جنگل میں ہنگامہ
سورج ابھی پوری طرح طلوع بھی نہیں ہوا تھا کہ جنگل میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔نیلے پانی کی جھیل کے سامنے جنگل کے سارے جانور جمع تھے۔سب ہی تیز تیز بولنے کی کوشش کر رہے تھے۔صبح سویرے ہی جنگل میں خلافِ معمول ہنگامہ مچ گیا تھا۔بی چڑیا نیلے پانی کی جھیل کے سامنے برگد کے درخت پر اپنے دو ننھے منے بچوں کے ساتھ ایک گھونسلے میں رہتی تھی۔برگد کا درخت بہت گھنا تھا اور اس میں کئی دوسرے پرندوں کے گھونسلے بھی تھے۔چڑیا معمول کے مطابق، صبح سویرے ہی اپنے ننھے منے بچوں کے لئے خوراک کی تلاش میں نکل جاتی تھی۔چڑیا کے جاتے ہی اس کے بچے بیدار ہو جاتے اور اُس وقت تک شور مچاتے رہتے، جب تک بی چڑیا جنگل سے کوئی دانا دُنکا، لا کر ان کے منہ میں نہ ڈال دیتی۔ بچوں کے جاگنے سے پہلے ہی خوراک کی تلاش میں نکل جایا کرتی…
غرور کا رنگ –
چاروں طرف جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی خوبصورت جھیل میں رنگ برنگی مچھلیاں رہتی تھیں۔وہیں بہت سارے مینڈک بھی رہتے تھے۔یہ بارشوں کا موسم تھا۔چھوٹے چھوٹے مینڈک جگہ جگہ پھدکتے نظر آتے۔جو ابھی نئے نئے دُم جھڑ جانے کے بعد ہاتھ پیر نکال کر مچھلی سے مینڈک کے روپ میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ سب یا تو ہرے رنگ کے تھے یا پھر بھورے رنگ کے۔لیکن سب مل کر کھیلتے اور مل کر کھاتے۔ان ہی میں ایک مینڈک نہ پورا ہرے رنگ کا تھا اور نہ بھورے رنگ کا، بلکہ دھنک کے رنگوں کی طرح کئی رنگوں کا امتزاج تھا۔اس کا نام ٹنکو تھا۔ابھی تک کسی نے اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا اور نہ ٹنکو کو معلوم تھا کہ وہ سب سے الگ ہے۔ایک دن خوب تیز دھوپ نکلی۔یہ ٹنکو کی زندگی کی پہلی دھوپ تھی۔ اب بارشوں کے دن ختم ہو رہے تھے۔ ”ارے واہ! ٹنکو کو دیکھو…
شاہی چور
سلطان محمود غزنوی کے زمانے میں شہر میں چوریاں زیادہ ہونے لگیں تو چوروں کو پکڑنے کے لئے شاہ نے یہ تدبیر کی کہ شاہی لباس اتار کر چوروں کا سا پھٹا پرانا لباس پہن لیا اور شہر میں گشت کرنے لگے۔ ایک جگہ دیکھا کہ بہت سے چور اکھٹے بیٹھے ہیں۔ بادشاہ بھی وہاں جاکر بیٹھ گیا۔چوروں نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ بادشاہ نے کہا کہ میں بھی تم ہی جیسا ایک آدمی ہوں۔ چوروں نے سمجھا کہ یہ بھی کوئی چور ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ ماہرینِ فن ہیں، کوئی عام چور نہیں ہیں، تم اپنا کوئی ہنر بتاؤ۔ اگر تمھارے اندر کوئی ہنر ہوگا تو تمھیں شریک کریں گے ورنہ نہیں۔بادشاہ نے کہا: آپ لوگ کیوں گھبراتے ہیں؟آپ لوگوں میں چوری کی جو صفت،ہنر اور فن ہے میرا ہنر اگر اس سے زیادہ پانا تو مجھے شریک کرنا ورنہ بھگادینا چوروں نے کہا کہ اچھا…
بھیڑیے کا بچّہ بھیڑیا ہی ہوتا ہے
