غلط فہمی۔۔۔
جنگل کی سلطنت میں برسوں تک ایک شیر کی حکمرانی رہی۔ وہ انصاف پسند، باوقار اور رعایا پرور بادشاہ تھا۔ اس کی رفیقِ حیات، شیرنی، اپنی دانائی اور شفقت کے باعث پورے جنگل میں عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی۔ وقت اپنی رفتار سے گزرتا رہا، موسم بدلتے رہے، نسلیں جوان ہوتی رہیں، یہاں تک کہ وہ دن بھی آ پہنچا جب بڑھاپے نے دونوں کے شانے تھپتھپائے۔ شیر نے اپنی بادشاہت اپنے جوان بیٹے کے سپرد کر دی۔جنگل میں جشن منایا گیا، نئے بادشاہ کی تاج پوشی ہوئی، اور بوڑھا شیر اپنی شیرنی کا ہاتھ تھامے جنگل کے ایک پُرسکون کنارے پر جا بسا، جہاں بہتے چشمے کی آواز، درختوں کی سرگوشیاں اور شام کے پرندوں کی چہچہاہٹ ان کی نئی زندگی کا سرمایہ تھیں۔ زندگی اگرچہ پرسکون تھی، مگر ایک عادت ایسی تھی جو دونوں کی عمر بھر نہ بدلی۔دونوں ایک دوسرے سے بے حد محبت کرتے…
قاضی صاحب اور سب سے سچا گواہ
ایک قصبے میں ایک عجیب مقدمہ آیا۔ دو آدمی ایک ہی گدھے پر اپنا حق جتا رہے تھے۔ پہلا بولا:“حضور! گدھا میرا ہے، میں نے پالا ہے۔” دوسرا فوراً بولا:“نہیں جناب! یہ میرا ہے، میں نے خریدا ہے۔” قاضی صاحب نے دونوں کی لمبی بحث سنی، مگر فیصلہ نہ ہو سکا۔ آخر انہوں نے سپاہی سے کہا:“گدھے کو درمیان میں چھوڑ دو، اور دونوں آدمی دور جا کر کھڑے ہو جائیں۔” جیسے ہی گدھا آزاد ہوا، وہ آرام سے چلتا ہوا سیدھا ایک گھاس کے ڈھیر کے پاس جا کھڑا ہوا اور کھانے لگا۔ دونوں آدمی حیران! قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا:“اب ایک ایک کرکے اسے آواز دو۔” پہلے آدمی نے بڑے پیار سے پکارا:“آ جا میرے لال!” گدھے نے ایک بار بھی مڑ کر نہ دیکھا۔ دوسرے نے زور سے آواز لگائی:“او بدماش! آج پھر کھیت میں گھس گیا تھا نا؟ ادھر آ!” گدھا فوراً کان کھڑے کرکے…
دھوکا وقتی فائدہ ضرور دے سکتا ہے، مگر مستقل عزت کبھی نہیں۔
جنگل کے ایک کنارے پر لومڑی اور بھیڑیا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی ایسی مشہور تھی کہ جنگل کے جانور کہا کرتے تھے، “اگر ایک شرارت سوچتا ہے تو دوسرا اسے مکمل کرنے کا راستہ بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔” دونوں کی ایک عادت البتہ نہایت بری تھی۔ محنت سے انہیں ایسی چِڑ تھی جیسے بلی کو پانی سے۔ مگر کھانے کے شوقین اس قدر تھے کہ جنگل میں جہاں بھی کسی نئے ہوٹل یا سرائے کی خبر ملتی، سب سے پہلے وہی پہنچتے۔ ایک دن دونوں ایک مشہور ہوٹل میں جا بیٹھے۔ میز پر طرح طرح کے کھانے سج گئے۔ دونوں نے اس بے فکری سے کھایا جیسے کئی دنوں کے بھوکے ہوں۔ ابھی بل آنے ہی والا تھا کہ ساتھ والی میز پر بیٹھے ایک جنگلی سور سے ان کی معمولی سی تلخ کلامی ہوگئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے شور برپا ہوگیا۔ ہوٹل کا مالک جھگڑا بڑھتا دیکھ سب کو…
آزمائش –
