Tag Archives: ،urdublogs

ایک زمانے کی بات ہے، ایک دریا کے کنارے ایک غریب مگر خوش مزاج کشتی بان رہتا تھا۔ لوگ اسے سادہ سمجھتے تھے، مگر وہ زندگی کے تجربے میں بہت آگے تھا۔ ایک دن ایک مشہور عالم اُس کی کشتی میں سوار ہوا تاکہ دریا پار جا سکے۔ عالم نے ریشمی لباس پہن رکھا تھا، ہاتھ میں کتابیں تھیں اور چہرے پر غرور صاف جھلک رہا تھا۔ دریا کا سفر لمبا تھا، تو عالم نے وقت گزارنے کے لیے کشتی بان سے بات چیت شروع کی۔ وہ ناک چڑھا کر بولا: “اے کشتی بان! کیا تم نے کبھی علمِ کیمیا اور گرامر پڑھی ہے؟” کشتی بان نے عاجزی سے جواب دیا: “جناب، میں غریب آدمی ہوں۔ مجھے پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔” یہ سن کر عالم طنزیہ ہنسا اور بولا: “افسوس! تم نے تو اپنی آدھی زندگی ضائع کر دی!” کشتی بان خاموش رہا۔ اُس نے صرف ایک گہری سانس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، جب برصغیر کی ریاستوں میں بڑے بڑے جاگیردار اور دولت مند تاجر اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی وجہ سے مشہور ہوا کرتے تھے۔ ایسے ہی ایک شہر میں ایک نہایت دولت مند شخص رہتا تھا۔ دولت، زمینیں، باغات، نوکر، گھوڑے، سب کچھ تھا، مگر اولاد صرف ایک تھی۔ ایک اکلوتا بیٹا۔وہ بیٹا اس کی آنکھوں کا نور تھا۔جس چیز کی خواہش کرتا، باپ اس کے قدموں میں لا کر رکھ دیتا۔ اس نے کبھی “نہیں” کا لفظ سنا ہی نہ تھا۔ایک دن بچپن میں اس نے محلے کے ایک غریب لڑکے کو معمولی سی بات پر بری طرح زخمی کر دیا۔لوگ شکایت لے کر آئے۔ایک بوڑھے شخص نے کہا:“مالک! بچے کی غلطی ہے۔ آج اسے روک لیجیے، کل دیر ہو جائے گی۔”دولت مند شخص نے مسکرا کر کہا: “بچے غلطیاں کرتے ہیں۔ اتنی سی بات پر اپنے اکلوتے بیٹے کو سزا دوں؟”اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک گھنے جنگل میں ایک نہایت بھاری بھرکم گینڈا رہتا تھا۔ اپنی غیر معمولی جسامت اور طاقت کی وجہ سے وہ خود کو جنگل کا سب سے برتر جانور سمجھتا تھا۔اسی جنگل میں ایک دبلا پتلا ہرن بھی رہتا تھا۔ہرن نہایت نرم مزاج، بردبار اور خاموش طبیعت کا مالک تھا۔مگر گینڈے کو اس کا کمزور جسم ایک مذاق محسوس ہوتا تھا۔جب بھی دونوں کا آمنا سامنا ہوتا، گینڈا ضرور کوئی نہ کوئی طنز کر دیتا۔ کبھی کہتا:“ہرن میاں! تم گھاس کھاتے ہو یا ہوا؟” کبھی ہنستے ہوئے بولتا:“ذرا احتیاط سے چلا کرو، کہیں تیز ہوا نہ چل جائے، ورنہ اڑ جاؤ گے!”اور کبھی اپنے موٹے پیروں کی طرف دیکھ کر قہقہہ لگاتا:“تمہیں دیکھ کر لگتا ہے تمہاری ٹانگیں لکڑی کی تیلیاں ہیں۔”آس پاس کھڑے چند جانور بھی ہنس دیتے۔ہرن مسکرا دیتا، مگر خاموش رہتا۔وہ جانتا تھا کہ ہر بات کا جواب زبان سے نہیں دیا…

