Tag Archives: ،urdublogs

شرفو بہت شریف،سیدھا سادہ،لیکن بے وقوف نوکر تھا۔ایک دن بیگم صاحبہ نے اس سے کہا:”شرفو!میں ذرا باہر جا رہی ہوں۔میری ایک سہیلی آنے والی ہے،تم اسے ڈرائنگ روم میں یا میرے کمرے میں بیٹھانا اور دیکھو وہ سیدھی سادھی سی خاتون ہیں تم انھیں پریشان مت کرنا۔کوئی گڑبڑ نہیں ہونی چاہیے۔“”ٹھیک ہے بی بی جی!آپ فکر نہ کریں۔“بیگم صاحبہ کے جانے کے تھوڑی دیر بعد کال بیل بجی۔شرفو نے دروازہ کھولا تو سامنے اسے ایک سیدھی سادھی سی عورت دکھائی دی۔شرفو نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا۔”السلام علیکم!میں بیگم صاحبہ سے ملنے آئی ہوں۔دراصل وہ․․․․“عورت نے جیسی ہی کہنا شروع کیا،شرفو ایک دم سے بولا:”ارے رے رے،آپ کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بیگم صاحبہ نے آپ کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔ آپ اندر آئیے،تشریف لائیے،آرام سے بیٹھ جائیں۔شرفو خاتون کو اصرار کرکے اندر لے گیا۔دراصل میں ان سے یہ کہنے آئی تھی کہ․․․․“خاتون مزید…

Read more

جنگل میں شیروں نے گدھے کا بچہ شکار کر لیا۔گدھے کا بچہ کافی حد تک زخمی تھا تو ایک بزرگ شیر نے کہا: اسے مزید مارنے یا کھانے کے بجائے اسے اپنے پاس رکھ کر پال پوس کر بڑا کرنا زیادہ فائدہ مند ہے…بوڑھے شیر کی بات مان کر شیروں نے اس گدھے کو گود لے لیا اور اس کا اچھے سے خیال رکھا حتیٰ کہ وہ شیروں کا وفادار گدھا بن گیا…ایک دن اسی بزرگ شیر نے کہا، اب وقت آگیا ہے کہ اس گدھے کو واپس اس کی برادری میں چھوڑ دیا جائے…شیروں نے ایسا ہی کیا اور اس گدھے کو اپنی ہمراہی میں لے جا کر گدھا برادری کے سپرد کردیا اور کہا یہ گدھا تم میں سے باقی گدھوں سے ممتاز ہے کیونکہ یہ ہمارا حمایت یافتہ گدھا ہے…گدھوں نے فورا اس گدھے کو اپنا سردار مان لیا اورشیروں کی حمایت حاصل ہونے وجہ سے اس…

Read more

ایک زمانہ تھا جب ایک وسیع و عریض سلطنت پر ایک نہایت انصاف پسند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اس سے محبت کرتی تھی، مگر اس سال بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے فصلیں تباہ ہو گئی تھیں۔ کئی گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑ چکے تھے، بچوں کی آنکھوں سے بھوک جھانکتی تھی اور بوڑھوں کے چہروں پر بے بسی لکھی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے خزانہ کھلوایا تو معلوم ہوا کہ مسلسل قحط اور سابقہ امداد کی وجہ سے خزانے میں اتنی دولت باقی نہیں کہ ہر آنے والے کو دل کھول کر دیا جا سکے۔یہی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر امداد کا اعلان کر دیا تو واقعی ضرورت مندوں کے ساتھ وہ لوگ بھی آ جائیں گے جنہیں صرف مفت کا مال سمیٹنے کی عادت تھی، اور اگر اعلان نہ کیا تو اصل مستحق بھوک سے مر جائیں…

