خرگوش کی چالاکی
کسی جگہ شرارتی خرگوش رہتا تھا جس کی ذہانت سے لومڑ جیسا چالاک جانور بھی اکثر مات کھاتا تھا۔اسے خرگوش پر بہت غصہ آتا تھا،اسی لیے وہ اسے اور اس کے دوستوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔ایک دفعہ لومڑ بڑا سا بیگ کندھے پر ڈالے تیزی سے چلا جا رہا تھا۔ بیگ سے کسی کے چیخنے چلانے کی آواز آرہی تھی جس سے خرگوش کو اندازہ ہوا کہ اس میں اس کا دوست کچھوا قید ہے۔اب اسے اپنے دوست کو بچانے کی فکر لاحق ہوئی۔خرگوش جنگل کے درمیان سے تیزی سے بھاگتا لومڑ سے پہلے اس کے گھر پہنچا اور اس کے باغ کے سارے پھول توڑ کر زمین پر پھینک دیے اور خود گھر کے دروازے کے قریب ایک جگہ چھپ کر بیٹھ گیا۔جونہی لومڑ کندھے پر بیگ لیے گھر پہنچا تو خرگوش نے آواز بدل کر سرگوشی کی ”اے لومڑ تمہیں بیگ یہاں رکھ کر…
پھنس گیا کنجوس
پُرانے زمانے کی بات ہے ایک گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا۔وہ بہت ہی کنجوس تھا۔ایک بار وہ ایک جنگل سے گزررہا تھا تو اس نے کھجور کا ایک درخت دیکھا،جس میں بہت سارے میٹھے میٹھے کھجور لگے ہوئے تھے۔پھر کیا تھا؟۔۔۔کنجوس آدمی کو مفت میں کھجوریں مل گئی،اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔مال مفت دل بے رحم۔اس نے جلدی جلدی درخت پر چڑھنا شروع کر دیا۔وہ جب کافی اونچائی تک چڑھ گیا تو اچانک ایک شہد کی مکھی نے اسے ڈنک مار دیا۔اس نے دیکھا کہ درخت پر شہد کی مکھیوں کا ایک بڑا سا چھٹا لگا ہوا ہے ،وہ گھبرا اُٹھا،اس نے نیچے چھلانگ لگانے کے بارے میں سوچا،۔۔۔لیکن یہ کیا؟نیچے ایک کنواں تھا۔وہ بہت زیادہ ڈر گیا اور وہ خدا سے دعا مانگنے لگا کہ:”اے خدا!مجھے بچالے میں سو فقیروں کو کھانا کھلاؤں گا۔ “پھر اس نے دھیرے دھیرے نیچے اترنے کی کوشش کی،تھوڑا نیچے آنے…
وفادار باز
پرانے زمانے کی بات ہے کہ کسی ملک میں ایک شکاری رہتا تھا۔شکاری ایک نوجوان اور بہادر شخص تھا۔وہ شکار کی تلاش میں اکثر گھنے اور خطرناک جنگلوں میں جاتا رہتا تھا۔شکاری کے پاس ایک باز تھا جو اس کا بڑا وفادار تھا۔وہ جب بھی شکار پر جاتا تو باز کو بھی ساتھ لے جاتا۔باز بھی کئی قسم کے چھوٹے پرندے شکار کرتا تھا۔اسے باز سے بڑی محبت تھی،کیونکہ باز نے کئی مرتبہ اس کی جان بچائی تھی۔مثلاً ایک دن ایک سانپ اس پر حملہ آور ہونے لگا تو باز نے اس سانپ کو اپنے پنجوں سے ادھیڑ کر رکھ دیا تھا۔ایک دن شکاری نے شکار پر جانے کا ارادہ کیا اور حسب معمول باز کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔وہ ایک گھنے جنگل میں پہنچ گیا جہاں جنگلی جانوروں کی کثرت تھی۔اسے شکار کرتے ہوئے دو دن گزر گئے۔ تیسرے دن اچانک وہ راستہ بھٹک کر ایک صحرا میں…
تحفے –
