😂 “پچھلی بار بھی یہی ھوا تھا!” 💁♂️
دو شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اُڑ ھی نہ سکے!” دونوں شکاری فوراً بول اٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی… مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ کچھ دیر بعد ایک شکاری کو ھوش آیا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر…
کچھ لوگ سچ سے نہیں…
تعریف سے فوراً قائل ھو جاتے ھیں! 😄
ایک آدمی جھوٹ بولنے میں اتنا مشہور تھا کہ پورے علاقے میں اس کے چرچے تھے۔ 😄 ایک دن ایک نیک دل بوڑھی خاتون اس کی اصلاح کرنے پہنچ گئیں۔ کہنے لگیں:“بیٹا! سنا ھے تم دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے آدمی ھو؟” آدمی نے خاتون کو غور سے دیکھا اور بولا: “دنیا کو چھوڑیں اماں جی…مجھے تو حیرت یہ ھے کہ اس عمر میں بھی آپ کا حسن، آپ کی دلکشی اور یہ نورانی چہرہ… سبحان اللہ!” 😍 بوڑھی خاتون شرما کر دوپٹہ سنبھالتے ھوئے بولیں: “ہائے اللہ! 😳 یہ دنیا والے بھی کتنے ظالم ھیں… اتنے اچھے بھلے، سچے انسان کو جھوٹا کہتے ھیں!” 😂😂 🤣🤣🤣 سبق:کچھ لوگ سچ سے نہیں…تعریف سے فوراً قائل ھو جاتے ھیں! 😄 مزید مزاحیہ اور دلچسپ پوسٹس کے لیے ہماری پروفائل کو فالو کریں 😊👍
اپنا سمجھنے کی غلطی
کہا جاتا ہے کہ پرانے زمانے میں عربوں کی شادیوں میں مہمانوں کو روٹی میں گوشت لپیٹ کر پیش کیا جاتا تھا۔اگر کبھی گوشت کم پڑنے کا اندیشہ ہوتا تو میزبان اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو صرف روٹی دے دیتا، تاکہ باہر سے آنے والے مہمانوں تک گوشت والی روٹی پہنچ سکے اور کسی کو کمی کا احساس نہ ہو۔ایک بار ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے روٹی کھولی تو اس میں گوشت نہیں تھا۔ اس نے فوراً بلند آواز میں کہا:“ارے بھائی! میری روٹی میں تو گوشت ہی نہیں ہے!”میزبان نے مسکرا کر جواب دیا:“بھائی، معاف کرنا… میں نے غلطی سے تمہیں اپنا سمجھ لیا تھا۔” زندگی میں ہر وہ شخص جسے ہم اپنا سمجھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمارے راز، کمزوریاں یا عزتِ نفس کی حفاظت بھی کرے۔کچھ لوگ ہماری پردہ پوشی کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ موقع ملتے ہی ہماری کمزوری دوسروں کے سامنے…
چار روپے
ایک بار بادشاہ شکار پر نکلا۔ راستے میں اس نے ایک کسان کو بیل چلاتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ نے کسان کو روکا اور پوچھا: بادشاہ: تم دن بھر میں کتنا کما لیتے ہو؟ کسان: حضور، چار روپے۔ بادشاہ: وہ چار روپے تم خرچ کیسے کرتے ہو؟ کسان مسکرایا اور بولا:کسان: ایک روپیہ میں خود پر خرچ کرتا ہوں، ایک روپیہ قرض دیتا ہوں، ایک روپیہ قرض واپس کرتا ہوں، اور ایک روپیہ دریا میں پھینک دیتا ہوں۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اسے کسان کی بات سمجھ نہ آئی۔ بادشاہ: تمہاری باتوں کا مطلب کیا ہے؟ کسان نے وضاحت کی:کسان: بادشاہ سلامت، ایک روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی کے کھانے پینے پر خرچ کرتا ہوں۔ یہ میرا اپنا خرچ ہوا۔ دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ میں انہیں پال رہا ہوں، پڑھا رہا ہوں۔ یہ قرض ہے جو میں انہیں دے رہا ہوں، تاکہ بڑھاپے میں وہ…
