Tag Archives: ،urdublogs

ایک بادشاہ اپنے عقل مند وزیر کے ساتھ اکثر سفر پر جایا کرتا تھا۔ وزیر ہر معاملے میں دانائی سے مشورہ دیتا اور آخر میں ایک جملہ ضرور کہتا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ کو کبھی کبھی یہ بات بہت ناگوار گزرتی۔ ایک دن دونوں شکار کے لیے جنگل گئے۔ اچانک جنگلی جانوروں نے حملہ کر دیا۔ کئی محافظ مارے گئے اور بادشاہ بھی شدید زخمی ہوگیا۔ اس کی ایک انگلی کٹ گئی۔ وزیر نے بادشاہ کو دیکھا اور حسبِ معمول کہا: “بادشاہ سلامت، جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” بادشاہ غصے سے آگ بگولا ہوگیا۔ “میری انگلی کٹ گئی، میں درد سے تڑپ رہا ہوں، اور تم کہتے ہو یہ بہتر ہے؟!” غصے میں بادشاہ نے وزیر کو ایک گہرے کنویں میں دھکا دے دیا اور اکیلا آگے بڑھ گیا۔ وزیر کنویں سے بھی یہی کہتا رہا: “جو ہوتا ہے، اللہ بہتر کرتا ہے۔” کچھ…

Read more

ایک لڑکے کو ڈاکٹر پسند آ گئی… اب جناب کیا کرتے…؟ وہ اپنے بزرگ والد کو روز کسی نہ کسی بہانے ہسپتال لے جانے لگا۔والد بیچارے سمجھتے رہے کہ بیٹا کتنا خیال رکھتا ہے… اصل میں معاملہ کچھ اور ہی تھا! جس ڈاکٹر کے پاس جاتے تھے وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ انتہائی خوش اخلاق بھی تھی۔ہر مریض سے پیار سے بات کرتی، خاص طور پر اس لڑکے کے والد کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ ایک دن ڈاکٹر نے والد صاحب کو تھوڑا ڈانٹتے ہوئے کہا:“آپ دوائیاں وقت پر نہیں لیتے، اپنا خیال نہیں رکھتے!” یہ سن کر لڑکے کے دل میں لڈو پھوٹے…اس نے آہستہ سے اپنے والد کے کان میں کہا: “ابا… اگر یہ ڈاکٹر ہمارے گھر آ جائے نا… تو آپ کا کتنا خیال رکھے گی!” والد صاحب نے ایک لمحہ سوچا… پھر بولے: “بیٹا بات تو تمہاری بالکل ٹھیک ہے…ابھی میری عمر ہی کیا ہے،…

Read more

ایک چینی بزنس مین کی کمپنی ایک عرصے تک سعودی عرب میں کام کرتی رہی تھی۔ بعد ازاں اس نے کمپنی کا انتظام اپنے بیٹے کے سپرد کیا اور خود چین واپس آ گیا۔اس کی خواہش تھی کہ زندگی کے آخری حصے میں اپنے وطن کے پسماندہ علاقوں میں جا کر لوگوں کی خدمت کرے اور اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنے۔ایک روز وہ چین کے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے گزر رہا تھا کہ اس کی نظر ایک نوجوان لڑکی پر پڑی۔ وہ ایک معذور بزرگ خاتون کو ویل چیئر پر بٹھا کر لے جا رہی تھی۔ شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود دونوں نے اپنے سروں اور جسم کو پلاسٹک کی بوریوں سے ڈھانپ رکھا تھا۔یہ منظر دیکھ کر بزنس مین رک گیا۔اس نے قریب جا کر ان کا حال پوچھا اور حیرت سے پوچھا:“اتنی شدید گرمی میں آپ دونوں نے پلاسٹک کی بوریاں…

