نرم لہجہ… مگر زہریلی فطرت
ایک دن ایک سانپ خاموشی سے سرکتا ہوا ایک پُرسکون خرگوش کے بل میں داخل ہو گیا۔ ننھے خرگوش خوف سے ایک کونے میں دبک گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے ہی گھر میں کسی شکاری کو دیکھا تھا۔ سانپ نے نہایت نرم لہجے میں کہا: “براہِ کرم مجھ سے مت ڈرو… میں بہت تنہا ہوں۔ میرا کوئی دوست نہیں۔ مجھے صرف تھوڑی سی محبت اور اپنائیت چاہیے۔ میرے اندر برسوں کی دانائی چھپی ہوئی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ بانٹوں۔” خرگوش ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے سوچا کہ شاید اسے ایک موقع دینا چاہیے۔ وہ اس کی باتیں سننے لگے۔ اس کی کہانیاں، اس کے فلسفیانہ انداز اور دل موہ لینے والے الفاظ انہیں متاثر کرنے لگے۔ لیکن اچانک… سانپ نے ان میں سے ایک خرگوش کو ڈس لیا اور اندھیرے میں غائب ہو…
بلاعنوان
صحن میں رکھی پرانی سرخ سائیکل کے ہینڈل سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے ٹپک رہے تھے۔ زنگ آلود گھنٹی ہوا کے ہلکے جھونکے سے بجی تو عامر نے بے اختیار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اسی لمحے اندر کمرے سے والد کی آواز آئی۔“بیٹا… اگر ممکن ہو تو… وہ ٹچ والا موبائل دلا دینا۔”آواز میں خواہش کم، اجازت زیادہ تھی۔عامر نے اخبار تہہ کیا، مگر جواب فوراً نہ دے سکا۔ اسے حیرت اس بات پر نہیں ہوئی کہ ابا نے موبائل مانگا ہے؛ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انہوں نے پہلی بار اپنی کسی ضرورت کو لفظ دیا تھا۔رات کے کھانے کے بعد وہ باورچی خانے میں آیا تو سارہ برتن دھو رہی تھی۔ نلکے سے بہتا پانی اسٹیل کے برتنوں پر ایسی آواز پیدا کر رہا تھا جیسے کوئی پرانی یاد آہستہ آہستہ گھل رہی ہو۔“ابا کہہ رہے تھے، اینڈرائیڈ فون چاہیے۔”سارہ نے ہاتھ نہیں روکے۔“اچھا۔”“لیکن…
دوست کی پہچان
ایک مالدار تاجر تھا جس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اس کی دوستی ایسے لڑکوں سے ہو گئی جنھیں سوائے آوارہ گردی اور مفت خوری کے کچھ کام نہ تھا۔ وہ روزانہ اسے شراب خانے یا قمار خانے لے جاتے اور شام تک اس کی اچھی خاصی رقم ضائع کروا دیتے۔تاجر کچھ دن تک خاموشی سے یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا رہا، پھر ایک دن اپنے بیٹے سے بولا: “بیٹا! دوستی کرو تو ایسے لوگوں سے جو اچھے گھرانے کے ہوں، شریف ہوں اور تمھارا بھلا چاہیں۔ تم نے جن آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کر رکھی ہے، وہ میرے بعد تمھیں تباہ کر کے چھوڑ دیں گے۔”بیٹے کو باپ کی بات پر یقین نہیں آیا۔ اس نے کہا: “مجھے اپنے دوستوں پر پورا بھروسا ہے۔ وہ ہر آزمائش میں پورے اتریں گے۔”تاجر نے کہا: “ٹھیک ہے، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کس قدر…
بلاعنوان