Read more

جنگل کے پاس ہی گاوں میں ایک شخص رہتا تھا ۔ جو بہت جو بہت مغرور تھا۔ اس کے گھر کے تھوڑا دور ہی جنگل کی زمین پر بہت سے ہرے بھرے اور گھنے درخت تھے ۔ جس پر بہت سے پرندوں کے گھونسلے تھے ۔ پرندے بہت ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے ۔ وہ شخص تھوڑا لالچی تھا اس نے سوچا کیوں نا جنگل کی زمین پر بھی فصل اگا کر بہت سارا پیسہ کماوں گا ۔ ایک دن وہ کلہاڑی لے کر جنگل گیا اور جنگل میں لگے بہت سے درختوں کو کاٹنے لگا ۔ آہستہ آہستہ اس نے اس زمین سے سارے درخت کاٹ دیے ۔ درخت کٹنے سے سارے پرندے جنگل میں ادھر  ادھر اڑ گئے ۔ اور ان سب کے گھونسلے ٹوٹ چکے تھے سب پرندے بہت پریشان تھے۔   اس شخص نے زمین پر ہل چلا کر مکئی کی فصل بوئی ۔ جو کہ…

Read more

ایک بڑے سپر اسٹور میں چوہوں کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ رات ہوتے ہی یوں محسوس ہوتا جیسے پوری دکان زندہ ہو گئی ہو۔ آٹے کی بوریاں، خشک میوہ جات، چاول، دالیں، بسکٹ، ہر طرف ان کی چہل پہل تھی۔ نسلیں وہیں پلی تھیں، بوڑھے وہیں مرے تھے اور نئے بچے وہیں جوان ہو رہے تھے۔دکان کے مالک نے ہر ترکیب آزما لی، مگر چوہے ختم نہ ہوئے۔آخر ایک دن اس نے ایک نہایت خونخوار جنگلی بلی لا کر چھوڑ دی۔وہ عام بلی نہ تھی۔اس کی آنکھوں میں بھوک تھی، پنجوں میں بجلی، اور حملہ ایسا کہ کئی چوہے سنبھلنے کا موقع ہی نہ پاتے۔ پہلے ہی ہفتے درجنوں چوہے مارے گئے۔چوہوں کی بستی میں کہرام مچ گیا۔ہر رات کسی نہ کسی گھر سے ماتم کی آواز آتی۔پھر ایک دن بزرگ چوہوں نے مشورہ کیا۔“جان ہے تو جہان ہے۔”“دکان کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو، اگر ہر صبح کسی…

Read more

Read more

! آپ نے ملا نصرالدین کا نام تو ضرور سنا ہو گا اور اُسکے کارنامے بھی ضرور پڑھے اور سنے ہو نگے ۔ملا کی عمر کا زیادہ ترحصہ بادشاہوں کے درباروں میں ہی گزرا۔وہ ہنس مُکھ اور بذلہ سنج شخص تھا ۔بادشاہ اکثر اُس پر انعام واکرام کی بارش کرتا رہتا تھا۔بادشاہ کے دربار میں اُس سے حسد کرنے والے بھی تھے وہ بادشاہ کے کان بھرتے رہتے تھے ،آخر ایک دن اُنہیں موقع مل ہی گیا ۔ بادشاہ کے مخالف کا مُلا سے آمنا سامنا ہوا۔مُلا نے اُسکے سلام کا جواب دیا ،اُس نے مُلا کا حال چال پوچھا ۔بس اتنی سی بات کا بتنگڑ بنا کر بادشاہ کو ملا سے بد ظن کر دیا ۔بادشاہ ملا سے ناراض ہو گیا اور محل میں اُس کا داخلہ بند کر دیا ۔چند ماہ تک تو مُلا اپنی جمع پونجی خرچ کرتا رہا۔(جاری ہے) کہتے ہیں یوں کھانے سے قارون کا…

Read more

ایک مراثی بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھایہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتا تھا۔ اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتا۔ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا، اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ایک دن نائی نے بادشاہ سے عرض کیا، حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ سے زیادہ قریب ہوں۔ میں آپ کا وفادار بھی ہوں۔ آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے۔بادشاہ نے مسکرا کر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے کہا،میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں۔ لیکن تمہیں اس سے پہلے ٹیسٹ دینا ہوگا۔نائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا،‘آپ حکم کیجئے’بادشاہ بولا۔ بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے۔ مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو۔نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا۔ اور واپس آ کر بولا۔ جی جہاز وہاں کھڑا ہے۔بادشاہ نے پوچھا۔ یہ جہاز کب آیا؟ نائی دوبارہ سمندر…

