Tag Archives: ،urdublogs

ایک کسان کے گھر میں ایک چڑیا پلی ہوئی تھی۔وہ انسانوں کی بولی جانتی تھی اور جو کچھ دیکھتی تھی وہ بیان کردیتی تھی۔کسان اس کو بہت پسند کرتا تھا اور وہ بھی کسان کے گھر میں بہت خوش تھی۔ایک بار کسان کا ایک دوست اللہ بخش دوسرے گاوٴں سے اس کے ہاں آیا۔اصل میں اللہ بخش نے اپنے دشمنوں سے ڈر کر کسان کے ہاں پناہ لی تھی۔کسان نے چڑیا کو سمجھا دیا۔”اگر کوئی پوچھے بھی کہ تمہارے ہاں کوئی مہمان آیا ہوا ہے تو اقرار مت کرنا۔“ اللہ بخش کے دشمنوں کو اندازہ تھا کہ وہ کہاں چھپ سکتا ہے، چنانچہ وہ کسان کے گھر پہنچ گئے اور چڑیا نے ان کو بتا دیا کہ، ”اللہ بخش ہمارے ہاں آیا ہوا ہے۔“اب کیا تھا۔دشمن گھر میں گھس آئے اور اللہ بخش کو کھینچ کر لے گئے۔ کسان کو چڑیا پر بہت غصہ آیا۔اس نے چڑیا کو مار کر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک بہت ہی غریب دھوبی رہتا تھا۔ کپڑوں کی دھلائی کے ساتھ ساتھ اس کو آسمان کو قریب سے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اور اس کی بیوی روز دھوبی گھاٹ پر کپڑے دھونے جاتے تھے۔ ایک روز جب اس کی بیوی کپڑے سکھا رہی تھی، تو اچانک اُس کی نظر آسمان پر پڑی۔ وہ کیا دیکھتی ہے کہ آسمان سے ایک ہاتھی اڑتا ہوا زمین پر اتر رہا ہے، اور جیسے ہی وہ زمین پر اترا، غائب ہوگیا۔ دو تین روز تک وہ یوں ہی ہاتھی کو زمین پر اترتے دیکھتی رہی۔ ایک رات اس نے یہ سارا ماجرا اپنے شوہر (دھوبی) کو بتایا۔ دھوبی پہلے تو بہت حیران ہوا، مگر پھر فیصلہ کیا کہ کل وہ خود اس ہاتھی پر نظر رکھیں گے کہ آخر یہ ہاتھی زمین پر کیوں اترتا ہے اور پھر غائب کیوں ہو جاتا…

Read more

احمد ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتا تھا۔وہ شرارتی، ہنس مکھ اور سب کا دوست تھا، لیکن اس کے گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے۔اس کے پاس اسکول جانے کے لئے صرف ایک ہی جوڑا جوتے کا تھا، اور وہ بھی کئی سال پرانا۔ایک دن صبح اسکول جاتے ہوئے وہ کیچڑ والے راستے سے گزر رہا تھا کہ اچانک جوتے کا اگلا حصہ پھٹ گیا۔احمد نے جوتے کو دیکھ کر آہ بھری۔”ارے یہ کیا ہوا! اب سب میرا مذاق اُڑائیں گے۔“ اس نے جلدی سے جوتے کو ہاتھ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی، مگر وہ اور زیادہ عجیب لگنے لگا۔بہرحال، وہ دل میں تھوڑی شرمندگی لئے اسکول پہنچ گیا۔جیسے ہی وہ کلاس میں داخل ہوا، اس کے دوست اکٹھے ہو گئے۔ایک دوست بولا:”واہ احمد! یہ تو کمال کا نیا ڈیزائن ہے۔ کہاں سے لیا؟“احمد نے حیرانی سے کہا:”یہ؟ اوہ، یہ میں نے خود بنایا ہے!“سب بچے ہنسنے لگے،…