یہ ایک خوب صورت وادی کی کہانی ہے جو ایک پہاڑی کے دامن میں آباد تھی وہاں کے رنگین پھول بچوں سے باتیں کیا کرتے تھے۔ تمام بچے علم حاصل کرنے کے بہت شوقین تھے وہ آپ کو ہمیشہ صاف ستھرا رکھتے لیکن ان میں ایک نجمہ بڑی گندی تھی اسے کئی بار سمجھایا گیا لیکن اس نے کسی کی نصیحت پر بھی کان نہ دھرا۔ کبھی تم سے چلتی پھرتی اور باتیں کرتی ہوئی گندگی دیکھی ہے؟ ایک دن نجمہ کو چڑانے کے لیے جب اس کی سہیلیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا۔ تو ہو فورا غصہ میں آگئی اس نے اپنے میلے کچیلے بالوں کو اپنے گندے چہرے سے ہٹایا اور اپنی سہیلیوں کو کوسنا شروع کیا اس کی بہتی ناک اور پیلے رنگ کے بدنما دانت دیکھ کر اس کی ایک سہیلی کہنے لگی۔چلوبھاگو یہاں سے بو آرہی ہے سامنے یہ گندی لڑکی جو کھڑی ہے…
گدھے کے سر پر سینگ –
پرانے زمانے میں کچھ جانوروں نے ایک جلسہ کیا اور طے کیا کہ وہ دوسرے جانوروں سے الگ ہو کر اپنی سرکار بنائیں گے۔اس جلسے میں گدھا،شیر،ہاتھی اور خرگوش پیش پیش تھے۔انہوں نے اپنی ایک چھوٹی سی فوج بنا لی۔اس فوج کا کمانڈر ایک گدھے کو بنایا گیا۔وہ بہت عقل مند سمجھا جاتا تھا،اس لئے ہاتھی یا گینڈے کی بجائے اسے سرداری دی گئی۔اس گدھے کی ایک خاص بات یہ تھی کہ اس کے سر پر کان سے اوپر نوکیلے سینگ لگے ہوئے تھے۔جنگل کے تمام جانور گدھے کے نوکیلے سینگوں سے ڈرتے تھے۔گدھا،شیر کے بہت سارے کام کرتا تھا ۔اس کے شکار کیے ہوئے جانوروں کا بھاری بوجھ اُٹھا کر اس کے گھر پہنچایا کرتا تھا۔شیر اس سے بہت خوش رہتا تھا جس کی وجہ سے سارے جانوروں پر اس کا رعب تھا۔لیکن ان جانوروں میں زرافہ ایسا تھا جو گدھے کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔اسے اپنی طویل…
کسان اور پری –
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا، وہ بہت مہربان تھا۔ ایک دن وہ اپنے کھیتوں میں کام کرنے جا رہا تھا۔ کھیتوں کے راستے میں ایک کنواں پڑتا تھا، وہ بہت پرانا کنواں تھا۔ ایک دن اس نے کنویں سے کسی کی آواز سنی، کوئی مدد کے لئے پکار رہا تھا۔ یہ آواز کسی عورت کی تھی یہ کنواں ایک جادوگر کے قبضے میں تھا۔ کسان نے سوچا کہ شاید جادوگر عورت کا روپ بدل کر مجھے پھنسانے کی کو شش کر رہا ہے ۔ جب یہ آواز مسلسل تین دن تک آتی رہی تو کسان نے ایک دن کنویں میں جھانک کر دیکھا تو یہ ایک خوبصورت پری تھی جو زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی۔ اس پری نے کسان سے کہا کہ تم میری مدد کرو اور جب تک میں ان زنجیروں میں جکڑی رہوں گی تب تک میرا کوئی جادو نہیں…
بلاعنوان 😂
پرانے زمانے کے لوگ واقعی بڑے سادہ ھوتے تھے۔ نہ موبائل، نہ کیلنڈر، نہ گوگل! 😄🥀 ھمارے گاؤں کے میاں جی تاریخ معلوم کرنے کا بڑا انوکھا طریقہ رکھتے تھے۔ ہر رات چاند دیکھتے اور اپنے حجرے میں رکھے ایک لوٹے میں بکری کی ایک مینگنی ڈال دیتے۔ 🐐 جب کوئی تاریخ پوچھنے آتا تو میاں جی لوٹا الٹتے، مینگنیاں گنتے اور پورے اعتماد سے تاریخ بتا دیتے۔ 😎 ایک رات میاں جی کی بکری نہ جانے کیسے حجرے میں گھس گئی اور لوٹے کے اوپر ھی “خدمت” انجام دے گئی۔ 😂 اگلے دن ایک آدمی تاریخ پوچھنے آ گیا۔ میاں جی حجرے میں گئے، لوٹا الٹا تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں! 😳 لوٹا تو اوپر تک بھرا ھوا تھا! اب کیا کرتے؟بیٹھ گئے مینگنیاں گننے… 😅 آدھا گھنٹہ گزر گیا…پھر ایک گھنٹہ…😕 آخرکار پسینے میں شرابور باہر نکلے۔ 😓 آدمی نے بے صبری سے پوچھا: “میاں جی!…
