Tag Archives: ،urdublogs

ایک بلند پہاڑی کے دامن میں ایک گھنا جنگل آباد تھا۔ پہاڑی کی چوٹی پر پتھروں کے درمیان ایک تنگ سا راستہ تھا جو ایک چھوٹی سی غار تک جاتا تھا۔ اسی غار میں ایک پہاڑی بکری رہتی تھی جس کی عادت تھی کہ ہر صبح جنگل کے نچلے حصے میں اترتی، جہاں کہیں تازہ گھاس، نرم پتے، جنگلی پھل یا خوراک کا کوئی اور ذخیرہ ملتا، اسے سمیٹتی اور واپس اپنی غار کی طرف چل پڑتی۔ اس کے دل میں ہمیشہ ایک ہی خواہش رہتی کہ آج کچھ زیادہ خوراک جمع کر لے، تاکہ آنے والے دنوں میں اسے دوبارہ نیچے نہ اترنا پڑے۔ چنانچہ وہ جتنا اٹھا سکتی، اس سے بھی زیادہ سمیٹنے کی کوشش کرتی؛ کبھی منہ میں پتے بھر لیتی، کبھی پیٹھ پر گھاس کا گٹھا لاد لیتی اور کبھی دانتوں میں جنگلی پھل دبا کر پہاڑی کی چڑھائی شروع کر دیتی۔ مگر راستے میں ایک…

Read more

ایک چھوٹے سے خوبصورت گاؤں کی بات ہے، جہاں دریا کے کنارے ایک پرانا اور گھنا درخت تھا۔ اس درخت پر ایک چھوٹا سا پرندہ رہتا تھا جس کا نام “رنگو” تھا۔ رنگو کے پر باقی پرندوں سے ذرا مختلف اور چمکدار تھے، لیکن وہ بہت شرمیلا تھا اور دوسرے پرندوں کے ساتھ کھیلنے سے کتراتا تھا۔ہر شام گاؤں کے تمام پرندے دریا کے اوپر اونچی اڑان بھرتے اور مل کر گیت گاتے، لیکن رنگو ایک کونے میں بیٹھ کر بس انہیں دیکھا کرتا۔ اس کا دل تو بہت چاہتا تھا کہ وہ بھی ان کی طرح آزادانہ اڑے اور گائے، مگر اسے لگتا تھا کہ شاید اس کی آواز کسی کو پسند نہیں آئے گی۔ایک روز ہوا یہ کہ جنگل میں سخت طوفان آ گیا۔ کالی گھٹا چھا گئی اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہو گئی۔ باقی تمام پرندے ڈر کے مارے اپنے گھونسلوں میں چھپ گئے۔…

Read more

جنگل میں ایک گینڈا رہتا تھا۔ جسم ایسا بھاری کہ اس کے گزرنے سے راستے کے جھاڑ جھنکار دب جاتے، آواز ایسی گرج دار کہ چھوٹے جانور دور سے ہی راستہ چھوڑ دیتے، اور مزاج ایسا کہ کسی کو اس کے سامنے اپنی بات کہنے کی ہمت نہ ہوتی۔ جنگل کے بندر حجامت کے فن میں خاص مہارت رکھتے تھے۔ ان کی بازار میں کئی دکانیں تھیں، جہاں جانور بال کٹوانے، داڑھی بنوانے اور حلیہ سنوارنے آتے تھے۔ گینڈا بھی ہر دوسرے تیسرے دن کسی نہ کسی بندر کی دکان پر پہنچ جاتا، خوب خاطر مدارت کرواتا اور اجرت ادا کیے بغیر یہ جا، وہ جا۔ شروع میں بندروں نے اس کی طاقت کے خوف سے اسے برداشت کیا، مگر جب یہ روز کا معمول بن گیا تو ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ آخر ایک دن سب بندر جمع ہوئے اور طے کیا کہ اس مغرور گاہک…

