**”بادشاہ کا انصاف”**
ایک زمانے میں ایک چھوٹی سی بادشاہت تھی۔ اس ملک کا بادشاہ رخصت ہوا تو عوام کو بڑی امیدیں تھیں کہ نیا حکمران ان کے دن بدل دے گا۔ نئے بادشاہ نے آتے ہی محل کی رونقیں بڑھانا شروع کیں، درباریوں کو نوازا، اور ٹیکسوں کی شرح بڑھا دی — یہ کہہ کر کہ “خزانہ خالی ہے، سب کو قربانی دینی ہوگی۔” مگر ایک عجیب بات ہوئی۔ جو تاجر پہلے سے امیر تھے، انہوں نے اپنے مال کی قیمتیں بڑھا دیں اور نیا ٹیکس بھی عوام کی جیب سے نکلوا لیا۔ ان کے گودام بھرتے گئے، ان کی حویلیاں سجتی گئیں۔ مگر جو کسان اپنے کھیت میں دن رات محنت کرتا تھا، اس کی گندم کی قیمت وہی رہی جو پہلے تھی، جبکہ بیج، کھاد اور اوزار مہنگے ہو گئے۔ جو مزدور صبح سے شام تک پتھر توڑتا تھا، اس کی مزدوری میں ایک پیسہ اضافہ نہ ہوا، مگر روٹی…
لالچی سوداگر –
کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔ کسی زمانے میں ایک سوداگر تھا،جو بہت لالچی تھا۔ایک دفعہ وہ پچاس اونٹوں پر سامان لاد کر تجارت کے لیے گیا۔راستے میں کچھ دیر سستانے بیٹھ گیا۔وہاں سے ایک درویش کا گزررہا تھا۔اس نے سوداگر کو دیکھا تو ان کے برابر میں بیٹھ کرباتیں کرنے لگا۔وہ دونوں دوست بن گئے۔سوداگر نے پوچھا:”تم کہاں جارہے ہو؟“درویش نے جواب دیا:”مجھے ایک ایسی سرنگ کا پتاچلا ہے جس میں سونا بند ہے ،میں وہی سوناڈھونڈنے جارہا ہوں۔ اب میں چلتا ہوں۔“سوداگر نے کہا:”رکو،میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔“سوداگر نے کہا:”اگر اس سرنگ میں سے سونا نکلا تو ہم دونوں آدھا آدھا بانٹ لیں گے۔“درویش نے کہا:”ٹھیک ہے۔(جاری ہے) “جب سرنگ کے قریب پہنچے تو درویش نے کوئی منتر پڑھا۔وہ سرنگ فوراً کھل گئی اور اس سرنگ کے کھلتے ہی…
چالیس دن کا بادشاہ –
آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی اجازت دی۔ پرانے زمانے کی بات ہے کہ ملک فارس پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا وہ بہت پریشان رہتا تھا کیونکہ ملک میں چوری اور ڈکیتی عام تھی،باوجود کوشش کے بھی وہ اس پر قابو نہیں پا رہا تھا۔ایک دن بادشاہ پریشانی میں محل سے نکل کر جنگل کی طرف چل پڑا۔اس نے دیکھا ایک لکڑہارا بہت محنت سے لکڑیاں کاٹ رہا ہے۔لکڑہارا بادشاہ کو دیکھ کر اس کے پاس آیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت!آپ کسی شاہی سواری میں نہیں آئے؟بادشاہ نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی تو اس نے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ عرض کروں؟بادشاہ نے سر ہلایا تو وہ بولا آپ مجھے کچھ دن ملک پر حکمرانی کی اجازت دیں۔مجھے امید ہے کہ یہ بُرائی ختم ہوجائے گی۔بادشاہ نے اسے بخوشی…
لالچ بُری بَلا ہے