Read more

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے شادی کی۔ 🥳🤗 شادی کے بعد حلوائی حساب لینے آیا تو پیر صاحب نے پوچھا: “پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی بولا:“حضور! آپ ھمارے خاندانی پیر ھیں، دعا ھی دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دی اور حلوائی خوشی خوشی چلا گیا۔ 😇😳 کچھ دیر بعد ایک میراثی آیا۔ 🤡 پیر صاحب نے اس سے بھی پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” 😊 میراثی بولا:“حضور! پچاس روپے بھی دے دیں اور پچاس کی دعا بھی کر دیں۔” پیر صاحب مُسکرائے اور دعا شروع کر دی 🤲 دُعا کرتے گئے…کرتے گئے…کرتے گئے… پورا ایک گھنٹہ گزر گیا! 😳 آخر دُعا ختم ھوئی تو پیر صاحب بولے: “بھائی! پتا ھی نہیں چلا دُعا اتنی لمبی ھو گئی کہ پانچ سو کی بن گئی۔ چلو اب 50 روپے تُم رکھو اور 450 مُجھے واپس کرو” 😁🤣🤣

ایک عورت کا چھوٹا بچہ گم ھو گیا۔ 😥🥀 پورا دن ڈھونڈتی رھی مگر کوئی پتہ نہ چلا۔ رات کے تقریباً ایک بجے اسے یاد آیا کہ محلے میں ایک بڑے عامل صاحب بھی رہتے ھیں۔ 😌 بس پھر کیا تھا… وہ سیدھی عامل صاحب کے گھر پہنچ گئی اور دروازہ دھڑا دھڑ بجانا شروع کر دیا۔ 🚪😳 عامل صاحب ابھی ابھی تھکے ہارے گھر لوٹے تھے۔ دروازہ کھولا تو سامنے پریشان حال عورت کھڑی تھی۔ عورت روتے ھوئے بولی: “عامل صاحب! میرا بچہ صبح سے گم ھے، کوئی وظیفہ یا تعویذ دے دیں!” 😭😢 عامل صاحب نے جمائی لیتے ھوئے کہا: “بہن! رات کا ایک بج رہا ہے، صبح آ جانا…” 😴 عورت فوراً بولی: “میرا بچہ گم ھے اور آپ کو نیند کی پڑی ھے؟!” 😡 عامل صاحب نے دل میں کہا: “آج تو سونے نہیں دے گی!” 🤕 انہوں نے جلدی سے اخبار اٹھایا، ایک کونا پھاڑا،…

Read more

روسی سلطنت اور قفقاز کے پہاڑی قبائل کے درمیان جاری خونریز جھڑپوں کے زمانے میں، ایک بہادر مگر نہایت سادہ مزاج روسی فوجی افسر ژلن اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ فوجی مہم سے واپس لوٹ رہا تھا۔ دونوں کو یقین تھا کہ وہ جلد ہی اپنے محفوظ کیمپ تک پہنچ جائیں گے، مگر قسمت نے ان کے لیے ایک اور ہی امتحان لکھ رکھا تھا۔ راستے میں اچانک پہاڑوں کی اوٹ سے مسلح قبائلی جنگجو نمودار ہوئے۔ شدید مزاحمت کے باوجود دونوں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں دور دراز پہاڑی گاؤں میں قید کر دیا گیا۔ قبائلی سردار نے اعلان کیا کہ دونوں کی رہائی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب ان کے اہلِ خانہ بھاری تاوان ادا کریں گے۔ ژلن جانتا تھا کہ اس کی بوڑھی ماں اتنی بڑی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی، اس لیے اس نے جان بوجھ کر ایک غلط پتہ لکھوا…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب انسان بستیاں نہیں بسایا کرتے تھے۔ وہ قبیلوں کی صورت میں جنگلوں کے کناروں پر رہتے، اکٹھے شکار پر نکلتے اور ایک دوسرے کے لیے جان تک قربان کر دیتے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے، کندھوں پر تیر و کمان، اور دلوں میں ایسا اتحاد کہ بڑے سے بڑا درندہ بھی ان کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر پاتا۔ادھر جنگل میں ہر روز کوئی نہ کوئی جانور شکار ہو جاتا۔ کبھی ہرن، کبھی نیل گائے، کبھی جنگلی بیل، کبھی خرگوش۔ وقت گزرتا گیا، اور ایک دن ایسا آیا کہ جنگل کی خاموشی خود چیخنے لگی۔ جانوروں کی تعداد کم ہونے لگی تھی۔ بادشاہ شیر نے فوراً ہنگامی اجلاس بلایا۔تمام جانور جمع ہو گئے۔ہاتھی نے کہا، “ہمیں بھی انسانوں پر حملہ کر دینا چاہیے”ریچھ بولا، “نہیں، بہتر ہے جنگل چھوڑ دیں۔”بھیڑیا غصے سے بولا، “رات کے اندھیرے میں ان پر ٹوٹ پڑتے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ھے کہ ایک گاؤں میں بشیر نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ بُہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔ 😕😴 اس کے اسکول میں استاد اور استانی سب اس سے نالاں رہتے تھے اور ساتھی بھی اس کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک دن بشیر کی ماں اسکول آئیں اور استانی جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی کے بارے میں بات کرنا چاہیں۔ 😶🫣 استانی جی تو پہلے سے ھی بھری بیٹھی تھیں۔ بشیر کی بے وقوفی اور نا لائقی کی داستانیں بغیر کسی لگی لپٹی کے ماں کو سنا دیں اور کہا کہ یہ لڑکا اتنا نالائق ھے کہ اگر اس کا باپ زندہ ھوتا اور بینک کا مالک بھی ھوتا، تب بھی اسے نوکری پر نہیں رکھوا پاتا۔ 😡🙍 بیوہ ماں پر سکتہ طاری ھو گیا۔ وہ بغیر کچھ کہے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر اسکول سے چلی گئیں۔ نہ صرف اسکول بلکہ پورا…