Read more

ایک بزنس مین نے ایک بار جنوبی افریقہ سے ایک بہت بڑا ہیرا خریدا — جو تقریباً انڈے کی زردی کے برابر تھا۔مگر اُس کی مایوسی کے لیے، اُس ہیرے کے اندر ایک دراڑ تھی۔وہ ایک ماہر جیولر کے پاس گیا تاکہ کوئی مشورہ لے سکے۔جیولر نے غور سے ہیرے کو دیکھا اور کہا:“اس ہیرے کو دو مکمل خوبصورت جواہرات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے،جن کی قیمت اصل ہیرے سے بھی زیادہ ہوگی۔لیکن اگر ایک ضرب بھی غلط پڑی — تو یہ ٹکڑوں میں بکھر جائے گا، اور بیکار ہو جائے گا۔میں یہ رسک نہیں لوں گا۔”بزنس مین دنیا بھر کے مختلف جیولرز کے پاس گیا۔سب نے ایک ہی جواب دیا — “بہت خطرناک ہے۔”آخرکار کسی نے اُسے ایمسٹرڈیم کے ایک بوڑھے کاریگر کے بارے میں بتایاجسے “سنہری ہاتھوں والا” کہا جاتا تھا۔وہ فوراً وہاں پہنچ گیا۔بوڑھے جیولر نے ہیرے کو اپنے عدسے سے بغور دیکھا اور پھر وارننگ…

Read more

کسی جنگل کے بیچوں بیچ ایک بہت پرانا اور گھنا درخت تھا۔ وہ درخت اتنا پرانا تھا کہ جنگل کے تمام جانور اور پرندے اس کا احترام کرتے تھے۔ اس پرانے درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک سونے کی چڑیا رہا کرتی تھی، جس کے پر سونے کی طرح چمکتے تھے اور اس کی آواز میں عجیب سا جادو تھا۔چڑیا اور وہ پرانا درخت آپس میں گہرے دوست تھے۔ چڑیا روزانہ صبح دور دراز سے گھوم پھر کر آتی اور پرانے درخت کو دنیا بھر کی باتیں اور کہانیاں سناتی۔ بدلے میں پرانا درخت اپنے گھنے پتوں سے چڑیا کو تیز دھوپ، بارش اور طوفانوں سے محفوظ رکھتا۔ایک وقت ایسا آیا کہ علاقے میں سخت قحط پڑ گیا۔ بارشیں رک گئیں، ندی نالے سوکھ گئے اور جنگل کے تمام درخت مرجھانے لگے۔ وہ پرانا درخت بھی آہستہ آہستہ سوکھنے لگا، اس کے پتے جھڑ گئے اور اس کی…

Read more

ایک زمانے کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ اپنی فیاضی اور انصاف پسندی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ ایک روز وہ شاہی لشکر کے ساتھ شکار کی غرض سے ایک سرسبز و شاداب جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ جنگل کے قریب پہنچے تو ہر شخص اپنے اپنے شکار میں مشغول ہو گیا۔اس دوران بادشاہ نے اپنے خاص وزیر کو اپنے پاس بلایا اور کہا:“تم میرے ساتھ اپنا گھوڑا دوڑاؤ، کیونکہ مدت سے میری یہ آرزو رہی ہے کہ میں یہ جانوں کہ تمہارا گھوڑا زیادہ تیز دوڑتا ہے یا میرا؟”بادشاه کے حکم کے مطابق دونوں نے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی۔ وہ دوڑتے دوڑتے لشکر اور باقی لوگوں سے بہت دور نکل گئے۔ جب وہ کافی فاصلے پر چلے گئے تو بادشاہ نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی اور وزیر سے مخاطب ہو کر کہا:“اب اس سفر کو یہیں ختم کرو۔ میرے دل میں ایک…

Read more

      ایک جزیرے پر بندروں کی ایک بڑی جماعت بستی تھی، جہاں پھل پھول عام تھے اور آب و ہوا ان کے مزاج کے بالکل موافق تھی۔ ایک دن، جب چند بزرگ بندر ایک درخت کے سائے میں بیٹھے آپس میں باتیں کر رہے تھے، تو اچانک وہاں سے ایک بلبل نامی ریچھ کا گزر ہوا۔ بلبُل نے دل میں سوچا کہ ان بندروں کا رہن سہن کتنا آرام دہ ہے؛ پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ غار میں گزارا کرتا ہوں، بڑی محنت سے گھاس پھول حاصل کرتا ہوں، اور یہ بندر کتنے مزے سے تازہ پھل کھاتے اور نرم سبزے پر آرام کرتے ہیں۔ یہ سوچ کر بلبُل نے غصے میں بندروں پر حملہ کر دیا۔تمام بندر ڈر کر چیختے چلاتے ادھر ادھر بھاگے، لیکن ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونے کے باوجود وہ بلبُل کا مقابلہ نہ کر سکے اور بلبُل نے کئی بندروں کو کاٹ کر زخمی…