ایک بادشاہ نے ایک دن حکم جاری کیا: “سلطنت کے تمام شادی شدہ مرد فوراً میدان میں جمع ھوں!” 🙂💁♂️ سب حاضر ھو گئے۔ بادشاہ نے اعلان کیا: “دو قطاریں بناؤ!ایک اُن کی جو اپنی بیوی سے ڈرتے ھیںاور دوسری اُن کی جو بالکل نہیں ڈرتے!” چند ھی لمحوں میں… بیوی سے ڈرنے والوں کی قطار اتنی لمبی ھو گئی کہ میدان چھوٹا پڑ گیا! 😂 جبکہ دوسری طرف… صرف ایک اکیلا شخص شان سے کھڑا تھا۔ 😎 بادشاہ خوش ھو کر اس کے پاس گیا اور بولا: “واہ! آخر میری سلطنت میں ایک بہادر مرد بھی ھے جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتا!” 😏 وہ شخص گھبرا کر بولا: “حضور… ایسی بات نہیں ھے!” 🤕 بادشاہ حیران ھوا: “پھر یہاں کیوں کھڑے ہو؟” اس نے معصوم سا جواب دیا: “حضور، گھر سے نکلتے وقت بیوی نے کہا تھا: “خبردار! اسی والی قطار میں کھڑے ھونا اگر اپنی مرضی سے…
کرایہ دار
شہر میں ایک بوڑھا آدمی تھا جو پچاس سال سے ایک ہی کمرے میں رہ رہا تھا۔ وہ وقت پر کرایہ دیتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور ہر شام اپنے دروازے کے باہر ایک خالی کرسی رکھ دیتا۔ محلے والے کہتے تھے،“شاید کسی کا انتظار کرتا ہے۔” ایک دن مکان مالک نے تنگ آ کر پوچھ ہی لیا، “آخر روز یہ خالی کرسی کیوں رکھتے ہو؟” بوڑھا مسکرایا۔ “کیونکہ جس دن کوئی اس پر بیٹھ گیا… میں یہ کمرہ چھوڑ دوں گا۔” سب نے اسے پاگل سمجھا۔ سال گزرتے گئے۔ کسی نے کبھی اس کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی۔ پھر ایک بارش بھری شام ایک سات آٹھ سال کا لڑکا بھیگتا ہوا آیا۔ اس نے کچھ پوچھے بغیر کرسی کھینچی… اور بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے اسے دیکھا۔ پچاس برس بعد… وہ پہلی بار ہنسا۔ اگلی صبح محلے والوں نے دیکھا… کمرہ خالی تھا۔ کرایہ میز پر رکھا…
تیسری دستک
رات کے ٹھیک تین بجے، پورے گاؤں کی بجلی چلی گئی۔ بارش نہیں ہو رہی تھی، ہوا بھی بند تھی… پھر بھی عائشہ کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ ٹھک… ٹھک… دروازے پر دو ہلکی دستکیں ہوئیں۔ اس نے سمجھا شاید وہم ہے۔ خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد… ٹھک… ٹھک… ٹھک… اس بار تین دستکیں تھیں۔ اس کی دادی کی ایک بات اسے فوراً یاد آ گئی۔ “اگر رات کے آخری پہر کوئی تین بار دروازہ کھٹکھٹائے… تو پہلے کھڑکی سے ضرور دیکھنا، دروازہ فوراً مت کھولنا۔” عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ صرف گیلی مٹی پر ننگے قدموں کے نشان… جو دروازے تک آ کر ختم ہو جاتے تھے۔ واپس نہیں جاتے تھے۔ اس کا گلا خشک ہو گیا۔ اچانک اس کے پیچھے سے پھر وہی آواز آئی۔ ٹھک… ٹھک… ٹھک… مگر اس بار… دروازے پر نہیں۔ الماری کے اندر سے۔ کمرے کی ہوا…
بلاعنوان
ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی ایک بوٹی لگائی اور اسے دریا میں پھینک دیا۔ ایک چھوٹی مچھلی لالچ میں آکر اسے کھانے کے لیے تیزی سے بڑھی، مگر قریب ہی موجود ایک بڑی مچھلی نے فوراً اسے روک لیا اور کہا: “اس بوٹی کو ہرگز منہ مت لگانا! اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ہے جو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ جیسے ہی تم بوٹی کھاؤ گی، وہ کانٹا تمہارے حلق میں چبھ جائے گا۔ پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ نہیں نکلے گا۔ تمہاری تڑپ سے پانی کے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری کے ذریعے خبر ہو جائے گی۔ وہ خوش ہوگا، ڈور کھینچ کر تمہیں پانی سے باہر نکال لے گا، پھر چھری سے تمہارے ٹکڑے کرے گا، مرچ مصالحہ لگائے گا اور کھولتے ہوئے تیل میں پکائے گا۔ آخرکار انسان اپنے ہاتھوں اور دانتوں سے تمہیں کھا جائیں گے۔ یہی تمہارا انجام…