Read more

انسانی نفسیات کا ایک دلچسپ مگر حساس پہلو یہ ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی کمزوریوں، عدمِ اعتماد یا اندرونی خوف پر قابو پانے کی بجائے کسی طاقتور، کامیاب یا بااثر شخصیت کے ساتھ وابستگی کو اپنی طاقت سمجھنے لگتا ہے. علمِ نفسیات میں اس رجحان کو Parasocial Attachment اور Basking in Reflected Glory (BIRG) کہا جاتا ہے، جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ دوسروں کی کامیابی اور شہرت سے جڑ کر اس کی اپنی اہمیت بھی بڑھ جائے گی. یہ احساس وقتی طور پر اطمینان تو دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ خود اعتمادی اور ذاتی صلاحیتوں کی نشوونما میں رکاوٹ بن جاتا ہے. اسی حقیقت کو ایک تمثیلی کہانی کے ذریعے بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے. ایک لومڑی کو ایک لمبی رسی ملی. اس نے رسی کا ایک سرا اپنی کمر سے باندھا اور دوسرا سرا خاموشی سے ایک سوئے ہوئے چیتے کی…

Read more

جنگل کی تاریخ میں اگر کسی ایک جانور کا نام سنہری حروف سے لکھا گیا تھا تو وہ لومڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس نے اپنی پوری سرکاری زندگی میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں کی۔ نہ عید آئی تو رخصت لی، نہ آندھی نے اسے روکا، نہ موسلا دھار بارش، نہ بیماری، نہ میلے، نہ تہوار، نہ کسی عزیز کی خوشی، نہ کسی اپنے کا غم۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ دربار میں موجود ہوتی اور رات گئے تک ریاست کے معاملات نمٹاتی رہتی۔ اس کی خدمت صرف ایک بادشاہ تک محدود نہ رہی۔ پہلے دادا شیر کے دور میں وہ وزیر رہی، پھر اس کے بیٹے کے ساتھ، اور اب پوتا بھی تخت پر بیٹھا تھا، مگر وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر آج بھی وہی لومڑی بیٹھی تھی۔ جنگل کے کئی نوجوان پیدا ہوئے، جوان ہوئے، بوڑھے ہوئے، مگر دربار میں ایک چیز کبھی نہ بدلی…