عرب کے لٹیروں کا ایک گروہ کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا تھا۔ ادھر سے گزرنے والے قافلوں کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ پہاڑ کے نیچے جو راستہ تھا اس پر جب کوئی شخص یا قافلہ آتا تو لٹیرے پہاڑ سے اتر کر اسے لوٹ لیتے تھے۔ لوگوں نے ان کے ڈر سے اس طرف سفر کرنا چھوڑ دیا۔ پولیس اور فوج بھی ان لیٹروں کا پتہ نہ لگا سکی۔ کیونکہ جہاں وہ رہتے تھے بہت محفوظ جگہ تھی۔ وہاں پہنچنا آسان نہ تھا۔ بہت مدت تک یہ حالت رہی۔جب لوگ بہت پریشان ہو گئے تو اس ملک کے بادشاہ نے لٹیروں کا پتہ لگانے کے لیے ایک جاسوس مقرر کیا۔ اس نے کوشش کر کے وہ ٹھکانہ دیکھ لیا جہاں لٹیرے رہتے تھے۔ ایک دن فوج کا ایک دستہ اس پہاڑ پر پہنچ کر ایک گھاٹی میں چھپ رہا۔ لٹیرے کہیں ڈاکہ ڈالنے گئے ہوئے تھے۔ شام کے…
حقیقی اور پائیدار رزق صرف اللہ پر بھروسے اور حلال ذرائع سے ہی آتا ہے۔
ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ پہاڑی چراگاہوں میں رہتا تھا۔ ایک رات اسے ایک نہایت خوبصورت اجنبی ملا جس نے کہا کہ اگر وہ اپنی ایک بھیڑ ہر مہینے اسے بغیر کسی کو بتائے دے دیا کرے، تو وہ اس کے باقی ریوڑ کو ہر بیماری اور بھیڑیے سے محفوظ رکھے گا۔ لالچ میں آ کر چرواہے نے ہاں کر دی، اور کچھ عرصہ اس کا ریوڑ واقعی خوب پھلتا پھولتا رہا۔مگر ایک دن چرواہے کی ملاقات ایک بزرگ عالم سے ہوئی جسے اس نے اپنی “برکت” کا راز فخر سے سنایا۔ عالم کا چہرہ سن کر متفکر ہو گیا۔ اس نے کہا: “بیٹا، تم نے کسی نامعلوم مخلوق سے خفیہ معاہدہ کر کے اپنا رزق اس کے حوالے کر دیا ہے، جو کھلا شرک اور دھوکہ ہے۔ ظاہری برکت دراصل تمہیں مزید دلدل میں دھکیلنے کی چال ہے۔” عالم نے چرواہے کو سکھایا کہ وہ اس اجنبی…
کنجوسی کی سزا –
بہت دنوں کی بات ہے ۔بغداد میں ایک سوداگر رہتا تھا جس کا نام ابو قاسم تھا۔وہ بہت کنجوس تھا۔ایک ایک پیسے پر جان دیتا تھا۔ابو قاسم کے پس روپوں کے ڈھیر لگے تھے وہ انہیں روز گنتا اور بہت خوش ہوتا۔دن رات اسی فکر میں رہتا کہ کسی طرح اسکی دولت بڑھتی رہے مگر گھٹے نہیں سارے بغداد کو معلوم تھا کہ ابو قاسم بہت امیر آدمی ہے۔مگر ابو قاسم سب کو یہی کہتا کہ وہ بہت غریب آدمی ہے۔وہ روکھی سوکھی کھاتا تھا۔اسکے کپڑوں پر جگہ جگہ پیوند لگے ہوئے تھے اور اتنے گندھے ہوتے کہہ دیکھنے سے ہی گھن آتی تھی اور اسکے جوتے؟توبہ توبہ جوتے تو ایسے تھے کہ دیکھنے سے بھی گھن آتی بھکاریوں کے پاس بھی اچھے جوتے تھے ان جوتوں کی اتنی دفعہ مرمت ہوئی کہ اصل چمڑا غائب ہو گیا تھا اور پیوند ہی پیوند دکھائی دیتے تھے۔ ابو قاسم کے دوست…
برائی کا جواب –
ایک چونٹا بڑا محبتی اور شفیق تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی مند میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محبت سے کرتا تھا۔وہ وقت کی بھی بڑی قدرکرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا تو کسی سے بے مقصد بات نہ کرتا وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا چونٹا مل گیا تو دور ہی سے سلام دعا کرلی اور اپنی راہ پکڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دردمنددل کا مالک بھی تھا۔ اگر راہ میں کوئی مصیبت زدہ مل جاتا تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے بڑوں کی عزت کرتا اور چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آتا تھا۔اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔شریر اور گندے بچے گھنٹوں اس میلے…