کون ہے وہاں؟
بارش مسلسل تیسرے دن بھی نہیں رکی تھی۔ شہر کے کنارے ایک پرانا دو منزلہ گھر تھا جسے لوگ برسوں سے خالی سمجھتے تھے۔ ایک رات احمد کی گاڑی خراب ہو گئی۔ موبائل میں سگنل نہیں تھے، اس لیے وہ مجبوراً اسی گھر میں پناہ لینے چلا گیا۔ دروازہ دھکا دیتے ہی خود بخود کھل گیا۔ اندر عجیب خاموشی تھی… ایسی خاموشی جس میں اپنی سانس بھی شور لگتی تھی۔ سیڑھیوں کے پاس دیوار پر دھول جمی ہوئی تھی، مگر اس دھول میں تازہ قدموں کے نشان بنے ہوئے تھے… ایسے نشان جو اوپر جا رہے تھے… نیچے نہیں آ رہے تھے۔ احمد نے خود کو سمجھایا، “شاید کوئی اور بھی یہاں پناہ لینے آیا ہوگا۔” وہ اوپر چڑھنے لگا۔ پہلی منزل پر ایک کمرہ کھلا تھا۔ کمرے میں صرف ایک پرانی کرسی تھی… اور کرسی آہستہ آہستہ خود ہل رہی تھی۔ کھڑکیاں بند تھیں۔ ہوا بالکل نہیں چل رہی…
جنگل کا سب سے مہنگا قرض
بارش کے بعد جنگل میں ایک اجنبی بھیڑیا آیا۔ وہ نہ شکار کرتا تھا، نہ کسی سے لڑتا تھا۔ بس خاموشی سے ایک ہی بات کہتا تھا۔ “جسے جو چاہیے، مجھ سے لے لو… قیمت بعد میں دے دینا۔” پہلے دن خرگوش نے کہا،“مجھے لومڑی سے بھی تیز دوڑنا ہے۔” اگلی صبح وہ واقعی بجلی کی طرح دوڑنے لگا۔ ہرن نے مانگا،“مجھے کسی شکاری سے ڈر نہ لگے۔” اگلے دن اس کے دل سے خوف ختم ہو چکا تھا۔ مور نے کہا،“مجھے پورے جنگل میں سب سے خوبصورت بنا دو۔” وہ پہلے سے بھی زیادہ دلکش ہو گیا۔ ہر جانور خوش تھا۔ کوئی قیمت نہیں مانگی گئی۔ دن گزرتے گئے… پھر ایک صبح بھیڑیا واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں نہ سونے کی تھیلی تھی، نہ ہتھیار۔ صرف ایک پرانی سی کتاب تھی۔ وہ مسکرایا۔ “اب قرض واپس کرنے کا وقت ہے۔” خرگوش ہنس پڑا۔ “میرے پاس تو کچھ بھی…
ایک گدھا، قاتلوں کے غول کے خلاف
جارجیا کے ایک دیہاتی علاقے کے فارم پر گھپ اندھیری رات ہے۔ اچانک کسان اپنی بھیڑوں کے خوفزدہ اور بے چین ممیانے کی آواز سن کر جاگ جاتا ہے۔ وہ اپنی شاٹ گن اٹھاتا ہے، چراگاہ کی طرف بھاگتا ہے، اور وہیں ساکت رہ جاتا ہے۔ کھیت کے بالکل بیچ میں اس کا گدھا ‘جیک’ کھڑا ہے۔ اس کے ارد گرد تین مردہ کویوٹی (جنگلی کتے) بکھرے پڑے ہیں۔ چوتھا اپنی پچھلی ٹانگ گھسیٹتا ہوا جھاڑیوں کی طرف لنگڑا کر بھاگ رہا ہے۔بھیڑوں کو خراش تک نہیں آئی۔ ان میں سے ایک ایک محفوظ ہے۔ دوسری طرف، جیک اتنے آرام سے گھاس چبا رہا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔رکھوالا گدھا: مویشیوں کا بہترین محافظزیادہ تر لوگ گدھوں کو ضدی، سست اور بیکار کارٹون کرداروں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن کسان—خاص طور پر امریکہ اور کینیڈا کے—اصل حقیقت جانتے ہیں: ایک رکھوالا گدھا مویشیوں کے تحفظ کے لیے…
