بد فطرت سے دوستی –
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔اُن میں سے ایک مینڈک بہت بھدا اور بد صورت تھا۔اُس کے ساتھی اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔اُس وقت بھی سب اُس کا مذاق اُڑا رہے تھے تو اُسے بہت غصہ آیا۔”ہمیں دیکھ تو ایسے غصے سے رہے ہو جیسے ہمیں کھا جاؤ گے۔“ ایک مینڈک نے کہا تو باقی سب ہنسنے لگے۔ ”میں تم سب کو دیکھ لوں گا۔“ بد صورت مینڈک بولا۔تو سب اُس کا مذاق اُڑاتے ہوئے خوراک کی تلاش میں کنویں سے باہر چلے گئے۔اُن کے جانے کے بعد بھدا مینڈک سوچنے لگا کہ ان سے کیسے بدلہ لو۔پھر وہ بھی کنویں سے باہر آ گیا۔سامنے اُسے ایک سانپ نظر آیا تو مینڈک نے اُس سے کہا:”کیا تم میرے دوست بن سکتے ہو؟“”کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ سانپ مینڈک کو کھا جاتا ہے؟“ سانپ نے اُس سے پوچھا۔ ”مجھے معلوم ہے،لیکن اگر…
یہ تو وہی دوا تھی
پچھلی یعنی بیسویں صدی عیسوی میں حکیم محمد عبد اللہ بہت بڑے طبیب گزرے ہیں۔ وہ پنجاب کے ایک قصبے جہانیاں میں رہتے تھے جہاں وہ پاکستان بننے کے بعد روڑی ضلع حصار سے ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اور مدتوں کے بیمار لوگ ان کے علاج سے تندرست ہو جاتے تھے۔ حکیم صاحب ایک سچے مسلمان اور اللہ سے ڈرنے والے بزرگ تھے۔ ان کے پاس جو بہت غریب اور بے سہارا مریض آتے ان سے دوا کی قیمت نہیں لیتے تھے اور ان کا علاج مفت کرتے تھے۔ دوسرے لوگوں سے دوا کی لاگت انتہائی کم منافع کے ساتھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ ملتان کے قریب سے ایک بڑا زمیندار اپنی کسی بیماری کا علاج کرانے حکیم صاحب کے پاس آیا۔ انھوں نے مرض کی تشخیص کی اور دوا لکھ دی…
🤣😂 شیخ چلی اور جادوئی کنواں 😂🤣
ایک دور کی بات ہے، شیخ چلی ایک دن گاؤں کے باہر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک بہت پرانا کنواں دکھائی دیا۔ کنویں کے اردگرد بڑے بڑے درخت تھے، بیلیں لٹک رہی تھیں اور ماحول اتنا پراسرار تھا کہ لوگ اس کے قریب آنے سے بھی گھبراتے تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک جادوئی کنواں ہے، جو ہر خواہش پوری کرتا ہے، لیکن صرف اسی شخص کی جس کا دل صاف ہو۔ یہ سنتے ہی شیخ چلی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انہوں نے سوچا، “بس! آج تو میری قسمت بدلنے والی ہے۔” وہ فوراً کنویں کے کنارے پہنچے، دونوں ہاتھ جوڑ کر آنکھیں بند کیں اور بولے، “اے جادوئی کنویں! مجھے سونے کے ہزار صندوق، ایک شاندار محل، سو گھوڑے اور پچاس نوکر دے دے!” اتنے میں کنویں کے اندر سے ایک زور دار آواز آئی، “پہلے ایک پتھر نیچے پھینکو، پھر اپنی خواہش…
بیربل کی عقلمندی –
