعام میں دیا جائے گا۔ ملک میں اعلان ہوتے ہی لوگ جوق در جوق بادشاہ کو کہانی سنانے کی غرض سے آنے لگے۔وہ بڑی مزے مزے کی کہانیاں سناتے۔بادشاہ سلامت کہتے۔”میں نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے“۔لوگ تھک ہار کر لوٹ جاتے۔کہانی سنانے والوں نے چڑیا سے باز مروایا۔کبھی کچھوے کو خرگوش سے ہروایا کبھی درخت پر ہاتھی چڑھا دیا،کبھی مچھلی کو صحرا میں زندہ کروایا،دن کو الو اور چمگاڈر کی کہانیاں سنائیں۔ لیکن بادشاہ سلامت ہر ایک کو کہتے،”میں نے یہ کہانی سنی…

Read more

”بڑی خوش نظر آرہی ہو اور پھد کتی پھر رہی ہو۔“درخت نے گلہری کو روک کر پوچھا۔ایسا کیا ہو گیا ہے؟“”ارے میاں درخت!مجھ سے پنگانہ لینا ۔ابھی ابھی پہاڑ کو آرام کرواکرآرہی ہوں ۔وہ بھی بہت بول رہا تھا،اُسے میں نے بتادیا ہے کہ میں چیز بہت کام کی ہوں ۔اب تم کیا چاہتے ہو ؟تمہارے سامنے بھی تقریرکروں ؟گلہری نے درخت پر چڑھتے چڑھتے ہی درخت کو جواب دیا۔“ہلکا بھو را درخت کچھ اور گہرے رنگ والا ہو گیا۔اُسے شاید غصہ آگیا تھا۔”ارے بی بی گلہری !غرور کا ہے کو کررہی ہو؟میں نے تو تم سے یونہی خوشی کا سبب پوچھ لیا اور تم تو سر پر ہی چڑھی جارہی ہو۔اگر تم کوئی کام کی شے ہوتو میں بھی کسی سے کم نہیں۔“میاں درخت کو شاخیں لہراتے جھومتے دیکھ کر بی گلہری غصے میں آگئی۔ ”ہاں ہاں!تم کام کے ہو ۔ کام کے ہو گے لیکن ہل تو نہیں…

Read more

Read more

ندی کنارے ایک ننھا سا گھر تھا۔اس گھر میں ایک بطخ اور ایک بطخا رہتے تھے۔بطخ بہت اچھی تھی صبح سویرے اٹھتی نہاتی دھوتی اور کام کاج میں لگ جاتی۔بطخا بہت خراب تھا کام چور نکٹھو۔نہ کام کا نہ کاج کا دشمن اناج کا۔دن بھر پڑا اینڈتا رہتا۔بطخ بطخے کو بہتیرا سمجھاتی،پروہ نہ سمجھتا۔ ایک کان سے سنتا دوسرے سے اڑا دیتا۔ ایک دن بطخ بولی”کچھ خبر بھی ہے؟سارا اناج ختم ہو گیا اب کھائیں گے کیا؟“بطخے نے کہا”گھبراتی کیوں ہو خدا دے گا۔“بطخ بولی”خدا انہی کو دیتا ہے جو محنت کرتے ہیں۔کام چوروں کو خدا نہیں دیتا۔“بطخے نے کہا”تو میں کیا کروں؟نوکری تو ملتی نہیں۔“بطخ بولی”نوکری نہیں ملتی،نہ سہی مزدوری کرو۔ “بطخے نے کہا ”خدا کو مان!میں اور مزدوری کروں؟توبہ !توبہ!ارے!میرا باپ تحصیل دار تھا۔ اُس کے دروازے پر ہاتھی جھومتے تھے۔صبح شام لنگر بٹتا تھا۔سینکڑوں بھوکے پیٹ بھرتے تھے۔“بطخ بولی”باپ کو چھوڑ اپنے آپ کو دیکھ موا نکٹھو،کاہل،ٹٹو“یہ…