انصاف نگر
کہتے ھیں ایک گرو اور اس کا چیلہ سفر کرتے ھوئے ایک عجیب شہر پہنچے۔ لوگوں نے بتایا: “یہ انصاف نگر ھے…” پھر ہنس کر بولے: “نام انصاف نگر ھے مگر یہاں انصاف صرف تختی پر لکھا ھے!” 😅 دونوں بازار گئے۔ پتہ چلا کہ آٹا، گھی، دودھ، تیل، دال ہر چیز ایک ھی قیمت پر! 😕😆 چیلہ خوشی سے بولا: “گرو جی! اس سے سستا اور بہترین شہر کہیں نہیں ھوگا، ھم یہیں رہتے ھیں!” گرو نے مُسکرا کر کہا: “بیٹا! جہاں ہر چیز کی ایک ھی قیمت ھو، وہاں انصاف نہیں عقل کی کمی ھوتی ھے!” مگر چیلہ نہ مانا۔ چند دن بعد دونوں عدالت جا پہنچے۔ ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا۔ ایک چور عدالت میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا: “ھم چوری کرنے گئے تھے، دیوار گر گئی، میرا ساتھی مر گیا مجھے انصاف چاہیے!” 😂 بس پھر کیا تھا… مہاجن نے معمار پر الزام…
سوٹ کیس: ایک خوبصورت اور سبق آموز کہانی۔۔
ایک شخص کا انتقال ہو گیا۔جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں، اس نے دیکھا کہ خدا ایک پرانا سوٹ کیس ہاتھ میں لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔خدا نے نرمی سے کہا، “اب چلنے کا وقت ہو گیا ہے۔”وہ شخص حیران نظر آیا۔ “اتنی جلدی؟ لیکن میرے تو ابھی بہت سے منصوبے تھے۔ بہت کچھ ایسا تھا جو میں کرنا چاہتا تھا۔”خدا نے جواب دیا، “مجھے افسوس ہے، لیکن زمین پر تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے۔”اس شخص نے سوٹ کیس پر نظر ڈالی۔ “اس کے اندر کیا ہے؟”“وہ سب کچھ جو تمہارا ہے۔”اس نے امید بھری نظروں سے پوچھا، “میری چیزیں؟ میرے کپڑے، میرا گھر، میری جمع پونجی؟”خدا نرمی سے مسکرایا۔ “نہیں۔ وہ چیزیں کبھی واقعی تمہاری تھیں ہی نہیں۔ وہ کچھ وقت کے لیے دنیا کی تھیں، اور تم صرف ان کے چوکیدار (دیکھ بھال کرنے والے) تھے۔”“میری یادوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟”“وہ بھی کبھی…
بلاعنوان
ایک شام، ایک خاتون اپنی بیٹی کے اسکول میں اساتذہ اور والدین کی میٹنگ (Parent-Teacher Meeting) میں گئیں۔جب وہ چلی گئیں، تو ان کے شوہر اور بیٹی نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سرپرائز دینے کے لیے کچن کی گہری صفائی کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے راشن اور کھانے پینے کا سامان ترتیب سے رکھا، کاؤنٹرز کو صاف کیا، الماریاں اور شیلفیں چمکائیں، چولہا رگڑ کر صاف کیا، برتن دھوئے اور ہر چیز کو سلیقے سے سجا دیا۔جب وہ فارغ ہوئے، تو کچن بالکل صاف ستھرا اور چمکدار دکھائی دے رہا تھا۔پھر وہ امی کے گھر واپس آنے کا انتظار کرنے لگے۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد، وہ اندر آئیں، اپنا کوٹ اتارا، اسے الماری میں لٹکایا، کچن میں گئیں، اپنے لیے ایک گلاس پانی ڈالا، اور پھر ٹی وی دیکھنے کے لیے لیونگ روم کے صوفے پر ڈھیر ہو گئیں۔ان کے شوہر اور بیٹی ان کے پیچھے پیچھے کمرے…
بلاعنوان