کسی کے لیے پریشانی پیدا کرنے کے بجائے ہمیں جب بھی موقع ملے لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔
ایک دفعہ ایک استاد اور اس کا شاگرد سیر کے لیے نکلے۔ کچھ دیر چلنے کے بعد وہ ایک کھیت میں پہنچے جہاں شاگرد نے ایک جوڑا پرانے پھٹے ہوئے جوتے دیکھے۔ لگتا تھا کہ یہ جوتے کسی غریب کسان کے ہیں جو سارا دن سخت محنت کے بعد اب گھر واپس جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ یہ دیکھ کر شاگرد کے ذہن میں شرارت سوجھی اور اس نے کہا، “استاد جی، کیوں نہ ہم یہ جوتے جھاڑیوں کے پیچھے چھپا دیں اور کسان کا انتظار کریں۔ مزہ آئے گا جب وہ اپنے جوتے نہ ملنے پر پریشان ہوگا..!!” استاد کو یہ بات بری لگی۔ انہوں نے شاگرد کی طرف دیکھا اور کہا، “بیٹا، کسی غریب کے ساتھ ایسا ظالمانہ مذاق کرنا اچھی بات نہیں۔” استاد نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر مسکراتے ہوئے بولے، “بیٹا، میرے پاس ایک بہتر خیال ہے۔ کیوں نہ ہم اس کے…
حضرت شیخ جنید بغدادیؒ اور بہلولؒ کا سبق آموز واقعہ
کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت شیخ جنید بغدادیؒ بغداد سے باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے۔ ان کے مرید بھی ساتھ تھے۔ راستے میں شیخ نے پوچھا: “بہلول کہاں ہے؟ مجھے اس سے ملنا ہے۔” مریدوں نے عرض کیا:“حضرت! وہ تو ایک پاگل شخص ہے، آپ کو اس سے کیا کام؟” شیخ نے فرمایا:“مجھے اسی سے کام ہے، اسے تلاش کرکے لاؤ۔” لوگوں نے بہلولؒ کو تلاش کیا تو وہ ایک صحرا میں سر کے نیچے اینٹ رکھے، اللہ کی یاد میں گم بیٹھے تھے۔ شیخ جنیدؒ نے سلام کیا۔ بہلولؒ نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: “تم کون ہو؟” انہوں نے فرمایا:“میں جنید بغدادی ہوں۔” بہلولؒ نے پوچھا:“کیا تم وہی شیخ جنید ہو جو لوگوں کو روحانی تعلیم دیتے ہو؟” شیخ نے جواب دیا:“جی ہاں۔” بہلولؒ نے اگلا سوال کیا:“کیا تم کھانا کھانے کا صحیح طریقہ جانتے ہو؟” شیخ جنیدؒ نے کھانے کے تمام ظاہری آداب بیان…
لالچ انسان کو کبھی مطمئن نہیں ہونے دیتا
ایک ساحلی شہر میں، جہاں صبح کی پہلی کرن سمندر کی لہروں پر سنہری چادر بچھا دیتی تھی اور شام ڈھلے افق یوں سرخ ہو جاتا تھا جیسے کسی مصور نے آسمان پر سرخ رنگ بکھیر دیا ہو، وہیں ایک غریب مگر محنتی مچھیرا اپنی بیوی کے ساتھ مٹی کی ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ باغ، نہ مویشی، نہ سونا چاندی۔ اگر اس کے پاس کچھ تھا تو صرف ایک پرانی کشتی، برسوں پرانا جال اور دو مضبوط بازو، جن کے سہارے وہ ہر صبح رزق کی تلاش میں سمندر کا رخ کرتا۔رزق کا واحد ذریعہ دریا تھا۔ جو مچھلی ہاتھ آتی، وہی بیچ کر دونوں کا چولہا جلتا۔ایک صبح قسمت نے عجیب کروٹ لی۔جال پانی سے کھینچا تو اس میں ایک ایسی نایاب مچھلی تھی جس کا جسم چاندی کی طرح چمک رہا تھا، اس کے پر سنہری تھے اور اس…
