Tag Archives: ،urdublogs

پشاور کے قریب ایک پرانا گاؤں تھا جہاں ایک ویران حویلی صدیوں سے خالی پڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس میں جنات کا بسیرا ہے اور جو بھی رات کو وہاں جاتا، صبح تک پاگل ہو جاتا یا کبھی واپس ہی نہ آتا۔ گاؤں کا ایک نوجوان، اکرم، جو ابھی نیا نیا نماز اور تلاوت کی طرف مائل ہوا تھا، ایک شرط کے تحت اس حویلی میں رات گزارنے پر راضی ہو گیا تاکہ گاؤں والوں کا خوف ختم کرے۔رات کے پہلے پہر، حویلی کا درجہ حرارت اچانک گر گیا اور کمرے میں عجیب سرسراہٹ گونجنے لگی۔ دیواروں پر پرچھائیاں حرکت کرنے لگیں اور ایک بھاری آواز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی: “نکل جا یہاں سے، ورنہ برا ہوگا!” اکرم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے اپنی والدہ کی سکھائی ہوئی نصیحت یاد کی — خوف کے وقت سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی پڑھو۔…

Read more

ایک حاجی صاحب مالش کروا رھے تھے۔ 😌 اتنے میں ایک آدمی آیا اور بولا: “کیا حال ھے حاجی صاحب؟ آج کل نظر ھی نہیں آتے!” 😄 حاجی صاحب خاموش رھے… پھر وہ شخص بولا: “اچھا، میں آپ کی سائیکل لے جا رہا ھوں!” 🚲 اور سائیکل لے کر غائب! 😳 کچھ دیر بعد مالشی نے پوچھا: “حاجی صاحب! آپ کا دوست ابھی تک میری سائیکل واپس نہیں لایا؟” حاجی حیران ھو کر بولے: “کون دوست؟ میں تو اسے جانتا ھی نہیں!” 😐 مالشی سر پکڑ کر بیٹھ گیا: “حاجی صاحب! وہ تو میری سائیکل لے گیا!” 😭 حاجی صاحب بولے: “رو مت…! میں تمہیں نئی سائیکل لے دیتا ھوں۔” ❤️ دونوں دکان پر گئے… مالشی نے نئی سائیکل پسند کی، ایک چکر لگایا، پھر بولا: “حاجی صاحب! لگتا ھے سائیکل ذرا ٹیڑھی چل رھی ھے۔” 🤔 حاجی بولے: “لاؤ، میں چیک کرتا ھوں۔” حاجی سائیکل لے کر نکلے… اور…

Read more

عاصم ایک پریشان حال آدمی تھا۔اس کے چھ بچے تھے اور وہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔وہ کسی نہ کسی طرح کرائے کا مکان حاصل تو کر لیتا،مگر کچھ ہی عرصے میں مالک مکان بچوں کی تعداد سے تنگ آ جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے عاصم کو مکان خالی کرانے کا نوٹس دے دیتا۔اس طرح عاصم ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتا کہ کسی طرح مالک مکان کو راضی رکھے اور ساتھ ہی نیا مکان بھی ڈھونڈ رہا ہوتا۔ ان دنوں بھی وہ اسی پریشانی کا شکار تھا۔مالک مکان اس کی پریشانی کو نہ سمجھ رہا تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعاون کرنے کو تیار تھا۔اس نے آخری مہلت دے رکھی تھی اور ہر دوسرے دن پوچھتا رہتا کہ کوئی مکان ملا؟عاصم اس سے تنگ آ چکا تھا۔وہ ایک پراپرٹی کمپنی کے کم پڑھے لکھے مالک کا ملازم تھا۔( مالک کو جو کہنا ہوتا،وہ…