یہ کہانی ایک ایسی چیونٹی کی ہے جو خاموشی سے سب کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ایک دن تھک کر ہار جاتی ہے۔تھک جانے والی چیونٹی کی کہانیچیونٹیوں کی ایک بڑی بستی میں ایک چیونٹی رہتی تھی، جسے سب لوگ بے حد قابلِ بھروسہ سمجھتے تھے۔یقیناً، کوئی اسے اس طرح صاف لفظوں میں نہیں کہتا تھا۔ وہ اسے مہربان، ہمدرد، محنتی اور ہمیشہ مدد کے لیے تیار کہتے تھے۔ لیکن سچائی اس سے بہت مختلف تھی۔ سب کو بس اس بات کی عادت ہو چکی تھی کہ اگر کوئی ایسا کام ہو جسے کوئی دوسرا نہ کرنا چاہے، تو وہ خاموشی سے اسے پورا کر دے گی۔اگر کوئی راستے کے بیچ میں کوئی بھاری بیج چھوڑ دیتا، تو وہ اسے اٹھا کر منزل تک پہنچاتی۔ اگر طوفان کے بعد کوئی سرنگ گر جاتی، تو جہاں باقی سب اپنی تھکن کا رونا رو رہے ہوتے، وہ گھٹنوں تک مٹی میں کھڑی اسے…
مکئی کے بیجوں کا راز
ایک بار ایک رپورٹر نے ایک کسان سے اس کی شاندار مکئی کا راز پوچھا۔سال بہ سال، کاؤنٹی کے میلے (نمائش) میں اس کی فصل ہمیشہ پہلا انعام (بلیو ربن) جیتی تھی۔ ہر کوئی یہ جاننا چاہتا تھا کہ وہ ایسا کیا الگ کر رہا ہے۔کسان مسکرایا اور بولا:“میرا راز بہت سادہ ہے۔ میں اپنی مکئی کے سب سے بہترین بیج اپنے پڑوسیوں کو دے دیتا ہوں۔”رپورٹر یہ سن کر حیران رہ گیا۔“آپ اپنے بہترین بیج ان لوگوں کو کیوں دیں گے جو (میلے میں) آپ کے مدمقابل ہیں؟”کسان نے اپنے کھیتوں کی طرف دیکھا اور جواب دیا:“کیونکہ ہوا میرے کھیتوں سے پولن (زرِ گل) اڑا کر ان کے کھیتوں میں لے جاتی ہے، اور ان کے کھیتوں سے میرے کھیتوں میں لاتی ہے۔ اگر میرے پڑوسی خراب معیار کی مکئی اگائیں گے، تو دیر یا سویر اس کا اثر میری فصل پر بھی پڑے گا۔ یہ الگ بات ہے…
ویران حویلی کا آخری مہمان
بارش کی بوندیں ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں سے اندر گر رہی تھیں۔ گاؤں کے کنارے ایک ایسی حویلی تھی جس کا دروازہ برسوں سے بند تھا۔ لوگ کہتے تھے، “جو رات کے بعد اس حویلی میں داخل ہوا، وہ کبھی پہلے جیسا واپس نہیں آیا۔” لیکن صحافی فراز ایسی کہانیوں پر یقین نہیں رکھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ہر خوف کے پیچھے کوئی نہ کوئی حقیقت ضرور ہوتی ہے۔ ایک طوفانی رات وہ کیمرہ اور ٹارچ لے کر حویلی کے اندر داخل ہوا۔ اندر ہر طرف گرد، مکڑی کے جالے اور عجیب سی خاموشی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے دیواریں بھی سانس لے رہی ہوں۔ اچانک اوپر والی منزل سے کسی کے آہستہ آہستہ چلنے کی آواز آئی… ٹھک… ٹھک… ٹھک… فراز نے ٹارچ اوپر ڈالی، مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ پھر اسے ایک پرانا کمرہ ملا جس کے دروازے پر صرف ایک جملہ لکھا تھا: “دروازہ کھولنے والا،…
بوجھ