Read more

اٹلی کا ایک بادشاہ حکومت اور دولت کے گھمنڈ میں غریبوں سے بات کرنا بھی بْرا جانتا تھا اس لئے اکثر لوگ اسے ناپسند کرتے تھے۔ ایک دن یہ شکار میں کسی جانور کے پیچھے گھوڑا ڈالے اتنی دور نکل گیا کہ نوکر چاکر سب بچھڑ گئے اور بادشاہ اکیلا رہ گیا۔ اتنے میں ایک کسان نے بادشاہ کے گھوڑے کی رکاب پکڑ لی۔ اس کی شکل ہو بہو بادشاہ سے ملتی تھی۔فرق یہ تھا کہ اس کی پوشاک اور حالت غریب جیسی تھی۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ میں تین دن سے حضور کی ڈیوڑھی پر بھوکا پیاسا چلا آ رہا ہوں مگر کوئی میری فریاد نہیں سنتا۔ بادشاہ نے غریب کو میلے کچیلے کپڑوں میں دیکھ کر یہ کہتے ہوئے آگے بڑھ گیا کہ میں ذلیل آدمیوں سے بات نہیں کرتا۔ غریب کسان پھر بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ ایک تالاب…

Read more

ایک صاحب کا اصول تھا: “پڑوسی کا وائی فائی استعمال کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ھے!” 😎 ایک رات انہوں نے یوٹیوب سے “ہیکنگ” سیکھی اور پڑوسی کا پاسورڈ چرانے بیٹھ گئے۔ ایک لنک کھلا: “صرف ایک کلک میں وائی فائی پاسورڈ حاصل کریں!” 😲 ان صاحب نے فوراً کلک کر دیا۔ 😈 اگلےھی لمحے… ان کے لیپ ٹاپ سے سب کچھ غائب! پھر محلے کے واٹس ایپ گروپ میں ایک ایک کر کے ویڈیوز آنے لگیں: واش بیسن کے سامنے ڈانس کرتے ہوئے  صاحب۔ 🕺 “کدو کی سبزی” پر روتے ہوئے صاحب۔ 😭 اور بیگم کے لیے لکھی گئی شاعری: > “تیری آنکھیں وائی فائی جیسی ھیں، دل خود بخود کنیکٹ ھو جاتا ھے!” 😂 صبح دروازے پر پڑوسی آیا اور بولا: “بھائی! پاسورڈ مانگ لیتے…” “اب پورا محلہ آپ کے ساتھ کنیکٹ ھو چکا ھے!” 🤣🤣 سبق:فری وائی فائی کے چکر میں کبھی کبھی اپنی عزت کا…

Read more

ایک بلوچ اور سرائیکی کی بڑی گہری دوستی تھی۔ ایک رات بلوچ کے والد ان کے گھر مہمان تھے۔ آدھی رات کو اچانک ان کی طبیعت خراب ھو گئی اور وہ بار بار کہنے لگے: “آفے دائے… آفے دائے…!” 😥 سرائیکی دوست نے سوچا: “ماشاءاللہ! آخری وقت میں بھی ذکر کر رھے ھیں!” 🥹 وہ خاموش بیٹھا رہا۔ صبح بلوچ آیا تو دیکھا کہ والد صاحب انتقال کر چکے ھیں۔ سرائیکی نے افسوس کرتے ھوئے کہا: “بھائی! آپ کے ابو بہت نیک تھے، آخری وقت تک کچھ پڑھتے رھے…” 🥺 بلوچ نے پوچھا: “کیا پڑھ رھے تھے؟” سرائیکی بولا: “بار بار پڑھ رھے تھے: آفے دائے… آفے دائے…” 😇 یہ سن کر بلوچ چیخ پڑا: “اوئے لعنتی اِنسان ! وہ دعا نہیں، پانی مانگ رھے تھے!” 😨 سرائیکی گھبرا کر بولا: “اچھا! اور میں سمجھا بزرگ بندہ ھے، اپنے رب سے ڈائریکٹ رابطے میں ھے!” 😅🏃🤣 سبق:کبھی کبھی ایک لفظ…