ایک وفادار نیولا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کسان کھیتوں میں کام کررہا تھا اسے پاس سے ایک نیولے کا بچہ ملا جو بالکل چھوٹا سا تھا۔اس کی ماں مردہ حالت میں اس کے پاس ہی پڑی تھی ۔کسان کو نیولے کے بچے پر بہت ترس آیا اور وہ اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا، اپنی بیوی کو بلایا اور سارا قصہ سنایا۔کسان کی بیوی کہنے لگی ہم اسے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔ہماراایک بچہ ہے جو بہت چھوٹا ہے اوریہ جنگلی جانور ہے کل کو یہ بڑا ہو گا اور ہمارے بچے کو نقصان پہنچائے گا کسان نے کہا ابھی یہ چھوٹا سا بچہ ہے جیسے جیسے یہ بڑا ہو گا اسے ہماری اور ہمارے بچے کی پہچان ہو جائے گی اور وہ اسے اپنا بھائی سمجھے گا اور اپنے بھائی کا کوئی نقصان نہیں کرتا تم اسے اپنے بچے کی طرح پالنا یہ ہمیں کوئی نقصان نہیں دے گا…
چالاک لومڑی
ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ کسی جنگل میں ایک شیر اور ایک لومڑی رہا کرتے تھے۔جنگل کے تمام جانور اُن سے بہت پریشان تھے۔کیونکہ وہ دونوں ہی چوریاں کیا کرتے تھے۔ایک دن دونوں نے ایک گھر میں چوری کرنے کا فیصلہ کیا جو کہ ایک بندر کا گھر تھا۔وہ دونوں سیدھے باورچی خانے میں پہنچے،وہاں انہوں نے لکڑیوں پہ رکھا ہوا ایک پتیلا دیکھا جس میں سوپ پکا رکھا تھا۔اُن دونوں نے سوچا کہ موقع اچھا ہے،گھر پر کوئی نہیں ہے،پہلے تو شیر نے اچھی طرح سے خوب سوپ پیا،جب سیر ہو گیا تو لومڑی بولی کہ میں اسے ختم کر دوں گی۔یہ کہتے ہوئے اُس نے جیسے ہی اپنا منہ پتیلے میں ڈالا اُس کا سر پتیلے میں پھنس گیا۔اُس نے شیر سے کہا میری مدد کرو،مجھے یہاں سے نکالو۔ اندھیرے میں شیر کو کچھ سمجھ نہ آیا اور وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ایسے میں اُسے محسوس…
فرض اور عادت
ایک بار ایک سادھو ندی میں نہارہے تھے۔ تب ہی اچانک انھیں ایک بچھوکک پانی میں بہتا ہوا دکھائی دیا۔ انھوں نے جھٹ سے اسے اپنی ہتھیلی پر اٹھایا اور کنارے پر رکھ دیا۔ لیکن جیسا کہ بچھووں کی عادت ہوتی ہے۔ اس بچھو نے سادھو کو ڈنک ماردیا۔ سادھو نے اس کی پروا نہیں کی۔ اور وہ پھر سے نہانے میں مصروف ہوگئے۔ دوبارہ بچھو کو پانی کی لہریں بہاکر ندی میں لے آئیں۔یہ دیکھ کر سادھو نے اسے ہتھیلی پر اٹھا کر ھر کنارے رکھ دیا۔ اس بار بھی بچھو نے اس کی جان بچانے والے سادھو کو ڈنک مار دیا۔ بار بار یہی ہوتا رہا۔ بچھو بار بار پانی کے ساتھ بہہ کر آتا اور سادھو بار بار اس کی حفاظت کرتے اور اس کی جان بچاتے۔ لیکن بچھو کے ڈنک مارنے پر انھیں افسوس ہوتا۔اسی ندی میں ایک نوجوان بھی نہا رہا تھا جو کہ یہ…