کسی گاوٴں میں رحیم نامی کسان رہتا تھا۔ وہ بہت نیک دل اور ایماندار تھا۔ اپنی ہی خوبیوں کی وجہ سے گاوٴں بھر میں مشہور تھا۔ لوگ اپنی چیزیں امانت کے طور پر اس کے پاس رکھواتے تھے۔ ایک دن معمول کے مطابق صبح سویرے کھیتوں میں ہل چلانے کے لیے جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک تھیلی نظر آئی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھ کر تھیلی اٹھالی۔ اس نے تھیلی کھول کر دیکھی تو وہ اشرفیوں سے بھری ہوئی تھی۔کسان تھیلی لے کر کھیتوں میں جانے کے بجائے گھر واپس آگیا اور اپنی بیوی کو بتادیا ۔ جب اس کی بیوی کو یہ معلوم ہوا کہ اس میں اشرفیاں ہیں تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ اس نے اپنے شوہر سے کہا۔” ہم یہ تھیلی رکھ لیتے ہیں اور فوراً یہاں سے چلے جاتے ہیں ، شہر جاکر ہم بڑا سا گھر بنائیں گے اور اس…
چڑیا کی کہانی –
وہ کافی دیر سے پرواز کر رہی تھی اور کسی تلاش میں تھی۔مسلسل پرواز کرنے سے اس کے پَر بُری طرح تھک چکے تھے،بھوک بھی ستانے لگی تھی۔اب وہ کوئی محفوظ ٹھکانہ تلاش کر رہی تھی۔کافی دیر کے بعد اسے ایک گھر نظر آیا،جہاں صحن میں ایک چھوٹی بچی ادھر ادھر پھدکتے چھوٹے چھوٹے چوزوں کو دانہ ڈالنے میں مصروف تھی،یہ دیکھ کر ننھی چڑیا فوراً صحن میں اتر گئی اور زمین پر بکھرے دانے چگنے لگی۔ مرغی نے جب اپنے بچوں کے درمیان کوئی نئی مخلوق دیکھی تو وہ ننھی چڑیا کے قریب آگئی،چڑیا اس کی آنکھوں میں چھپے غصے کو بھانپ گئی۔اسی لمحے وہاں ایک بلی نمودار ہوئی،مرغی اور بلی دونوں چڑیا کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے کوئی فتح حاصل کر لی ہو،ننھی چڑیا دونوں کے ارادوں کو بھانپ چکی تھی۔ چڑیا ابھی ان دونوں کے جارحانہ ارادوں کے خوف میں مبتلا تھی کہ اچانک وہاں ایک اور…
گلہری کی چھلا نگ
وہ سخت گرمیوں کی ایک شام تھی بی گلہری کا گھر بوڑھے برگد میں تھا اور اس کے تمام ننھے منے بچے اپنے سونے والے کمرے میں موجود تھے، اگرچہ اُن کے سونے کا وقت کب کا ہوچکا تھا لیکن وہ ابھی تک جاگ رہے تھے۔ نمو بی گلہری کا سب سے چھوٹا بچہ تھا وہ اپنے بستر پر اچھل کود رہا تھا۔ وہ کہنے لگا” مجھے نیند بالکل نہیںآ رہی ہے۔ابھی باہر تھوڑی روشنی دکھائی دے رہی ہے۔ میں تو ابھی کھیلنا چاہتا ہوں“ دوسروں نے منہ پر انگلی رکھ کر اُسے چپ رہنے کو کہا اور سرگوشی سے اُسے کہنے لگے”اتنا اونچا نہ بولو ورنہ اماں سن لیں گی تو ہم سب مشکل میں پڑجائیں گے“ لیکن نمونے اُن کی نصیحت پر کان دھرنے کی بجائے ہنسنا شروع کردیا اور زور سے بستر پر اُچھلنا کودنا شروع کردیا ۔ جب گلہری کے دوسرے بچوں نے دیکھا کہ نمو…
ایک دن کا راجا –
