بادشاہ کی انگوٹھی کا راز…….. ایک سبق آموز کہانی
ایک عظیم بادشاہ نے ایک دن اپنے دربار کے تمام دانا لوگوں کو بلایا اور کہا: “مجھے ایسا جملہ بتاؤ جو خوشی میں بھی کام آئے، غم میں بھی… فتح میں بھی، شکست میں بھی۔ ایسا راز جو ہر حال میں مجھے سنبھال سکے۔” دربار میں خاموشی چھا گئی۔ کافی دیر بعد ایک بوڑھا دانا آگے بڑھا۔ اس نے ایک کاغذ پر کچھ لکھا، اسے تہہ کیا اور بادشاہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا: “حضور! اسے اپنی انگوٹھی کے نیچے چھپا کر رکھیں۔ مگر اسے صرف اس وقت پڑھیں جب آپ کو لگے کہ دنیا میں کوئی راستہ باقی نہیں رہا۔” بادشاہ نے کاغذ لے لیا اور انگوٹی کے نیچے چھپا دیا۔ کچھ عرصے بعد دشمنوں نے سلطنت پر حملہ کر دیا۔ جنگ کئی دن جاری رہی، مگر آخرکار بادشاہ کی فوج شکست کھا گئی۔ بادشاہ جان بچا کر گھوڑے پر بھاگ رہا تھا۔ دشمن اس کے پیچھے تھے۔ وہ…
بلاعنوان
ایک دوپہر، کالج کا ایک نوجوان طالب علم اپنے ایک پروفیسر کے ساتھ سیر کے لیے نکا۔ جب وہ ایک دیہاتی سڑک پر چل رہے تھے، تو طالب علم کی نظر کھیت کے کنارے پڑی ایک پرانی اور خستہ حال جوڑی پر پڑی۔ وہ جوتے غالباً کسی غریب کسان کے تھے جو قریب ہی اپنے دن کا کام ختم کر رہا تھا۔طالب علم مسکرایا اور بولا، “پروفیسر، آئیے اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا مذاق کرتے ہیں۔ ہم اس کے جوتے چھپا دیتے ہیں، پھر ان جھاڑیوں کے پیچھے چھپ کر دیکھتے ہیں کہ جب وہ واپس آئے گا تو کیا کرے گا؟”پروفیسر نے اس کی طرف دیکھا اور جواب دیا، “بیٹے! ہمیں کبھی بھی کسی دوسرے کی مجبوری یا تکلیف پر اپنے دل بہلانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن چونکہ تمہارے پاس اس شخص سے زیادہ وسائل ہیں، اس لیے تم اسے ایک اور طرح کا سرپرائز دے…
بلاعنوان
ایک شخص نے ایک خوبصورت عورت سے شادی کی جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا۔ سالوں بعد، اسے جلد کی ایک سنگین بیماری لاحق ہو گئی جس نے آہستہ آہستہ اس کی ظاہری شکل بدل دی اور اس کی وہ خوبصورتی چھین لی جس کی وجہ سے وہ کبھی جانی جاتی تھی۔بالکل اسی دوران، اس کا شوہر کاروباری سلسلے میں شہر سے باہر گیا۔ جب وہ واپس آ رہا تھا، تو وہ ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا۔ جب وہ واپس لوٹا، تو سب کا یہی خیال تھا کہ وہ اپنی بینائی کھو بیٹھا ہے۔زندگی چلتی رہی، اور دونوں میاں بیوی اکٹھے رہے۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، بیوی کی بیماری مزید بگڑتی گئی اور اس کی ظاہری شکل یکسر بدل گئی۔ لیکن اس کے شوہر نے اس کے ساتھ ذرا بھی رویہ تبدیل نہیں کیا۔ وہ اب بھی اس سے اتنی ہی نرمی سے بات کرتا،…
شیر پر سواری