Read more

ایک لڑکا ایک لڑکی سے بے حد مُحبت کرتا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ مُحبت کا اظہار کیسے کیا جائے تو اُس نے یہ طریقہ اپنایا 😄👇 لڑکا:لبنہ! میں چاہتا ھوں ہمارا بجلی کا بل ایک ھی ایڈریس پر آئے 😍🥀 لڑکی:اوہووو… تم میرا میٹر اپنے گھر لگانا چاہتے ھو؟ 🤔🙄 لڑکا:ارے نہیں یار! 😩 میں چاہتا ھوں میں تمہارے اردگرد بنیان پہن کر گھوما کروں 🤭😄 لڑکی:ہائے اللہ! بے حیائی پھیلاؤ گے؟ گندے 🤕🙅‍♀️ لڑکا:اووو ہوووو! 😑 میں چاہتا ھوں ھماری ہر چیز ایک ھو جائے 😌❤️ لڑکی:نہیں! تم زنانہ کپڑوں پہن کر بُہت پیرے لگو گو 🤧 لڑکا:یار! 😭میں کہنا چاہتا ھوں کہ میں تمہیں اپنا نام دوں 💍 لڑکی:اچھااا؟ پھر لوگ مجھے “مختار” کہیں گے؟ 😕 لڑکا:یا اللہ صبر 😵اچھا سنو… میں چاہتا ھوں میرا موبائل تمہارے فنگر پرنٹ سے کھلا کرے… 🥰📱 لڑکی چند سیکنڈ سوچنے کے بعد بولی: 👇 👇 👇 “کیوں… تو ٹونڈا…

Read more

ایک فقیر بادشاہ 👑 کے دربار میں حاضر ھوا اور بولا: “حضور! آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ھیں۔” 😊👏 بادشاہ مُسکرایا: “بالکل درست سنا ھے، مانگو، کیا مانگتے ھو؟” فقیر نے اپنا کاسہ آگے بڑھایا اور کہا: “بس حضور! یہ کاسہ بھر دیجیے۔” بادشاہ نے گلے سے قیمتی ہار اتار کر کاسے میں ڈال دیا، مگر کاسہ خالی کا خالی! 😳 اس نے اشرفیوں کی بوریاں منگوا کر انڈیل دیں… مگر کاسہ پھر بھی نہ بھرا! 😲 بادشاہ نے پورا خزانہ کھول دیا… سونا، چاندی، ہیرے، جواہرات… سب کچھ کاسے میں ڈال دیا… لیکن کاسہ پھر بھی خالی ہی نظر آیا! 😱 فقیر مُسکرا رہا تھا اور بادشاہ کا پسینہ نکل رہا تھا۔ 😅 آخرکار بادشاہ نے تاج اتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور بے بسی سے بولا: “اے درویش! خدا کے لیے بتاؤ یہ کیسا کاسہ ھے؟” فقیر زور سے ہنسا اور…

Read more

ایک جہاز بغیر اجازت اچانک ایئرپورٹ پر لینڈ کر گیا۔ 😲💁‍♂️سکیورٹی والے 🧑‍✈️ دوڑتے ھوئے آئے 🏃 اور بولے: “او بھائی! آپ کون ھیں اور کہاں سے ٹپک پڑے؟” 🧐🤔 پائلٹ معصوم سا منہ بنا کر بولا: “حضور! میں پڑوسی ملک سے آیا ھوں، فیول ختم ھو گیا تھا، مجبوری میں ایمرجنسی لینڈنگ کی ھے۔” ✈️😅 حکام نے رات بھر پوچھ گچھ کی، چائے پلائی، سخت وارننگ دی کہ دوبارہ آئے تو سیدھا اندر کر دیں گے، پھر فیول بھروا کر رخصت کر دیا۔ سب نے سُکھ کا سانس لیا چلو قصہ ختم ھوا۔ 😌 لیکن اگلے دن ٹھیک اسی وقت وھی جہاز پھر آ دھمکا! 😕 اس بار جہاز خالی تھا، صرف ایک خاتون بیٹھی تھیں۔ افسر دھاڑ کر بولا: “کل منع کیا تھا نا! پھر کیوں آئے ھو؟” 😡 پائلٹ ہاتھ جوڑ کر بولا: “سر جی، جو کرنا ھے بعد میں کر لیجئے گا پہلے اس خاتون کو…