کسی گاؤں میں دینو نام کا ایک کمہار رہا کرتا تھا۔دینو اپنے کام میں بہت ماہر تھا۔مٹی سے بڑے خوبصورت اور پائیدار برتن بنانا جانتا تھا۔ایک دفعہ اس کے بنائے ہوئے ایک برتن کی خوبصورتی سے متاثر ہو کر گاؤں کے سخی زمیندار نے اسے ایک چھوٹا سا کھیت تحفے میں دے دیا۔اب دینو تو کمہار تھا۔وہ برتن بنانا تو جانتا تھا، مگر وہ تو کھیتی باڑی کے کام سے بالکل واقف نہ تھا۔اسے بس یہ معلوم تھا کہ کھیت میں ہل چلا کر اگر بیج بو دیا جائے تو فصل اُگ آتی ہے۔اس نے کھیت میں ہَل تو چلا دیا، مگر اب سوچ میں پڑ گیا۔پھر وہ فوراً بازار گیا اور بازار میں اسے جو بیج اچھا لگا، وہ اُٹھا لایا۔وہ سیدھا اپنے کھیت میں پہنچا اور سارے بیج پورے کھیت میں پھیلا دیے۔(جاری ہے) دینو کمہار نے جو بیج لگائے تھے وہ کسی سبزی یا پھل کے نہیں،…
بھالو اور شہد کی مکھیاں –
رنگا بھالو اپنی سستی کی وجہ سے جنگل بھر میں نالائق اور نکما مشہور تھا۔جنگل کا قانون تھا کہ کوئی جانور کسی دوسرے جانور کا کھانا نہیں چرائے گا بلکہ خود محنت کرے گا لیکن اب بھلا رنگا کو یہ بات کون سمجھاتا؟اُسے جس نے بھی سمجھایا،وہ سمجھا سمجھا کر تھک گیا وہ کبھی کسی کی مچھلیاں چُرا لیتا اور کبھی شہد کی مکھیوں کو بھگا کر اُن کا شہد ہڑپ کر جاتا۔اپنی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے وہ کئی بار پٹ بھی چکا تھا لیکن رنگا کو باز آنا تھا،نہ آیا۔ایک دفعہ کا ذکر ہے۔سردیوں کی ایک رات بھوک سے رنگا کا بُرا حال تھا کہ اچانک اُسے درخت پر بھن بھن کی آوازیں سنائی دیں۔اس نے جب اوپر نظر اٹھائی تو اُسے شہد کا چھتا نظر آیا۔اب تو رنگا کے منہ میں پانی بھر آیا،اس نے چھلانگ لگائی اور درخت پر چڑھ گیا۔(جاری ہے) شہد کی مکھیوں…
اژدھے کا شکار
مچھلی کے شکار کے لیے ہم دریا کہ کنارے کانٹے ، ڈوریاں پانی میں ڈالے اور بنسیاں تھا مے بیٹھے تھے۔ یہاں ساتھ ساتھ تین درخت تھے جن سے ٹیک لگائے ہم تین دوست بیٹھے تھے ۔ ہمیں ادھر آتے دیکھ کر کئی لوگوں نے منع کیا کہ اُدھر نہ جاؤ، وہاں ایک اژدہا دیکھا گیا ہے ۔ہم نے سنی اَن سنی کردی اور یہاں آبیٹھے ۔خالد نے کہا : ہم اسی لیے تو یہاں آئے ہیں۔ اژد ہے کہ خوف سے مچھلیوں کے شکاری اس طرف نہیں آتے اور یہاں خوب مچھلیاں ملتی ہیں اور پھر ہمارے پاس یہ بندوق بھی تو ہے ۔ اس نے تھیلے میں پڑی بندوق کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔اس وقت شامل ڈھل چکی تھی اور چاند نکل آیا تھا۔ آسمان پہ چاند ستاروں کا کارواں رواں دواں تھا۔ دریا کے پانی میں چاند ستارے یوں جھلملارہے تھے جیسے جگنوؤں لہروں اور دائروں میں تحلیل…
بڑا چوہا،چھوٹا خرگوش
”چھوٹے میاں!میں سوچ رہا ہوں کیوں نہ ہم اپنی طاقت کو بڑھا لیں۔“بڑے چوہے نے چھوٹے خرگوش سے کہا۔دونوں میں بہت گہری دوستی تھی۔”بھائی جان!میں سمجھا نہیں،تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟“چھوٹا خرگوش کان ہلاتے ہوئے بولا۔”چھوٹے میاں!کل رات جب بندر تمہارے ہاتھ سے گاجر چھین کر بھاگ گیا تو مجھے بہت افسوس ہوا،میں رات بھر اپنے بل میں یہی سوچتا رہا کہ میں بھی بہادر ہوں،تم بھی بزدل نہیں ہو،پھر ہم میں ایسی کیا کمی ہے کہ بندر تم سے گاجر چھین کر بھاگ کھڑا ہوا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔“ بڑا چوہا تفصیل سے بولتا چلاy گیا۔”تو پھر؟“چھوٹے خرگوش نے آنکھیں مٹکائیں۔”پھر یہ کہ چھوٹے میاں!ہمیں اپنی طاقت بڑھانے کے لئے کسی طاقتور جانور سے دوستی کر لینی چاہیے،پھر کوئی بھی جانور ہم سے کچھ چھیننے سے پہلے سو بار سوچے گا۔(جاری ہے) “بڑے چوہے نے اپنی دانست میں بڑی ہی دانش مندانہ بات کی۔”ہاہاہاہا․․․․ہاہاہاہا۔ “چھوٹا خرگوش اپنے…