Read more

ایک سلطنت کا بادشاہ بہت عقل مند مشہور تھا۔وہ اکثر اپنے وزیروں اور درباریوں سے ایسے سوال پوچھتا جن کا جواب صرف کتابوں میں نہیں، عقل میں چھپا ہوتا تھا۔ایک دن بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:“جو شخص مجھے یہ بتا دے کہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔”دربار میں خاموشی چھا گئی۔کسی نے کہا، “لالچ۔”کسی نے کہا، “غصہ۔”کسی نے کہا، “غرور۔”بادشاہ کسی جواب سے مطمئن نہ ہوا۔اگلے دن ایک بوڑھا شخص دربار میں حاضر ہوا۔اس نے کہا:“بادشاہ سلامت! انسان کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھنا ہے کہ وہ ہمیشہ درست ہے۔”بادشاہ نے پوچھا،“تم ایسا کیوں کہتے ہو؟”بوڑھے نے جواب دیا:“کیونکہ جو شخص اپنی غلطی ماننے سے انکار کر دے، وہ اپنی غلطی کو درست ثابت کرنے کے لیے ہزاروں غلط فیصلے کر سکتا ہے۔”بادشاہ کچھ دیر خاموش رہا۔پھر اس نے اپنے وزیروں کی طرف دیکھا اور کہا:“آج سے میرے…

Read more

ایک مالدار تاجر کا اکلوتا بیٹا تھا۔ جب وہ پندرہ سال کا ہوا تو اسے چند ایسے لڑکوں کی صحبت مل گئی جو سارا دن آوارہ گردی، عیش و عشرت اور دوسروں کے پیسوں پر موج اڑانے میں مصروف رہتے تھے۔ وہ روز اسے اپنے ساتھ لے جاتے اور اس کی جیب سے اچھی خاصی رقم خرچ کروا دیتے۔ تاجر کئی دن خاموشی سے سب کچھ دیکھتا رہا۔ آخر ایک دن اس نے بیٹے کو اپنے پاس بلایا اور نرمی سے کہا: “بیٹا! انسان کی پہچان اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ اچھی صحبت انسان کو سنوار دیتی ہے اور بری صحبت اسے برباد کر دیتی ہے۔” بیٹا مسکرا کر بولا: “ابا جان! آپ میرے دوستوں کو نہیں جانتے۔ وہ میرے سچے دوست ہیں۔ اگر کبھی مجھ پر مشکل وقت آیا تو وہ سب سے پہلے میرے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” تاجر نے کچھ دیر بیٹے کو دیکھا، پھر کہا:…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک وسیع اور خوشحال سلطنت پر ایک نیک دل، بہادر اور انصاف پسند راجا حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا اپنے راجا سے بہت خوش تھی، کیونکہ اس کے دور میں ہر طرف امن، خوشحالی اور انصاف کا بول بالا تھا۔ راجا کے چار بیٹے تھے۔ وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور چاہتا تھا کہ اس کے بعد تخت پر وہی بیٹا بیٹھے جو واقعی ایک اچھا حکمران بننے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ ایک دن راجا نے چاروں راجکماروں کو دربار میں بلایا اور کہا: “میرے بچو! میں اب بوڑھا ہو چکا ہوں۔ وقت آ گیا ہے کہ میں اپنے جانشین کا انتخاب کروں۔ لیکن میں یہ فیصلہ عمر یا پیدائش کی بنیاد پر نہیں کروں گا۔ تم میں سے جو سب سے زیادہ سمجھدار، سچا اور قابل ثابت ہوگا، وہی اس سلطنت کا اگلا راجا بنے گا۔” چاروں راجکمار حیرت سے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کے دو خاص مصاحب تھے، مگر دونوں ایک دوسرے کے سخت دشمن تھے۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ ایک دن موقع پا کر ایک مصاحب نے بادشاہ کے کان بھرنے شروع کیے: “حضور! آپ کا دوسرا مصاحب بہت منحوس ہے۔ اگر کوئی شخص صبح اٹھ کر اس کا چہرہ دیکھ لے تو اسے پورا دن کھانا نصیب نہیں ہوتا۔ میں نے خود کئی بار یہ بات آزمائی ہے۔ ایسا شخص آپ کی قربت کے قابل نہیں۔” بادشاہ نے مسکرا کر کہا: “اگر تم نے اس کا چہرہ دیکھنے کے بعد کسی دن کھانا نہیں کھایا تو اس میں اس بے چارے کا کیا قصور؟ ممکن ہے اس دن تم کام میں ایسے مصروف رہے ہو کہ کھانے کا وقت ہی نہ ملا ہو۔” چغل خور نے فوراً کہا: “حضور! میں جھوٹ نہیں بول رہا۔ اگر آپ کو یقین نہیں…