اکبر کا نیا وزیر اپنی غلطی کو سمجھ گیا اور بیربل کو اُس کی جگہ پر واپس مقرر کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا اکبر کے دور میں بیربل کی حکمت و دانائی سے سب واقف تھے۔دربار میں بہت سے وزیر بیربل سے حسد کرتے تھے، حتیٰ کہ اکبر کا ایک سالا بھی ان میں شامل تھا۔اس نے اکبر سے درخواست کی کہ بیربل کو اس کی وزارت سے ہٹا کر اس کی جگہ پر مقرر کیا جائے۔بیربل کو کسی طرح اس بات کی خبر ہو گئی۔اس سے پہلے کہ اکبر کوئی فیصلہ کرتا، بیربل نے خود ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔اکبر نے اپنے نئے وزیر کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اس نے اسے بلایا اور اسے تین سو سِکّے دے کر کہا کہ ان سِکّوں کو اس طرح خرچ کرو کہ سو سِکّے مجھے اِسی زندگی میں مل جائیں، سو سِکّے دوسرے جہان میں ملیں، اور…
چھوٹی نیکی کو حقیر نہ سمجھو
ابو نصر العیاد نامی ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ غربت وافلاس کی زندگی بسر کررہا تھا۔ایک دن وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین سے ہوا جس کا نام احمد بن مسکین تھا۔عالم دین کو دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا کہ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوا غموں سے تھک گیا ہوں۔عالم دین نے کہا کہ میرے پیچھے چل آؤ ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر عالم دین نے اسے دورکعت نفل پڑھنے کو کہا نماز پڑھ چکا تو اس نے ایک جال دیتے ہوئے کہا کہ اسے بسم اللہ کرکے سمندر میں پھینک دو ۔پھینکے گئے جال میں پہلی بار ایک بڑی مچھلی پھنس گئی جال کو باہر نکالا گیا عالم دین نے…
اُڑنے والا گھوڑا –
جب شہزادہ البرٹ نے تحفہ دیکھا تو وہ حیرت اور خوشی سے اچھل پڑا یہ ایک بہت ہی پیارا اورخوبصورت سفید رنگ کا گھوڑا تھا جس کے کندھوں پر بھی بہت ہی خوبصورت سفید چمک دار پَر تھے۔شہزادہ البرٹ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یونان میں ایک خوبصورت اور باوقار شہزادہ البرٹ رہتا تھا۔اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے بادشاہ اس پر بہت مہربان تھا۔شہزادہ البرٹ کی سوتیلی ماں کو بادشاہ کا شہزادے کی طرف جھکاؤ ایک آنکھ بھی نہ بھاتا تھا۔اس نے شہزادہ البرٹ کی الٹی سیدھی شکایتیں لگا کر بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ شہزادہ البرٹ کو قتل کردے۔بادشاہ شہزادے کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا،چنانچہ بادشاہ نے شہزادہ البرٹ کو ایک خط دے کر اس کو اپنے دوست بادشاہ کے پاس روانہ کیا۔جو شہزادہ البرٹ کے والد کے دوست تھے اور قریب کے ملک ہی…
خود غرضی –
ایک سرسبز و شاداب وادی میں وسیع و عریض باغ واقع تھا۔باغ کے وسط میں ایک بہت پرانا کنواں بھی موجود تھا۔یہ باغ کسی وقت میں بہت سے درختوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔چنار، شہتوت، املی اور جامن جیسے درخت یہاں کی زینت تھے۔یہ درخت سایہ فراہم کرتے تھے۔ان پر بسنے والے رنگ برنگے پرندے اس باغ کو گلستاں بنا دیتے تھے۔ایسی ہی شاخوں پر خوش رنگ تتلیاں منڈلاتیں، جگنو راتوں کو چراغاں کرتے۔یہیں پر قدیم شہتوت کے درخت پر چمن نامی چڑیا کا گھونسلہ تھا۔اس کے قریب بڑے سے چنار پر کالو نامی کوا رہتا تھا۔دونوں میں دیرینہ دوستی تھی مگر یہ دوستی یک طرفہ تھی۔چمن ہر خوشی کا موقع اپنے دوست کے ساتھ بانٹتی۔وہ میٹھے میٹھے پھل، بیج یا دانے لے کر چنار کی شاخوں پر آتی اور کالو خوشی سے آ کر لے جاتا لیکن شکر تو دور کبھی حال چال بھی نہ پوچھتا۔چمن بہت معصوم تھی،…