سبق آموز۔۔۔! بدصورت گدھ۔۔! Instructive: The ugly vulture
ایک دن ایک گدھ راستے سے چل رہا تھا کہ اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت برتن زمین پر پڑا ہے۔ وہ حیران تھا اور یقین نہیں کر رہا تھا کہ اتنا خوبصورت برتن دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔ اچانک برتن نے گدھ سے کہا، “میرا نام اوپور ہے۔ میں مافوق الفطرت طاقتوں سے مالا مال ایک زبردست برتن ہوں۔ میں آپ کو خوبصورت بنا سکتا ہوں کیونکہ میں خوبصورتی کی دیوی ہوں۔ میں نے ہزاروں پرندوں اور جانوروں کو خوبصورتی سے نوازا ہے۔ یہاں، صرف میرے مائع کو پیو، اور تم ایک خوبصورت اور دلکش پرندے میں تبدیل ہو جاؤ گے، میں نے بہت سے پرندوں کو، طوطے، فلیمنگو، فیزنٹ، کوکاٹو اور ہر ایک کو منفرد خوبصورتی سے نوازا ہے۔” گدھ نے برتن کو مشکوک نظروں سے دیکھا، ہچکچاتے ہوئے سر ہلایا، اور پھر سیٹی بجائی، “میں تم پر یقین نہیں رکھتا، اور مجھے تم پر بھروسہ نہیں…
نادان بڑھیا –
جنگل کے کنارے بی جھونپڑی میں ایک بڑھیا بالکل اکیلی رہتی تھی وہ گزر بسر کے لئے جنگلی پھل کھاتی اور قریب ہی بہتی ندی کا پانی اور اس کی مچھلیاں بھی استعمال کرتی تھی۔ایک دن بڑھیا مچھلی پکڑنے ندی کنارے گئی۔تو وہاں اسے ایک عقاب زخمی حالت میں ملا۔بڑھیا مچھلی چھوڑ کر جلدی سے زخمی عقاب کو جھونپڑی میں لے آئی۔اور اس کا علاج اور مدد کرتی رہی۔مرہم پٹی کے بعد بڑھیا نے اسے آرام سے گھاس پھوس پر لٹا دیا۔کچھ دن بعد عقاب بالکل ٹھیک ہو گیا تو اس نے اُڑان بھری،اور یہ جا دو جا لیکن کچھ دیر بعد آکر بڑھیا کے پاس بیٹھ گیا اور احسان مند نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔جیسے وہ اپنی زندگی بچانے پر بڑھیا کا شکریہ ادا کر رہا ہو۔بڑھیا اس وقت مچھلی پکڑنے جا رہی تھی چلتے چلتے بڑھیا کی نظر عقاب کے ناخنوں پر پڑی تو وہ رُک گئی اور…
نیک دل شہزادہ –
مصر میں ایک نیک دل شہزادہ حکومت کرتا تھا۔ وہ تھا شہزادہ مگر نہ تو اس میں شاہوں والا غرور تھا اور نہ ہی وہ جاہ وجلال ۔وہ عام انسانوں کی طرح زندگی بسر کرتا۔ روکھی سوکھی کھاتا بیشتر وقت اپنی رعایا کی خدمت اور خدا کی یاد میں بسر کرتا۔اس کی نیک چلنی کا پوری ریاست میں چرچا تھا۔ اسے یہ خصوصیات اپنے رحمدل باپ سے وراثت میں ملی تھیں ۔ایک دن شہزادہ معمول کے مطابق رعایا کے مسائل سننے کے بعد جنگل میں ،دنیا سے بے نیاز ،خدا کی یاد میں محو تھا ،کہ اس نے دیکھا کہ ایک غریب لکڑہارا اپنے گدھے کو ساتھ لئے ہوئے لکڑیاں کاٹ رہا ہے اور اس سے باتیں بھی کیے جا رہا ہے حالانکہ اسے معلوم تھا کہ نہ تو گدھا اس کی بات سن رہا ہے نہ ہی سمجھ رہا ہے اور پھر دوڑ اروقطار رونے لگا۔(جاری ہے) شہزادہ یہ…