رشتے کی بنیاد قربانی اور اعتماد پہ ہوتی ہے
ایک برفانی گاؤں میں ایک غریب بڑھئی نے ایک زخمی سارس کو شکاری کے جال سے آزاد کروایا۔ کچھ دن بعد ایک برفانی رات میں ایک پراسرار عورت اس کے دروازے پر پناہ مانگنے آئی۔ بڑھئی نے اسے اندر بلایا، رفتہ رفتہ محبت ہوئی اور دونوں نے شادی کر لی۔ عورت نے کہا کہ وہ اس کے لیے ایک قیمتی کپڑا بُنے گی، مگر شرط یہ رکھی کہ وہ بُنائی کے دوران کبھی کمرے میں نہ جھانکے۔ بڑھئی نے وعدہ کیا۔ عورت نے ایک نہایت خوبصورت، چاندی جیسا چمکتا کپڑا بُن کر دیا جسے بیچ کر ان کی غربت دور ہونے لگی۔یہ سلسلہ دو بار مزید چلا، مگر ہر بار عورت پہلے سے زیادہ کمزور ہوتی گئی۔ بڑھئی، لالچ اور تجسس میں گھر کر، تیسری بار خود کو روک نہ سکا اور دبے پاؤں کمرے میں جھانک لیا۔ اندر عورت نہیں بلکہ وہی سارس تھا، جو اپنے ہی جسم سے…
بلاعنوان 😂
ایک گاؤں میں ایک شیخ صاحب رہتے تھے۔ شکل سے بڑے معصوم مگر باتوں میں خاصے چالاک تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک خوبصورت لڑکی کو دیکھا اور دل ہی دل میں پسند کر بیٹھے۔ اگلے ہی دن ہمت کرکے اس کے گھر جا پہنچے۔ شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” لڑکی نے حیران ہو کر پوچھا:“آخر تم میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں؟” شیخ صاحب نے بڑے فخر سے جواب دیا:“میرے ابا گاؤں کے سب سے بڑے آدمی ہیں!” یہ سن کر لڑکی سوچنے لگی کہ یقیناً اس کے والد کوئی بہت بڑے زمیندار یا بااثر شخص ہوں گے۔ متاثر ہو کر اس نے رشتے کے لیے ہامی بھر لی۔ چند دن بعد شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ جب لڑکی پہلی بار سسرال پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک نہایت بوڑھے بابا جی لاٹھی…
دو موتی
ایک دن ایک سوداگر بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور دو نہایت خوبصورت موتی پیش کیے۔ دونوں موتی سائز، رنگت اور چمک میں اس قدر یکساں تھے کہ انہیں دیکھ کر فرق کرنا ناممکن لگتا تھا۔ سوداگر نے کہا: “عالی جاہ! ان دو موتیوں میں سے ایک اصلی ہے اور دوسرا نہایت مہارت سے بنایا گیا نقلی موتی۔ اگر آپ کے درباری اصل اور نقل کی پہچان کر لیں تو یہ دونوں موتی میں بطور تحفہ پیش کر دوں گا، لیکن اگر کوئی پہچان نہ سکا تو آپ کو ان کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔” بادشاہ نے فوراً اپنے وزیروں، دانشوروں اور درباریوں کو بلایا۔ سب نے موتیوں کو غور سے دیکھا، الٹ پلٹ کر جانچا، مگر کوئی بھی یقین سے نہ بتا سکا کہ اصل کون سا ہے اور نقلی کون سا۔ دربار میں خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ پریشان تھا کہ اگر کوئی جواب نہ دے سکا تو…
خاموش دعاؤں کا معجزہ