عقلمند وزیر کے حاسد دشمن –
صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ملک میں امن وامان تھا ، رعایا پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں تھا، ہر طرف خوشحالی تھی ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر بادشاہ کو الٹی سیدھی باتیں بتاتے رہتے تھے ، ان سب کا ٹارگٹ اکثر وزیر ہوتا، اس طرح کئی وزیر سوا ہوئے اور کئی ایک کوبادشاہ نے مروادیا ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے ۔ ایک دن بادشاہ نے ایک نیاوزیر مقرر کیا ، اس وزیر کو چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ دربار میں حاسدی ٹولہ بہت خطرناک ہے وزیر ان کی طرف سے محتاط ہو گیا، وہ انہیں اہمیت نہ دیتا جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف ہوگئے ۔ ایک دن ایک درباری نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہابادشاہ نے ایک بکری منگوائی اور وزیر…
آخری ادھار –
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا :” بھائی ! مجھے آخری بار دھار دے دو؟“رحیمو کا کانے دوٹوک انداز میں جواب دیا: “تمھارا تین مہینے کا حساب باقی ہے۔ جب تک وہ ادا نہیں ہوتا، میں تمہیں مزیدا دھار نہیں دے سکتا۔وہ تقریبا رو دینے کے قریب تھا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا : آج کے بعدتم کبھی مجھے ادھار مانگتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ بس آخری بار۔ رحیمو کاکا نے ہاتھ اٹھایا اور بولا:” بس ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا “اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے…
پکا چور
خوبرو جوان بائیک پر جا رہا تھا کہ ایک انکل اور آنٹی پر نظر پڑی جو کافی پریشانی کے عالم میں آتے جاتے لوگوں کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔نوجوان نے رُک کر پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:“کار لاک ہے اور چابی اندر ہی رہ گئی ہے”اُن کی بات سُن کر نوجوان کے اندر کا ہیرو جوش میں آیا اور کافی دیر سوچنے کے بعد حل نکالا۔کار کے دروازے کے شیشے کے اوپر سے ربڑ ہٹایا اور ایک دھاگے کو ڈھیلی گرہ ڈال کے وہاں سے اندر ڈالا اور کافی تگ و دو کے بعد دھاگے کی گرہ کھڑکی کے لاک میں پھنس گئی اس کے بعد جھٹکے سے دھاگہ کھینچا تو لاک کھل گیا۔ نوجوان نے انکل کی طرف شکریہ طلب نظروں سے دیکھا تو انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا۔نوجوان اپنے آپ کو ایک کامیاب ہیرو تصور کرتے ہوئے جانے کے لیے آگے…
Negociación de caballos –