Read more

ایک گاؤں میں بابو کسان اپنے دو بیٹوں کے ساتھ رہتا تھا۔دونوں کے مزاج میں زمین اور آسمان کا فرق تھا۔اسد نہایت سست اور بد اخلاق تھا، جبکہ امجد نہایت محنتی، خوش مزاج اور سلجھا ہوا تھا۔بدقسمتی سے اسد کا اُٹھنا بیٹھنا کچھ ٹھیک لوگوں میں نہ تھا۔ایک دن بابو کسان نے امجد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔راستے میں امجد کا سامنا کنویں کے قریب بیٹھی ایک بوڑھی عورت سے ہوا، جو پیاسی تھی۔اس نے امجد سے مدد طلب کی۔امجد نے کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا۔اس نے شکریہ کے ساتھ امجد کو ایک بیج تھما دیا۔گھر پہنچ کر امجد نے وہ بیج اپنے گھر کے قریب ایک باغ میں بو دیا۔اگلے ہی روز کسان نے اپنے دوسرے بیٹے اسد کو جنگل میں جڑی بوٹیاں اکٹھا کرنے کے لئے بھیجا۔(جاری ہے) وہی بڑھیا پانی کی طلب میں کنویں کے قریب بیٹھی تھی، مگر جب…

Read more

ایک چھوٹی سی پہاڑی میں چوہوں کے کئی بل تھے، اس پر پودے بھی لگے ہوئے تھے۔پودوں کے درمیان میں چوہوں کے بل دکھائی نہیں دیتے تھے۔ان بلوں میں ایک بل ایک چوہیا کا بھی تھا۔وہ اکیلی رہتی تھی۔وہ کافی عقلمند تھی، اکثر چوہے اپنے مسائل لے کر اس کے پاس آتے اور وہ اپنی عقل و فہم کے مطابق حل بتاتی۔اس کے مشورے اکثر چوہوں کی مشکل کو دور کر دیتے تھے۔اسی لئے سب چوہے اس کی بڑی عزت کرتے تھے۔ایک بار یوں ہوا کہ برسات کے موسم میں بارشیں خوب برسیں، جس کے باعث کئی کیڑے مکوڑے اور دوسرے جانور گھبرا کر ان بلوں کی طرف آ گئے۔چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے تو چوہوں کی غذا بن گئے، جبکہ بڑے کیڑوں کو انہوں نے وہاں سے مار بھگایا۔انہی میں ایک چھوٹا کچھوا بھی شامل تھا جو جسامت میں چوہوں سے تھوڑا سا بڑا تھا۔(جاری ہے) وہ ہر کسی کے…

Read more

علی اکبر بادشاہ کے نورتنوں میں سے ایک راجہ بیربل کی ذہانت ، حاضر جوابی ، کی کہانیاں اور لطیفے بہت مشہور ہیں۔ بیربل کی دانشمندی نے بیربل کے کردار کو افسانوی بنا دیا۔ اکبر اور بیربل سے متعلق ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ روایت کے مطابق ایک رات کو جب بادشاہ اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔حجام جھونپڑی کے باہر چار پائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔ حجام نے فوراً جواب دیا۔ اجی کیا بات ہے۔ ہمارے اکبر بادشاہ کی اس کے راج میں ہر طرف امن چین اور خوشحالی ہے۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ ہر دن عید ہے ہر رات دیوالی ہے۔ اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن…

Read more

گئے وقتوں کی بات ہے۔گرمی شروع ہو چکی تھی اور شدت سے بڑھ رہی تھی۔ہر انسان گرمی میں پسینے سے شرابور ہو رہا تھا اور یہی حال سبزیوں کا بھی تھا۔گاؤں میں بہت سے کھیت تھے۔ان کھیتوں میں کچھ سبزیاں اُگی ہوئی تھیں۔اچانک کسی کے چیخنے کی آواز آئی۔ڈر کے مارے آلو میاں،لیمو،ٹماٹر،بینگن،کدو اور مرچیں اکٹھے ہو کر ایک ساتھ آواز کی طرف دیکھنے لگے۔انھیں پتا تھا کہ یہ آواز مغرور بھنڈی کی ہے۔اسی وقت کھیت سے ایک لمبی اور اسمارٹ سی بھنڈی آ نکلی:”ہائے ہائے!کتنی گرمی ہے اور کتنی تیز دھوپ چمک رہی ہے،ارے ہٹو ہٹو یہاں سے آلو!ہر وقت آ کے کھڑے ہو جاتے ہو سر پر،اوپر سے اتنے موٹے موٹے ہو کہ بس۔ارے میری طرح اسمارٹ رہا کرو، خوبصورت رہا کرو۔ ارے ہاں،میں تو بھول ہی گئی خوبصورتی تو تم لوگوں کو چھو کے بھی نہیں گزری۔ خاص طور پر آلو میاں!تم کتنے گندے رہتے ہو اور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ تھا ۔ ایک دن بادشاہ کا بہترین گھوڑا اصطبل سے بھاگ گیا ۔بادشاہ نے سپاہیوں کو گھوڑا تلاشنے کا حکم دیا ۔ سپاہی گھوڑے کو تلاش کرتے کرتے جنگل میں پہنچ گئے ۔وہاں ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا لیکن سپاہیوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم نے یہاں جنگل میں کوئی گھوڑا دیکھا ہے ؟جواب ندارد ۔انہوں نے کچھ دیر رک پھر سوال کیا ۔دوسری جانب سے مکمل خاموشی ۔سپاہیوں نے جھنجھلا کر تیسری مرتبہ پھر پوچھنے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ اس شخص نے  دائیں جانب سلام پھیرا ۔سپاہی یہ سمجھے ہمیں اشارے سے بتارہا ہے کہ اس جانب دیکھ لو ۔ وہ دائیں جانب گئے تو گھوڑا مل گیا ۔سپاہی خوش ہوگئے اور انہوں نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا کہ یہ شخص کوئی پہنچا ہوا بزرگ…