Read more

واٹسن نامی ایک لکھ پتی سوداگر ایک دن صبح کے وقت کہیں جانے کو تیار تھا۔ نوکر ناشتے کی میز لگائے منتظر کھڑے تھے کہ اتنے میں ایک بھوکے بوڑھے نے آکر سوال کیا۔ سوداگر صاحب! میں تین دن سے بھوکا ہوں۔ کچھ کھانا ہو تو خُدا کی راہ میں دلوا دو تاکہ میں بھی پیٹ کے دوزخ کو بھر لوں۔ “ واٹسن نے نہایت کراہت سے کہا۔ ”احمق بوڑھے ! یہ نانبائی کی دکان نہیں۔“ بوڑھے نے کہا۔ ”کچھ پیسے ہی دے دیجیے کہ بازار سے روٹی خرید لوں۔“ واٹسن بولا۔ بس اب تقریر بازی ختم کر کے فوراً دفع ہو جاؤ۔ ورنہ ابھی کتا مزاج پرسی کرے گا۔“ غریب خاموش ہو کر نہایت بے دلی کے ساتھ چلا گیا۔ لیکن واٹسن جوں ہی میز پر بیٹھا اُسے معلوم ہوا کہ کسی بے احتیاطی سے چائے مکھن اور میوے کو مٹی کا تیل لگ گیا ہے اور سب چیزوں…

Read more

کرائے کے مکان میں رہتے ہیں تو اوپر کے پورشن میں ایک اور فیملی رہتی ہے۔۔ پتا چلا کہ وہ دوسری کالونی میں شفٹ ہو رہے ہیں اور یہ مکان چھوڑ دیں گے۔۔کافی اچھے اور معقول لوگ ہیں۔۔ لیکن کچھ دنوں سے میں دیکھ رہا تھا کہ بندے کا انداز کافی سیریس سیریس سا تھا۔۔ آج اتوار ہونے کی وجہ سے میں دن میں کپڑے دھو کر تار پر ڈال رہا تھا تو وہ بندہ اوپر سے سیڑھیاں اترتا نظر آیا۔۔۔ میں نے سلام کیا تو وہ رک گیا اور روکھے سے انداز میں جواب دیا۔۔ میں نے مکان کی شفٹنگ کا پوچھا تو بولا۔۔ “ہاں جا رہے ہیں ایک آدھ دن میں”۔۔ میں نے اس کے خشک لہجے کو محسوس کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کچھ ناراض ناراض سے لگتے ہیں، کوئی ایشو ہے کیا۔۔؟ کہنے لگا۔۔”ہاں جی ایشو ہے”۔۔ میں نے کہا۔۔ “آپ مجھے بتانا پسند کریں گے”..…