ایک اندھیری رات، گرجتے طوفان نے سمندر کو قیامت بنا دیا۔ ایک بڑا بحری جہاز لہروں سے لڑتا ہوا آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ سینکڑوں مسافروں میں سے صرف دو بدقسمت لوگ زندہ بچے۔ دونوں تھکے ہارے، زخمی جسموں کے ساتھ تیرتے ہوئے ایک ویران، بنجر جزیرے کے ساحل پر آ گرے۔ بھوک، پیاس اور ناامیدی نے انہیں گھیر لیا۔ آخر دونوں نے فیصلہ کیا کہ اب صرف خدا سے دعا ہی آخری سہارا ہے۔ مگر دل میں ایک سوال اٹھا — آخر خدا کس کی سنتا ہے؟ مقابلہ کرنے کے لیے انہوں نے جزیرے کو دو حصوں میں بانٹ لیا۔ ایک شمال میں، دوسرا جنوب میں۔ اب فیصلہ دعاؤں سے ہونا تھا۔ پہلے دن دونوں نے کھانے کے لیے ہاتھ اٹھائے۔ صبح ہوتے ہی پہلے آدمی کی زمین پر ایک گھنا، پھلوں سے لدا درخت اُگ آیا۔ وہ پیٹ بھر کر کھاتا رہا۔ دوسری طرف… سناٹا تھا۔ دوسرے آدمی…
اللہ کی دی ہوئی نعمتیں صرف ہماری نہیں ہوتیں۔ جب ہمارے رزق میں دوسروں کا حصہ شامل ہوتا ہے۔
ایک غریب عورت ایک نیک عالمِ دین کے پاس آئی۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی۔ “حضرت! میرا بچہ ہر رات بھوک سے روتا ہے۔ میرے لیے دعا کر دیں، اب یہ منظر مجھ سے دیکھا نہیں جاتا۔” عالمِ دین نے خاموشی سے ایک کاغذ پر چند الفاظ لکھے، اسے تہہ کیا اور عورت کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: “اسے سنبھال کر رکھنا، اور اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا۔” اگلی صبح جب دروازہ کھلا تو وہاں روپوں سے بھرا ایک تھیلا پڑا تھا۔ آج تک کسی کو معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون رکھ گیا تھا۔ عورت اور اس کے شوہر نے اس رقم کو امانت سمجھ کر ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لی۔ وہ دن رات محنت کرتے، ایمانداری سے کاروبار کرتے اور ہر قدم پر اللہ کا شکر ادا کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ کاروبار بڑھنے لگا۔ ایک دکان دو بنی، دو سے چار، اور دیکھتے…
دو لکڑہارے
ایک قصبے میں ہر سال لکڑیاں کاٹنے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ مقابلے کا سادہ سا اصول یہ تھا کہ جو دن کے آخر میں سب سے زیادہ لکڑیاں کاٹے گا وہی فاتح ہوگا۔ اس سال فائنل میں صرف دو لوگ پہنچے ۔ ایک بوڑھا اور تجربہ کار لکڑہارا ،اور دوسرا ایک مضبوط نوجوان۔ نوجوان بڑا پُر جوش تھا ۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی وہ جنگل میں چلا گیا اور فوراً لکڑیاں کاٹنے لگا۔ بوڑھا لکڑہارا جنگل کی دوسری سمت میں گیا اور سکون سے اپنا کام شروع کر دیا۔ مقابلے کے دوران نوجوان لکڑہارے کو محسوس ہوا کہ جنگل کے دوسری طرف وقفے وقفے سے بوڑھے آدمی کے لکڑیاں کاٹنے کی آوازیں بند ہو جاتی ہیں۔ نوجوان نے اندازہ لگایا کہ بوڑھا لکڑہارا اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آرام کر رہا تھا۔ نوجوان نے اس موقع کو غنیمت جانا اور زیادہ تیزی سے لکڑیاں…
عقلمند لڑکا