Read more

کسی جنگل میں ایک شیرنی رہتی تھی جس کے دو بچے تھے۔وہ اپنے دونوں بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔جب تک بچے چھوٹے تھے تب تک شیرنی روزانہ انہیں دوسرے جانوروں کا شکار کرکے لاتی اور خوب پیٹ بھر کر انہیں کھلاتی۔پر جب بچے تھوڑے بڑے ہوئے تو اس نے انہیں بھی شکار پر لے جانا چاہا تاکہ انہیں بھی شکار کرنا آئے۔بڑا بچہ فوراً تیار ہو گیا لیکن چھوٹا کہنے لگا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے کچھ دنوں بعد چلوں گا۔آج نہیں کل وغیرہ جیسے بہانے بنانے لگا۔بڑا بچہ ماں کے ساتھ شکار پر جانے لگا۔کچھ دن اور بیت گئے پر چھوٹا بچہ اب بھی شکار پر جانے کے لئے راضی نہ ہوا۔دراصل وہ بہت کاہل تھا۔وہ سوچتا تھا کہ جب بیٹھے بیٹھائے کھانے کو مل جاتا ہے تو میں محنت کیوں کروں۔ شیرنی اس کو بہت سمجھاتی کہ وہ شیر کا بچہ ہے اسے اپنی خوراک حاصل کرنے…

Read more

پرانے وقتوں میں چین میں **کنگی** نام کا ایک ایسا انصاف پسند بادشاہ گزرا ہے جو اپنی رعیت کو اولاد کی طرح عزیز رکھتا تھا۔ اس کی عادلانہ حکومت اور رعیت پروری کے قصے آج بھی چین کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے ہیں۔ وہ اپنے افسروں پر کڑی نظر رکھتا تھا اور ذرا سی سختی یا ظلم پر انہیں سخت ترین سزا دیتا تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں کسی کو بھی کسی بے گناہ پر ظلم کرنے کی جرات نہ تھی۔ایک روز جوانی کے دنوں میں، بادشاہ شاہی لباس کے بجائے شکاری بھیس بدل کر شکار کے لیے نکلا۔ اتفاق سے اس کا گھوڑا دوڑتا ہوا بہت دور نکل گیا اور اس کے تمام راہی و ساتھی پیچھے ہی رہ گئے۔راستے میں بادشاہ نے ایک بوڑھے شخص کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا، محبت کے ساتھ بوڑھے کے پاس گیا اور…

Read more

ایک ظالم بادشاہ اپنی سلطنت میں اس قدر سختی سے حکومت کرتا کہ عوام خوف کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے دربار میں آئی اور بولی: “بادشاہ سلامت، مجھے آپ سے صرف اتنا پوچھنا ہے کہ آپ کب مریں گے؟” بادشاہ آگ بگولہ ہو گیا اور حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے۔ کچھ دن بعد اسے دوبارہ دربار میں پیش کیا گیا اور وجہ پوچھی گئی کہ اس نے ایسی گستاخانہ بات کیوں کی۔بوڑھی عورت نے کہا: “بادشاہ سلامت، میں یہ اس لیے پوچھ رہی تھی کیونکہ جب آپ مریں گے، تو شاید کوئی نرم دل حکمران آئے، اور میری زندگی کے باقی دن سکون سے گزریں۔ مگر جب سے میں نے یہ سوال پوچھا، آپ نے میری فکر کرتے ہوئے، اپنے رویے پر غور کرنا شروع کر دیا، اور مجھے پتا چلا کہ آپ کے دربار میں پہلے سے کچھ…

Read more

برفانی طوفان میں جب پورا شہر موت کے سائے میں تھا… تب ایک کتے نے وہ کر دکھایا جس پر آج بھی دنیا حیران ہے! رات کے تقریباً دو بج رہے تھے۔ برفانی طوفان اس قدر شدید تھا کہ چند قدم دور کھڑا انسان بھی دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کی رفتار اتنی تیز تھی کہ درخت جڑوں سمیت اکھڑ رہے تھے، اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے بہت نیچے جا چکا تھا۔ ایک چھوٹا سا امریکی شہر خاموش تھا… لیکن اس خاموشی کے پیچھے ایک ایسا خطرہ چھپا تھا جس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ شہر کے سینکڑوں بچے ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہو رہے تھے۔ ہر گزرتا لمحہ قیمتی تھا، کیونکہ اگر دوا وقت پر نہ پہنچی تو نہ جانے کتنی معصوم جانیں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتیں۔ مسئلہ یہ تھا کہ برفانی طوفان نے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ ٹرینیں…