Read more

بشار بن برد کا ایک گدھا مر گیا تو اس نے کہا:’’میرا گدھا قاضیوں سے بھی زیادہ سمجھ دار تھا؛ نہ اس سے کبھی کوئی لغزش ہوئی اور نہ کوئی خطا۔ اچانک، جب کہ کسی کو اس کے بیمار ہونے کا گمان بھی نہ تھا، وہ بیمار پڑا اور مر گیا۔پھر میں نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے کہا: کیا میں تیرے لیے جو صاف نہ کیا کرتا تھا؟ اور تیرے لیے پانی ٹھنڈا نہیں کرتا تھا؟ پھر تیری موت کا سبب کیا ہوا؟ اس نے کہا: کیا تمہیں یاد ہے جب تم مجھے دوا فروش، یعنی عطار، کے پاس لے کر کھڑے ہوئے تھے؟میں نے کہا: ہاں۔اس نے کہا: اسی وقت ایک گدھی وہاں سے گزری، تو میں اس پر فریفتہ ہوگیا اور اس کی محبت میں مر گیا۔بشار نے کہا: میں نے اس سے پوچھا: کیا تم نے اس بارے میں کچھ شعر بھی کہے تھے؟اس…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے، ایک بادشاہ تھا جس کے پاس دنیا کی شاید ہی کوئی ایسی نعمت تھی جو خریدی نہ جا سکتی ہو۔ محل سنگِ مرمر سے بنا تھا، فرشوں پر ریشم بچھا تھا، خواب گاہ میں نرم ترین بستر، خوشبودار عطر، قیمتی پردے اور ہر وہ آسائش موجود تھی جسے انسان سکون کا نام دے سکتا ہے۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ اسی محل میں ایک ایسی چیز نہیں تھی جس کے لیے بادشاہ ترس رہا تھا: نیند۔ رات آتی تو محل کی روشنیاں بجھ جاتیں، پہرے دار اپنی جگہ سنبھال لیتے، خادم خاموشی سے دروازے بند کر دیتے، مگر بادشاہ کی آنکھوں سے نیند کو جیسے کوئی پرانی دشمنی تھی۔ وہ کروٹ بدلتا، پھر دوسری کروٹ، کبھی آنکھیں بند کرتا، کبھی کھول دیتا۔ کبھی نرم تکیے پر سر رکھتا، کبھی بستر بدلوا دیتا۔ کبھی طبیب بلاتا، کبھی حکیم، کبھی دور دراز کے ملکوں سے…

Read more

ایک زمانے کی بات ہے، ایک ملک میں ایک بڑا ظالم اور مغرور بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام شاہ بہرام تھا اور وہ اپنی طاقت پر اتنا گھمنڈ کرتا تھا کہ کسی کی بات سننے کو تیار نہ ہوتا۔ اگر کسی نے اس کے مزاج کے خلاف کوئی بات کہہ دی تو اس کی خیر نہ ہوتی۔شاہ بہرام کے دربار میں ایک حجام تھا جس کا نام جلال تھا۔ جلال اپنے کام میں بہت ماہر تھا، اس کے ہاتھ میں صفائی اور تیزی تھی۔ بادشاہ کو بھی اس کی مہارت پر بھروسہ تھا، اس لیے جلال ہی ہر روز بادشاہ کی حجامت کرتا تھا۔ جلال چونکہ ہر روز بادشاہ کے بہت قریب ہوتا تھا، اس لیے اس میں ایک خاص بات پیدا ہوگئی تھی: وہ بادشاہ کے مزاج کو پہچاننے لگا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کب بادشاہ خوش ہے اور کب غصے میں۔ایک دن صبح کے وقت،…

Read more

ایک انگریز کو بچپن سے ہی عجیب سا خوف تھا کہ جب بھی وہ سوتا ہے، اس کے بیڈ کے نیچے کوئی نہ کوئی ضرور چھپا ہوتا ہے۔ وقت گزرتا گیا، وہ بڑا ہوگیا، مگر اس کا خوف ختم نہ ہوا۔ آخرکار تنگ آ کر وہ ایک ماہرِ نفسیات کے پاس پہنچا اور بولا: “ڈاکٹر صاحب! کوئی علاج کریں، ورنہ میں اس خوف سے پاگل ہو جاؤں گا!” ماہرِ نفسیات نے کہا:“بالکل علاج ہو سکتا ہے۔ ہفتے میں تین دن میرے پاس آنا ہوگا، ایک سال میں آپ کا مسئلہ گارنٹی کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔” انگریز نے پوچھا:“فیس کتنی ہوگی؟” ڈاکٹر نے کہا:“200 ڈالر فی وزٹ۔” انگریز بولا:“ٹھیک ہے، میں سوچ کر بتاتا ہوں۔” تقریباً ایک سال بعد ایک تقریب میں دونوں کی ملاقات ہوگئی۔ ماہرِ نفسیات نے حیرت سے پوچھا:“ارے! تم میرے پاس علاج کے لیے آئے ہی نہیں؟” انگریز مسکرا کر بولا:“میرا مسئلہ تو میرے ایک…