Read more

Read more

سائبیریا کے گھنے اور پُراسرار جنگل میں جہاں دن کے وقت بھی رات کا سماں رہتا تھا، وہاں ایک خوبصورت اور برا اُلو رہتا تھا، اس کا نام نور تھا۔نور کو سارا جنگل عقلمند اور دانا سمجھتا تھا۔جنگل کے تمام جانور مشکل وقت میں اس سے مشورہ کرنے آتے تھے، وہ ہمیشہ ایسا مشورہ دیتا جو سننے والے کی پریشانی دور کر دیتا تھا۔نور ایک پرانے صنوبر کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو نوجوان ہوتی نسل اس کا دبے لفظوں میں مذاق اُڑانے لگی تھی کہ یہ تو تنہائی پسند ہے اور ہر وقت خاموش رہتا ہے، اس کی عقلمندی کی صرف کہانیاں ہی مشہور ہیں کچھ نہیں کرتا۔نوجوان لومڑی زیادہ گستاخ تھی وہ اکثر کہتی تھی کہ نور چاچا اتنا ہی سمجھدار ہے تو ہمیں شکاریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے جس سے ہم شکاریوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔…

Read more

Read more

پہاڑ کے دامن میں چشمے کے قریب ایک چوہے اور ایک چوہیا نے بِل بنایا ہوا تھا۔وہ ہر روز اپنے بِل سے باہر آتے،چشمے کے قریب ہی جھولا موجود تھا،جو اُلجھی ہوئی جھاڑیوں سے بن گیا تھا۔وہ کھیلتے،اُچھلتے کودتے اور اپنے بِل میں گھس جاتے تھے۔ایک دن دونوں بِل سے باہر آئے اور چشمے کے پاس بنے جھولے پر جھولا جھولنے لگے۔اسی وقت ایک بلی قریب سے گزری۔اس نے دونوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ان دو موٹے تازے چوہوں کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا،وہ ایک پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر کافی دیر تک دیکھتی رہی۔پھر سامنے آکر بولی:”کیا تم میرے ساتھ کھیلنا پسند کرو گے؟“بلی کی آواز سن کر دونوں اپنے بِل کی طرف بھاگے بلی نے کہا:”کہاں جا رہے ہو،تم مجھے اپنا دوست ہی سمجھو۔ “”بھلا آگ اور پانی کی کیا دوستی،تم ہماری دوست کبھی نہیں ہو سکتی۔“چوہے نے بِل میں گھستے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا اسے بہت بھوک اور پیاس لگی تھی۔اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔وہ بہت پریشان تھا اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔وہ بہت خوش ہوا۔اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا۔چلو کھانے کو کچھ ملا۔جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے۔مرغ نے اس کی بات سن کر اسے جواب دیا۔قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو۔اس شخص نے مرغ سے کہا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نا کھاؤں اور بھوکا رہوں۔مرغ نے اس شخص سے کہا! سوچ لو میں تمہارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں اگر تم مجھے نا کھاؤ اور تھوڑا صبر کر لو تو ہو سکتا ہے تمہاری…

Read more

حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا جلدی سے ماسٹر حنیف کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے ہزار روپے کے نوٹ کواُٹھا کر اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا:” بری بات ہے،یوں راستے میں پڑی ہوئی چیز کے مالک نہیں بن جاتے ، بلکہ مالک تک تو چیز پہنچا دیتے ہیں۔یقینا یہ ماسٹر حنیف کا نوٹ ہوگا۔ ان سے پوچھ لو اور ساتھ ہی آس پاس کے دو چار گھروں سے بھی معلوم کر لو جس کا ہو اس تک پہنچا دو ، بڑا ثواب ملے گا۔“گردن جھٹخ کر وہ اپنے آپ سے بولا:”واپس کیسے کردوں میں تو مزے اُڑاوٴں گا برگر، سموسے ، چاٹ، دہی بھلے اور بہت سی مزے مزے کی چیزیں کھاوں…