Read more

بندر میاں تو مشہور ہی اپنی نقالی اور شرارتوں کی وجہ سے تھے جس سے جنگل کے تمام جانور لطف اُٹھاتے لیکن بی لومڑی کو اُن کی یہ حرکت سخت ناگوار گزرتی تھی،کیونکہ اکثر و بیشتر وہ بندر میاں کی شرارت کا نشانہ بنتی تھیں۔بات محض شرارت تک ہوتی تو کوئی بات نہ تھی،بندر میاں مذاق ہی مذاق میں بی لومڑی کی بے عزتی کر دیا کرتے تھے اور اپنی عزت تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے۔بی لومڑی نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ بندر میاں سے اپنی بے عزتی کا بدلہ ضرور لیں گی اور جلد ہی بی لومڑی کو موقع بھی مل گیا۔ہوا یوں کہ بی لومڑی کو سخت بھوک لگ رہی تھی۔انھوں نے چٹپٹی چاٹ بنائی جسے ندیدوں کی طرح جلدی جلدی کھا رہی تھیں،اپنی اُنگلیاں چاٹ چکیں تو پیالہ زبان سے چاٹنے لگیں۔ بندر میاں جو اتفاقاً وہاں آ نکلے تھے،بڑے اشتیاق سے بی لومڑی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ جنگل کی سیر کو گیا ۔اُسکو ایک بوڑھا دکھائی دیاجو باغ میں کھجوروں کی گھٹلیاں بورہا تھا۔بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ اِس سے پوچھو کہ یہ کیا بو رہا ہے ؟وزیر نے اُس سے پوچھا تو جواب ملا ؛“کھجور کی گھٹلیاں بورہا ہوں“۔بادشاہ نے پوچھا؛“یہ کتنے عرصے میں پھل لے آئیں گی؟“بوڑھے نے جواب دیا؛“پچیس برس بعد “۔ بادشاہ ہنسنے لگا کہ بوڑھے کے پاؤں قبر میں لٹک رہے ہیں اور پچیس سال بعد کا سامان کررہا ہے ۔وزیر نے یہ بات بوڑھے سے کہی تو وہ بولا اگر سب باغ لگانے والے یہی سوچا کرتے جوتم سوچتے ہوتو آج ہمیں ایک بھی کھجور نصیب نہ ہوتی ۔بادشاہ سلامت ! دنیا میں کام یو نہی چلتا رہتا ہے کہ کوئی لگاتا ہے تو کوئی کھاتا ہے ۔ آج ہم بھی اپنے باپ دادا کے لگائے ہوئے درختوں…

Read more

بہت دور کہیں ایک باغ کے قریب تین دوست رہتے تھے۔وہ اکثر باغ کی باڑ پر بیٹھے نظر آتے۔باڑ کے ساتھ ہی ایک بڑا تالاب بھی تھی۔جب سورج کی شعاعیں درختوں کے پتوں اور پانی پر چمک رہی ہوتیں اور تیز ہوا سائیں سائیں کر رہی ہوتی تو کچھ دور ایک درخت پر رہنے والا اُلو اُڑ کر باڑ پر آجاتا اور زور سے آواز نکالتا۔اسی وقت تالاب کے پانی میں لہریں پیدا ہوتیں اور ایک بڑا سبز مینڈک اپنا سر نکال کر دیکھتا۔پھر وہ بھی تیرتا ہوا پانی سے باہر نکل آتا اور پھدکتا ہوا باڑ کے پاس آجاتا،اچانک کُٹ کُٹ․․․․کی آواز آتی اور ایک موٹی سی کالے پروں والی مرغی باغ کے کسی کونے سے نمودار ہوتی اور اس محفل میں شریک ہو جاتی۔تینوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اور اپنے اپنے دل کا حال سناتے۔ اُلو کو انسانوں سے شکایت تھی کہ وہ اسے پسند نہیں کرتے۔مینڈک…

Read more

کسی زمانے میں ایک گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا،اس کا نام اسلم تھا۔وہ رسیاں بیچ کر اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ایک روز اس کی دکان پر ایک سوداگر آیا۔سوداگر کے ساتھ اس کا ایک دوست بھی تھا۔اسلم ان کو رسے دکھانے لگا۔سوداگر نے اپنے دوست سے کہا”میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ دنیا میں ترقی اس لئے کر جاتے ہیں کہ ان پہ قسمت اچانک مہربان ہو جاتی ہے۔اب اس آدمی کو دیکھ لو اگر کہیں سے کوئی رقم اس کے پاس آ جائے تو اس کا کاروبار چل نکلے گا اور یہ خود رسے بنانے کے بجائے بیسیوں ملازم رکھ لے گا۔“”معاف کرنا جناب!“اسلم نے ان کی باتوں میں دخل دیتے ہوئے کہا”آپ درست فرما رہے ہیں،لیکن میرے پاس اتنی رقم آئے گی کہاں سے․․․؟“سوداگر بولا”دینے والی تو وہ پاک ذات ہے،اس نے مجھے بہت کچھ دیا ہے۔جب میں کسی…