Fue hace mucho tiempo. Khwaja Saadullah de Mohalla Sufi tenía bastantes caballos, vacas y búfalos, que había vendido. Ahora solo le quedaba un caballo, que quería vender. Había pedido a personas especiales que lo vendieran, para que gente respetable pudiera venir a negociar. El padre del famoso escritor A. Hameed, Chaudhry Sahib, tenía un carruaje real. En el que su familia solía viajar, pero no tenía un caballo en el que pudiera sentarse solo e intimidar a la gente. Así que pensó en comprar el caballo de Khwaja Sahib. Se enteró de esto por uno de sus sirvientes. En el pasado, no se consideraba bien visto que la gente respetable vendiera sus cosas. Un día, llegó a la mansión de Khwaja Sahib con dos o tres personas. El sirviente, Allah Rakha, lo conocía. Mantuvo a cinco o seis hombres a la sombra de los árboles de la despensa en la…
گھوڑے کا سودا –
کافی عرصہ پہلے کی بات ہے۔محلہ صوفی کے خواجہ سعد اللہ کے پاس یوں تو کافی گھوڑے اور گائے بھینسیں تھیں،جنھیں وہ بیچ چکے تھے۔اب صرف ایک گھوڑا رہ گیا تھا،جسے وہ فروخت کرنا چاہتے تھے۔اس کی فروخت کے لیے انھوں نے خاص خاص لوگوں سے کہہ رکھا تھا،تاکہ معزز افراد آکر سودے بازی کر سکیں۔مشہور مصنف اے ۔حمید کے والد چودھری صاحب کے پاس رئیسی ٹانگہ تھا۔ جس میں ان کے اہل خانہ سوار ہو کر سیر کرتے تھے ،لیکن گھوڑا نہیں تھا کہ جس پر وہ تن تنہا بیٹھ کر لوگوں پر رعب جماتے ۔چنانچہ انھوں نے سوچا خواجہ صاحب کا گھوڑا خریدلیتے ہیں۔ یہ بات انھیں اپنے ایک ملازم سے معلوم ہوئی تھی۔پہلے زمانے میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ معزز افراد اپنی چیزیں فروخت کریں۔(جاری ہے) وہ ایک روز دو تین افراد کو لے کر خواجہ صاحب کی حویلی پر پہنچ گئے۔ ملازم اللہ…
کچھوے کا غصہ –
یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا ۔ یہ تینوں یہاں کے اصل باشندے نہیں تھے ۔ ایک زبردست سیلاب کے نتیجے میں بہتے بہتے اس تالاب تک پہنچ گئے تھے ، پھر اس کی خوب صورتی دیکھ کر کریمیں بس گئے تھے ۔یہ بہت پرانے زمانے کا قصہ ہے ۔ کہتے ہیں کہ کسی گاؤں سے کچھ فاصلے پر ایک خوب صورت تالاب تھے جس کے کنارے تین دوست رہا کرتے تھے ۔ ان میں ایک راج ہنس تھا ، ایک پیلی کن (حواصل جس کی لمبی سی چونچ کے نیچے تھیلی سی ہوتی ہے ) اور ایک کچھوا…
قاضی کا انصاف –
ایک گاؤں میں ارمان نامی آدمی رہتا تھا اُس کے پاس کوئی نوکری نہیں تھی۔ایک دن اُس نے سوچا کہ وہ نوکری ڈھونڈنے شہر جائے گا۔اُس کے پاس صرف تین اشرفیاں تھیں۔وہ اپنے سفر پر نکل گیا۔جب وہ شہر پہنچا تو اُسے وہاں بہت سے لوگ مختلف کام کرتے نظر آئے تو وہ خوش ہو گیا کہ اُسے یہاں نوکری ضرور مل جائے گی، مگر سب سے پہلے کہیں رہنے کی جگہ چاہیے۔اُس نے دیکھا کہ ایک گھر کے باہر لکھا ہے ”اوپر والا کمرہ خالی ہے۔“ اُس نے سوچا کہ وہ یہاں رہ سکتا ہے۔دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے غصے سے بھرا آدمی باہر آیا اور پوچھا کیا چاہیے۔ارمان نے کہا کہ مجھے رہنے کے لئے کمرہ چاہیے۔آدمی نے کہا کہ کرایہ تین اشرفیاں ہو گا۔(جاری ہے) ارمان گھبرا گیا کہ اُس کے پاس تو تین ہی اشرفیاں ہیں۔اس نے کہا کہ میرے پاس صرف تین اشرفیاں ہیں اور…