ایک سرسبز گاؤں میں ایک محنتی کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک مضبوط مگر نہایت ضدی گدھا تھا۔جب بھی کسان اس کی پیٹھ پر زیادہ بوجھ لادتا، گدھا وہیں کھڑا ہو جاتا۔ نہ ایک قدم آگے بڑھتا، نہ کسی کی آواز سنتا۔کسان کبھی سمجھاتا، کبھی ڈانٹتا، مگر گدھا اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتا۔ایک دن کسان تھک ہار کر اس کے سامنے بیٹھ گیا اور نرمی سے بولا:“گدھے بھائی! آخر تم میری بات کیوں نہیں مانتے؟”گدھے نے گہری سانس لی اور بولا:“اس لیے کہ تم میری طاقت سے زیادہ بوجھ میری پیٹھ پر رکھ دیتے ہو۔ میں کام سے نہیں گھبراتا، مگر حد سے زیادہ بوجھ اٹھانا میرے بس کی بات نہیں۔”کسان نے حیرت سے پوچھا:“لیکن تم تو بوجھ اٹھانے کے لیے ہی پالے جاتے ہو۔”گدھا مسکرایا اور بولا:“اور تم انسان اس لیے پیدا ہوئے ہو کہ عقل سے کام لو۔ اگر تم میری طاقت، میری تھکن…
بلاعنوان
کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کی تین بار شادی کی، اور ہر بار بیٹا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا، بغیر کسی وجہ کے جو اس کے والد کو معلوم ہوا۔ آخر کار، والد نے بیٹے کو بیویوں کو طلاق دینے کی وجہ سے محل سے نکال دیا۔بیٹا شہر سے باہر کام کی تلاش میں نکل گیا اور ایک مالدار شخص کے ہاں بکریاں چرانے کا کام ملا۔ وہ شخص نوجوان سے بہت متاثر ہوا۔ اس مالدار شخص کی ایک ہی بیٹی تھی اور اس نے سوچا کہ اسے نوجوان سے شادی کروا دے تاکہ وہ ان کے ساتھ رہے۔اس نے اپنی بیٹی کو یہ بات بتائی، تو بیٹی نے کہا کہ وہ اس نوجوان سے شادی نہیں کرے گی جب تک کہ وہ اس کے ساتھ سفر نہ کرے اور اس کی حقیقت کو جان نہ لے۔مالک نے نوجوان سے کہا کہ کل تم…
کفل کی توبہ
صحیح حدیث میں کفل نامی ایک بنی اسرائیلی آدمی کا قصہ آیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی کفل نام کا تھا، جو ہر قسم کی برائی میں طاق تھا، ایک دن اس کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے اس سے کہا کہ اگر تم مجھے اتنے روپے دے دو، تو میں اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دوں گی اور تم کو مجھ سے اپنی خواہش پوری کرنے کا حق ہوگا۔ وہ شخص پہلے ہی سے برائی کا عادی تھا، اسے یہ موقعہ غنیمت نظر آیا اور اس نے اس عورت کو رقم دینے کا وعدہ کر لیا، اور اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے کسی کمرے میں لے گیا، جب برائی کا وقت آیا تو وہ عورت کانپنے لگی اور اس پر خوف و دہشت طاری ہو گئی۔اس نے اس عورت سے…
نہلے پر دہلا
شام کے مشہور تابعی مکحول کا بیان ہے کہ حکیم لقمان کالے رنگ کے نوبی غلام تھے۔ (نوبہ: مصر کے جنوبی حصے میں ایک وسیع و عریض خطہ ہے۔ حکیم لقمان وہیں کے رہنے والے تھے اسی لیے انہیں “نوبی” کہا گیا۔) (معجم البلدان: ۵/۳۵۷) اللہ تعالیٰ نے انہیں حکمت و دانائی کا وافر حصہ عنایت فرمایا تھا۔ یہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے انہیں کچھ مال کے عوض خریدا تھا۔ حکیم لقمان اس کے گھر کام کرتے تھے۔حکیم لقمان کا آقا شطرنج کھیلنے کا بڑا شوقین تھا، وہ شطرنج کے ذریعے جوا کھیلا کرتا تھا۔ اس کے دروازے پر ایک نہر بہہ رہی تھی۔ ایک دن وہ اس شرط پر شطرنج کھیل رہا تھا کہ فریقین میں سے جو ہار جائے وہ اس نہر کا پورا پانی پئے گا، بصورتِ دیگر ہارے ہوئے ساتھی کو جرمانے کے طور پر فدیہ دینا…