Read more

ندی کے کنارے لیموں کا پیڑ لگا تھا اس کے قریب ہی آم کا درخت تھا۔لیموں کے پیڑ پر کوے کا گھونسلا تھا جب کہ آم کے درخت پر کوئل نے گھونسلا بنا رکھا تھا۔لیموں کے پیڑ کی شاخ پر بیٹھ کر کوا ”کائیں کائیں“ کرتا جب کہ آم کی ڈال پر بیٹھ کر کوئل کو کو کرتے ہوئے گاتی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ دونوں پرندوں کا رنگ کالا تھا۔موسم بہار میں کوئل نے اپنے گھونسلے میں انڈا دیا،ادھر کوے کی مادہ نے بھی اپنے گھونسلے میں انڈے دیے۔کوا دن بھر باہر دانہ دنکے کی تلاش میں اِدھر اُدھر اُڑتا پھرتا جب کہ ”کوی“ گھونسلے میں بیٹھی انڈوں کی رکھوالی کرتی۔کوئل کو یہ آسانی میسر نہیں تھی،وہ اپنے آشیانے میں اکیلی رہتی تھی،اسے کھانے کی تلاش میں باہر بھی جانا پڑتا تھا،اس صورت میں وہ انڈے کی حفاظت نہیں کر سکتی تھی۔ اسے ایک ترکیب سوجھی کہ کیوں نہ اپنا…

Read more

مولا بخش اور اس کی بیوی ایک گاؤں میں رہتے تھے۔وہ بچوں کے ساتھ صبر و شکر سے زندگی گزار رہے تھے۔گاؤں کے سبھی لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔ایک دن مولا بخش سے اس کی بیوی نے کہا:”میرا خیال ہے ہمیں اپنی بیلوں کی جوڑی سے ایک بیل بیچ دینا چاہیے۔ہمارے کام کاج کے لئے ایک بیل ہی کافی ہے۔ویسے بھی ہم بوڑھے ہو رہے ہیں اور اب اپنا کام نہیں کر سکتے۔“مولا بخش نے جواب دیا:”ٹھیک ہے کل منڈی جا کر ایک بیل بیچ آتا ہوں۔“صبح سویرے مولا بخش بیل کو لے کر منڈی کی طرف روانہ ہو گیا۔راستے میں اسے ایک شخص ملا جو گھوڑے کے ساتھ جا رہا تھا۔گھوڑا بہت مضبوط اور چاق چوبند اور اچھی نسل سے لگ رہا تھا۔وہ شخص مولا بخش کو دیکھ کر رک گیا۔ اس نے پوچھا:”بھائی! اتنی صبح کدھر کی تیاری ہے؟“مولا بخش نے بتایا کہ وہ بیل بیچنے منڈی…

Read more

حق تعالیٰ نے عزرائیل سے پوچھا کہ اے ہماری سنائی پہنچانے والے! سب مرنے والوں میں تجھے کس پر رحم آیا؟ اور کس کی موت پر تیرا دل زیادہ درد مند ہوا؟عزرائیل نے عرض کی کہ ایک دن ایک کشتی کو جو تیز موج پر بہہ رہی تھی، میں نے تیرے حکم سے توڑدیا اور وہ ریزہ ریزہ ہوگئی اس کے بعد تونے حکم دیا کہ ان سب کی جان قبض کر اور صرف ایک عورت اور ایک بچے کو چھوڑ دے۔ چنانچہ وہ دونوں ایک تختے پر رہ گئے۔ موجیں اس تختے کو آگے بڑھاتی رہیں۔ جب ہوا نے اس تختے کو کنارے لگادیا تو ان دونوں کے بچ جانے سے میرا دل بہت خوش ہوا۔ پھر تونے فرمایا کہ ماں کی روح قبض کر اور بچّے کو تنہا چھوڑ دے جب میں نے اس بچے کو ماں سے جدا کیا ہے تو خود ہی جانتاہے کہ مجھے کس…