اکبر اپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا۔والد موچی تھے۔اکبر سرکاری سکول میں پڑھتا تھا۔اسے کہانیاں پڑھنے کا شوق تھا۔وہ ہر وقت سوچتا تھا کہ کاش!میں کسی ملک کا راجا ہوتا۔میں بہت امیر ہوتا،جو چاہتا وہ کرتا۔وہ اکثر خواب دیکھتا کہ وہ راجا بن گیا ہے۔سب اس کے احترام میں کھڑے ہیں۔عالیشان محل ہے،جہاں وہ ہیرے جواہرات کے تخت پر بیٹھا ہے،مگر جب وہ اُٹھتا ہے تو خود کو اس چارپائی پر پاتا۔ ایک دن اکبر اپنے گھر کے قریب جنگل میں گیا۔اچانک اس نے ایک بلی دیکھی۔اس نے دیکھا کہ بلی کے پیر میں کوئی نوکیلی چیز چبھی ہوئی ہے۔وہ بلی کے پیر سے نوک دار چیز نکالتا ہے تو وہ بلی ایک خوبصورت پری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔وہ پری کہتی ہے:”تم نے جادوئی تیر نکال کر مجھے آزاد کرایا۔ میں تمہاری احسان مند ہوں۔اس لئے تمہاری کوئی دو خواہش پوری کروں گی۔ “اکبر جلدی سے کہتا ہے کہ…
عقل کا آلہ –
سر پر تاج رکھنے والا پرندہ ہدہد آنکھوں پر عینک لگائے ایک شاخ پر چپ چاپ بیٹھا رہتا تھا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔دن کے وقت اس کے پاس کئی جانور اور پرندے آتے اور جنگل کا سب سے عقل مند پرندہ سمجھ کر اس سے صلاح مشورہ کرتے۔ننھا ہدہد اپنے دادا کے پاس بڑی حیرت سے یہ دیکھتا رہتا۔اس کا جی چاہتا کہ پرندے اور جانور اس کے پاس بھی آئیں اور اسے بھی اپنے اپنے مسائل بتائیں۔مثلاً ننھے میاں بتاؤ بارش کب ہوگی․․․․؟لیکن کوئی بھی اس کے پاس ایسی باتیں پوچھنے نہ آتا۔دوسری طرف بوڑھے ہدہد کے پاس ہر وقت جانوروں کا تانتا بندھا رہتا۔ایک روز دو گلہریاں اپنا جھگڑا لے کر آگئیں۔ایک کہنے لگی:جناب مجھے درخت کے نیچے ایک بل سے اخروٹوں کا ڈھیر ملا ہے۔دوسری نے کہا:سرکار،یہ جھوٹ بولتی ہے۔ وہ اخروٹ مجھے ملے تھے،قبضہ اس نے جما لیا۔ بوڑھے ہدہد نے اپنی عینک کے شیشوں سے…
اجنبی سردار –
کسی گاؤں کے سردار کا انتقال ہو گیا۔گاؤں والوں کے درمیان بحث شروع ہو گئی کہ نیا سردار کس کو بنایا جائے۔گاؤں والے کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکے۔آخر یہ طے پایا کہ جو شخص سب سے پہلے گاؤں میں داخل ہو گا،اس کو سردار بنا لیا جائے گا۔یہ سن کر ایک تجربے کار دانا بزرگ نے کہا:”یہ مناسب نہیں ہے۔ہونا یہ چاہیے کہ پہلے اپنے قریبی لوگوں میں،پھر علاقے میں اور پھر شہر سے باصلاحیت اور مخلص انسان کو منتخب کرو۔لیکن گاؤں والوں نے اس دانا شخص کی بات نہ مانی اور گاؤں میں سب سے پہلے داخل ہونے والے شخص کے استقبال کی تیاری شروع کرنے لگے۔گاؤں والوں نے اپنی روایت کے مطابق کھجور کی شاخیں اُٹھا کر اور راہوں میں دریاں بچھا کر آنے والے کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد گدھے پر سوار نیلی چادر اوڑھے ایک شخص گاؤں میں داخل ہوا۔جس کو دیکھ کر…
چور کی سزا –
اسلم ایک سپر اسٹور میں داخل ہوا پھر اس نے ایک مہنگی پرفیوم اُٹھائی اور اسے اپنی جیب میں رکھ لیا۔پھر اس نے ایک بہت ہی عمدہ گھڑی اُٹھائی۔اسی طرح کئی مہنگی مہنگی چیزیں اپنی جیب میں رکھیں اور سپر اسٹور سے باہر آ گیا۔اس نے بہانہ بناتے ہوئے قریب ہی ایک دکان پر وہ چیزیں سستے داموں بیچ دیں۔اس کی موٹر سائیکل بھی چوری کی تھی،جسے وہ بے دردی سے چلا رہا تھا۔راستے میں ایک برقعہ پوش خاتون اپنا پرس کندھے پر لٹکائے جا رہی تھیں۔وہ تیزی سے موٹر سائیکل چلاتا ہوا قریب سے گزرا اور خاتون کا پرس چھین کر تیزی سے ایک بغلی سڑک پر مڑ گیا۔”آلو لے لو،پیاز لے لو،کھیرا،ککڑی،بیگن،ٹماٹر۔کریلے بھی ہیں اور ٹنڈے بھی۔لے لو لے لو تازہ سبزی لے لو۔ “کرمو روزانہ کی طرح آج بھی آوازیں لگاتا ہوا اس گلی سے گزر رہا تھا کہ اچانک ہیلمٹ پہنا ہوا ایک آدمی تیزی سے…