منحوس کون –
ایک بادشاہ اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ دربار میں موجود تھا کہ کالے رنگ کے ایک آنکھ والے آدمی کو بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا۔لوگوں کو شکایت تھی کہ یہ ایسا منحوس ہے کہ جو سویرے اس کی شکل دیکھ لیتا ہے اسے ضرور کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے ،لہٰذا اسے ملک سے باہر نکال دیا جائے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بادشاہ نے کہا کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے میں خود تجربہ کروں گا اور کل صبح سب سے پہلے اس کی صورت دیکھوں گا پھر کوئی دوسرا کام کروں گا۔ اگلے دن جب بادشاہ بیدار ہوا اور خوابگاہ کاد روازہ کھولا تو وہی ایک آنکھ والا آدمی کھڑاتھا بادشاہ اس کو دیکھ کر واپس پلٹ آیا اور دربار میں جانے کے لیے تیار ہونے لگا لباس تبدیل کرنے کے بعد جو نہی بادشاہ نے جوتے میں اپنا پاﺅں ڈالا اس میں موجود زہریلے بچھو نے…
بڑھیا اور لومڑی –
پرانے زمانے میں ناروے کے علاقے میں ایک بڑھیا رہتی تھی، جس کے پاس بہت سی بطخیں تھیں۔بطخوں کو چرانے اور دیکھ بھال کرنے کے لئے اسے کسی لڑکی کی تلاش تھی۔وہ گھر سے نکلی تو ایک بڑے بڑے روئیں والا ریچھ اسے راستے میں ملا، لیکن بڑھیا ڈری نہیں، کیونکہ وہ تو اسی علاقے کی تھی اور جانوروں سے آئے دن واسطہ پڑتا ہی رہتا تھا۔ بڑھیا نے ریچھ سے کہا:”سلام۔“ریچھ نے جواب دیا:”سلام اماں جان! اتنے سویرے آج کہاں جا رہی ہو؟“بڑھیا نے کہا:”آج میں اپنی بطخوں کے لئے ایک رکھوالن لڑکی ڈھونڈنے نکلی ہوں اور پہاڑ کی طرف جا رہی ہوں۔“ریچھ نے کہا:”بھلا یہ کون سی ایسی بات ہے جس کے لئے تم اتنی پریشان ہو رہی ہو۔(جاری ہے) اگر تم چاہو تو یہ کام میں بھی کر سکتا ہوں۔بے کار ہی تو بیٹھا رہتا ہوں۔b اگر بیٹھے بیٹھے تمہارا کچھ کام مجھ سے نکل جائے تو…
سبق آموز۔۔۔! بادشاہ اور نیل کنٹھ۔ instructive: A King and kingfisher
ایک بادشاہ کو شکار کرنے کا بہت شوق تھا۔ایک دن بادشاہ اپنے مصاحبوں سمیت جنگل میں گیا،تاکہ پرندوں کا شکار کر سکے،لیکن وہاں انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔وہ جنگل چھوڑ کر آگے ویرانوں میں چراگاہوں کی طرف روانہ ہو گئے۔راستے میں کئی پہاڑیاں اور ندیاں بھی آئیں،جن کو انھوں نے عبور کیا،لیکن انھیں کوئی پرندہ نظر نہیں آیا۔ آخر دوپہر کے وقت وہ ایک بہت بڑی چراگاہ میں پہنچے۔یہ اتنا بڑا میدان تھا،جس کی حد نظر نہیں آ رہی تھی۔میدان کے عین درمیان میں ایک بڑا اور گھنا سایہ دار درخت کھڑا تھا۔بادشاہ اور اس کے مصاحب بے اختیار درخت کی طرف بڑھتے چلے گئے اور درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر سستانے لگے۔اگرچہ وہ بہت تھک چکے تھے،لیکن عادی شکاریوں کی طرح ان کی نگاہیں اب بھی درخت کی شاخوں میں بیٹھے کسی پرندے کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ اچانک بادشاہ کی نظر ایک کنٹھ پر پڑی جو…