Read more

جنگل میں شیر کی دھاک تھی، مگر اس کی دھاک سے زیادہ اس کی خواہشات کا رعب تھا۔ جو بات اسے اپنے حق میں مناسب لگتی، وہی قانون بن جاتی، اور جب وہی بات اس کے لیے مشکل بن جاتی تو قانون کے معنی بھی بدل جاتے۔ ایک دن شیرنی نے کسی کے مشورے پر بال بڑھانے کے لیے ایک جعلی دوا استعمال کر لی۔ چند ہی روز میں اس کے سر کے بال اس طرح جھڑنے لگے کہ جہاں کبھی گھنی ایال کی شان دکھائی دیتی تھی، وہاں چمکتی ہوئی کھال نظر آنے لگی۔ شیرنی پریشان ہوئی تو شیر کی پریشانی اس سے بھی بڑھ گئی۔ اسے اپنی شریکِ حیات کے بالوں سے زیادہ جنگل میں اپنی عزت کی فکر تھی۔ وہ سوچنے لگا کہ کل کو جانور آپس میں کہیں گے کہ جس بادشاہ کی شیرنی کے سر پر بال نہیں، اس کی ہیبت بھی آخر کتنی ہوگی!…

Read more

روزگار کی تلاش اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے شہر کے ایک شور شرابے والے چوراہے پر ایک غریب اور بدحال بھکارن بیٹھا کرتی تھی۔ اگرچہ اس کے تن پر میلے کچیلے اور بوسیدہ کپڑے تھے، اور اس کا چہرہ دھوپ اور گرد و غبار سے جھلس چکا تھا، لیکن قدرت نے اسے ایسی بلا کی خوبصورتی اور حسنِ دلکش عطا کیا تھا کہ دیکھنے والے دنگ رہ جاتے۔ وہ در بدر مارکیٹ اور گلی کوچوں میں ہاتھ پھیلاتی اور اپنا پیٹ بھرتی تھی۔ایک روز اتفاقاً کسی ملک کا جاہ و جلال والا بادشاہ اپنی شاہی سواری اور لاؤ لشکر کے ساتھ اسی راستے سے گزرا۔ شاہی قافلے کی آمد پر لوگ راستے کے دونوں جانب ہجوم لگائے کھڑے تھے۔ بادشاہ کی نظر اچانک اس نادار اور خستہ حال بھکارن پر پڑی۔ اگرچہ اس کے کپڑے میلے تھے، مگر اس کا قدرتی حسن اور طبعی نفاست اتنی نمایاں تھی…

Read more

ایک گھر میں ایک ایسا بچہ رہتا تھا جس کی ذہانت سے زیادہ اس کی تجسس بھری طبیعت مشہور تھی۔ ہر بات پر سوال کرنا اس کی عادت تھی۔ سوال کر کر کے والدین کا ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ ایک دن شوہر گھر آیا تو غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ بیوی نے سوال داغا: “کیا دفتر میں کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟” “نہیں، جھگڑا تو تمہیں پتہ ہے میں کسی سے نہیں کرتا۔ اصل میں ایک جگہ خالی ہوئی ہے جہاں میری ترقی کا چانس بنتا ہے۔ میں نے کل باس کی دعوت کی ہے، اگر خوش ہو گیا تو سمجھو کام بن جائے گا۔” “یہ تو بہت اچھی بات ہے، پھر پریشانی کس بات کی ہے؟” “پریشانی یہ ہے کہ باس کی ناک کچھ زیادہ ہی لمبی ہے۔ اب اگر ہمارے افلاطون بیٹے نے اس کی ناک پر تبصرہ کر دیا تو سمجھو بیڑہ غرق ہو…