Read more

ایک دن ایک سانپ خاموشی سے سرکتا ہوا ایک پُرسکون خرگوش کے بل میں داخل ہو گیا۔ ننھے خرگوش خوف سے ایک کونے میں دبک گئے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے ہی گھر میں کسی شکاری کو دیکھا تھا۔ سانپ نے نہایت نرم لہجے میں کہا: “براہِ کرم مجھ سے مت ڈرو… میں بہت تنہا ہوں۔ میرا کوئی دوست نہیں۔ مجھے صرف تھوڑی سی محبت اور اپنائیت چاہیے۔ میرے اندر برسوں کی دانائی چھپی ہوئی ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تمہارے ساتھ بانٹوں۔” خرگوش ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ کچھ ہچکچاہٹ کے بعد انہوں نے سوچا کہ شاید اسے ایک موقع دینا چاہیے۔ وہ اس کی باتیں سننے لگے۔ اس کی کہانیاں، اس کے فلسفیانہ انداز اور دل موہ لینے والے الفاظ انہیں متاثر کرنے لگے۔ لیکن اچانک… سانپ نے ان میں سے ایک خرگوش کو ڈس لیا اور اندھیرے میں غائب ہو…

Read more

صحن میں رکھی پرانی سرخ سائیکل کے ہینڈل سے پانی کے قطرے ایک ایک کر کے ٹپک رہے تھے۔ زنگ آلود گھنٹی ہوا کے ہلکے جھونکے سے بجی تو عامر نے بے اختیار کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اسی لمحے اندر کمرے سے والد کی آواز آئی۔“بیٹا… اگر ممکن ہو تو… وہ ٹچ والا موبائل دلا دینا۔”آواز میں خواہش کم، اجازت زیادہ تھی۔عامر نے اخبار تہہ کیا، مگر جواب فوراً نہ دے سکا۔ اسے حیرت اس بات پر نہیں ہوئی کہ ابا نے موبائل مانگا ہے؛ حیرت اس بات پر ہوئی کہ انہوں نے پہلی بار اپنی کسی ضرورت کو لفظ دیا تھا۔رات کے کھانے کے بعد وہ باورچی خانے میں آیا تو سارہ برتن دھو رہی تھی۔ نلکے سے بہتا پانی اسٹیل کے برتنوں پر ایسی آواز پیدا کر رہا تھا جیسے کوئی پرانی یاد آہستہ آہستہ گھل رہی ہو۔“ابا کہہ رہے تھے، اینڈرائیڈ فون چاہیے۔”سارہ نے ہاتھ نہیں روکے۔“اچھا۔”“لیکن…

Read more

ایک مالدار تاجر تھا جس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اس کی دوستی ایسے لڑکوں سے ہو گئی جنھیں سوائے آوارہ گردی اور مفت خوری کے کچھ کام نہ تھا۔ وہ روزانہ اسے شراب خانے یا قمار خانے لے جاتے اور شام تک اس کی اچھی خاصی رقم ضائع کروا دیتے۔تاجر کچھ دن تک خاموشی سے یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا رہا، پھر ایک دن اپنے بیٹے سے بولا: “بیٹا! دوستی کرو تو ایسے لوگوں سے جو اچھے گھرانے کے ہوں، شریف ہوں اور تمھارا بھلا چاہیں۔ تم نے جن آوارہ لڑکوں کے ساتھ دوستی کر رکھی ہے، وہ میرے بعد تمھیں تباہ کر کے چھوڑ دیں گے۔”بیٹے کو باپ کی بات پر یقین نہیں آیا۔ اس نے کہا: “مجھے اپنے دوستوں پر پورا بھروسا ہے۔ وہ ہر آزمائش میں پورے اتریں گے۔”تاجر نے کہا: “ٹھیک ہے، میں تمھیں بتاتا ہوں کہ یہ کس قدر…