Read more

شیر جنگل میں آرام کر رہا تھا کہ اس نے بلی کو دیکھا تو اسے آواز دے کر بلایا۔شیر نے بلی سے پوچھا ”تم دیکھنے میں تو مجھ جیسی ہو لیکن تمہارا قد اتنا چھوٹا کیوں ہے؟“بلی نے اداسی سے کہا، ”ظالم انسان نے میرا قد چھوٹا کر دیا ہے، ویسے میں رشتے میں تمہاری خالہ ہوں“۔ شیر نے یہ سنا تو غصے سے کہا، ”کس کی مجال کہ میری خالہ پر ظلم کرے میں اسے سخت سزا دوں گا“۔بلی نے کہا، ”بھانجے ایسی غلطی مت کرنا تم انسان کا مقابلہ نہیں کر سکتے وہ بہت چالاک ہے“۔شیر نے گرج کر کہا، ”میں جنگل کا بادشاہ ہوں، میرا سامنا کون کر سکتا ہے؟ تم مجھے انسان کے پاس لے چلو پھر دیکھنا میں کیا کرتا ہوں“۔”ٹھیک ہے میں تمہیں لے جاتی ہوں لیکن اس کے قریب نہیں جاؤں گی“۔ بلی نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔”تم دور رہ کر اس کی…

Read more

نظیر بھائی کا ریاضی یعنی میتھس کا ٹیسٹ تھا، جس کی اس نے ایک لفظ بھی تیاری نہیں کی تھی۔ 😬💁‍♂️ صبح اٹھتے ھی اسے بخار کا بہانہ سوجھا، پھر پیٹ درد کا، لیکن جب امی نے عرقِ گلاب اور کڑوی دوا نکال لی تو نظیر بھائی نے پینترا بدلا۔ 🤮🙅‍♂️ اس نے سوچا کہ کوئی ایسا بڑا بہانہ ھونا چاہیے کہ ٹیچر اسے اگلے ایک ہفتے تک فون بھی نہ کریں۔ 🤓🤔 اس نے بڑی سنجیدگی سے ایک خط لکھا: محترمہ ٹیچر صاحبہ! بڑے افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ آپ کا پیارا اور ذہین طالب علم نظیر احمد آج صبح اس دنیا سے رخصت ھو گیا ھے، لہٰذا وہ آج ٹیسٹ دینے نہیں آ سکے گا۔ نیچے اس نے اپنے ابو کے جلی حروف میں دستخط بھی کر دیے۔ اس نے یہ خط اسکول کے چوکیدار کے ہاتھ پرنسپل کے آفس بھجوا دیا اور خود سکون…

Read more

فیس بک نے کچھ خواتین کو ایسا شاعر بنا دیا ھے کہ غالب اور میر بھی قبر میں کروٹیں بدلنے لگیں۔ 😅😆 ایک مُحترمہ نے شعر پوسٹ کیا: “کاش میں آسمان بن جاؤں…اور تم پرندے بن کر میری طرف اڑتے ھوئے فوراً چلے آؤ…” نیچے کمنٹس میں واہ واہ کا سیلاب آ گیا۔ 🌊 ایک عاشق مزاج فین نے لکھا: “بانو قدسیہ کے بعد اگر کسی نے دل کو چھوا ھے تو وہ آپ ھیں!” 😍🙅‍♀️ دوسرے نے حد ھی کر دی: “سویٹ آپی! آپ کے اشعار میں کہیں کہیں میر تقی میر کا رنگ جھلکتا ھے…” 🤭❤️ آپی جذباتی ھو گئیں اور اعلان کر دیا: “اب ہر ہفتے ایک نئی غزل پیش کیا کروں گی!” 🥰✍️ چند دن بعد آپی نے سوال کیا: “شاعری کی کتاب چھپوانے کے لیے کون سا پبلشر بہتر رھے گا؟” 🙂📚 ڈیڑھ سو لوگوں نے فوراً مشورے دینا شروع کر دیے۔ لیکن اصل دھماکا…