Read more

کسی جنگل میں ایک مغرور اونٹ رہتا تھا۔اُسے اپنے لمبے قد اور چال ڈھال پر بڑا ناز تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ میں سب سے اعلیٰ ہوں۔اُس کا جہاں جی چاہتا منہ اُٹھا کر چلا جاتا اور سب جانوروں سے بدتمیزی کرتا رہتا۔کوئی جانور اگر اُسے چھیڑتا تو وہ اس کے پیچھے پڑ جاتا۔اُس کے گھر کے قریب چوہے کا بل تھا اور اونٹ کو اُس چوہے سے سب سے زیادہ نفرت تھی۔وہ اُس چوہے کو نہ جانے کیا کیا القابات دیتا رہتا لیکن چوہا ہنس کے ٹال دیتا تھا۔جنگل کے سب جانور ہی اونٹ سے اُس کے کبر کی وجہ سے تنگ تھے اور چاہتے تھے کہ اُسے اُس کے کئے کی سزا ملے مگر ابھی تک اونٹ کو کھلی چھٹی ملی ہوئی تھی۔وہ بہار کا خوشگوار موسم تھا،ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے اور جنگل میں بھینی بھینی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔اونٹ سو کر اُٹھا تو اُسے بڑی…

Read more

Read more

بہت دور کسی شہر میں ایک بڑھئی کی دکان تھی۔ وہ سارا دن اپنی دکان میں لکڑی کاٹتا یا کیلیں ٹھوکتا نظر آتا تھا۔ اس کا ایک بیٹا بھی تھا، جس کا نام حسن تھا۔ حسن بہت فرماں بردار لڑکا تھا۔ جلد ہی کام سیکھ کر وہ کام میں باپ کی مدد کرنے لگا، مگر کچھ دن ہی گزرے تھے کہ وہ اپنے کام سے بے زار ہو گیا۔ باپ اسے کوئی چیز بنانے کو دیتا تو وہ بے دلی سے اسے شروع کرتا ، ابھی کام پورا بھی نہ ہوتا کہ وہ ہاتھ روک لیتا اور اٹھ کر باہر نکل جا تا۔باپ پریشان تھا کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ آخر ایک دن اس نے حسن سے اس رویے کا سبب پوچھا تو حسن بولا : بابا! میں یہ دروازے کھڑکیاں اور میز کرسیاں نہیں بنانا چاہتا، میں کوئی ایسی چیز بناوٴں گا ، جو آج تک کسی نے…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک سرسبز و شاداب جنگل تھا، جہاں سینکڑوں درخت اپنی اپنی جگہ خاموشی سے کھڑے تھے۔ مگر ان سب میں ایک درخت سب سے نمایاں تھا۔ وہ جنگل کے عین دہانے پر، سب سے آگے کھڑا تھا۔ تنا اس کا چوڑا، شاخیں آسمان سے باتیں کرتیں، اور جڑیں زمین میں اس طرح پیوست تھیں جیسے صدیوں سے اس مٹی کی محافظ ہوں۔ جنگل کے ہر درخت کی نگاہ میں اس کا بڑا احترام تھا۔ عمر میں بھی سب سے بزرگ تھا اور ہر آندھی، ہر طوفان، ہر دھوپ اور ہر ژالہ باری سب سے پہلے اسی کے حصے میں آتی تھی۔ وہ خاموشی سے سب کچھ سہہ لیتا، مگر اپنے پیچھے کھڑے درختوں تک مصیبت کی شدت نہ پہنچنے دیتا۔ایک سال اسی درخت کا ایک بیج زمین میں گرا، اور کچھ ہی عرصے میں ایک ننھا سا پودا اُگ آیا۔ وقت گزرتا گیا، پودا جوان…