Read more

ایک روز ایک صوفی جو بڑا متقی اور پرہیزگار تھا، ایک بازار سے گزرا۔ ایک حلوائی جو اس کا معتقد تھا، اس سے درخواست کی کہ وہ کچھ دیر کے لیے اس کی دکان میں آکر بیٹھے. درویش نے اس کی درخواست قبول کی اور وہاں آ بیٹھا. حلوائی نے عقیدتاً ایک طشتری میں تھوڑی مٹھائی پیش کی. مکھیوں نے جیسے ہی مٹھائی کو دیکھا اس پر منڈلانے اور بھنبھنانے لگیں. بعض طشتری کے آس پاس سہنہارہی تھیں، بعض اس کے کناروں پر بیٹھی تھیں اور بعض مٹھائی پر بیٹھنے لگیں. جب حلوائی نے دیکھا کہ مکھیاں حد سے زیادہ ستارہی ہیں تو اس نے پنکھا جھل کر انھیں اڑانا شروع کیا. جو مکھیاں طشتری کے کنارے بیٹھی ہوئیں تھیں فوراً اڑ گئیں اور دور چلی گئیں اور وہ جو طشتری کے بیچ مٹھائی پر بیٹھی تھیں ان کی ٹانگیں مٹھائی میں چپک گئیں اور انھوں نے اڑنا چاہا تو…

Read more

یہ اُس زمانے کی بات ہے جب دلی برصغیر کی راجدھانی تھی، شہر کے گرد فصیل کھنچی ہوئی تھی، بلند دروازوں سے گزرنے کے لیے اجازت درکار ہوتی تھی اور دلی کی گلیوں میں قدم رکھنا بھی بہت سے لوگوں کے لیے ایک خواب ہوا کرتا تھا۔ انہی دنوں جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں کریم بخش نام کا ایک حجام رہتا تھا۔ اسے اپنے فن میں مہارت تھی، مگر گاؤں چھوٹا تھا، گاہک محدود تھے اور آمدنی اتنی کم کہ گھر کا خرچ پورا کرنا بھی مشکل ہو جاتا۔ آخر ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ اب قسمت آزمانے دلی جائے گا۔ اس کے پاس چند سکے، استرے کا ایک جوڑا اور اپنے ہنر کے سوا کچھ نہ تھا۔ کئی دن کی مسافت، راستے کی تھکن اور طرح طرح کی دشواریوں کے بعد جب وہ دلی پہنچا تو اسے شہر کی بلند فصیل اور اس کے…

Read more

دنیا کی تاریخ میں اگر کوئی شخص صرف قبائلی سردار سے نکل کر دنیا کی سب سے بڑی زمینی سلطنت بنا گیا تو وہ چنگیز خان تھا اس کی سلطنت بحر الکاہل سے لے کر یورپ کے دروازے تک تھی تقریباً ڈھائی کروڑ مربع کلومیٹر  اور بھی بہت لوگ نکلے ہیں سلطنت عثمانیہ ارطغرل اور عثمان اور سلطان اورحان نے بھی چھوٹے قبیلے سے بڑی ریاست بنائی تھی لیکن چنگیز خان جتنی جلدی اور قانونی بنائی تھی حضرت عمر فاروق رض کی علاوہ بہت کم لوگوں نے بنائی ہے لوگ اکثر چنگیز خان کو صرف تلوار اور طاقت تک محدود کرتے ہیں میں نے منگولوں پر بہت تحقیق کی ہے اصل میں اس کا راز صرف تلوار نہیں تھا اس کا راز نظم و ضبط چست و چالاکی تیزی و جاسوسی تھا چنگیز خان نے دیکھا کہ منگول قبائل آپس میں لڑ کر مر رہے ہیں ہر قبیلہ الگ ہر…