اُلو کی بیوقوفی
ارے تم نے یہ کیا کر دیا؟یہ تو میرے بچے تھے،اپنے دوست کے بچے ہی کھا گئی۔شور کی آواز سُن کر اَڑوس پڑوس کے چمگادڑ،اُلو کے گھر جمع ہو گئے،وہاں اُلو چیل سے جھگڑ رہا تھا اور اپنے بچے کھا جانے پر غصہ کر رہا تھا۔اُلو نے روتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو بتایا:”نئے سال کی خوشی میں جو جنگلی پرندوں کی دعوت تھی نا“!اس میں میری اس چیل سے دوستی ہو گئی تھی،میں نے اس سے وعدہ بھی لیا تھا کہ تم میرے بچوں کو نہیں کھاؤ گی،لیکن!یہ بے وفا نکلی،دوست نہیں میری دشمن نکلی اور آج اس نے میرے بچوں کو کھا لیا۔ اُلو روئے جا رہا تھا،بچوں کے غم میں اس کے آنسو رُک ہی نہیں پا رہے تھے۔اپنے پڑوسی کی حالت دیکھ کر چمگادڑوں نے بھی چیل کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ چیل نے انہیں خاموش کرواتے ہوئے کہا،آپ سب اس کے پڑوسی ہیں نا!پہلے…
گدھا بنا گھوڑا
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ایک کسان کے پاس دو جانور تھے۔ ایک خوبصورت، تیز رفتار گھوڑا، اور دوسرا مضبوط مگر سادہ سا گدھا۔گھوڑا کسان کی شان سمجھا جاتا تھا۔جب بھی کوئی مہمان آتا، کسان بڑے فخر سے کہتا:“آئیے، پہلے میرا گھوڑا دیکھیے۔”وہ باہر کھڑے ہو کر صرف ایک آواز لگاتا:“ارے میرے شہسوار!” اور گھوڑا اصطبل سے گرد اڑاتا ہوا دوڑتا چلا آتا۔مہمان اس کی چال دیکھتے، اس کی گردن سہلاتے، اس کی تعریف کرتے اور کسان کی قسمت پر رشک کرتے۔یہ سب مناظر اصطبل کے ایک کونے میں کھڑا گدھا خاموشی سے دیکھا کرتا تھا۔شروع میں وہ صرف دیکھتا رہا، پھر اسے حسرت ہونے لگیاور آخرکار حسرت نے خواہش کی شکل اختیار کر لی۔ وہ سوچتا: “آخر مجھ میں کیا کمی ہے؟ اگر میں بھی گھوڑے جیسا بن جاؤں تو لوگ میری بھی تعریف کریں، مالک بھی مجھ پر فخر کرے، اور مہمان مجھے دیکھنے آیا کریں۔”ایک دن اس…
فرہاد
راوی کہتا ہے جب زمین نئی تھی، جب پہاڑ ابھی اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے، جب دریا اپنا راستہ بنانے میں تھے، اور جب پہلا انسان اس زمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ اس وقت کسی کو علم نہیں تھا کہ انسان کیا ہے، اسے کیا ملے گا، اور وہ کیا کھو دے گا۔ اس زمین کے پہلے انسانوں میں ایک شخص جیسے قیس کہا جاتا تھا۔ قیس کو اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کا بادشاہ بنا دیا تھا، ہر پہاڑ، ہر دریا، ہر جنگل، ہر جانور، ہر پرندہ، ہر وہ چیز جو زمین پر تھی، سب قیس کی بادشاہت میں تھی۔ اس کے پاس اتنا کچھ تھا کہ ہزاروں سال خوشی سے گزار سکتا تھا۔ مگر قیس کا دل ٹھہرا نہیں۔ ایک چھوٹا سا حصہ تھا، زمین کے مشرقی کنارے پر، پہاڑی سلسلے کے پیچھے، جو قیس کی بادشاہت میں شامل نہیں تھا۔ یہ حصہ اللہ تعالیٰ نے…