Read more

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ۔ایک جل پری سمندر کے کنارے ایک غار میں رہتی تھی۔شام کے وقت جب مچھیرے اپنی کشتیوں میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑنے آتے،تو جل پری کشتی کے ساتھ ساتھ تیرا کرتی اور اُن کی باتیں سنا کرتی تھی۔مچھیرے مزے مزے سے اپنے خوب صورت گاؤں ،ہرے بھرے کھیتوں اور رنگ برنگ کے پھولوں کا ذکر چھیڑتے اور یہ جل پڑی بڑے شوق سے ان کی باتیں سنتی اور حیران ہوتی۔ آخر اس کے دل میں یہ سب خوب صورت چیزیں دیکھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ایک دن جل پری نے اپنے دل میں اس دریا میں تیرنے کا ارادہ کیا،جوان مچھیروں کے گاؤں کے ساتھ ساتھ بہتا ہوا سمندر میں گرتا تھا۔ایک رات جب چاند نے سمندر کو اپنی کرنوں کانورانی لباس پہنا دیا،تو جل پری اُس دریا کی طرف چل کھڑی ہوئی۔دریا کا میٹھا پانی اسے بہت عجیب معلوم ہوا۔ مگر جل پری خوشی…

Read more

جو کوئی بھی کنویں سے پانی بھرنے جاتا،وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا۔پھر آہستہ آہستہ سب لوگوں نے کنویں سے پانی بھرنے جانا چھوڑ دیا اور بھی عجیب و غریب کئی باتیں کنویں سے متعلق مشہور ہیں سلمان اور عبداللہ شہر سے اپنے ماموں کے گھر چھٹیاں گزارنے آئے ہوئے تھے۔گاؤں کی صاف ستھری فضا انھیں بہت بھلی لگی۔دونوں کزن کے آنے سے حمزہ بہت خوش تھا۔وہ آپس میں بہت گہرے دوست بھی تھے۔صبح ناشتے کے دوران عبداللہ کو کچھ یاد آیا تو وہ بولا:”ماموں جان!اس گاؤں میں ایک بہت مشہور کنواں ہے۔اس کنویں کے بارے میں سب لوگ عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں۔ہمیں بھی وہ کنواں دیکھنا ہے۔“”ہاں بیٹا!وہ کنواں اپنی پُراسراریت کی وجہ سے بہت مشہور ہے،لیکن وہاں جانا خطرے سے خالی نہیں۔“ماموں جان نے کہا۔آخر کافی منت سماجت کے بعد اُنھیں اجازت مل گئی۔وہ کنواں گاؤں سے تھوڑی دور ہے۔جہاں سے جنگل شروع ہو جاتا…

Read more

ایک غریب لکڑہارا جنگل کے قریب رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا،لکڑیاں کاٹتا اور اسے شہر میں لے جا کر بیچ دیتا تھا۔وہ اس سوچ کے ساتھ زمین بھی کھودتا تھا کہ کبھی شاید اس میں سے اسے خزانہ مل جائے اور اس کی زندگی سنور جائے۔اسی امید کے ساتھ وہ روزانہ اپنے ساتھ جنگل میں بیلچہ اور کلہاڑی بھی لے کر بھی جاتا تھا۔ایک دن خزانے کی تلاش میں زمین کھودنے لگا۔اچانک اسے ایک بہت بڑی دیگ نظر آئی۔وہ اس دیگ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا،”لگتا ہے کہ اس دیگ کے اندر کوئی خزانہ چھپا ہوا ہے،جبھی تو اسے کسی نے جنگل میں درخت کے پاس زمین کھود کر دبایا ہوا ہے۔وہ خوشی خوشی دیگ کی طرف بڑھا تاکہ اس کے اندر ہاتھ ڈال کر خزانے کو دیکھ سکے۔ اس نے جب دیگ میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ…