Read more

ایک شیر نے دس بھیڑیوں کی نگرانی کے لیے ایک چیتے کو مقرر کیا۔ شیر ہر روز ان کے لیے گوشت کے گیارہ ٹکڑے لاتا تھا۔ چیتا بڑی دیانت داری سے خوراک تقسیم کرتا۔ ایک ٹکڑا اپنے لیے رکھتا اور باقی دس ٹکڑے دس بھیڑیوں میں برابر برابر بانٹ دیتا۔ نہ کسی کے ساتھ زیادتی، نہ کسی کو خصوصی رعایت، اور نہ ہی کسی کی حق تلفی۔ کچھ دن گزرے تو بھیڑیوں کے درمیان سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔ ایک بھیڑیے نے کہا:”آخر چیتے کو ہم جتنا ہی حصہ کیوں ملتا ہے؟“ دوسرا بولا:”وہ کرتا ہی کیا ہے؟ بس گوشت تقسیم کرتا ہے!“ تیسرے نے کہا:”ہم دس ہیں اور وہ اکیلا۔ اگر ہم اسے یہاں سے نکال دیں تو خوراک کی تقسیم کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔“ چیتے نے ان کی باتیں سن لیں، لیکن اپنے اصولوں پر قائم رہا۔ اسے یقین تھا کہ جب وہ سب کے ساتھ انصاف…

Read more

ایک خاتون یہ جاننا چاہتی تھیں کہ اسے کے دامادوں میں سے کون اسے زیادہ پیار کرتا ہے۔ وہ کنویں پر پانی بھرنے گئی۔ بڑا داماد کنویں کے پاس ہی کھڑا تھا۔ اس نے کنویں میں چھلانگ لگا کر چلانا شروع کر دیا۔ بڑے داماد نے کنویں میں کود کر اسے بچا لیا۔ اگلی صبح داماد اٹھا تو اس کے صحن میں ایک بھینس بندھی ہوئی تھی جو اس کی ساس کی طرف سے اس کیلئے تحفہ تھا۔ کچھ دن بعد وہ دوبارہ کنویں پر گئی تو درمیان والا داماد قریب ہی موجود تھا۔ ساس نے خود کو کنویں میں گرا لیا اور بچاؤ بچاؤ چلانے لگی۔ درمیان والے داماد نے مشکل سے اسے بچایا۔ اگلے دن جب وہ بھی سو کر اٹھا تو اس کے صحن میں موٹر سائیکل کھڑی تھی جو داماد کیلئے ساس کی طرف سے تحفہ تھا۔ کچھ دن بعد ساس نے سب سے چھوٹے داماد…

Read more

ایک بیس بائیس سالہ نوجوان ہائپر سٹار میں داخل ہوا اور کچھ خریداری کر ہی رہا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ ایک خاتون اس کا تعاقب کر رہی ہے، مگر اس نے اسے اپنا شک سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا اور خریداری میں مصروف ہوگیا۔ ‏لیکن وہ عورت مسلسل اس کا پیچھا کر رہی تھی۔ اب کی بار اس نوجوان سے رہا نہ گیا۔وہ خاتون کی طرف مڑا اور پوچھا: خیریت ہے؟عورت: بیٹا آپ کی شکل میرے مرحوم بیٹے سے بہت زیادہ ملتی جلتی ہے۔‏میں نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے آپ کے پیچھے چل پڑی۔عورت نے یہ کہا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہوگئے۔نوجوان: کوئی بات نہیں امی جی آپ مجھے اپنا بیٹا ہی سمجھیں۔عورت: بیٹا کیا ایک دفعہ پھر آپ مجھے‏امی جی کہو گے؟نوجوان نے اونچی آواز سے کہا جی امی جی……لیکن خاتون نے گویا نہ سنا ہو۔نوجوان نے پھر…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب مچھیرا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خوش اور مطمئن رہتا تھا۔ مچھلیاں پکڑتا، اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔ اس کی قناعت کا یہ عالم تھا کہ جب تک پچھلی پکڑی ہوئی مچھلی ختم نہ ہو جاتی، وہ دوبارہ شکار کے لیے نہ جاتا۔ ایک دن اس کی بیوی مچھلی صاف کر رہی تھی کہ اچانک مچھلی کے پیٹ سے ایک چمکتا ہوا موتی نکلا۔ وہ خوشی سے پکار اٹھی: “سرتاج! جلدی آئیے، دیکھیے اللہ نے ہمیں کیا عطا کیا ہے!” مچھیرے نے موتی دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ اسے لے کر محلے کے سنار کے پاس پہنچا۔ سنار نے موتی دیکھتے ہی کہا: “بھائی! یہ کوئی معمولی موتی نہیں۔ میری ساری دولت بھی اس کی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔ تم اسے دوسرے شہر کے بڑے سنار کے پاس لے جاؤ۔”…