انا
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جزیرے پر تمام جذبات اور احساسات اکٹھے رہتے تھے۔ وہاں خوشی، غم، امید، خوف، عقلمندی اور محبت سب ایک ساتھ رہتے تھے۔ ایک دن سمندر میں ایک شدید طوفان آیا جو اس جزیرے کو ڈبو دینے کے قریب تھا۔ سب جذبات بہت گھبرا گئے۔ اسی وقت محبت (Love) نے سب کے لیے ایک بڑی کشتی تیار کی تاکہ سب محفوظ جگہ پہنچ سکیں۔ تمام جذبات جلدی سے کشتی میں سوار ہونے لگے۔ صرف ایک جذبہ پیچھے رہ گیا… انا (Ego)۔ محبت واپس گئی اور اسے کہا:“آؤ، جلدی کرو، کشتی ڈوبنے والی ہے!” لیکن انا نے سر اٹھا کر جواب دیا:“میں کسی کی مدد کی محتاج نہیں ہوں۔ میں خود بچ سکتا ہوں۔” محبت نے بہت کوشش کی، اسے سمجھایا، ہاتھ پکڑا، منتیں کیں… مگر انا اپنی ضد پر قائم رہا۔ کشتی میں موجود دوسرے جذبات چیخنے لگے:“محبت! جلدی آؤ، وقت کم ہے!” لیکن…
اللّٰہ پر بھروسہ…!
پھانسی گھاٹ کا راستہ صاف نظر آ رہا تھا، مگر اس 25 سالہ نوجوان کے چہرے پر خوف کے بجائے ایسی مسکراہٹ تھی جس نے مجھ جیسے سخت گیر اور پتھر دل ڈیوٹی افسر کے بھی پسینے چھڑا دیے تھے!حوالات کی سلاخوں کے پیچھے وہ سجدے میں گرا گڑگڑا رہا تھا۔ اس پر ایک لرزہ خیز قتل کا الزام تھا، ثبوت اور گواہ سب اس کے خلاف تھے اور چند دنوں میں اسے سزائے موت سنائی جانی تھی۔ میں شروع دن سے اس کے ساتھ انتہائی درشتگی سے پیش آ رہا تھا، مگر وہ جواب میں ہمیشہ مسکرا کر بات کرتا۔ایک دن جب وہ دعا مانگ کر اٹھا تو مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے تلخ لہجے میں پوچھا: “تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ چند دن بعد تمہیں پھانسی کا پھندا پہنا دیا جائے گا۔ تم نے قتل کیا ہی کیوں؟”اس نے بڑی پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف…
اونٹ نامہ😂
ایک مشہور قصہ ہے کہ😅ایک طالب علم کو استاد نے امتحان میں فیل کردیا، طالب علم شکایت لے کر پرنسپل کے پاس چلا گیا کہ مجھے غلط فیل کیا گیا ہے پرنسپل نے استاد اور طالب علم دونوں کو بلا لیا اور استاد سے فیل کرنے کی وجہ پوچھی استاد صاحب نے بتایا کہ اس لڑکے کو فیل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ ہمیشہ موضوع سے باہر نکل جاتا ہے جس موضوع پر اسے مضمون لکھنے کو دیا جائے اسے چھوڑ کر اپنی پسند کے مضمون پر چلا جاتا ہے ، پرنسپل نے کوئی مثال پوچھی تو استاد صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے اسے بہار پر مضمون لکھنے کو کہا تو وہ اس نے کچھ اس طرح لکھا موسم بہار ایک بہت ہی بہترین موسم ہوتا ہے اور اس کے مناظر بہت ہی دلنشین ہوتے ہیں۔ اس موسم میں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی ہوتی…
آدھی روٹی