طالقان کے علاقے کا رہنے والا ایک آدمی جس کو شیخ ابوالحسن خرقانی رحمة اللہ علیہ کی زیارت کا بے حد شوق تھا۔ راستے کی دُوری اور سفر کی مشکلات کا خیال آتا تو خرقان جانے کی ہمت نہ پڑتی۔آخر ایک دن شوقِ زیارت نے اس کو بے تاب کر دیا۔ رخِ زیبا کی زیارت کے لئے سامانِ سفر باندھ لیا۔ راستہ کٹھن اور دشوار گزار تھا۔ لیکن وہ ہمت کا پکا تھا۔ کئی دن تک پہاڑی اور جنگلی راستے سے ہوتا ہوا ایک طویل اور پُر صعوبت سفر کے بعد آخر کار منزلِ مقصود تک پہنچ گیا۔ شہر خرقان میں آ کر اس نے شیخ ابوالحسن رحمة اللہ علیہ کے گھر کا پتا دریافت کیا۔ وہاں جا کر نہایت ادب کے ساتھ دروازے کی زنجیر ہلائی۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک عورت نے کھڑکی سے جھانک کر پوچھا کون ہے۔ اس نے جواب دیا! میں…… حضرت شیخ ابو الحسن…
ایک تلخ حقیقت پر مبنی جذباتی کہانی
سورج ڈھل رہا تھا اور حویلی کے صحن میں سناٹا تھا۔ آج علی کے والد، چوہدری صابر کے دنیا سے رخصت ہوئے پورا ایک سال گزر چکا تھا۔علی کو وہ دن اچھی طرح یاد تھا جب اس کے والد زندہ تھے۔ حویلی میں ہر وقت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ چاچا، تایا، ماموں، خالاؤں اور تمام عزیز و اقارب کا آنا جانا لگا رہتا۔ باپ کا سایہ ایک ایسے گھنے درخت کی طرح تھا جس کے نیچے پورا خاندان پناہ لیے ہوئے تھا۔ والد صاحب کا رعب اور ان کی شفقت ایسی تھی کہ کوئی رشتے دار علی اور اس کی بہن کو نظر انداز کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔لیکن باپ کے دنیا سے جاتے ہی، جیسے وقت کی ہوا کا رخ ہی بدل گیا۔شروع کے چند ہفتے تو لوگ تعزیت کے بہانے آتے رہے، لیکن آہستہ آہستہ حویلی کی رونقیں مانند پڑنے لگیں۔ چھ ماہ گزرتے…
بلاعنوان۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جگہ آم کا ایک بہت بڑا اور گھنا درخت تھا۔ ایک چھوٹا بچہ روزانہ اس درخت کے پاس کھیلنے آیا کرتا تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ بڑا ہو گیا۔ عمر کے ساتھ ساتھ اس نے درخت کے پاس آنا چھوڑ دیا۔کافی عرصے بعد، جب وہ ایک بار پھر اس درخت کے پاس آیا، تو اس نے درخت کو بہت اداس پایا۔ درخت نے اسے دیکھ کر خوشی سے پوچھا، “کیا تم میرے ساتھ کھیلو گے؟”لڑکے نے جواب دیا، “اب میں بچہ نہیں رہا۔ مجھے پیسوں کی ضرورت ہے، کھیل کی نہیں۔”درخت نے محبت سے کہا، “میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں، لیکن تم میرے سارے آم توڑ کر لے جاؤ اور انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”لڑکے نے تمام آم توڑے اور وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جانے کے بعد درخت ایک بار پھر اداس اور تنہا رہ…
پوشیدہ راز۔