Read more

صدیوں پہلے ایک ایسی سلطنت تھی جس کے بادشاہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اس وقت تک اپنے آرام گاہ میں قدم نہیں رکھتا تھا جب تک دربار میں آنے والے ہر مظلوم کی فریاد نہ سن لیتا۔لوگ کہتے تھے کہ اس کے تخت کے چار پائے انصاف پر کھڑے ہیں۔اگر کسی دن کسی مظلوم کی داد رسی رہ جاتی تو اس رات بادشاہ کی آنکھوں سے نیند روٹھ جاتی۔وہ کروٹیں بدلتا رہتا، مگر سکون نصیب نہ ہوتا۔ایک، دو، پھر تین راتیں گزر گئیں۔نیند مسلسل اس کی آنکھوں سے غائب رہی۔بادشاہ حیران تھا۔“آخر کس کا حق مجھ سے رہ گیا؟”چوتھی صبح اس نے پورا دربار طلب کیا۔دروغہ، کوتوال، قاضی، وزیر، سب حاضر تھے۔ بادشاہ نے پوچھا:“کیا میری سلطنت میں کوئی ایسا شخص آیا جو انصاف لیے بغیر واپس چلا گیا ہو؟”سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا:“حضور! آپ کے عہد میں ایسا کبھی نہیں ہوا۔”بادشاہ خاموش ہو…

Read more

بیگم نے اچانک شوہر سے موبائل📱مانگ لیا۔ شوہر نے کانپتے ہاتھوں سے موبائل پکڑایا اور دل ھی دل میں درود شریف پڑھنے لگا۔ 😅 کال لاگ میں ایک نمبر نظر آیا: “اختر” بیگم نے پوچھا: “یہ اختر کون ھے؟” 🤔 شوہر بولا: “ماموں اختر ھیں!” 😶 بیگم کو شک ھوا، فوراً نمبر ملا دیا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: “ہیلو…” (عورت کی آواز) بس پھر کیا تھا… پانچ منٹ بعد شوہر ہسپتال میں پٹیاں بندھوائے بیٹھا تھا۔ 🤕 وہاں اس نے دیکھا کہ سامنے والے بیڈ پر ماموں اختر بھی لیٹے ھیں! 😳 شوہر نے حیران ھو کر پوچھا: “ماموں جان! آپ یہاں؟” ماموں اختر آہ بھرتے ھوئے بولے: “بیٹا! تمہاری کال آئی تھی، میری بیگم نے عورت کی آواز سن لی…” 🤕🤣🤣

گاؤں میں رحیم نامی کمہار کی بہت شہرت تھی۔گاؤں کے ارد گرد دوسری آبادیوں کے لوگ رحیم کے بنائے گھڑے،تسلے،کونڈے،پیالے اور ہانڈیاں استعمال کرتے۔رحیم کے ہاتھ سے بنے برتن خوبصورت ہونے کے ساتھ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔چکنے گھڑے میں رکھا پانی شدید گرمی میں بھی کئی دن تک ٹھنڈا اور ذائقے دار رہتا۔اسی طرح ہانڈیاں بھی سال ہا سال چلتیں اور ان میں پکنے والے سالن بھی ذائقے میں لاجواب ہوتے۔مٹی کی ہانڈی میں پکے ہوئے کھانے کا ذائقہ کسی دوسرے برتن میں پکنے والے کھانے سے یکسر مختلف ہوتا۔رفتہ رفتہ رحیم کے برتنوں کی دھوم اور مانگ بڑھتی گئی۔گاؤں میں بیدو نامی ایک اور کمہار بھی رہتا تھا۔سرخ پہاڑیوں کے اس پار رہنے والا بیدو کمہار رحیم سے بغض رکھتا تھا اور کھلے عام اس سے ناپسندیدگی کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے برتن دیدہ زیب تو ہوتے،مگر انتہائی ناپائیدار،جن کے کنارے جلد جھڑ…