Read more

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک کنویں میں بہت سے مینڈک رہتے تھے۔اُن میں سے ایک مینڈک بہت بھدا اور بد صورت تھا۔اُس کے ساتھی اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔اُس وقت بھی سب اُس کا مذاق اُڑا رہے تھے تو اُسے بہت غصہ آیا۔”ہمیں دیکھ تو ایسے غصے سے رہے ہو جیسے ہمیں کھا جاؤ گے۔“ ایک مینڈک نے کہا تو باقی سب ہنسنے لگے۔ ”میں تم سب کو دیکھ لوں گا۔“ بد صورت مینڈک بولا۔تو سب اُس کا مذاق اُڑاتے ہوئے خوراک کی تلاش میں کنویں سے باہر چلے گئے۔اُن کے جانے کے بعد بھدا مینڈک سوچنے لگا کہ ان سے کیسے بدلہ لو۔پھر وہ بھی کنویں سے باہر آ گیا۔سامنے اُسے ایک سانپ نظر آیا تو مینڈک نے اُس سے کہا:”کیا تم میرے دوست بن سکتے ہو؟“”کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ سانپ مینڈک کو کھا جاتا ہے؟“ سانپ نے اُس سے پوچھا۔ ”مجھے معلوم ہے،لیکن اگر…

Read more

پچھلی یعنی بیسویں صدی عیسوی میں حکیم محمد عبد اللہ بہت بڑے طبیب گزرے ہیں۔ وہ پنجاب کے ایک قصبے جہانیاں میں رہتے تھے جہاں وہ پاکستان بننے کے بعد روڑی ضلع حصار سے ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے۔ اللہ تعالی نے ان کے ہاتھ میں شفا رکھی تھی اور مدتوں کے بیمار لوگ ان کے علاج سے تندرست ہو جاتے تھے۔ حکیم صاحب ایک سچے مسلمان اور اللہ سے ڈرنے والے بزرگ تھے۔ ان کے پاس جو بہت غریب اور بے سہارا مریض آتے ان سے دوا کی قیمت نہیں لیتے تھے اور ان کا علاج مفت کرتے تھے۔ دوسرے لوگوں سے دوا کی لاگت انتہائی کم منافع کے ساتھ لیتے تھے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک دفعہ ملتان کے قریب سے ایک بڑا زمیندار اپنی کسی بیماری کا علاج کرانے حکیم صاحب کے پاس آیا۔ انھوں نے مرض کی تشخیص کی اور دوا لکھ دی…

Read more

ایک دور کی بات ہے، شیخ چلی ایک دن گاؤں کے باہر سیر کر رہے تھے کہ انہیں ایک بہت پرانا کنواں دکھائی دیا۔ کنویں کے اردگرد بڑے بڑے درخت تھے، بیلیں لٹک رہی تھیں اور ماحول اتنا پراسرار تھا کہ لوگ اس کے قریب آنے سے بھی گھبراتے تھے۔ گاؤں والوں کا کہنا تھا کہ یہ ایک جادوئی کنواں ہے، جو ہر خواہش پوری کرتا ہے، لیکن صرف اسی شخص کی جس کا دل صاف ہو۔ یہ سنتے ہی شیخ چلی کی آنکھیں چمک اٹھیں اور انہوں نے سوچا، “بس! آج تو میری قسمت بدلنے والی ہے۔” وہ فوراً کنویں کے کنارے پہنچے، دونوں ہاتھ جوڑ کر آنکھیں بند کیں اور بولے، “اے جادوئی کنویں! مجھے سونے کے ہزار صندوق، ایک شاندار محل، سو گھوڑے اور پچاس نوکر دے دے!” اتنے میں کنویں کے اندر سے ایک زور دار آواز آئی، “پہلے ایک پتھر نیچے پھینکو، پھر اپنی خواہش…