حضرت داؤد علیہ السلام کے زمانے میں ایک شریف النفس اور کمزور آدمی تھا۔ اللہ کے حضور یہ دُعا کرتا رہتا تھا کہ مجھے غریب بے سہارا کو غیب سے روزی عطا فرما اور مجھے محنت و مشقت کے عذاب میں نہ ڈال، مریل گدھے پر گھوڑوں اور اونٹوں کا بوجھ نہیں لادا جا سکتا…… پاؤں والا تو چل کر روزی پیدا کر سکتا ہے اور جس کے پاؤں نہ ہوں اس کو تیرا ہی آسرا ہے۔ اے اللہ سب کی سننے والے! میں منہ سے ہی تجھ سے مانگ سکتا ہوں لیکن مشقت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا…… بس یہی ورد و وظائف اس کے دن رات کی مصروفیت تھی۔ اس کا یہ عمل ہر عام و خاص میں مشہور ہو چکا تھا۔ لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے۔ خدا نے ہر شخص کی روزی محنت و مشقت کے راستے اُتاری ہے لیکن اسے دیکھو ہاتھ پیر ہلائے بغیر…
رزق کا مالک کون؟”۔۔۔ایک سبق آموز کہانی
ایک شخص ایک مالدار آدمی کے ہاں ملازم تھا۔ وہ خاموش طبیعت اور محنتی انسان تھا، مگر ایک دن اچانک کام پر نہ آیا۔ مالک نے سوچا: “شاید اسے اجرت کم ملتی ہے، اسی لیے کام میں دل نہیں لگاتا۔ اگر اس کی تنخواہ بڑھا دوں تو شاید یہ خوش ہو جائے اور آئندہ چھٹی نہ کرے۔” اگلے دن مالک نے اس کی اجرت میں کچھ اضافہ کر دیا۔ ملازم نے اضافی رقم دیکھی، مگر کچھ نہ پوچھا۔ بس خاموشی سے رقم لے لی۔ چند دن گزرے تو وہ ایک بار پھر کام پر نہ آیا۔ اس مرتبہ مالک کو غصہ آ گیا۔ اس نے سوچا: “میں نے اس کی تنخواہ بڑھائی، پھر بھی یہ غیر حاضر ہو گیا!” چنانچہ مالک نے پچھلا اضافہ واپس لے لیا اور اسے دوبارہ وہی پرانی اجرت دینے لگا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ ملازم اس بار بھی خاموش رہا۔ آخرکار مالک سے…
بلاعنوان
جنگل کے ایک نسبتاً سنسان حصے میں ایک گدھا رہتا تھا۔ محنت مزدوری سے اسے کوئی خاص دشمنی نہیں تھی، البتہ محنت اسے کچھ زیادہ پسند بھی نہیں تھی۔ اس کا فلسفہ بڑا سادہ تھا: اگر قسمت میں گھاس لکھی ہے تو گھاس خود راستہ ڈھونڈ کر منہ تک آ جائے گی، اور اگر قسمت میں بادشاہی لکھی ہے تو آدمی کو لکڑیاں اٹھانے کی کیا ضرورت؟ بس اسی فلسفے کے ساتھ وہ دن بھر کبھی درخت کے سائے میں کھڑا رہتا، کبھی ندی کے کنارے بیٹھا رہتا اور کبھی اپنی زندگی کے سنہرے مستقبل کے بارے میں سوچتے سوچتے سو جاتا۔ ایک رات اسے ایک عجیب خواب آیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک لمبی، سنسان وادی میں اکیلا چل رہا ہے۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا تھا، آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور دور کہیں بجلی چمک رہی تھی۔ اچانک اس کے سامنے زمین پھٹنے لگی، درخت…
بلاعنوان
ایک پرسکون صبح، ایک کچھوے نے ایک چھوٹی سی چیونٹی کو دیکھا جو اپنے جسم سے کئی گنا بڑا کھانے کا ٹکڑا اٹھانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہی تھی۔چیونٹی پتھروں سے ٹکرائی، چھوٹے چھوٹے ڈھلوانوں پر چڑھی، دراڑوں میں پھسل گئی، اور ایک سے زیادہ بار گری۔لیکن جب بھی وہ گری، اس نے ٹکڑا اٹھایا، خود کو سنبھالا، اور آگے بڑھتی رہی۔کچھوا مسکرایا۔اس نے کہا، “تم کتنی چھوٹی ہو۔ اتنی بھاری چیز کیوں اٹھاتی ہو جبکہ تم اسے آسانی سے چھوڑ سکتی ہو؟”چیونٹی نے اوپر دیکھا اور جواب دیا،“کیونکہ طاقت کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جاتا کہ آپ کتنے بڑے ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ آپ اپنی اٹھائی ہوئی چیز پر کتنا گہرا یقین رکھتے ہیں۔”کچھوا خاموش ہو گیا۔اس نے اپنے سست رفتار قدموں کو دیکھا۔اس نے اعتراف کیا، “میں نے اپنی پوری زندگی تیز دوڑنے کی آرزو میں گزار دی…