Read more

ایک بادشاہ نے ایک دن حکم جاری کیا: “سلطنت کے تمام شادی شدہ مرد فوراً میدان میں جمع ھوں!” 🙂💁‍♂️ سب حاضر ھو گئے۔ بادشاہ نے اعلان کیا: “دو قطاریں بناؤ!ایک اُن کی جو اپنی بیوی سے ڈرتے ھیںاور دوسری اُن کی جو بالکل نہیں ڈرتے!” چند ھی لمحوں میں… بیوی سے ڈرنے والوں کی قطار اتنی لمبی ھو گئی کہ میدان چھوٹا پڑ گیا! 😂 جبکہ دوسری طرف… صرف ایک اکیلا شخص شان سے کھڑا تھا۔ 😎 بادشاہ خوش ھو کر اس کے پاس گیا اور بولا: “واہ! آخر میری سلطنت میں ایک بہادر مرد بھی ھے جو اپنی بیوی سے نہیں ڈرتا!” 😏 وہ شخص گھبرا کر بولا: “حضور… ایسی بات نہیں ھے!” 🤕 بادشاہ حیران ھوا: “پھر یہاں کیوں کھڑے ہو؟” اس نے معصوم سا جواب دیا: “حضور، گھر سے نکلتے وقت بیوی نے کہا تھا: “خبردار! اسی والی قطار میں کھڑے ھونا اگر اپنی مرضی سے…

Read more

شہر میں ایک بوڑھا آدمی تھا جو پچاس سال سے ایک ہی کمرے میں رہ رہا تھا۔ وہ وقت پر کرایہ دیتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور ہر شام اپنے دروازے کے باہر ایک خالی کرسی رکھ دیتا۔ محلے والے کہتے تھے،“شاید کسی کا انتظار کرتا ہے۔” ایک دن مکان مالک نے تنگ آ کر پوچھ ہی لیا، “آخر روز یہ خالی کرسی کیوں رکھتے ہو؟” بوڑھا مسکرایا۔ “کیونکہ جس دن کوئی اس پر بیٹھ گیا… میں یہ کمرہ چھوڑ دوں گا۔” سب نے اسے پاگل سمجھا۔ سال گزرتے گئے۔ کسی نے کبھی اس کرسی پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی۔ پھر ایک بارش بھری شام ایک سات آٹھ سال کا لڑکا بھیگتا ہوا آیا۔ اس نے کچھ پوچھے بغیر کرسی کھینچی… اور بیٹھ گیا۔ بوڑھے نے اسے دیکھا۔ پچاس برس بعد… وہ پہلی بار ہنسا۔ اگلی صبح محلے والوں نے دیکھا… کمرہ خالی تھا۔ کرایہ میز پر رکھا…

Read more

رات کے ٹھیک تین بجے، پورے گاؤں کی بجلی چلی گئی۔ بارش نہیں ہو رہی تھی، ہوا بھی بند تھی… پھر بھی عائشہ کی آنکھ اچانک کھل گئی۔ ٹھک… ٹھک… دروازے پر دو ہلکی دستکیں ہوئیں۔ اس نے سمجھا شاید وہم ہے۔ خاموشی چھا گئی۔ چند لمحوں بعد… ٹھک… ٹھک… ٹھک… اس بار تین دستکیں تھیں۔ اس کی دادی کی ایک بات اسے فوراً یاد آ گئی۔ “اگر رات کے آخری پہر کوئی تین بار دروازہ کھٹکھٹائے… تو پہلے کھڑکی سے ضرور دیکھنا، دروازہ فوراً مت کھولنا۔” عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ صرف گیلی مٹی پر ننگے قدموں کے نشان… جو دروازے تک آ کر ختم ہو جاتے تھے۔ واپس نہیں جاتے تھے۔ اس کا گلا خشک ہو گیا۔ اچانک اس کے پیچھے سے پھر وہی آواز آئی۔ ٹھک… ٹھک… ٹھک… مگر اس بار… دروازے پر نہیں۔ الماری کے اندر سے۔ کمرے کی ہوا…

Read more

ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی ایک بوٹی لگائی اور اسے دریا میں پھینک دیا۔ ایک چھوٹی مچھلی لالچ میں آکر اسے کھانے کے لیے تیزی سے بڑھی، مگر قریب ہی موجود ایک بڑی مچھلی نے فوراً اسے روک لیا اور کہا: “اس بوٹی کو ہرگز منہ مت لگانا! اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ہے جو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ جیسے ہی تم بوٹی کھاؤ گی، وہ کانٹا تمہارے حلق میں چبھ جائے گا۔ پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ نہیں نکلے گا۔ تمہاری تڑپ سے پانی کے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری کے ذریعے خبر ہو جائے گی۔ وہ خوش ہوگا، ڈور کھینچ کر تمہیں پانی سے باہر نکال لے گا، پھر چھری سے تمہارے ٹکڑے کرے گا، مرچ مصالحہ لگائے گا اور کھولتے ہوئے تیل میں پکائے گا۔ آخرکار انسان اپنے ہاتھوں اور دانتوں سے تمہیں کھا جائیں گے۔ یہی تمہارا انجام…