Read more

                  کسی زمانے میں ایک بادشاہ کے دربار میں ایک گویا (گانے والا) رہتا تھا، جس کی آواز انتہائی دلکش تھی۔ بادشاہ کو اس کی آواز اتنی پسند تھی کہ وہ ہر روز اس کے گیت سنا کرتا تھا۔ اس گویے نے اپنے پاس ایک ذہین غلام کی پرورش کی تھی اور اسے گانے بجانے کی تمام فنکارانہ تعلیم دی تھی۔ کچھ ہی دنوں کی محنت کے بعد وہ غلام اپنے استاد سے بھی آگے نکل گیا اور موسیقی میں کمال حاصل کر لیا۔جب بادشاہ کو اس غلام کی قابلیت کا علم ہوا تو اس نے اسے اپنے سامنے بلایا، اس کا گانا سنا اور اس پر بہت مہربان ہو گیا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ وہ غلام بادشاہ کا خاص درباری اور مصاحب بن گیا۔ بادشاہ اب ہر وقت اسی غلام کے گیت سننے لگا اور روز بروز اس کی عزت اور مرتبے میں اضافہ کرنے لگا۔اپنے شاگرد کی…

Read more

ایک شہر میں دو دوست رہتے تھے، مکار چند اور بھولا رام۔ مکار چند بہت چالاک مگر دھوکے باز تھا، جبکہ بھولا رام سادہ لوح اور بھروسہ کرنے والا تھا۔ ایک دن سفر کے دوران انہیں ایک تھیلا ملا جس میں بہت سی اشرفیاں تھیں۔ مکار چند نے کہا: “تجارت کی کیا ضرورت؟ یہ دولت کافی ہے۔ بہتر ہے اسے کسی محفوظ جگہ دفن کر دیں اور ضرورت کے وقت نکالتے رہیں۔” بھولا رام نے اس کی بات مان لی۔ دونوں نے ایک بڑے درخت کے نیچے اشرفیاں دفن کر دیں اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔ لیکن مکار چند کے دل میں کچھ اور تھا۔ اسی رات وہ چپکے سے وہاں پہنچا، ساری اشرفیاں نکال کر اپنے گھر لے گیا۔ کچھ دن بعد بھولا رام کی رقم ختم ہوگئی تو وہ مکار چند کے پاس آیا: “چلو، درخت کے نیچے سے کچھ اشرفیاں نکال لیتے ہیں۔” دونوں وہاں پہنچے…

Read more

جنگل کے مغربی کنارے پر ایک وسیع و عریض خطہ تھا جسے وادیِ سبزہ کہا جاتا تھا۔ وہاں کے درخت باقی جنگل سے زیادہ گھنے، چشمے زیادہ شفاف اور زمین زیادہ زرخیز تھی۔ دور دور سے جانور وہاں آتے، کچھ دن قیام کرتے اور پھر اپنے ٹھکانوں کو لوٹ جاتے۔ مگر ایک دن اس وادی پر ایسی خاموشی اتری کہ پرندوں کے گیت رک گئے، چشموں کے کنارے آباد رہنے والے جانور اپنے بلوں میں تڑپنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے جنگل کی سب سے آباد وادی موت کی وادی بننے لگی۔ پہلے چند جانور بیمار ہوئے، پھر درجنوں، پھر سینکڑوں۔ کسی کو شدید بخار چڑھتا، کسی کا پیٹ پھول جاتا، کوئی چلتے چلتے زمین پر گر پڑتا۔ کئی دنوں کے اندر اندر وادی کے آدھے سے زیادہ جانور مر چکے تھے، جبکہ باقی زندگی اور موت کے درمیان جھول رہے تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اتنی بڑی…

Read more

60/838
NZ's Corner