سبق آموز۔۔۔! گوہ اور چیل۔۔۔! Instructive: Monitor lizard and kite
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیل اور گوہ کی دوستی ہوگئی ۔ایک دن چیل نے گوہ سے کہا۔کیوں نہ ہم پاس رہیں۔پیٹ کی فکر میں اکثر مجھے گھر سے غائب رہنا پڑتا ہے۔میرے بچے گھر میں اکیلے رہ جاتے ہیں اور میرا دھیان بچوں کی فکر میں لگا رہتا ہے۔کیوں نہ تم یہیں کہیں پاس ہی رہو۔ کم از کم میرے بچوں کا تو خیال رکھو گی“۔ گوہ نے چیل کی بات سے اتفاق کیا اور آخرکار کوشش کر کے رہائش کے لئے ایک پرانا پیڑ تلاش کیا جس کا تنا اندر سے کھوکھلا تھا۔اس میں شگاف تھا۔دونوں کو یہ جگہ پسند آئی۔گوہ اپنے بچوں کے ساتھ شگاف میں اور چیل نے پیڑ پر بسیرا کر لیا۔ کچھ عرصہ بعد گوہ کی غیر موجودگی میں چیل جب اپنے گھونسلے میں بچوں کے ساتھ بھوکی بیٹھی تھی۔اس نے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گوہ کا ایک…
😂🔥 مائی بشیراں 😂💁♂️
عدالت میں مقدمے کی سماعت جاری تھی۔ 🙂📢 گواہ کے طور پر قصبے کی سب سے بزرگ خاتون، مائی بشیراں کو بلایا گیا۔ 👵 سرکاری وکیل بڑے اعتماد سے آگے بڑھا اور پوچھا: “مائی! کیا آپ مجھے جانتی ھیں؟” 😏 مائی نے چشمہ سیدھا کیا، غور سے دیکھا اور بولیں: “قدوس! میں تمہیں اُس وقت سے جانتی ھوں جب تم ننگے پاؤں گلیوں میں پھرتے تھے۔” “اور سچ پوچھو تو تم نے ساری زندگی مجھے مایوس ھی کیا ھے!” “جھوٹ بولتے ھو… وگوں کو استعمال کرتے ھو… بیوی سے جھوٹ بولتے ھو… دوسروں کی برائیاں کرتے ھو… اور خود کو بڑا عقلمند سمجھتے ھو، حالانکہ تمہاری عقل تو چنے کے دانے سے بھی چھوٹی ھے!” 🤣 پورا کمرہ خاموش ھو گیا۔ وکیل کا رنگ اُڑ گیا گیا۔ 😶 شرمندگی سے بچنے کے لیے اس نے فوراً دوسرے وکیل کی طرف اشارہ کیا۔ “اچھا مائی! کیا آپ اِسے جانتی ھیں؟” مائی…
سبق آموز۔۔۔! بیل اور گدھا۔ Instructive: Ox and Donkey
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بڑا زمیندار رہتا تھا۔ خدا نے اسے بہت سی زمین، بڑے بڑے مکان اور باغ دیے تھے، جہاں ہر قسم کے پھل اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتے تھے۔ گائے اور بھینسوں کے علاوہ اس کے پاس ایک اچھی قسم کا بیل اور گدھا بھی تھا۔ بیل سے کھیتوں میں ہل چلانے کا کام لیا جاتا اور گدھے پر سوار ہو کر زمیندار اِدھر اُدھر سیر کو نکل جاتا۔ ایک بار اس کے پاس کہیں سے گھومتا پھرتا ایک فقیر نکل آیا۔زمیندار ایک رحم دل آدمی تھا۔ اس نے فقیر کو اپنے ہاں ٹھہرایا۔ اس کے کھانے پینے اور آرام سے رہنے کا بہت اچھا انتظام کیا۔ دو چار دن بعد جب وہ فقیر وہاں سے جانے لگا تو اس نے زمیندار سے کہا “چودھری! تم نے میری جو خاطر داری کی ہے، میں اسے کبھی نہیں بھولوں گا۔ تم…