ایک سرد رات تھی…چاندنی شہر کی خاموش گلیوں پر ایسے بکھری ہوئی تھی جیسے کسی نے چاند کو زمین پر اتار دیا ہو۔ بادشاہ اپنے وفادار قاضی کے ساتھ سادہ لباس میں بغداد کی گلیوں میں نکل آیا تھا۔ کسی کو خبر نہ تھی کہ تخت پر بیٹھنے والا شخص آج خود ایک مسافر بن کر چل رہا ہے… اچانک ایک پرانی مسجد کے باہر اس کی نظر ایک فقیر پر پڑی۔ پھٹے ہوئے کپڑے…کانپتا ہوا جسم…اور آنکھوں میں خاموش بھوک… یہ شہر کا مشہور بھکاری تھا — اللہ داد۔ بادشاہ رک گیا۔ اس نے دیکھا کہ اللہ داد نے اپنی جھولی سے ایک سادہ سی روٹی نکالی…آسمان کی طرف دیکھا…خاموش دعا کی…اور روٹی دو حصوں میں توڑ دی۔ آدھی خود کھائی…اور آدھی ایک تھیلی میں رکھ دی۔ بادشاہ حیران رہ گیا… اتنی غربت میں بھی “کل” کی فکر؟ بادشاہ قریب گیا اور بولا: “بھائی… ہم مسافر ہیں، کچھ کھانے…
بلاعنوان 😂
رات کے 2 بجے ایک ٹیکسی ڈرائیور سنسان سڑک پر گاڑی چلا رہا تھا۔ پیچھے سیٹ پر ایک مسافر بیٹھا ھوا تھا جو بالکل خاموش تھا۔ ماحول بہت ڈراؤنا تھا، ہلکی ہلکی دھند تھی۔ اچانک… پیچھے بیٹھے مسافر نے ڈرائیور کے کندھے پر آہستہ سے ہاتھ رکھ کر کچھ پوچھنا چاہا۔ جیسے ھی مسافر کا ہاتھ کندھے پر لگا، ڈرائیور نے خوفناک چیخ ماری! اسٹیرنگ وہیل چھوٹ گیا، ٹیکسی لہراتی ھوئی فٹ پاتھ پر چڑھی، ایک کھمبے سے بال بال بچی اور بڑی مشکل سے ایک جھاڑی میں جا کر رکی۔ ڈرائیور کا سانس پھولا ھوا تھا اور وہ پسینے میں شرابور تھا۔مسافر بھی ڈر گیا اور بولا: “بھائی صاحب! مجھے معاف کر دیں، میں نے تو صرف آپ سے ٹائم (وقت) پوچھنے کے لیے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ آپ اتنا ڈر جائیں گے۔” ڈرائیور نے لمبی سانس لی، ماتھے سے پسینہ پونچھا اور…
ممتا کا انتقام
یہ انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے گھنے جنگلوں کی ایک سچی کہانی ہے۔محکمہ جنگلات کے خفیہ کیمروں نے ایک ایسا منظر ریکارڈ کیا جس نے دیکھنے والوں کو گنگ کر دیا۔منظر انتہائی دردناک تھا۔ ایک مادہ اورنگوٹان اپنے ننھے، زخمی بچے کو سینے سے لگائے درختوں پر بیٹھی تھی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اس بچے پر ایک شیر نے حملہ کیا تھا۔ ماں اسے بچا کر لے تو آئی، لیکن بچہ اس کے بازوؤں میں تیزی سے کمزور پڑ رہا تھا۔وہ بار بار بچے کو دیکھتی۔ وہ منتظر تھی کہ شاید اس کا بچہ کوئی حرکت کرے۔لیکن… بچہ دم توڑ چکا تھا۔کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ اس نے اپنے مرے ہوئے بچے کو دیر تک سینے سے لگائے رکھا۔ پھر اسے آہستہ سے جنگل کی زمین پر رکھا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ریسرچرز کا کہنا تھا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ…
حاضر دماغی
ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بہت محنتی کسان رہتا تھا۔ ایک بار اس کے کھیت میں ایک بہت بڑا تربوز اُگ آیا۔ کسان کو اپنے تربوز پر بہت فخر تھا اور وہ جانتا تھا کہ یہ سب سے بڑا تربوز ہے جو کسی نے بھی دیکھا ہوگا۔ وہ گھنٹوں اسے دیکھتا رہتا اور سوچتا رہتا کہ اس کا کیا کرے۔ پہلے اس نے سوچا کہ اسے بازار میں بیچ دے کیونکہ اس سے اسے اچھا منافع ملے گا، لیکن پھر سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ اسے نمائش کے لیے رکھے گا۔ وہ اسی طرح سوچتا رہا اور آخرکار اس نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ تربوز بادشاہ کو تحفے میں دے گا۔ کسان بادشاہ سے ملنے والے انعام کے خوشگوار خیالات کے ساتھ سو گیا۔ اس سلطنت کا بادشاہ بہت مہربان اور خیال رکھنے والا تھا۔ اس کی عادت تھی کہ وہ عام آدمی کا بھیس بدل…