بلاعنوان
ایک دن ایک کامیاب کاروباری شخص ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں لکڑی کے تختوں سے بنے ہوئے ڈیک پر کھڑا تھا, جب اس کی نظر ایک ماہی گیر پر پڑی جو اپنی ایک چھوٹی سی سادی سی کشتی سے ایک بڑی ٹونا مچھلی کھینچ کر باہر نکال رہا تھا۔ اس سے متاثر ہو کر، کاروباری شخص نے اسے مبارکباد دی اور پوچھا کہ اتنی بڑی مچھلی پکڑنے میں اسے کتنا وقت لگا۔ماہی گیر نے جواب دیا، “بس دو گھنٹے، یا شاید اس سے بھی کم۔”کاروباری شخص حیرت سے دیکھنے لگا۔ “تو پھر تم زیادہ دیر تک سمندر میں کیوں نہیں رہے اور چند اور مچھلیاں کیوں نہیں پکڑیں؟”ماہی گیر نے کندھے اچکائے۔ “ایک مچھلی میرے خاندان کا پیٹ بھرنے اور کل کے لیے ہماری ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔”کاروباری شخص نے پوچھا، “لیکن تم اپنے دن کا باقی حصہ کیا کرتے ہو؟”ماہی گیر مسکرایا۔ “میں صبح تھوڑا…
بادشاہ، وفادار غلام اور شیر کا راز……. ایک سبق آموز کہانی
ایک بادشاہ اپنے محل کی چھت پر ٹہل رہا تھا کہ اس کی نظر قریب کے ایک گھر کی چھت پر پڑی، جہاں ایک نہایت خوب صورت عورت کپڑے سکھا رہی تھی۔ بادشاہ نے اپنی ایک خادمہ سے پوچھا: “یہ عورت کون ہے؟” خادمہ نے جواب دیا: “حضور! یہ آپ کے وفادار غلام فیروز کی بیوی ہے۔” یہ سن کر بادشاہ کے دل میں اس عورت کو حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہو گئی۔ اس نے فوراً فیروز کو بلا بھیجا اور کہا: “فیروز! یہ خط فلاں ملک کے بادشاہ کے پاس لے جاؤ اور جواب لے کر واپس آؤ۔” فیروز نے حکم کی تعمیل کی، لیکن روانگی سے پہلے وہ خط تکیے کے نیچے رکھ کر سفر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ صبح سویرے وہ روانہ ہو گیا، مگر اسے خبر نہ تھی کہ اس کے پیچھے کیا ہونے والا ہے۔ فیروز کے جاتے ہی بادشاہ اس کے…
۔۔ سوداگر کی عقلمندی
ایک سوداگر کچھ دنوں کے لیے ایک سفر پر جانے لگا تو اس نے سومن لوہا اپنے ایک دوست کے گھر امانت کے طور پر رکھوا دیا تاکہ ضرورت پڑے تو اسے بیچ کر روپیہ حاصل کر سکے۔ جب وہ سفر سے لوٹا تو اپنے دوست کے پاس آیا اور اس سے لوہا طلب کیا۔ دوست نے کہا۔ ’’تمہارا لوہا میں نے ایک کوٹھری میں بند کر کے رکھ دیا تھا مگر ایک دن کھول کے دیکھا تو چوہوں نے سب کھا لیا تھا۔‘‘ سوداگر نے کہا۔ ’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ دراصل چوہوں کو لوہا بہت پسند ہے۔ وہ اس کی لذت پر جان دیتے ہیں۔ ضرور کھا لیا ہوگا کیونکہ ان کے دانت اس قسم کی ملائم اور چکنی چیز پر خوب چلتے ہیں۔‘‘یہ بات سن کر اس کا دوست بہت خوش ہوا کہ چلو اتنا سارا لوہا بغیر کسی جھگڑے کے ہضم ہو گیا۔ اسے سوداگر کی بے…