Read more

ایک غریب آدمی کو کسی ضروری کام سے کئی ماہ کے لیے دوسرے شہر جانا پڑا۔ روانگی سے پہلے اس نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی، ایک ہزار روپے، ایک مشہور ساہوکار کے پاس امانت رکھوا دی۔ غریب نے ساہوکار پر بھروسہ کیا، اس لیے نہ کوئی رسید لی اور نہ کسی کو گواہ بنایا۔ چھ ماہ بعد جب وہ واپس آیا تو سیدھا ساہوکار کی دکان پر پہنچا۔ اس نے کہا:“سیٹھ جی! میری امانت واپس کر دیں۔” ساہوکار نے حیرت کا ڈرامہ کرتے ہوئے کہا:“کون سی امانت؟ میں نے تم سے کوئی رقم نہیں لی!” غریب کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ منت سماجت کرتا رہا:“سیٹھ جی! اللہ کے واسطے، میرے ایک ہزار روپے واپس کر دیں۔ میں نے آپ ہی کے پاس رکھوائے تھے۔” مگر ساہوکار ٹس سے مس نہ ہوا۔ غریب کئی دن تک اس کی دکان کے چکر لگاتا رہا، مگر ہر بار…

Read more

ایک پہلوان ٹرین میں سوار ہوا، مگر بدقسمتی سے اسے بیٹھنے کے لیے کہیں جگہ نہ ملی۔ کافی دیر تلاش کرنے کے بعد اسے ایک سیٹ نظر آئی، جس پر ایک انگریز بڑھیا بیٹھی تھی اور اس کے ساتھ اس کا کتا بھی سیٹ پر براجمان تھا۔ پہلوان نے مؤدبانہ انداز میں کہا: “محترمہ! اگر آپ اپنے کتے کو نیچے اتار دیں تو میں بھی بیٹھ جاؤں گا۔” بڑھیا غصے سے بولی: “میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان خاموشی سے آگے بڑھ گیا۔ اس نے پوری ٹرین کا ایک چکر لگایا، مگر کہیں بھی جگہ نہ ملی۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اسی سیٹ کے پاس آیا اور بولا: “محترمہ! براہِ کرم اپنے کتے کو نیچے اتار دیجیے، مجھے واقعی بیٹھنے کی جگہ چاہیے۔” بڑھیا پہلے سے زیادہ غصے میں بولی: “میں نے کہا نا، میرے کتے کو ہاتھ مت لگانا!” پہلوان نے کچھ نہیں کہا۔ وہ سکون سے…

Read more

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک گرم اور ریتلے علاقے میں رہنے والا ایک غریب آدمی اپنے بادشاہ کی سخاوت کے قصے اکثر سنتا تھا۔ اس کے دل میں خیال آیا: “اگر میں بھی بادشاہ کے لیے کوئی تحفہ لے جاؤں تو شاید وہ میری قدر کرے۔” لیکن سوال یہ تھا کہ وہ تحفہ کیا لے جائے؟ اس علاقے میں پانی بہت قیمتی تھا۔ دور دور تک نہ دریا تھا، نہ کنواں۔ بارش کے بعد تالابوں میں جمع ہونے والا پانی ہی لوگوں کے لیے زندگی کا سہارا تھا۔ غریب آدمی نے سوچا، “میں بادشاہ کے لیے پانی کا ایک گھڑا لے جاؤں گا۔ میرے علاقے میں اس سے قیمتی تحفہ اور کیا ہو سکتا ہے؟” اس نے ایک گھڑا صاف پانی سے بھرا اور کئی دنوں کا طویل سفر طے کرکے بادشاہ کے شہر پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر اسے ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ بادشاہ دریا کے…

Read more

نوکر کی جیب سے نکلا ایک خط، اور امیر نے ایسا فیصلہ کیا کہ سب حیران رہ گئے گرمی کی ایک دوپہر تھی۔ ایک امیر شخص اپنے کمرے میں آرام کر رہا تھا اور اس کا کم عمر نوکر باہر بیٹھا پنکھا جھل رہا تھا۔ گرمی اور تھکن کے باعث نہ جانے کب دونوں کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد امیر کی آنکھ کھلی تو اسے پیاس لگی۔ اس نے نوکر کو آواز دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ وہ خود باہر نکلا تو دیکھا کہ لڑکا بے خبر سو رہا ہے۔ امیر اسے جگانے ہی والا تھا کہ اچانک اس کی نظر لڑکے کی جیب سے باہر نکلے ہوئے ایک خط پر پڑی۔ اس نے سوچا، شاید کوئی ضروری خط ہے۔ اس نے خط نکال کر پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا: “میرے پیارے بیٹے! تمہارا دو روپے کا منی آرڈر مل گیا۔ یہ جان کر بہت…