Read more

اکبر کا نیا وزیر اپنی غلطی کو سمجھ گیا اور بیربل کو اُس کی جگہ پر واپس مقرر کرنے کے لئے استعفیٰ دے دیا اکبر کے دور میں بیربل کی حکمت و دانائی سے سب واقف تھے۔دربار میں بہت سے وزیر بیربل سے حسد کرتے تھے، حتیٰ کہ اکبر کا ایک سالا بھی ان میں شامل تھا۔اس نے اکبر سے درخواست کی کہ بیربل کو اس کی وزارت سے ہٹا کر اس کی جگہ پر مقرر کیا جائے۔بیربل کو کسی طرح اس بات کی خبر ہو گئی۔اس سے پہلے کہ اکبر کوئی فیصلہ کرتا، بیربل نے خود ہی اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔اکبر نے اپنے نئے وزیر کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔چنانچہ اس نے اسے بلایا اور اسے تین سو سِکّے دے کر کہا کہ ان سِکّوں کو اس طرح خرچ کرو کہ سو سِکّے مجھے اِسی زندگی میں مل جائیں، سو سِکّے دوسرے جہان میں ملیں، اور…

Read more

ابو نصر العیاد نامی ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ غربت وافلاس کی زندگی بسر کررہا تھا۔ایک دن وہ اپنی بیوی اور دو بچوں کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین سے ہوا جس کا نام احمد بن مسکین تھا۔عالم دین کو دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا کہ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوا غموں سے تھک گیا ہوں۔عالم دین نے کہا کہ میرے پیچھے چل آؤ ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر عالم دین نے اسے دورکعت نفل پڑھنے کو کہا نماز پڑھ چکا تو اس نے ایک جال دیتے ہوئے کہا کہ اسے بسم اللہ کرکے سمندر میں پھینک دو ۔پھینکے گئے جال میں پہلی بار ایک بڑی مچھلی پھنس گئی جال کو باہر نکالا گیا عالم دین نے…

Read more

جب شہزادہ البرٹ نے تحفہ دیکھا تو وہ حیرت اور خوشی سے اچھل پڑا یہ ایک بہت ہی پیارا اورخوبصورت سفید رنگ کا گھوڑا تھا جس کے کندھوں پر بھی بہت ہی خوبصورت سفید چمک دار پَر تھے۔شہزادہ البرٹ اچھل کر گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ملک یونان میں ایک خوبصورت اور باوقار شہزادہ البرٹ رہتا تھا۔اس کی اچھی عادتوں کی وجہ سے بادشاہ اس پر بہت مہربان تھا۔شہزادہ البرٹ کی سوتیلی ماں کو بادشاہ کا شہزادے کی طرف جھکاؤ ایک آنکھ بھی نہ بھاتا تھا۔اس نے شہزادہ البرٹ کی الٹی سیدھی شکایتیں لگا کر بادشاہ کو مجبور کر دیا کہ وہ شہزادہ البرٹ کو قتل کردے۔بادشاہ شہزادے کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا،چنانچہ بادشاہ نے شہزادہ البرٹ کو ایک خط دے کر اس کو اپنے دوست بادشاہ کے پاس روانہ کیا۔جو شہزادہ البرٹ کے والد کے دوست تھے اور قریب کے ملک ہی…

Read more

ایک سرسبز و شاداب وادی میں وسیع و عریض باغ واقع تھا۔باغ کے وسط میں ایک بہت پرانا کنواں بھی موجود تھا۔یہ باغ کسی وقت میں بہت سے درختوں کا گہوارہ ہوا کرتا تھا۔چنار، شہتوت، املی اور جامن جیسے درخت یہاں کی زینت تھے۔یہ درخت سایہ فراہم کرتے تھے۔ان پر بسنے والے رنگ برنگے پرندے اس باغ کو گلستاں بنا دیتے تھے۔ایسی ہی شاخوں پر خوش رنگ تتلیاں منڈلاتیں، جگنو راتوں کو چراغاں کرتے۔یہیں پر قدیم شہتوت کے درخت پر چمن نامی چڑیا کا گھونسلہ تھا۔اس کے قریب بڑے سے چنار پر کالو نامی کوا رہتا تھا۔دونوں میں دیرینہ دوستی تھی مگر یہ دوستی یک طرفہ تھی۔چمن ہر خوشی کا موقع اپنے دوست کے ساتھ بانٹتی۔وہ میٹھے میٹھے پھل، بیج یا دانے لے کر چنار کی شاخوں پر آتی اور کالو خوشی سے آ کر لے جاتا لیکن شکر تو دور کبھی حال چال بھی نہ پوچھتا۔چمن بہت معصوم تھی،…