Read more

Read more

ایک چڑی مارنے بڑی ترکیب سے پھندے میں چڑیا پکڑی۔ چڑیا نے اس سے کہا اے بزرگ سردار! فرض کیجئے آپ مجھ جیسی چھوٹی سی چڑیا کو پکڑ کر کھا بھی جائیں گے تو کیا حاصل ہوگا۔ اب تک آپ کتنی گائیں اور دُنبے کھا چکے ہیں اور کتنے اونٹ قربانی کر چکے ہیں۔ جب کہ آپ اتنے بڑے بڑے جانوروں کو کھا کر سیر نہیں ہوئے تو میرے ذرا سے گوشت واستخواں سے آپ کیا سیر ہوں گے۔ بجائے اس کے اگر آپ مجھے چھوڑ دیں تو آپ کی جواں مردی اور بلند نظری سے بعید نہیں۔ دوسرے آپ مجھے چھوڑ دیں تو میں ایسی تین مفید نصیحتیں کروں کہ آپ کے ہمیشہ کام آئیں ۔ ان میں سے پہلی نصیحت تو آپ کے ہاتھ پر بیٹھے بیٹھے ہی کردوں گی۔دوسری نصیحت دیوار پر بیٹھ کر دوں گی۔ وہ ایسی ہوگی کہ آپ مارے خوشی کےپھول جائیں گے اور…

Read more

ایک بھیڑیا شکار کی تلاش میں اِدھر اُدھر گھومتے گھومتے ایک غار کے پاس پہنچا،جہاں سے تازہ گوشت کی مہک آ رہی تھی،بھوک اور اُوپر سے تازہ گوشت اس سے رہا نہ گیا اور وہ غار کے اندر چلا گیا۔جب وہ غار میں پہنچا تو اس نے اپنے دوست چیتے کو بکری کھاتے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے بولا”ارے تم!کہاں غائب تھے اتنے عرصے سے؟بڑے مزے آ رہے ہیں اکیلے ہی پوری بکری کھا رہے ہو۔“چیتا بولا،”ہاں بھائی!شکار کے لئے محنت کی اور اب اس محنت کا پھل کھا رہا ہوں،تم سناؤ خیریت تو ہے؟بڑے کمزور دکھائی دے رہے ہو،حالانکہ پہلے تو اچھے بھلے صحت مند تھے۔“بھیڑیے نے کہا،کیا بتاؤں!تم تو آسانی سے شکار کرکے کھا لیتے ہو،مگر مجھے کافی پریشانی ہوتی ہے،قریب کے گاؤں سے روزانہ جنگل میں بکریوں کا ایک ریوڑ گھاس چَرنے آتا تو ہے،مگر ریوڑ کے ساتھ بہت سے موٹے تازے کتے ہوتے ہیں اس لئے…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے،ایک ایسی سلطنت تھی جس کے پرچم نے کبھی شکست کا رنگ نہیں دیکھا تھا۔ اس سلطنت کا بادشاہ صرف اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنی حکمت، انصاف اور بے مثال قیادت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ لیکن اب وقت اس کے کندھوں پر اپنے نشان چھوڑ چکا تھا۔ اس کے بال چاندی میں بدل رہے تھے، ہاتھوں کی مضبوطی کم ہونے لگی تھی، اور سب سے بڑھ کر… اس کے بعد تخت سنبھالنے والا کوئی ایسا وارث موجود نہ تھا جس پر وہ آنکھ بند کرکے بھروسا کر سکے۔ اسی دوران ایک ایسی خبر آئی جس نے پوری سلطنت کی نیندیں چھین لیں۔مشرق کی سرحدوں پر ایک خونخوار سلطنت اپنی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر جمع کر چکی تھی۔ جاسوسوں نے اطلاع دی کہ اگر اس حملے کو نہ روکا گیا تو صرف ایک جنگ نہیں ہاریں گے… بلکہ…

Read more

“ایک زمانہ تھا کہ سرسبز اور لہلہاتی وادی میں ایلیان نامی ایک استاد بانسری نواز رہتا تھا۔ وہ کوئی عام موسیقار نہیں تھا۔ جب وہ بانسری پر طاہرانہ انداز میں نغمہ چھیڑتا، تو ہزاروں لوگ اس کا سحر انگیز موسیقی سننے کھنچے چلے آتے۔ اس کی دھنوں میں یوں لگتا جیسے کوئی زندہ روح سانس لے رہی ہو۔ جب وہ بجاتا تو پورا ماحول اتنا ساکت ہو جاتا کہ پتوں پر گرتی شبنم کی آواز بھی سنائی دینے لگتی۔لیکن اس عظیم فن کے باوجود، ایلیان کے دل میں ایک چھپا ہوا غم تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ اس کی بانسری—جو اس نے ایک پوشیدہ غار سے ملنے والی چمکدار نرکل سے تراشی تھی—ناقص ہے۔ اسے لگتا تھا کہ اس سے نکلنے والی آواز، اگرچہ دلکش ہے، مگر اس کے دل میں گونجنے والے اس پاکیزہ اور خالص نغمے کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتی جو اس کے خیالوں میں…

Read more

480/841
NZ's Corner