مکار گیدڑ –
ایک مور تھا اور ایک تھا گیدڑ،دونوں میں بہت محبت تھی۔ایک روز دونوں نے طے کیا کہ چل کر بیر کھائے جائیں۔وہ دونوں کے دونوں مل کر چلے کسی باغ میں،وہاں ایک بیری کا درخت تھا۔جب اس درخت کے قریب پہنچے۔تو مور اُڑ کر درخت پر جا بیٹھا۔درخت پر بیٹھ کے پکے پکے بیر تو خود کھانے لگا اور کچے کچے بیر نیچے پھینکنے لگا۔گیدڑ نے کہا،”دوست یا تو مجھے بھی پکے بیر دے،نہیں تو جب تو نیچے اُترے گا،میں تجھے کھا جاؤں گا۔مور نے اس کی ایک نہ سنی اور بیر کھاتا رہا۔جب مور کا پیٹ بھر گیا،تو وہ نیچے اُترا،گیدڑ نے اسے دبوچ کر چیر پھاڑ کر کھا لیا۔گیدڑ جب مور کو کھا کے آگے چلا تو اس نے دیکھا کہ ایک بڑھیا بیٹھی اُپلے چن رہی تھی۔وہ اس کے پاس گیا اور اس سے کہا،”پکے پکے بیر کھائے،اپنا دوست مور کھایا، تجھے کھاؤں تو پیٹ بھرے“۔ بڑھیا…
ننھی چیونٹی –
کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزیدار دانے لاتی،جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہوئی تو دانہ لانے کی ذمہ داری ننھی چیونٹی پر آن پڑی۔اس کی ماں نے اسے سمجھایا تھا کہ برسات سے پہلے پہلے بہت سا دانہ جمع کرنا ضروری ہے تاکہ سردیوں میں آرام رہے اور خوراک آسانی سے ملتی رہے۔ ننھی نے پہلے دن محنت کی اور بہت دور سے چند دانے گھر تک لے جا سکی۔پھر مزید دانے لانے سے انکار کر دیا۔اس کی ماں نے فکر مند لہجے میں کہا ”ننھی!صرف ان چند دانوں سے تو کچھ نہ ہو گا۔آخر ہم سردیوں میں اپنا پیٹ کیسے بھریں گے۔اس وقت خوراک بالکل غائب ہو گی۔“ننھی چیونٹی نے کہا”یہ بہت مشکل کام ہے۔ میں تو صرف چند دانے لا سکتی ہوں۔ اس سے…
نصیحت فراموش –
ایک دانا شخص نے ایک قافلے کو جنگل کی طرف جاتے دیکھا۔جنگل میں ہاتھی کے سوا اور کوئی جانور نہیں تھا۔اس دانا شخص نے قافلے کے لوگوں کو یہ نصیحت کی کہ اس جنگل میں بھوک کی وجہ سے تم پر چاہے جیسی مشکلات اور مصیبتیں آئیں،لیکن تم ہاتھی کے بچے کو شکار کرکے نہ کھانا۔اگر تم ہاتھی کے بچوں کا شکار کرو گے تو ان کی ماں ہتھنی اس کا ضرور بدلہ لے گی۔لہٰذا ہاتھی کے بچوں کو ہر گز نہ چھیڑنا اور نہ کھانا۔یہ نصیحت اس لئے بھی کر رہا ہوں کہ تم اپنی جان کو خطرے کے سپرد کرنے سے بچ جاؤ۔گھاس اور پتوں پر قناعت کر لینا،لیکن ہاتھی کے بچوں کا شکار نہ کرنا۔یہ نصیحت سن کر قافلے والوں نے دانا کا شکریہ ادا کیا اور جنگل میں اپنی راہ لے لی۔ جنگل میں چلتے ہوئے چند دنوں کے بعد حالات ایسے ہو گئے کہ ان…
دو پراٹھے
ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص،اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا،ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا،ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا،جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا،اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں،شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں،سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا،نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال،دیتے ہوئے کہا اسےبسم اللّٰہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو،جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی،شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا،اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے…
بابا، ڈاکو اور جنت کی ٹکٹ…… ایک دلچسپ مزاحیہ کہانی
ایک بہروپیا ایک مزار کے باہر لمبی سفید داڑھی، سبز عمامہ اور کندھے پر تولیہ ڈالے بزرگ بنا بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے ایک تختی رکھی تھی: “صرف 100 روپے میں جنت کی ٹکٹ!” لوگ اس کی شکل و صورت اور بناوٹی بزرگی سے اتنے متاثر تھے کہ جوق در جوق ٹکٹیں خرید رہے تھے۔ اتنے میں بہروپیے نے دور سے ایک پولیس والے کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ وہ فوراً بلند آواز میں بولا: “بس بھائیو! آج کا وقت ختم ہوا۔ جو خوش نصیب تھے، وہ اپنی ٹکٹ لے گئے۔ فقیر کے پاس جو کچھ تھا، فقیر سب لٹا چکا!” یہ کہہ کر اس نے جلدی سے اپنا تھیلا سمیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔ گھر پہنچ کر دروازہ بند کیا، تھیلا کھولا اور نوٹ نکال کر خوشی خوشی گننے لگا۔ اچانک کھڑکی سے ایک مسلح ڈاکو اندر کود آیا۔ اس نے پستول سیدھی بہروپیے کی طرف تان…
تین منٹ –
وہ محلے کا سب سے پرانا مکان تھا۔ ٹوٹی پھوٹی دیواریں، جگہ جگہ سے چٹخی اینٹیں ، اُدھرتا پلستر، اکھڑتی چھتیں ، جیسے ابھی گرجائیں گی۔ اندر ہروقت اندھیر اچھایا رہتا۔ پرانے طرز کے اس مکان میں ایک کنواں بھی تھا۔ ٹوٹے ہوئے دروازے سے اندر داخل ہوں تو ایک جھولا لٹکا نظر آتا۔ محلے کے بچے جھولے کے لالچ میں وہاں پہنچ جاتے۔اگر کوئی بچہ جھولا زور سے جھلاتا توجھولا کنویں کے اوپر پہنچ جاتا اور جھولے پہ بیٹھ بچہ خوف سے چلانے لگتا۔میں ایک دن جھولے پر بیٹھا تھا کہ کسی نے پیچھے سے جھولے کو زور سے دھکادے دیا۔ میرے منھ سے چیخ نکلی ۔ جھولے کی رسی ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور اس میں قلابازیاں کھاتا ہوا کنویں میں جاگرا۔ جیسے ہی میرے پاؤں کنویں کی تہ میں لگے، مجھے وہاں ایک دروازہ نظرآیا۔ کسی نے مجھے اس دروازے سے اندر کھینچ لیا اور پھر وہ…
بلاعنوان
ایک دن سردار جی کے دونوں کان بری طرح جل گئے۔ روتے ھوئے ہسپتال پہنچے۔ ڈاکٹر نے پوچھا: “سردار جی! یہ کیا ھوا؟” 😕🤔 سردار جی بولے: “ڈاکٹر صاحب! میں کپڑوں پر استری کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ جلدی میں موبائل کی جگہ گرم استری کان سے لگا لی!” 😰🔥 ڈاکٹر نے حیران ھو کر کہا: “اچھا، ایک کان تو سمجھ آیا مگر دوسرا کان کیسے جل گیا؟” 😕🙄 سردار جی غصے سے بولے: “اوئے ڈاکٹر! جس کمبخت نے فون کیا تھا، اُس نے دوبارہ فون کر دیا تھا!” 😂🔥☎️