ایمانداری
ایک سوداگر بازار میں گھوم رہا تھا کہ اس کی نظر ایک عمدہ نسل کے اونٹ پر پڑی۔ اونٹ واقعی لاجواب تھا۔ سوداگر اور اونٹ بیچنے والے کے درمیان کافی دیر تک گفت و شنید ہوتی رہی، آخرکار سودا طے پا گیا اور سوداگر اونٹ خرید کر گھر لے آیا۔ گھر پہنچ کر اس نے نوکر کو آواز دی کہ اونٹ کی زین اتار دو۔نوکر نے زین اٹھائی تو اس کے نیچے ایک مخملی تھیلا پڑا ہوا تھا۔ جب تھیلا کھولا گیا تو اندر قیمتی ہیرے اور جواہرات چمک رہے تھے، سورج کی روشنی میں وہ اور بھی زیادہ جگمگا رہے تھے۔ نوکر خوشی سے چلایا:“آقا! آپ نے اونٹ خریدا ہے، لیکن دیکھیں مفت میں کیا آ گیا!” سوداگر نے ہیرے دیکھے تو لمحہ بھر کو حیران ضرور ہوا، مگر فوراً بولا:“میں نے اونٹ خریدا ہے، ہیرے نہیں۔ یہ امانت ہے، ہمیں فوراً واپس کرنی چاہیے۔” نوکر دل ہی دل…
ہرن اور گدھوں کا اصطبل — اصل فطرت کبھی نہیں بدلتی
ایک شکاری نے ایک خوبصورت ہرن شکار کیا اور اسے گدھوں سے بھرے ایک اصطبل میں باندھ دیا۔ بے چارہ ہرن گھبراہٹ سے کبھی اِدھر بھاگتا، کبھی اُدھر۔ دوسری طرف گدھے مزے سے گھاس کھانے میں مگن تھے، جیسے دنیا میں انہیں کسی اور چیز کی فکر ہی نہ ہو۔ شکاری رات بھر ان کے آگے گھاس ڈالتا رہا، مگر ہرن نہ وہ گھاس کھا سکا، نہ اس ماحول سے مانوس ہو سکا۔ دھواں، گرد و غبار اور اجنبی ماحول اس کے لیے کسی عذاب سے کم نہ تھا۔ حضرت مولانا رومیؒ فرماتے ہیں کہ انسان کو جب اس کی فطرت اور اصل جنس سے جدا کر دیا جائے تو یہ بھی ایک طرح کی سزا ہے۔ اسی لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے ہُدہُد کی غیر حاضری پر فرمایا تھا کہ اگر وہ معقول عذر پیش نہ کرے تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔ اہلِ معرفت کہتے ہیں…
😂 “پچھلی بار بھی یہی ھوا تھا!” 💁♂️
دو شکاری دوست شکار کے شوق میں ایک چھوٹا سا ہوائی جہاز کرائے پر لے کر جنگل پہنچ گئے۔ قسمت ایسی مہربان ھوئی کہ دونوں نے دو بڑے گینڈے شکار کر لیے۔ 🦏🦏 اب مسئلہ یہ تھا کہ گینڈوں کو واپس کیسے لے جایا جائے؟ دونوں نے پوری طاقت لگا کر گینڈوں کو جہاز میں لادنا شروع کر دیا۔ پائلٹ نے گھبرا کر کہا: “جناب! یہ وزن بہت زیادہ ھے، جہاز شاید اُڑ ھی نہ سکے!” دونوں شکاری فوراً بول اٹھے: “ارے بھائی! پچھلی بار والے پائلٹ نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا!” 😏 پائلٹ نے بہت سمجھانے کی کوشش کی… مگر آخرکار ان کی ضد کے آگے ہار مان گیا۔ جہاز نے اڑان بھری… چند لمحے فضا میں رہا… پھر دھڑام! 💥 وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے جہاز دوبارہ زمین پر آ گرا۔ کچھ دیر بعد ایک شکاری کو ھوش آیا۔ اس نے اِدھر اُدھر دیکھا، پھر…