لالچ کبھی خوشی نہیں دیتا، جبکہ محنت، ایمانداری اور دوسروں کی مدد کرنے سے دل بھی خوش رہتا ہے
ایک گھنے جنگل میں ننھی گلہری “گُڑیا” رہتی تھی۔ اسے مزیدار اخروٹ بہت پسند تھے، لیکن اس میں ایک بری عادت تھی۔ وہ ہمیشہ دوسروں کا کھانا بھی اپنے پاس جمع کر لیتی تھی۔ اسی جنگل میں ایک چھوٹی سی چڑیا “چنو” رہتی تھی۔ وہ ہر روز محنت سے دانے جمع کرتی اور ضرورت مند پرندوں کے ساتھ بانٹ دیتی۔ ایک دن جنگل میں زور کی بارش ہوئی۔ گُڑیا نے بہت سارے اخروٹ تو جمع کر لیے تھے، مگر انہیں ایک کمزور درخت کے نیچے چھپا دیا تھا۔ بارش کے بعد پانی آیا اور اس کے سارے اخروٹ بہہ گئے۔ گُڑیا بہت اداس ہو کر رونے لگی۔ چنو نے اسے دیکھا تو اپنے جمع کیے ہوئے دانوں میں سے کچھ اسے دے دیے۔ گُڑیا نے حیران ہو کر پوچھا، “میں نے تو کبھی تمہارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا، پھر بھی تم نے میری مدد کیوں کی؟” چنو مسکرا کر…
چیتا، لومڑی اور کسان –
ایک دن دو شکاریوں نے چیتے کو دیکھا۔وہ اس کا پیچھا کرنے لگے۔چیتا ان سے جان بچا کر بھاگ گیا، لیکن شکاری جوان اور طاقتور تھے۔وہ بہت تیز دوڑتے تھے۔چیتے نے سوچا:”شکاری مجھے پکڑ کر مار ڈالیں گے! میں کیا کر سکتا ہوں؟“ پھر بہت دور، اس نے کچھ موسیقی کی آواز سنی۔ایک کسان اپنے کھیت میں ہل چلا رہا تھا اور یہ گیت گنگنا رہا تھا:”میں اپنے کھیت میں ہل چلاتا ہوں اور میں اپنا اناج بوتا ہوں اور میں بادلوں کو دیکھتا ہوں، جنھیں میں بارش لاتے دیکھتا ہوں۔“چیتا بھاگ کر کسان کے پاس پہنچا۔چیتے نے کہا:”براہِ کرم میری مدد کریں! شکاری میرا پیچھا کر رہے ہیں، وہ مجھے پکڑ کر مارنا چاہتے ہیں۔“کسان کو چیتے پر ترس آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ میری اناج کی کوٹھری میں چھپ سکتے ہیں۔چنانچہ چیتا چھلانگ لگا کر کسان کے اناج کی کوٹھری میں گھس گیا۔وہ بہت خاموشی سے…
جھوٹ کی سزا –
یہ ضرور کسی ڈائن کاکام ہے ۔ جنگل کے اوجھا نامی لکڑ بھگّے نے آنکھیں گول گول گھما کر کہا۔’’یہ جو آج کل ایک کے بعد ایک بچّے مرتے جارہے ہیں ، ضرور اس میں اُسی کا ہاتھ ہے وہ ڈائن ہے ۔ اب اُس کی نظر تیرے بچّے پر ہے۔‘‘’’ تو ہمارا کیا ہوگا؟ ‘‘براؤنی بھالو لگا رونے ۔’’ہمارے دو بچّے ہوئے ایک تو پہلے ہی خدا کو پیارا ہوگیا۔ خدا جانے اسے کون سی بیماری لگی ہے۔ ‘‘بنٹی لومڑی مانو سسکنے لگی :’’ بابا! کہیں یہ اُس سنہری ہرن کے کرتوت تو نہیں؟ اتنے بڑے کھیت اور کٹیا کی اکیلی مالکن بنی بیٹھی ہے۔‘‘سنہری ہرن تھی تو اکیلی اس کا کوئی بھی نہ تھا مگر کھیتوں پر راج تھا تو اسی کا ۔ جیسے ہی بنٹی لومڑی نے ہرن کی بات کی، تو مانو اوجھالکڑ بھگّا اسی موقع کی تلاش میں تھا ۔ اس نے کہا :’’ ارے…
کوؤں کا احتجاج –