Read more

ایک کنجوس آدمی کو ایک جادوئی چراغ ملا۔ رگڑتے ھی جن حاضر ھو گیا۔ 😳 جن: “تین خواہشیں مانگو، مگر شرط یہ ھے کہ تمہیں جو ملے گا، تمہارے پڑوسی کو اُس کا ڈبل ملے گا!” کنجوس نے سوچا: “چلو ٹھیک ھے!” پہلی خواہش: “مجھے 1 کروڑ دو!” جن: “ھو گیا!” اچانک خبر آئی کہ پڑوسی کو 2 کروڑ مل گئے۔ 😳 دوسری خواہش: “مجھے ایک لگژری گاڑی دو!” جن: “یہ لو!” لیکن پڑوسی کے گھر ایک نہیں، دو گاڑیاں پہنچ گئیں! 🚗🚗 اب کنجوس غصے سے لال ھو گیا۔ 😡 تیسری خواہش پر بولا: “اے جن! میری ایک آنکھ نکال دو!” 👁️ جن حیران ھو گیا: “تم پاگل ھو گئے ھو؟” کنجوس بولا: “مجھے منظور ھے… بس پڑوسی اندھا ھو جانا چاہیے!” 😂🤣 > “ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی ایک آنکھ قربان کر دیں گے، بس پڑوسی کی دونوں چلی جائیں!” 😂😆

ایران کے ایک بادشاہ کو حکیموں اور دانشمندوں کی صحبت کا بہت شوق تھا۔ اس نے ایک بار ایک دور دراز ملک کے مشہور حکیم کو اپنے دربار میں بلایا اور حکم دیا کہ وہ طب پر ایک ایسی کتاب مرتب کرے جس میں تمام بیماریوں کے علاج کے طریقے نہایت سادہ زبان میں درج ہوں، تاکہ عام آدمی، یہاں تک کہ بچے بھی اسے پڑھ کر اپنا علاج خود کر سکیں۔ حکیم نے بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں ایک نہایت اعلیٰ درجے کی کتاب لکھی۔ بادشاہ اس کتاب سے بے حد متاثر ہوا اور حکیم کو لاکھوں روپے انعام سے نوازا۔کچھ عرصے بعد حکیم کا انتقال ہو گیا تو اس کا بیٹا بادشاہی حکیم مقرر ہوا۔ وہ بھی اپنے والد کی طرح ذہین اور خدمت گزار تھا، اس لیے بادشاہ اس سے بہت خوش رہتا تھا۔ ایک دن بادشاہ وہی کتاب پڑھ رہا تھا کہ اس کی نظر…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع و عریض جنگل تھا جہاں کبھی خوشحالی کے قصے سنائے جاتے تھے، مگر اب ہر طرف بے چینی تھی۔ چشمے سوکھنے لگے تھے، راستے ٹوٹ چکے تھے، کمزور جانور ہر روز کسی نہ کسی شکایت کے ساتھ دربار پہنچتے، مگر شام ہونے تک سب پہلے سے زیادہ مایوس لوٹتے۔شیر جنگل کا بادشاہ تھا، مگر اب وہ خود اپنی حکومت سے تنگ آ چکا تھا۔ صبح سے شام تک صرف شکایتیں سنتا، ہر مسئلے پر اجلاس کرتا، ہر اجلاس کے بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ایک رات وہ سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ “آخر میں کیا کروں؟”اسی وقت ایک بوڑھا سیاہ کوّا بولا، “حضور! کبھی کبھی بادشاہ بدلنے سے مسائل حل نہیں ہوتے، مگر لوگوں کو امید ضرور مل جاتی ہے۔”شیر نے حیرت سے دیکھا۔کوّا بولا، “لوگوں کی نظر میں سب سے زیادہ محنتی جانور کون ہے؟”سب نے ایک ساتھ جواب دیا،…

Read more

580/839
NZ's Corner