Read more

بارش مسلسل تیسرے دن بھی نہیں رکی تھی۔ شہر کے کنارے ایک پرانا دو منزلہ گھر تھا جسے لوگ برسوں سے خالی سمجھتے تھے۔ ایک رات احمد کی گاڑی خراب ہو گئی۔ موبائل میں سگنل نہیں تھے، اس لیے وہ مجبوراً اسی گھر میں پناہ لینے چلا گیا۔ دروازہ دھکا دیتے ہی خود بخود کھل گیا۔ اندر عجیب خاموشی تھی… ایسی خاموشی جس میں اپنی سانس بھی شور لگتی تھی۔ سیڑھیوں کے پاس دیوار پر دھول جمی ہوئی تھی، مگر اس دھول میں تازہ قدموں کے نشان بنے ہوئے تھے… ایسے نشان جو اوپر جا رہے تھے… نیچے نہیں آ رہے تھے۔ احمد نے خود کو سمجھایا، “شاید کوئی اور بھی یہاں پناہ لینے آیا ہوگا۔” وہ اوپر چڑھنے لگا۔ پہلی منزل پر ایک کمرہ کھلا تھا۔ کمرے میں صرف ایک پرانی کرسی تھی… اور کرسی آہستہ آہستہ خود ہل رہی تھی۔ کھڑکیاں بند تھیں۔ ہوا بالکل نہیں چل رہی…

Read more

بارش کے بعد جنگل میں ایک اجنبی بھیڑیا آیا۔ وہ نہ شکار کرتا تھا، نہ کسی سے لڑتا تھا۔ بس خاموشی سے ایک ہی بات کہتا تھا۔ “جسے جو چاہیے، مجھ سے لے لو… قیمت بعد میں دے دینا۔” پہلے دن خرگوش نے کہا،“مجھے لومڑی سے بھی تیز دوڑنا ہے۔” اگلی صبح وہ واقعی بجلی کی طرح دوڑنے لگا۔ ہرن نے مانگا،“مجھے کسی شکاری سے ڈر نہ لگے۔” اگلے دن اس کے دل سے خوف ختم ہو چکا تھا۔ مور نے کہا،“مجھے پورے جنگل میں سب سے خوبصورت بنا دو۔” وہ پہلے سے بھی زیادہ دلکش ہو گیا۔ ہر جانور خوش تھا۔ کوئی قیمت نہیں مانگی گئی۔ دن گزرتے گئے… پھر ایک صبح بھیڑیا واپس آیا۔ اس کے ہاتھ میں نہ سونے کی تھیلی تھی، نہ ہتھیار۔ صرف ایک پرانی سی کتاب تھی۔ وہ مسکرایا۔ “اب قرض واپس کرنے کا وقت ہے۔” خرگوش ہنس پڑا۔ “میرے پاس تو کچھ بھی…

Read more

جارجیا کے ایک دیہاتی علاقے کے فارم پر گھپ اندھیری رات ہے۔ اچانک کسان اپنی بھیڑوں کے خوفزدہ اور بے چین ممیانے کی آواز سن کر جاگ جاتا ہے۔ وہ اپنی شاٹ گن اٹھاتا ہے، چراگاہ کی طرف بھاگتا ہے، اور وہیں ساکت رہ جاتا ہے۔ کھیت کے بالکل بیچ میں اس کا گدھا ‘جیک’ کھڑا ہے۔ اس کے ارد گرد تین مردہ کویوٹی (جنگلی کتے) بکھرے پڑے ہیں۔ چوتھا اپنی پچھلی ٹانگ گھسیٹتا ہوا جھاڑیوں کی طرف لنگڑا کر بھاگ رہا ہے۔بھیڑوں کو خراش تک نہیں آئی۔ ان میں سے ایک ایک محفوظ ہے۔ دوسری طرف، جیک اتنے آرام سے گھاس چبا رہا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔رکھوالا گدھا: مویشیوں کا بہترین محافظزیادہ تر لوگ گدھوں کو ضدی، سست اور بیکار کارٹون کرداروں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ لیکن کسان—خاص طور پر امریکہ اور کینیڈا کے—اصل حقیقت جانتے ہیں: ایک رکھوالا گدھا مویشیوں کے تحفظ کے لیے…