ایک قصاب کی دکان پر بہت کوے آتے تھے۔اور اپنی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے جھپٹ کر گوشت کا ٹکڑا اُڑا لے جاتے۔قصاب کوؤں کی اس حرکت سے سخت اکتا گیا تھا۔اور اس کا حل یہ سوچا کہ ایک کوا مار کر لٹکا دیا جائے تاکہ باقی کوے اس کی موت سے عبرت لیں کہ یہاں خطرہ ہے۔اور یہاں نہ آئیں۔قصاب نے اس سوچ پر عمل کیا اور مرا کوا لٹکا کر اطمینان سے کام کرنے لگا۔تھوڑی دیر ہوئی کہ پوری فضا کوؤں کی کاں کاں سے گونجنے لگی۔اتنی تعداد میں کوے اور اس قدر شور کہ ہر شخص اس منظر کی طرف متوجہ ہو گیا۔ایک کوا قصاب پر جھپٹے تو دوسرا گوشت پر، ایک مرے ہوئے کوے پر تو دوسرا پھر قصاب پر۔کوؤں کی تعداد اور شور مزید بڑھ گیا۔قصاب اس ساری صورتحال میں سخت مضطرب ہوا۔اور مرے ہوئے کوے کی رسی کھولی اور دور پھینک دیا۔کچھ کوے مرے…
خالی گھر –
نعمان تیز رفتاری سے دوڑتا ہوا جا رہا تھا۔اب وہ کیا کرے۔اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔مجرم اس کے تعاقب میں تھے۔وہ ہر صورت میں نعمان سے رقم چھین لینا چاہتے تھے۔اس کی جیب میں موجود رقم اس کی اپنی نہیں تھی۔نعمان کے دفتر کے ساتھی ریاض کی طبیعت خراب تھی۔یہ رقم اسے پہنچانے کو دفتر کے باس امتیاز صاحب نے دی تھی، تاکہ وہ اس رقم سے اپنا علاج کرا لے۔بس میں اس کی پینٹ کی پھولی جیب دیکھ کر دونوں مجرموں نے بھانپ لیا کہ اس کے پاس خاصی رقم ہے، اس لئے انھوں نے اس سے رقم حاصل کرنے کو بس سے اُتر کر رقم چھین لینے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔نعمان جیسے ہی بس سے اُترا، ڈکیت بھی تیر کی طرح اس کی جانب لپکے۔نعمان نے ان کی باتوں کا جواب دینے کی بجائے دوڑ لگا دی۔ وہ بھی اس کے تعاقب میں دوڑے۔نعمان…
قدرت کا نظام –
جنگل میں آج ایک غیر معمولی اجلاس جاری تھا۔جنگل میں موجود دوشیروں کو جنگل بدر کرنے کی قرار داد پیش کی جارہی تھی۔راجا ہاتھی اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں سے حالات کا بغورجائزہ لے رہا تھا اور بڑے بڑے کانوں سے بہت توجہ سے سب کی بات سن رہا تھا ۔سب جانور اس بات پر متفق تھے کہ ان شیروں کو علاقے سے نکال دیا جائے ،جن کی وجہ سے جنگل کا سکون غارت ہوکررہ گیا تھا ۔ جانور ٹھیک سے کھاسکتے تھے ،نہ آرام سے پانی پینے پی سکتے تھے ۔پل بھر کے لیے غافل ہوئے اور شیران کی گردن دبوچنے کو آموجود ہوتے ہیں ۔اس تحریک نے تب زور پکڑا،جب شیروں کا تیسرا ساتھی بھینسوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں مارا گیا۔اسی وقت سے شیروں کے حوصلے بہت پست ہوگئے تھے ۔لنگڑ ابارہ سنگھار جو شیروں کے لیے ایک آسان شکار ثابت ہوسکتا تھا،اس نے یہ بھانپ لیا تھا۔…
فرشتہ
روس کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں، برف سے ڈھکی ہوئی ایک سخت سرد دنیا کے بیچ، ایک نہایت غریب مگر محنتی جوتا ساز، سیمیون، اپنی بیوی مترونا اور ننھے بچوں کے ساتھ ایک بوسیدہ، تنگ و تاریک کرائے کے کمرے میں زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے پاس نہ کھیت تھے، نہ مویشی، نہ کوئی جمع پونجی۔ اس کی کل دولت اس کے محنت کش ہاتھ، چند اوزار اور اپنے پیشے سے وابستہ عزت تھی۔ دن بھر جوتے سی کر جو چند سکے ملتے، انہی سے چولہا جلتا، اور کئی راتیں ایسی بھی آتیں جب بچوں کو آدھی روٹی پر ہی سونا پڑتا۔ سردیوں کی ایک بےحد یخ بستہ شام، جب برفانی ہوا ہڈیوں تک اتر رہی تھی، سیمیون کے پاس اتنی ہی رقم تھی کہ یا تو وہ اپنے پرانے، جگہ جگہ سے پھٹے کوٹ کے لیے نیا چمڑا خرید لیتا، یا پھر گھر کے لیے چند دن…