بہت پرانے زمانے کا ذکر ہے کسی شہر میں امانت نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ غلہ فروشی کا کام کرتا تھا اور شہر کے بیچوں بیچ ایک بڑے بازار میں اس کی غلّے کی دکان تھی۔ اس دکان میں گندم، چاول، گڑ، شکر، مکئی اور دالیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس کی ایمانداری، خوش اخلاقی اور غلے کے مناسب داموں کی وجہ سے لوگ دور دور سے اس سے سودا لینے آتے تھے۔ اس کی دکان میں دو نو عمر لڑکے بھی کام کرتے تھے۔ ایک کا نام احسان تھا اور دوسرے کا مقصود۔ دونوں تقریباً ہم عمر ہی تھے اور کوئی بارہ سال کے ہونگے۔ ان لڑکوں کا تعلق غریب گھرانوں سے تھا اور دونوں کے باپ اس دنیا میں نہیں تھے۔ وہ امانت کے محلے میں ہی رہتے تھے۔ اسے ان کے گھر کے حالات کا علم تھا اس لیے اس نے انہیں اپنی دکان میں کام کرنے…
جب گناہ حد سے بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔
16 سالہ لڑکی کا ناجائزحمل گرانے والی دائی رحمتے نے کہا کہ“جب گناہ حد سے زیادہ بڑھ جائیں تو بارش نہیں ہوتی۔” صبح تڑکے رشوت خور دروغہ نے ڈھیر پہ پڑا مُردہ بچہ دیکھا تو اس نے بھی یہی بات دہرائی۔ یہی الفاظ حاجی صاحب سے فارغ ہو کر بَرا میں پیسے اُڑستی وَیشیا نے کہے اور بالکل یہی کچھ ایک فتویٰ فروش نے بھی فرمایا جس کے نزدیک حَلالہ کرنا، قِسطوں پہ مال بیچنا، سرکاری اداروں میں رشوت دینا اور نوکری کے دوران بینوولنٹ فنڈ بالکل جائز تھا۔ دودھ میں پانی ملاتا گوالہ، خَشخاش میں ریت اور مِرچوں میں برادہ ملاتا تاجر، زکوٰۃ و صدقات ادا نہ کرنے والا صاحب حیثیت، سرکاری راستوں کو کاٹ کر زمین میں شامل کرنے والا عام زمیندار اور عُشر ادا نہ کرنے والا ہر چھوٹا بڑا کسان ہی اپنے اپنے گناہ یاد کرکے احساس ندامت سے مرا جا رہا تھا۔ “اس دنیا میں…
ظالم بھیڑئیے کا انجام –
ایک خوبصورت سفید بکری کے سات بچے تھے۔بکری اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔اس کو ہر وقت ڈرلگا رہتا تھا کہ کسی دن بھیڑیا آکر اس کے بچوں کو نہ کھا جائے۔ ایک خوبصورت سفید بکری کے سات بچے تھے۔بکری اپنے بچوں سے بہت پیار کرتی تھی۔اس کو ہر وقت ڈرلگا رہتا تھا کہ کسی دن بھیڑیا آکر اس کے بچوں کو نہ کھا جائے۔ایک دن وہ جنگل میں کھانے کی چیزیں تلاش کرنے جانے لگی،تو اس نے اپنے ساتوں بچوں کو اپنے پاس بلایا۔بکری نے کہا”پیارے بچو!جب تک میں باہر رہوں۔اس بات کا خیال رکھنا کہ بھیڑیا تمہارے قریب نہ آنے پائے۔دروازے بند کرکے رکھنا اگر بھیڑیا اندر آگیا ،تو وہ تم سب کو کھاجائے گا،وہ تمہیں بھیس بدل کر دھوکا دے سکتاہے۔مگر تم اس کی کھردری آواز اور کالے پیروں سے پہچان لینا۔“بچوں نے جواب دیا”پیاری ماں!!فکر نہ کریں،ہم اپنی بہت اچھی طرح حفاظت کریں گے۔“بکری اپنے…
حیات کا درخت — ایک سبق آموز حکایت
ایک دانا شخص بیان کرتا ہے کہ ہندوستان میں ایک ایسا درخت ہے جس کا پھل کھانے والا نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے اور نہ ہی اسے موت آتی ہے۔ ایک بادشاہ نے یہ روایت سنی تو اسے سچ سمجھ بیٹھا اور اس نایاب درخت کو حاصل کرنے کی خواہش اس کے دل میں جاگ اٹھی۔ اس نے اپنے ایک نہایت عقل مند وزیر کو حکم دیا کہ ہندوستان جا کر اس درخت کو تلاش کرے۔ وزیر نے برسوں تک شہر شہر، جنگل جنگل، پہاڑوں اور جزیروں کی خاک چھانی۔ وہ جس شخص سے اس درخت کا پتا پوچھتا، لوگ مسکرا دیتے یا اسے ناممکن بات قرار دیتے۔ مگر وہ ہمت نہ ہارتا اور اپنی تلاش جاری رکھتا رہا۔ بادشاہ بھی مسلسل اس کے سفر کے اخراجات بھیجتا رہا۔ کئی برس گزر گئے، لیکن نہ درخت ملا اور نہ اس کا کوئی نشان۔ آخرکار مسلسل ناکامی اور مشقت سے تھک…