Read more

کہتے ھیں ایک گرو اور اس کا چیلہ سفر کرتے ھوئے ایک عجیب شہر پہنچے۔ لوگوں نے بتایا: “یہ انصاف نگر ھے…” پھر ہنس کر بولے: “نام انصاف نگر ھے مگر یہاں انصاف صرف تختی پر لکھا ھے!” 😅 دونوں بازار گئے۔ پتہ چلا کہ آٹا، گھی، دودھ، تیل، دال ہر چیز ایک ھی قیمت پر! 😕😆 چیلہ خوشی سے بولا: “گرو جی! اس سے سستا اور بہترین شہر کہیں نہیں ھوگا، ھم یہیں رہتے ھیں!” گرو نے مُسکرا کر کہا: “بیٹا! جہاں ہر چیز کی ایک ھی قیمت ھو، وہاں انصاف نہیں عقل کی کمی ھوتی ھے!” مگر چیلہ نہ مانا۔ چند دن بعد دونوں عدالت جا پہنچے۔ ایک عجیب مقدمہ چل رہا تھا۔ ایک چور عدالت میں کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا: “ھم چوری کرنے گئے تھے، دیوار گر گئی، میرا ساتھی مر گیا مجھے انصاف چاہیے!” 😂 بس پھر کیا تھا… مہاجن نے معمار پر الزام…

Read more

ایک شخص کا انتقال ہو گیا۔جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں، اس نے دیکھا کہ خدا ایک پرانا سوٹ کیس ہاتھ میں لیے اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔خدا نے نرمی سے کہا، “اب چلنے کا وقت ہو گیا ہے۔”وہ شخص حیران نظر آیا۔ “اتنی جلدی؟ لیکن میرے تو ابھی بہت سے منصوبے تھے۔ بہت کچھ ایسا تھا جو میں کرنا چاہتا تھا۔”خدا نے جواب دیا، “مجھے افسوس ہے، لیکن زمین پر تمہارا وقت ختم ہو چکا ہے۔”اس شخص نے سوٹ کیس پر نظر ڈالی۔ “اس کے اندر کیا ہے؟”“وہ سب کچھ جو تمہارا ہے۔”اس نے امید بھری نظروں سے پوچھا، “میری چیزیں؟ میرے کپڑے، میرا گھر، میری جمع پونجی؟”خدا نرمی سے مسکرایا۔ “نہیں۔ وہ چیزیں کبھی واقعی تمہاری تھیں ہی نہیں۔ وہ کچھ وقت کے لیے دنیا کی تھیں، اور تم صرف ان کے چوکیدار (دیکھ بھال کرنے والے) تھے۔”“میری یادوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟”“وہ بھی کبھی…

Read more

ایک شام، ایک خاتون اپنی بیٹی کے اسکول میں اساتذہ اور والدین کی میٹنگ (Parent-Teacher Meeting) میں گئیں۔جب وہ چلی گئیں، تو ان کے شوہر اور بیٹی نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں سرپرائز دینے کے لیے کچن کی گہری صفائی کرنے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے راشن اور کھانے پینے کا سامان ترتیب سے رکھا، کاؤنٹرز کو صاف کیا، الماریاں اور شیلفیں چمکائیں، چولہا رگڑ کر صاف کیا، برتن دھوئے اور ہر چیز کو سلیقے سے سجا دیا۔جب وہ فارغ ہوئے، تو کچن بالکل صاف ستھرا اور چمکدار دکھائی دے رہا تھا۔پھر وہ امی کے گھر واپس آنے کا انتظار کرنے لگے۔تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد، وہ اندر آئیں، اپنا کوٹ اتارا، اسے الماری میں لٹکایا، کچن میں گئیں، اپنے لیے ایک گلاس پانی ڈالا، اور پھر ٹی وی دیکھنے کے لیے لیونگ روم کے صوفے پر ڈھیر ہو گئیں۔ان کے شوہر اور بیٹی ان کے پیچھے پیچھے کمرے…

Read more

600/723
NZ's Corner