بلاعنوان
ایک پاکستانی میاں صاحب اپنے ہندوستانی نواب دوست کی دعوت پر انڈیا گئے۔ 🇵🇰🤝🇮🇳 کھانے کے دوران میاں صاحب بولے: > “نواب صاحب! اگر ذرا دہی مل جائے تو کھانے کا مزہ دوبالا ھو جائے!” 😋 نواب صاحب نے فوراً نوکر کو آواز دی:> “ارے بھئی! فوراً بازار سے دہی لے آؤ!” 😊 نوکر باہر نکلا، اور نواب صاحب نے بڑے فخر سے Live Commentary شروع کر دی۔ 😎 > “اب وہ دروازے سے نکل گیا ھے…”“اب گلی کا موڑ مڑ رہا ھے…”“اب دکان پر پہنچ گیا…”“اب دہی خرید لی ھے…”“اور اب واپس آ رہا ھے…” چند لمحوں بعد نواب صاحب نے آواز لگائی:> “ارے بھئی! دہی لے آئے؟” 😃 اندر سے آواز آئی:> “جی حضور! لے آیا!” 😌 میاں صاحب تو یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے! 😳 چند ماہ بعد نواب صاحب پاکستان آئے، تو میاں صاحب نے سوچا:> “آج میں بھی اپنی شان دکھاتا ھوں!” 😏 کھانے…
بلاعنوان 😂
ایک بیوی نے سوچا: > “آج دیکھتی ھوں، اگر میں اچانک گھر چھوڑ دوں تو میرے شوہر کا کیا حال ھوتا ھے!” 😏 اس نے ایک خط لکھا: > “میں تُم سے تنگ آ چکی ھوں اور اب میں ہمیشہ کے لیے جا رھی ھوں!” 💔 خط میز پر رکھا…اور خود خاموشی سے بیڈ کے نیچے جا کر چھپ گئی۔ 😶 کچھ دیر بعد شوہر گھر آیا۔ 🚶اس نے خط پڑھا…👀اور اچانک خوشی سے سیٹیاں بجانا شروع کر دیں! 🎶 پھر گانا گاتے ھوئے الماری سے کپڑے نکالے، اور فون ملا کر بولا:> “جان! مبارک ھو!” 😍> “آج میری آزادی کا دن ھے!” 🥹 > “میں اپنی بیوی سے بہت تنگ تھا!” 😒> “آخرکار وہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی!” > “بس 10 منٹ میں تم سے ملنے پہنچ رہا ھوں!” 🤩 یہ سن کر بیڈ کے نیچے چھپی بیوی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ 😢 وہ دل ھی…
حکمت
ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اس کے تمام دانت گر گئے ہیں۔ صبح اس نے اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لیے دربار کے سب سے بڑے عالم کو بلایا۔ عالم نے تعبیر سنی اور کہا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کے تمام خاندان والے آپ سے پہلے وفات پا جائیں گے۔” یہ سن کر بادشاہ غصے میں آ گیا اور عالم کو قید میں ڈلوا دیا۔کچھ دنوں بعد بادشاہ نے ایک اور، کم مشہور مگر دانا شخص کو بلایا اور وہی خواب دہرایا۔ اس شخص نے مسکرا کر جواب دیا: “بادشاہ سلامت، یہ خواب بتاتا ہے کہ آپ کی عمر آپ کے سارے خاندان سے زیادہ لمبی ہوگی، اور آپ سب سے زیادہ عرصہ زندہ رہیں گے۔” بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اسے قیمتی انعام سے نوازا۔جب درباریوں نے حیرانی سے پوچھا کہ دونوں کی تعبیر تو دراصل ایک ہی بات…
ویران حویلی