کمبل، گائے اور درخت
ایک گاؤں میں ایک کسان اپنے دو بیٹوں احمد اور محمد کے ساتھ رہتا تھا۔احمد بہت چالاک تھا جب کہ محمد معصوم اور کم عقل تھا۔کسان کے پاس ایک گائے، ایک پھل دار درخت اور ایک کمبل تھا۔بوڑھے کسان کے انتقال کے بعد بڑے بھائی احمد نے محمد سے کہا:”ہم یہ سب کچھ آدھا آدھا بانٹ لیتے ہیں۔دیکھو، اس گائے کا پچھلا حصہ میں لے لیتا ہوں اور اس کا اگلا حصہ تم لے لو۔محمد بے وقوف تھا، مان گیا۔پھر وہ چلے درخت کی طرف۔احمد نے چالاکی دکھاتے ہوئے محمد سے کہا:”ایسا کرتے ہیں کہ درخت کا نچلا حصہ تم لے لو اور اوپر والا حصہ میں لے لیتا ہوں۔“ محمد ہر بات پر راضی تھا مان گیا۔اب احمد نے کہا:”چلو! کمبل کو ہم آدھا تو کر نہیں سکتے تو ایسا کرتے ہیں کہ صبح کے وقت کمبل کو تم استعمال کرنا اور رات کے وقت میں لے لوں گا۔محمد…
کام والی
او کام والی!آج کیاریوں کی صفائی کر دینا اچھے طریقے سے۔بیگم صاحبہ ثائمہ کو حکم دے کر کمرے میں چلی گئیں۔ثائمہ لفظ کام والی سن کر تڑپ کر رہ گئی تھی۔جانے کیوں اسے اس لفظ سے چڑ سی ہو گئی تھی۔یہ تم نے کیسی صفائی کی ہے۔ایسا لگ رہا ہے کہ صفائی کی ہی نہیں۔تنخواہ لینے کا پتہ ہے بس کام کرتی نہیں ڈھنگ سے۔بیگم شازیہ ادریس احمد ملازمہ پر برس رہی تھیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ان کی یہ روز کی عادت تھی۔جتنی دیر ملازمہ کام کرتی وہ اس کو مسلسل کچھ نہ کچھ کہتی رہتی۔ کبھی انہیں کسی ملازمہ کی صفائی پسند نہیں آئی تھی۔وہ ایک انتہائی دولت مند خاتون تھیں اور وہ غریبوں کو نیچ اور ذلیل خیال کرتی تھیں۔ارے یہ تو نے کیا کیا؟چارپائی ناپاک کر دی میری اُٹھا اپنے بچے کو۔ثائمہ ایک دم لرز کر رہ گئی۔اس کی آنکھوں میں اپنی کم مائیگی…
لالچی مکھی –
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک چیونٹی جو کے دانے جمع کرنے کے لئے ایک رستے سے گذر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر شہد کے ایک چھتے پر پڑی۔شہد کی خوشبو سے اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔چھتا ایک پتھر کے اوپر لگا تھا۔چیونٹی نے ہر چند کوشش کی کہ وہ پتھر کی دیوار سے اوپر چڑھ کر چھتے تک رسائی حاصل کرے مگر ناکام رہی کیونکہ اس کے پاؤں پھسل جاتے تھے اور وہ گر پڑتی تھی۔شہد کے لالچ نے اسے آواز لگانے پر مجبور کر دیا اور وہ فریاد کرنے لگی:”اے لوگو، مجھے شہد کی طلب ہے۔اگر کوئی جواں مرد مجھے شہد کے چھتے تک پہنچا دے تو میں اسے معاوضے کے طور پر ایک جو پیش کروں گی۔“ایک پردار چیونٹی ہوا میں اُڑ رہی تھی۔اس نے چیونٹی کی آواز سنی اور اسے تنبیہ کرنے لگی:”دیکھو، ایسا نہ ہو کہ چھتے کی طرف چل دو۔…