Read more

صدیوں پہلے کی بات ہے کہ ملک یمن پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ملک میں امن وامان تھا ، رعایا پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں تھا، ہر طرف خوشحالی تھی ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر بادشاہ کو الٹی سیدھی باتیں بتاتے رہتے تھے ، ان سب کا ٹارگٹ اکثر وزیر ہوتا، اس طرح کئی وزیر سوا ہوئے اور کئی ایک کوبادشاہ نے مروادیا ، جس کی وجہ سے درباری اور مشیر خود کو طاقتور سمجھنے لگے تھے ۔ ایک دن بادشاہ نے ایک نیاوزیر مقرر کیا ، اس وزیر کو چند دنوں میں پتہ چل گیا کہ دربار میں حاسدی ٹولہ بہت خطرناک ہے وزیر ان کی طرف سے محتاط ہو گیا، وہ انہیں اہمیت نہ دیتا جس کی وجہ سے وہ اس کے خلاف ہوگئے ۔ ایک دن ایک درباری نے بادشاہ کے کان میں کچھ کہابادشاہ نے ایک بکری منگوائی اور وزیر…

Read more

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے رہ لیں گے۔ اس کے لہجے میں اتنا درد تھا کہ رحیمو کا کا کے دل کو کچھ ہوا۔ وہ فورا ہی بول پڑا وہ بڑی لجاجت سے کہہ رہا تھا :” بھائی ! مجھے آخری بار دھار دے دو؟“رحیمو کا کانے دوٹوک انداز میں جواب دیا: “تمھارا تین مہینے کا حساب باقی ہے۔ جب تک وہ ادا نہیں ہوتا، میں تمہیں مزیدا دھار نہیں دے سکتا۔وہ تقریبا رو دینے کے قریب تھا۔ بھرائی ہوئی آواز میں بولا : آج کے بعدتم کبھی مجھے ادھار مانگتے ہوئے نہیں دیکھو گے۔ بس آخری بار۔ رحیمو کاکا نے ہاتھ اٹھایا اور بولا:” بس ایک بار کہہ دیا تو کہہ دیا “اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔ کہنے لگا: اچھا بھائی ! تمھاری مرضی۔ ہم آج تیسرے دن بھی بھوکے…

Read more

خوبرو جوان بائیک پر جا رہا تھا کہ ایک انکل اور آنٹی پر نظر پڑی جو کافی پریشانی کے عالم میں آتے جاتے لوگوں کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔نوجوان نے رُک کر پریشانی کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے:“کار لاک ہے اور چابی اندر ہی رہ گئی ہے”اُن کی بات سُن کر نوجوان کے اندر کا ہیرو جوش میں آیا اور کافی دیر سوچنے کے بعد حل نکالا۔کار کے دروازے کے شیشے کے اوپر سے ربڑ ہٹایا اور ایک دھاگے کو ڈھیلی گرہ ڈال کے وہاں سے اندر ڈالا اور کافی تگ و دو کے بعد دھاگے کی گرہ کھڑکی کے لاک میں پھنس گئی اس کے بعد جھٹکے سے دھاگہ کھینچا تو لاک کھل گیا۔ نوجوان نے انکل کی طرف شکریہ طلب نظروں سے دیکھا تو انہوں نے بھی شکریہ ادا کیا۔نوجوان اپنے آپ کو ایک کامیاب ہیرو تصور کرتے ہوئے جانے کے لیے آگے…

Read more

520/725
NZ's Corner