بھولابھالااونٹ –
ایک کالا کّوا،ایک فریبی بھیڑیا ،ایک مکار گیدڑتینوں ایک جنگل کے باسی تھی۔اس جنگل کا راجا ایک شیر تھا۔وہ اس کی خدمت میں رہتے تھے ۔اتفاق کی بات کہ ادھر سے ایک قافلہ گزرا۔قافلے کا ایک اونٹ یہاں آکر بیمار پڑگیا۔قافلے والوں نے بیمار اونٹ کو وہیں چھوڑ دیا اور آگے چلے گئے۔اونٹ لوٹ پیٹ کر اچھا ہو گیا،بلکہ ہری ہری گھاس کھا کر خوب موٹا تازہ ہو گیا۔ایک دن جنگل کے راجا کی سواری اس طرف سے گزری۔اونٹ بہت گھبرایا۔اس نے خیر اسی میں دیکھی کہ شیر کے سامنے جا کر سرجھکا دیا۔شیرنے گرج کر کہا:”تمھاری یہ ہمت کیسے ہوئی کہ اونٹ کی طرح منھ اُٹھائے میرے ملک میں آگئے۔“اونٹ نے اپنی کہانی سنائی اور سرجھکا کر کہا:”حضور !میں آپ کے رحم وکرم پر ہوں۔چاہوتو ماروچاہو جلاؤ۔ شیر نے اونٹ کو تا بعداری پر آمادہ دیکھا تو اسے معاف کر دیا۔پھر اسے اپنے خدمت گاروں میں شامل کرلیا۔کوے،بھیڑے اور…
حسد
جنگل میں ایک نہایت غریب مگر خوددار چوہا رہتا تھا۔ کئی دن سے رزق کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ آخر ایک صبح اس نے فیصلہ کیا کہ قسمت آزمانے کے لیے سیدھا جنگل کے بادشاہ، شیر، کے دربار میں حاضر ہوا جائے۔ وہ کانپتے قدموں سے محل میں داخل ہوا، ادب سے سر جھکایا اور بولا، “بادشاہ سلامت! میں چوری نہیں کرنا چاہتا، محنت کی روٹی کھانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی چھوٹا سا کام مل جائے تو زندگی بھر وفاداری سے انجام دوں گا۔” شیر نے اس کی بات غور سے سنی۔ چوہے کی آنکھوں میں خودداری تھی، زبان میں عاجزی اور لہجے میں سچائی۔ شیر نے مسکراتے ہوئے کہا، “محل کے شاہی گودام میں روزانہ اناج کی بوریاں، شہد کے مٹکے اور خشک میوہ آتا ہے۔ ہمیں ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو روز ان سب کی گنتی کرے، رجسٹر میں اندراج کرے اور شام…
شیر اور زرافہ –
شیر اور زرافے کی دوستی سے جنگل کے تمام جانور حیران تھے کیونکہ شیر جانوروں کا شکار کرتا تھا۔زرافے کے دوست ہرن اور زیبرا اکثر زرافے کو کہتے کہ شیر پر اعتبار نہ کرو۔ایسا نہ ہو کہ کسی دن شیر کو شکار نہ ملے اور وہ تمہیں شکار بنا لے۔لیکن زرافہ ہرن اور زیبرے کی بات کو ہنسی میں ٹال دیتا۔زرافہ اکثر شیر کو کہتا کہ اگر میں شکار نہ کروں تو کھاؤں گا کیا؟میں تمہاری طرح گھاس نہیں کھا سکتا جس طرح تم میری طرح گوشت نہیں کھا سکتے۔زرافہ شیر کی بات سن کر چپ ہو جاتا۔ایک دن جنگل میں شکاری آگئے۔زرافہ اپنی لمبی گردن سے درختوں کے پتے کھانے میں مصروف تھا اس کی نظر ان شکاریوں پر پڑی تو وہ فوراً شیر کے پاس گیا اور شیر کو ساری صورتحال بتائی کہ جنگل میں شکاری آگئے ہیں اور وہ ایک بڑے درخت پر مچان بنا رہے ہیں۔…