پشاور کے قریب ایک پرانا گاؤں تھا جہاں ایک ویران حویلی صدیوں سے خالی پڑی تھی۔ کہا جاتا تھا کہ اس میں جنات کا بسیرا ہے اور جو بھی رات کو وہاں جاتا، صبح تک پاگل ہو جاتا یا کبھی واپس ہی نہ آتا۔ گاؤں کا ایک نوجوان، اکرم، جو ابھی نیا نیا نماز اور تلاوت کی طرف مائل ہوا تھا، ایک شرط کے تحت اس حویلی میں رات گزارنے پر راضی ہو گیا تاکہ گاؤں والوں کا خوف ختم کرے۔رات کے پہلے پہر، حویلی کا درجہ حرارت اچانک گر گیا اور کمرے میں عجیب سرسراہٹ گونجنے لگی۔ دیواروں پر پرچھائیاں حرکت کرنے لگیں اور ایک بھاری آواز نے اسے ڈرانے کی کوشش کی: “نکل جا یہاں سے، ورنہ برا ہوگا!” اکرم کا دل زور سے دھڑکا، مگر اس نے اپنی والدہ کی سکھائی ہوئی نصیحت یاد کی — خوف کے وقت سورۃ الفلق، سورۃ الناس اور آیت الکرسی پڑھو۔…
🔥😂 حاجی صاحب اور مالشی! 😂💁♂️
ایک حاجی صاحب مالش کروا رھے تھے۔ 😌 اتنے میں ایک آدمی آیا اور بولا: “کیا حال ھے حاجی صاحب؟ آج کل نظر ھی نہیں آتے!” 😄 حاجی صاحب خاموش رھے… پھر وہ شخص بولا: “اچھا، میں آپ کی سائیکل لے جا رہا ھوں!” 🚲 اور سائیکل لے کر غائب! 😳 کچھ دیر بعد مالشی نے پوچھا: “حاجی صاحب! آپ کا دوست ابھی تک میری سائیکل واپس نہیں لایا؟” حاجی حیران ھو کر بولے: “کون دوست؟ میں تو اسے جانتا ھی نہیں!” 😐 مالشی سر پکڑ کر بیٹھ گیا: “حاجی صاحب! وہ تو میری سائیکل لے گیا!” 😭 حاجی صاحب بولے: “رو مت…! میں تمہیں نئی سائیکل لے دیتا ھوں۔” ❤️ دونوں دکان پر گئے… مالشی نے نئی سائیکل پسند کی، ایک چکر لگایا، پھر بولا: “حاجی صاحب! لگتا ھے سائیکل ذرا ٹیڑھی چل رھی ھے۔” 🤔 حاجی بولے: “لاؤ، میں چیک کرتا ھوں۔” حاجی سائیکل لے کر نکلے… اور…
گناہ برباد،نیکی لازم –
عاصم ایک پریشان حال آدمی تھا۔اس کے چھ بچے تھے اور وہ کرائے کے مکان میں رہتا تھا۔وہ کسی نہ کسی طرح کرائے کا مکان حاصل تو کر لیتا،مگر کچھ ہی عرصے میں مالک مکان بچوں کی تعداد سے تنگ آ جاتا اور کسی نہ کسی بہانے سے عاصم کو مکان خالی کرانے کا نوٹس دے دیتا۔اس طرح عاصم ہر وقت اس کوشش میں مصروف رہتا کہ کسی طرح مالک مکان کو راضی رکھے اور ساتھ ہی نیا مکان بھی ڈھونڈ رہا ہوتا۔ ان دنوں بھی وہ اسی پریشانی کا شکار تھا۔مالک مکان اس کی پریشانی کو نہ سمجھ رہا تھا اور نہ اس کے ساتھ کوئی تعاون کرنے کو تیار تھا۔اس نے آخری مہلت دے رکھی تھی اور ہر دوسرے دن پوچھتا رہتا کہ کوئی مکان ملا؟عاصم اس سے تنگ آ چکا تھا۔وہ ایک پراپرٹی کمپنی کے کم پڑھے لکھے مالک کا ملازم تھا۔( مالک کو جو کہنا ہوتا،وہ…
الو کی عقلمندی –
سائبیریا کے گھنے اور پُراسرار جنگل میں جہاں دن کے وقت بھی رات کا سماں رہتا تھا، وہاں ایک خوبصورت اور برا اُلو رہتا تھا، اس کا نام نور تھا۔نور کو سارا جنگل عقلمند اور دانا سمجھتا تھا۔جنگل کے تمام جانور مشکل وقت میں اس سے مشورہ کرنے آتے تھے، وہ ہمیشہ ایسا مشورہ دیتا جو سننے والے کی پریشانی دور کر دیتا تھا۔نور ایک پرانے صنوبر کے درخت کی کھوہ میں رہتا تھا۔لیکن جب وہ بوڑھا ہو گیا تو نوجوان ہوتی نسل اس کا دبے لفظوں میں مذاق اُڑانے لگی تھی کہ یہ تو تنہائی پسند ہے اور ہر وقت خاموش رہتا ہے، اس کی عقلمندی کی صرف کہانیاں ہی مشہور ہیں کچھ نہیں کرتا۔نوجوان لومڑی زیادہ گستاخ تھی وہ اکثر کہتی تھی کہ نور چاچا اتنا ہی سمجھدار ہے تو ہمیں شکاریوں سے محفوظ رہنے کے طریقے بتائے جس سے ہم شکاریوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔…