کلہاڑے کی دھار
ایک لکڑہارا نہایت محنتی اور جفاکش تھا۔ ایک ٹھیکیدار نے اسے روزانہ اپنے لیے درخت کاٹنے کے کام پر رکھ لیا۔ پہلے دن اس نے خوب محنت کی اور 18 درخت کاٹنے میں کامیاب رہا۔ ٹھیکیدار نے اس کی کارکردگی کو سراہا اور اگلے دن مزید دل لگا کر کام کرنے کی ترغیب دی۔اگلے دن اس نے پہلے سے بھی زیادہ محنت کی، لیکن صرف 15 درخت ہی کاٹ سکا۔ اس سے اگلے دن تمام تر کوششوں کے باوجود وہ محض 12 درخت کاٹ پایا۔ٹھیکیدار نے اسے اپنے پاس بلایا اور پوچھا: “تمہاری کارکردگی میں دن بہ دن کمی کیوں آ رہی ہے؟”لکڑہارے نے جواب دیا: “میں پورا وقت دے رہا ہوں اور میری محنت میں بھی کوئی کمی نہیں، لیکن اس کے باوجود کاٹے گئے درختوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ وجہ میری سمجھ سے باہر ہے۔”ٹھیکیدار نے پوچھا: “تم نے آخری بار اپنے کلہاڑے کی دھار…
بادشاہ کا فیصلہ اور بوڑھی ماں کی جھونپڑی
بادشاہ سلیمان اپنی انصاف پسندی اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ اس کے دربار سے کبھی کسی مظلوم کو خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا تھا۔ ایک دن اس نے دریا کے کنارے ایک شاندار محل تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ محل تیار ہوا تو اس کی شان و شوکت دیکھنے والے دنگ رہ گئے۔ مگر محل کے مرکزی دروازے کے قریب ایک چھوٹی سی پرانی جھونپڑی کھڑی تھی۔ وزیر نے جھونپڑی دیکھتے ہی کہا: “یہ جھونپڑی یہاں سے ہٹاؤ! بادشاہ کے محل کے سامنے یہ جگہ اچھی نہیں لگتی۔” سپاہی نے بتایا: “حضور، اس میں ایک بوڑھی عورت رہتی ہے۔” وزیر بوڑھی عورت کے پاس گیا اور بولا: “اماں! بادشاہ تمہیں اس جھونپڑی کے بدلے جتنا چاہو مال دینے کو تیار ہیں۔” بوڑھی عورت نے جھونپڑی کی دیوار پر ہاتھ پھیرا اور دھیمی آواز میں بولی: “بیٹا، یہ میرے لیے جھونپڑی نہیں… میری پوری زندگی ہے۔” وزیر حیران ہوا۔…
وہ رات جب کسان نے اپنے ہی محافظ مار دئے..
رات کے دو بجے تھے۔کھیت سو رہا تھا، مگر ایک پتے کے نیچے قتل ہو رہا تھا۔ ایک نرم جسم والا ننھا حشرہ پتے سے چمٹا رس چوس رہا تھا کہ اچانک اندھیرے سے دو جبڑے نمودار ہوئے۔ چند لمحوں کی تڑپ اور وہ غائب۔ قاتل وہیں نہیں رکا۔وہ اگلے شکار کی طرف بڑھ گیا۔کچھ فاصلے پر ایک اور عجیب واقعہ ہو رہا تھا۔ ایک انتہائی چھوٹی بھڑ خاموشی سے ایک حشرے کے قریب اتری، چند لمحوں کے لیے اس کے جسم پر رکی اور پھر اندھیرے میں غائب ہوگئی۔ شکار زندہ تھا، چل پھر رہا تھا، رس بھی چوس رہا تھا. اسے خبر تک نہ تھی کہ اس کے جسم کے اندر موت رکھ دی گئی ہے۔ اوپر ایک مکڑی کئی گھنٹوں سے بے حرکت بیٹھی تھی۔ زمین پر شکاری بھونرے گشت کر رہے تھے۔ پتوں کے درمیان ننھے شکاری ایک ایک کرکے فصل کے دشمنوں کو ختم کر…
“گڈریے کی کوٹھڑی کا راز — بادشاہ بھی حیران رہ گیا!”
پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…
جوتےکا مقدمہ۔
عصر کی نماز پڑھ کر گھر آیا تو صحن میں ایک مسکین سی عورت آنسو بہا رہی تھی۔ میں سمجھا، مریضہ ہیں۔ پوچھا، “کیا ہوا تمہیں؟” وہ بولیں، “میرے بیمار بھائی اور ابو کو پولیس پکڑ کر لے گئی ہے۔” میں نے کہا، “بہن، یہ پولیس کچہریوں کے چکر میں مت ڈالو۔ میرے پاس ان کاموں کے لیے وقت نہیں۔” اس کے بعد میں مرغی دانہ تیار کرنے سٹور میں چلا گیا۔ میرا خیال تھا کہ وہ خاتون اٹھ کر چلی گئی ہوں گی، لیکن یہ میری بھول تھی۔ وہ اندر لاؤنج میں گئی تھیں اور بیگم صاحبہ کو بھڑکا رہی تھیں۔ کچھ ہی دیر میں بیگم صاحبہ تشریف لائیں۔ ہاتھ میں چمٹا تھا اور پیچھے پیچھے ٹسوے بہاتی وہ عورت- اگرچہ فقیر کچن یوٹینسل سے نہیں ڈرتا مگر حالات دیکھنا پڑتے ہیں- بمشکل کمر پکڑ کر اٹھا اور اپنے تئیں اکڑ کر کہا ، ہم صرف علاج کرواتے ہیں،…
آپ کا جسم، کسی اور کی مرضی
رات گہری ہو چکی تھی۔باورچی خانے کی بتیاں بجھ چکی تھیں۔ فرش پر خاموشی تھی۔ سنک کے نیچے اندھیرے میں ایک کاکروچ خوراک کی تلاش میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک ہوا میں پروں کی ہلکی سی آواز گونجی۔وہ رک گیا۔سامنے ایک چھوٹی سی چمکدار بھڑ بیٹھی تھی۔کاکروچ نے خطرہ محسوس کیا اور پلٹ کر بھاگنا چاہا، مگر بھڑ پہلے ہی حملہ کر چکی تھی۔ پہلا ڈنک لگا۔چند لمحوں کے لیے اس کی اگلی ٹانگوں کا نظام گڑبڑا گیا۔مگر اصل حملہ ابھی باقی تھا۔ بھڑ دوبارہ آگے بڑھی۔ اس مرتبہ اس نے سر کے قریب ڈنک اتارا۔ اس کا باریک ڈنک اندر گیا اور اعصابی مراکز تک پہنچ کر اپنا زہر چھوڑ آیا۔ کاکروچ مرا نہیں۔وہ بے ہوش بھی نہیں ہوا۔اس کی ٹانگیں بھی کام کر رہی تھیں۔ مگر اس کے اندر سے ایک چیز غائب ہو چکی تھی۔ بھاگنے کا ارادہ۔ بھڑ کچھ دیر انتظار کرتی رہی۔پھر…
بلاعنوان
جنگل کی ریاست پر برسوں سے بھیڑیوں کا اثر تھا، مگر جنگل کے قانون کے مطابق بادشاہ صرف شیر ہی بن سکتا تھا، اس لیے بھیڑیوں نے ایک لنگڑے شیر کو بادشاہ بنا دیا۔ شیر نام کا بادشاہ تھا، مگر حکومت کے فیصلے بھیڑیے کرتے تھے، خزانے کی چابیاں بھیڑیوں کے پاس تھیں، جنگل کے راستے بھیڑیوں کے قبضے میں تھے اور شکار کی تقسیم بھی انہی کی مرضی سے ہوتی تھی۔ شیر کی سب سے بڑی مصیبت یہ تھی کہ ہر مہینے کی یکم تاریخ کو اسے جانوروں کے سامنے حکومتی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنا پڑتی تھی۔ اس دن کا خیال آتے ہی شیر کے چہرے کا رنگ بدل جاتا، رات بھر کروٹیں بدلتا اور کبھی کبھی اپنے لنگڑے پن کو کوسنے لگتا کہ کاش جنگل میں بادشاہ بننے کے لیے صرف شیر ہونا ضروری نہ ہوتا۔ کیونکہ یکم تاریخ کو بندر رپورٹر اپنی پوری تیاری کے ساتھ…