Read more

پُرانے زمانے کی بات ہے۔ زاہد نامی ایک تاجر اپنی ایمانداری اور رحم دلی کے لیے مشہور تھا۔ ایک دن وہ اپنے اونٹ پر سوار ایک طویل سفر پر نکلا۔ راستے میں ایک عجیب بات نے اس کی توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک خوبصورت نیلا پرندہ مسلسل اس کے اوپر اڑ رہا تھا۔ زاہد نے کئی بار اسے غور سے دیکھا، مگر پھر یہ سوچ کر آگے بڑھ گیا کہ شاید یہ محض اتفاق ہے۔ کچھ دیر بعد وہ ایک سنسان اور تپتے ہوئے صحرا میں پہنچ گیا۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور ریت کے ذرے جیسے پاؤں جلا رہے تھے۔ اچانک زاہد کے مشکیزے کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا۔ شدید پیاس سے اس کا گلا خشک ہونے لگا، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور قدم لڑکھڑانے لگے۔ اسی لمحے اسے اوپر وہی نیلا پرندہ نظر آیا۔ پرندہ ایک پرانے کنویں کے اوپر چکر لگا رہا…

Read more

ایک شہزادے کو خوبصورت اور قیمتی لباس پہننے کا بہت شوق تھا۔ وہ روز نئے نئے کپڑے بنواتا، قیمتی پوشاک پہنتا اور پھر گھوڑے پر سوار ہو کر سیر و شکار کے لیے نکل جاتا۔ ایک دن بادشاہ نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا: “بیٹا! تم شہزادے ہو۔ تمہیں ایسا لباس پہننا چاہیے جو ہر کسی کے نصیب میں نہ ہو۔ یہ قیمتی کپڑے جن پر تم اتنا فخر کرتے ہو، دنیا کا کوئی بھی امیر شخص بنوا سکتا ہے۔” شہزادے نے حیرت سے پوچھا: “پھر وہ کون سا لباس ہے جو ہر کسی کو نہیں مل سکتا؟” بادشاہ مسکرایا اور بولا: “وہ نیکی، عاجزی اور پرہیزگاری کا لباس ہے۔ سونے اور زری کے کپڑے چند دن بعد پرانے ہو جاتے ہیں، مگر نیکی کا لباس ہمیشہ نیا رہتا ہے۔ نہ یہ پھٹتا ہے، نہ میلا ہوتا ہے اور نہ کبھی اس کی چمک ختم ہوتی ہے۔” پھر بادشاہ…

Read more

پرانے زمانے کی بات ہے، فارس میں شاہ عباس اول کی حکومت تھی۔ اسے شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک دن شکار کے دوران وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر جنگل میں بہت دور نکل گیا۔ اچانک اسے بانسری کی آواز سنائی دی۔ آواز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ ایک درخت کے نیچے پہنچا، جہاں ایک گڈریا لڑکا بڑے سکون سے بانسری بجا رہا تھا۔ بادشاہ نے اس سے باتیں کیں۔ لڑکے نے ہر سوال کا جواب نہایت ادب اور سمجھ داری سے دیا۔ بادشاہ اس کی عقل و تمیز سے بہت متاثر ہوا۔ جب لڑکے کو معلوم ہوا کہ جس شخص سے وہ بات کر رہا تھا وہ خود بادشاہ ہے تو وہ گھبرا گیا۔ بادشاہ نے اسے تسلی دی اور اپنے ساتھ محل لے آیا۔ اس نے لڑکے کے لیے بہترین استاد مقرر کیے۔ لڑکا پڑھ لکھ کر محمد علی بے کہلایا اور اپنی ایمانداری اور قابلیت کی…

Read more

40/573
NZ's Corner