Read more

وہ ایک ایسا بادشاہ تھا، جس کے پاس نہ سلطنت، نہ وزیر، نہ وزیرِ اعظم۔صرف ایک پرانی سی جھونپڑی، ایک بوسیدہ بستر اور ایک پلیٹ میں کل کے چاول۔اس کا نام بادشاہ خان تھا۔اس کے برابر میں ایک فقیر رہتا تھا، اس کا نام فقیر محمد تھا، لیکن ایسا فقیر جس کا اپنا محل تھا! ہاں جی، چھت بھی پکی، دروازے بھی شیشے والے اور فریج میں ہمیشہ تازہ پھل موجود رہتے تھے۔فقیر کو بادشاہ کی جھونپڑی سے بڑی تکلیف تھی:”میرے محل کے ساتھ یہ جھونپڑی؟ یہ تو میری شخصیت خراب کر رہی ہے!“ وہ روز سوچتا۔فقیر نے کئی حربے آزمائے۔ایک دن جھونپڑی کے سامنے بدبو والا اسپرے مارا کہ شاید بادشاہ بھاگ جائے۔دوسرے دن اس کے دروازے پر ”برائے فروخت“ کا بورڈ لگا دیا، لیکن اس سے بھی کوئی کام نہ چلا۔ تیسرے دن نیٹ پر ”جھونپڑی کیسے ہٹائیں“ لکھا، لیکن سنگل ہی نہیں آیا۔ پھر ایک دن، فقیر…

Read more

بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرانا کوئی آسان کام نہ تھا،کیونکہ بھیڑیا بہت دبے پاؤں چلتا ہوا آتا اور چور کو پیچھے سے پکڑ لیتا تھا،لیکن خرگوش پھر بھی ہر روز بھیڑیے کے کھیت سے شکر قندی چرا لاتا ۔وہ پہلے ایک بڑی سی ہڈی کھیت میں دبا دیتا،پھر شکر قندیاں اکھاڑ کر اپنے تھیلے میں بھرتا اور ٹہلتا ہوا کھیت سے باہر چلا جاتا۔بھیڑیے کو بھی شکر قندیوں کی چوری کا پتہ چل گیا۔ایک دن وہ چور کو پکڑنے کے لئے بھوسے کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور انتظار کرنے لگا۔کچھ دیر میں خرگوش بھی آپہنچا۔اس نے زمین کھود کے ہڈی دفن کی اور شکر قندی اکھاڑ کر تھیلے میں بھری اور سیٹی بجاتا ہوا چل دیا۔جو نہی وہ بھوسے کے ڈھیر کے پاس پہنچا،بھیڑیا جھٹ سے باہر نکلا اور اس نے خرگوش کو پکڑلیا۔ ”تم میرے کھیت میں کیوں آئے؟“ بھیڑیے نے پوچھا۔ خرگوش…

Read more

گاؤں میں بشیر اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔اس کے ابو کا انتقال ہو چکا تھا۔بشیر کی ماں گھروں میں کام کرتی تھی۔بشیر بہت نالائق اور نکھٹو طبیعت کا تھا۔اس کے اسکول کے استاد اس سے نالاں رہتے تھے۔ایک دن بشیر کی والدہ اسکول آئیں اور استاد جی سے اپنے بیٹے کی پڑھائی پر بات کرنا چاہی۔استاد جی تو بھرے بیٹھے تھے۔بشیر کی ماں کو بشیر کی بے وقوفی اور پڑھائی سے غیر دلچسپی کی داستانیں سنانے لگے،کیونکہ وہ ہر کام ہی غلط کرتا ہے۔بیوہ ماں پر سکتہ طاری ہو گیا۔ماں گاؤں چھوڑ کر بیٹے کو لے کر شہر چلی گئی۔وقت گزرتا گیا گاؤں ترقی کر کے قصبہ بن گیا۔25 سال گزر گئے۔اسکول میں استاد جی ہیڈ ماسٹر ہو گئے۔ہیڈ ماسٹر صاحب کو اچانک ایک دن دل میں شدید درد محسوس ہوا۔اسپتال میں داخل کرایا،مگر درد بڑھتا گیا۔مقامی ڈاکٹر نے شہر کے بڑے اسپتال جانے کا مشورہ دیا۔انھوں نے ڈاکٹر…

Read more

120/573
NZ's Corner