گڈ لک –
ایک ہرے بھرے جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔اس جنگل کا بادشاہ شیر کافی بوڑھا اور عقل مند تھا جس کی وجہ سے سبھی جانور پُرسکون زندگی گزار رہے تھے۔ان سب کی آپس میں اچھی دوستی تھی۔وہ فارغ وقت میں خوب گپ شپ کرتے تھے۔لومڑی اور بھیڑیا بچپن کے دوست تھے۔وہ دونوں جب بھی ملتے تو خوب گھل مل کر باتیں کرتے۔ ایک دن دونوں کی راہ چلتے ملاقات ہوئی تو بھیڑیے نے کہا ”بی لومڑی!اب جنگل میں شکار کم ہوتا جا رہا ہے۔انسان نے اس جنگل کے جانوروں کا شکار کرکے ہم جانوروں پر بڑا ظلم کیا ہے۔اب تو جنگل کے اردگرد بھی بھیڑیں بہت کم ہو گئی ہیں۔میں تو کھانے کو ترس گیا ہوں،کہیں بھی شکار نہیں ملتا۔“”اگر عقل ہو تو اس جنگل میں شکار بہت ہے“ بی لومڑی نے مکاری سے کہا ”بی لومڑی!اب تو جانور بھی بہت ہوشیار ہو گئے ہیں۔انسان کو دیکھ کر چھپ…
تین بہرے اور ایک گونگا –
کسی گاؤں میں ایک غریب چرواہارہتا تھا وہ روزانہ چندبکریوں کو لے کر قریب پہاڑی پر چلا جاتا جہاں بکریاں چرتی رہتی تھیں۔ چرواہا بہرا تھا مگر اس سے اس کے کام میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ایک دن ایسا ہوا کہ اس کی بیوی اسے کھانادینا بھول گئی اور پھر بچے کے ہاتھ بھی نہیں بھجوایا ہے۔ چرواہے نے سوچا میں گھر جا کر کھانا لے آؤں دن بھر بھوکے رہنا میرے لیے دشوار ہوگا۔اتنے میں اس نے دیکھا کہ ایک گھسیارا ( گھاس کاٹنے والا) پہاڑ کے کنارے گھاس کاٹ رہا ہے۔ چرواہا اس کے پاس گیا اور کہا بھائی تم ذرا میری بکریوں کا خیال رکھنا میں گاؤں جاکر کھانا لے آؤں۔ میری بیوی آج کھانا دینا بھول گئی ہے اتفاق سے گھسیارا ببی بہراتھاو ہ ایک لفظ بھی نہ سن سکا بلکہ اور الٹا غلط سمجھا۔ وہ بولا میں تم کو اپنی گھاس کیوں دوں…
نیکی کا صلہ
پُرانے زمانے کی بات ہے، ایک سچے اور ایماندار تاجر کا نام زاید تھا۔ وہ اپنے اونٹ پر اکیلا سفر کر رہا تھا۔ اس سفر میں اس کے ساتھ ایک عجیب بات ہو رہی تھی۔ وہ جہاں بھی جاتا، ایک خوبصورت نیلے رنگ کا پرندہ اس کے سر پر اڑتا ہوا دکھائی دیتا۔ زاید نے پہلے تو اسے عام بات سمجھا، لیکن اصلی کہانی تب شروع ہوئی جب وہ ایک ویران اور گرم صحرا میں پہنچا۔شدید گرمی کی وجہ سے زاید کا پانی ختم ہو گیا۔ پیاس سے اس کا برا حال تھا اور چکر آ رہے تھے۔ اتنے میں اس نے دیکھا کہ وہی نیلا پرندہ ایک پُرانے کنویں کے اوپر چکر کاٹ رہا ہے۔ زاید خوش ہو کر کنویں کے پاس پہنچا اور پانی نکالنے کے لیے رسی سے ڈول نیچے لٹکایا۔ لیکن جب ڈول باہر آیا تو اس میں پانی کی جگہ چمکتے ہوئے سونے کے سکے…