چوہا لنڈورا ہی بھلا
پہاڑ کے دامن میں چشمے کے قریب ایک چوہے اور ایک چوہیا نے بِل بنایا ہوا تھا۔وہ ہر روز اپنے بِل سے باہر آتے،چشمے کے قریب ہی جھولا موجود تھا،جو اُلجھی ہوئی جھاڑیوں سے بن گیا تھا۔وہ کھیلتے،اُچھلتے کودتے اور اپنے بِل میں گھس جاتے تھے۔ایک دن دونوں بِل سے باہر آئے اور چشمے کے پاس بنے جھولے پر جھولا جھولنے لگے۔اسی وقت ایک بلی قریب سے گزری۔اس نے دونوں کو کھیلتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ان دو موٹے تازے چوہوں کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی بھر آیا،وہ ایک پتھر کی اوٹ میں بیٹھ کر کافی دیر تک دیکھتی رہی۔پھر سامنے آکر بولی:”کیا تم میرے ساتھ کھیلنا پسند کرو گے؟“بلی کی آواز سن کر دونوں اپنے بِل کی طرف بھاگے بلی نے کہا:”کہاں جا رہے ہو،تم مجھے اپنا دوست ہی سمجھو۔ “”بھلا آگ اور پانی کی کیا دوستی،تم ہماری دوست کبھی نہیں ہو سکتی۔“چوہے نے بِل میں گھستے…
قسمت صبر اور ذہانت کی کہا نی
ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک غریب شخص ریگستان میں سفر کر رہا تھا اسے بہت بھوک اور پیاس لگی تھی۔اس کے پاس کھانا اور پانی بھی موجود نہیں تھا۔وہ بہت پریشان تھا اس ویران ریگستان میں پانی اور کھانا کہاں سے حاصل کرے۔چلتے چلتے اس کی نظر ایک جنگلی مرغ پر پڑی۔وہ بہت خوش ہوا۔اور مرغ کے پاس پہنچا اور اسے کہنے لگا۔چلو کھانے کو کچھ ملا۔جو قسمت میں ہو وہ مل ہی جاتا ہے۔مرغ نے اس کی بات سن کر اسے جواب دیا۔قسمت سے زیادہ اگر تم اپنی ذہانت کا استعمال کرو تو تم اپنی قسمت کو بھی بہتر بنا سکتے ہو۔اس شخص نے مرغ سے کہا تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں نا کھاؤں اور بھوکا رہوں۔مرغ نے اس شخص سے کہا! سوچ لو میں تمہارے لیے ایک وقت کا کھانا ہوں اگر تم مجھے نا کھاؤ اور تھوڑا صبر کر لو تو ہو سکتا ہے تمہاری…
اپنی کلہاڑی، اپنا پاوٴں –
حامد کے چلتے قدم رک گئے۔اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں۔ اس نے چاروں طرف نظریں گھما کر دیکھا ۔ یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کو کوئی دیکھ تو نہیں رہا جلدی سے ماسٹر حنیف کے گھر کے سامنے پڑے ہوئے ہزار روپے کے نوٹ کواُٹھا کر اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ ایک لمحے کے لئے اس کے ضمیر نے اسے جھنجوڑا:” بری بات ہے،یوں راستے میں پڑی ہوئی چیز کے مالک نہیں بن جاتے ، بلکہ مالک تک تو چیز پہنچا دیتے ہیں۔یقینا یہ ماسٹر حنیف کا نوٹ ہوگا۔ ان سے پوچھ لو اور ساتھ ہی آس پاس کے دو چار گھروں سے بھی معلوم کر لو جس کا ہو اس تک پہنچا دو ، بڑا ثواب ملے گا۔“گردن جھٹخ کر وہ اپنے آپ سے بولا:”واپس کیسے کردوں میں تو مزے اُڑاوٴں گا برگر، سموسے ، چاٹ، دہی بھلے اور بہت سی مزے مزے کی چیزیں کھاوں…